فوجی چوکی پر حملے میں دو مبینہ حملہ آوروں کی ہلاکت، نیتن یاہو کا مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل کے محاصرے کا حکم
اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے فوجی چوکی پر حملے کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل کو مکمل طور پر بند کرنے کا حکم دیا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نے یہ فیصلہ الخلیل میں اسرائیلی چوکی کے داخلی راستے کے قریب ایک فوجی چوکی پر ہونے والی فائرنگ کے بعد کیا گیا، جس میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہو گئے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق، جمعے کے روز الخلیل میں ’فرش الہویٰ‘ کے داخلی راستے کے قریب ایک فوجی چوکی پر فائرنگ کرنے کے شبے میں اسرائیلی فورسز نے دو فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا۔
طبی عملے نے بتایا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں شہرِ الخلیل کے قریب ہونے والی فائرنگ کے واقعے میں کم از کم پانچ اسرائیلی زخمی ہوئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔
اسرائیلی اخبار ’ہارٹز‘ کے مطابق، مختصر تعاقب کے بعد اسرائیلی فوج نے ان دو فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا جن پر اس حملے میں ملوث ہونے کا شبہ تھا۔
اسرائیلی فوج نے شہرِ الخلیل اور اس کے آس پاس کے کئی دیہات کا محاصرہ کر لیا ہے۔ ایک بیان میں فوج نے دعویٰ کیا کہ اُنھوں نے ’دو دہشت گردوں کو ہلاک‘ کر دیا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ میں نے ابھی وزیر دفاع، آئی ڈی ایف (IDF) کے چیف آف اسٹاف، آئی ایس اے (ISA) کے ڈائریکٹر، قومی سلامتی کے مشیر اور آئی ڈی ایف کی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر کے ساتھ مل کر سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔
اُنھوں نے الزام لگایا کہ ’ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حماس بے گناہ شہریوں کے قتلِ عام کے لیے ایک بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی، جس کی تصدیق بڑی مقدار میں برآمد ہونے والے اسلحے اور گولہ بارود سے ہوتی ہے۔‘
اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ’میں نے آئی ڈی ایف اور سکیورٹی فورسز کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر شہرِ ہیبرون (الخلیل) کا محاصرہ کر لیں اور یہودیہ اور سامریہ کی جانب سے ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کو روکنے کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات کریں۔‘