یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
اسرائیل میں ووٹوں کی گنتی مکمل: نیتن یاہو کو آئزنکوٹ پر برتری مگر پارلیمنٹ میں اکثریت سے محروم
وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کا اتحاد پارلیمان میں سب سے بڑا بلاک بن کر ابھرا، تاہم وہ حکومت سازی کے لیے درکار 61 نشستوں کی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ لیکوڈ پارٹی نے 27 نشستیں حاصل کیں، جبکہ نیتن یاہو کے پورے اتحاد کی نشستوں کی تعداد 53 رہی۔ دوسری جانب گاڈی آئزنکوٹ کی یشار پارٹی نے 21 نشستیں حاصل کیں اور ان کے اتحاد کی مجموعی نشستیں 48 ہیں۔
خلاصہ
- اسرائیل میں ووٹوں کی گنتی مکمل: نیتن یاہو کو آئزنکوٹ پر برتری مگر پارلیمنٹ میں اکثریت سے محروم
- اپنے شوق سے ایران نہیں جاتا، وزیرِ اعظم نے خصوصی ذمہ داری دے رکھی ہے: محسن نقوی
- پاسدارانِ انقلاب کا ڈرون مار گرانے اور تین آئل ٹینکروں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کا دعویٰ
- بنگلہ دیش: عوامی لیگ کے جوائنٹ جنرل سیکریٹری محبوب العالم حنیف کو سزائے موت سنا دی گئی
- تھرپارکر میں بی ایچ یو کی ایمبولینس میں آگ لگنے سے کم از کم 8 افراد ہلاک، 5 زخمی
- راولاکوٹ میں مبینہ اغوا کے بعد جج بازیاب، پولیس اہلکار سمیت دو افراد زخمی: پولیس کا دعویٰ
- اسرائیل میں حکومت کسی کی بھی ہو، مزاحمتی پالیسی جاری رہے گی: حزب اللہ
- عدن ہوائی اڈے پر دو میزائل حملے، حوثیوں کا سعودی فضائی حملوں میں 14 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ
لائیو کوریج
اسرائیل میں انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی مکمل: حکومت کیسے بنے گی؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل میں آج تک کوئی ایک جماعت پارلیمان (کنیسٹ) کی 120 نشستوں میں سے 61 یا اس سے زیادہ نشستیں حاصل کر کے تنہا حکومت نہیں بنا سکی، اس لیے حکومت ہمیشہ اتحادی جماعتوں کے اشتراک سے تشکیل پاتی ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق اس مرتبہ بھی صورتحال کچھ ایسے ہی ہے، جہاں وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کی اتحادی جماعتیں 53 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہیں جبکہ ان کے اہم حریف گاڈی آئزنکوٹ کا اتحاد 48 سیٹوں پر کامیاب ہوا ہے۔
ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد اسرائیلی صدر مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ اس رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دیتے ہیں جس کے بارے میں ان کا خیال ہو کہ اس کے پاس اتحادی حکومت تشکیل دینے کے بہترین امکانات موجود ہیں۔
نامزد امیدوار کے پاس حکومت بنانے کے لیے 28 دن ہوتے ہیں۔ اگر مذاکرات مکمل نہ ہو سکیں تو وہ مزید 14 دن کی توسیع بھی طلب کر سکتا ہے۔
اگر پہلے امیدوار کی کوشش ناکام ہو جائے تو صدر کسی دوسرے رہنما کو حکومت بنانے کا موقع دے سکتے ہیں۔ اگر وہ بھی مطلوبہ اتحادی اکثریت حاصل نہ کر سکے تو کنیسٹ کے ارکان کسی تیسرے امیدوار کے نام پر اتفاق کر کے اسے بھی موقع دے سکتے ہیں۔
اگر تمام کوششیں ناکام ہو جائیں تو نئے انتخابات کرائے جاتے ہیں۔
اسرائیل میں سیاسی تقسیم اور جماعتوں کے درمیان اختلافات کے باعث 2019 سے 2022 کے درمیان پانچ مرتبہ عام انتخابات کرانا پڑے تھے۔
سنہ 2022 کے انتخابات میں بنیامین نیتن یاہو کی جماعت لیکود 120 میں سے 32 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری تھی۔ بعد ازاں انھوں نے متعدد دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنا کر 64 نشستوں کی اکثریت حاصل کی اور حکومت تشکیل دی تھی۔
اسرائیل میں ووٹوں کی گنتی مکمل: کس جماعت کو کتنی نسشتیں ملیں؟
اسرائیل کے مقامی میڈیا کے مطابق ملک میں انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی اب مکمل ہو چکی ہے۔
کس جماعت کو کتنی نشستیں ملیں؟
- لیکوڈ: 27 نشستیں
- یشار: 21 نشستیں
- یاحاد: 12 نشستیں
- جوائنٹ لسٹ: 11 نشستیں
- دی ڈیموکریٹس: 8 نشستیں
- راعم: 8 نشستیں
- یسرائیل بیتینو: 7 نشستیں
- اوتزما یہودیت: 7 نشستیں
- یونائیٹڈ توراہ جوڈازم: 7 نشستیں
- شاس: 6 نشستیں
- ریلیجس زائینزم: 6 نشستیں
اسرائیل میں ووٹوں کی گنتی مکمل: نیتن یاہو کو آئزنکوٹ پر برتری مگر پارلیمنٹ میں اکثریت سے محروم, بی بی سی مانیٹرنگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے اور ملکی میڈیا کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کو مجموعی طور پر 67 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔
وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کا اتحاد پارلیمان میں سب سے بڑا بلاک بن کر ابھرا، تاہم وہ حکومت سازی کے لیے درکار 61 نشستوں کی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ لیکوڈ پارٹی نے 27 نشستیں حاصل کیں، جبکہ نیتن یاہو کے پورے اتحاد کی نشستوں کی تعداد 53 رہی۔
یہ نتیجہ 2022 کے انتخابات کے مقابلے میں نیتن یاہو کے اتحاد کے لیے ایک دھچکا ہے، جب اس کے پاس 64 نشستیں تھیں۔
دوسری جانب نیتن یاہو کے اہم حریف گاڈی آئزنکوٹ کی یشار پارٹی نے 21 نشستیں حاصل کیں۔ ان کے اتحادیوں سمیت اپوزیشن بلاک کے پاس 48 نشستیں ہیں، تاہم اگر فلسطینی اکثریتی آبادی کی نمائندہ جماعتیں تعاون پر آمادہ ہو جائیں تو آئزنکوٹ کے حکومت بنانے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
حتمی نتائج کے بعد اسحاق ہرزوگ اس سیاسی رہنما کو حکومت سازی کی دعوت دیں گے جس کے بارے میں وہ سمجھتے ہوں گے کہ اس کے پاس مخلوط حکومت قائم کرنے کے بہتر امکانات ہیں۔
ووٹوں کی گنتی کے بعد کس پارٹی کو کتنی نشتیں ملیں؟
- لیکوڈ: 27 نشستیں
- یشار: 21 نشستیں
- یاحاد: 12 نشستیں
- جوائنٹ لسٹ: 11 نشستیں
- دی ڈیموکریٹس: 8 نشستیں
- راعم: 8 نشستیں
- یسرائیل بیتینو: 7 نشستیں
- اوتزما یہودیت: 7 نشستیں
- یونائیٹڈ توراہ جوڈازم: 7 نشستیں
- شاس: 6 نشستیں
- ریلیجس زائینزم: 6 نشستیں
حوثیوں کی جانب سے ریاض کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائل تباہ کر دیے: سعودی فوجی اتحاد
سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے ریاض کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کر دیا ہے۔
سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری ایک مختصر بیان میں کہا کہ یہ میزائل یمن کے حوثیوں نے ریاض کی طرف داغے تھے۔
ضلع باغ میں گھر میں دھماکے سے چار خواتین ہلاک: حکام, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے باغ میں ایک گھر میں ہونے والے دھماکے کے دوران چار خواتین ہلاک ہوگئی ہیں۔
سرکاری حکام نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے، تاہم دھماکے کی نوعیت کے حوالے سے متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں۔
مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابق
باغ کے ڈپٹی کمشنر ممتاز کاظمی نے میڈیا کو بتایا کہ پندی نامی گاؤں کے ایک گھر میں ’دستی بم‘ پھٹا ہے، جس کے نتیجے میں چار خواتین ہلاک اور ایک لڑکی زخمی ہوئی ہے، جس طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ گاؤں باغ سے کافی فاصلے پر واقع ہے اور سکیورٹی فورسز کے دستے جائے وقوعہ کی طرف روانہ ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب بی بی سی اردو کو مقامی انتطامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ دھماکے کی نوعیت کے حوالے سے حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ’گھر میں ایک خاتون کچن میں کھانا بنا رہی تھیں اور وہاں گیس کا سلینڈر بھی موجود تھا۔‘
تاہم انھوں نے مزید کہا کہ یہ بات بھی حتمی طور پر نہیں کہی جا سکتی کہ دھماکہ سلینڈر پھٹنے کی وجہ سے ہوا۔
ان کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والی لڑکی کے ہوش میں آنے کے بعد ہی مزید معلومات حاصل کی جا سکیں گی۔
دوسری جانب کالعدم تنظیم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ سیکورٹی اداروں کی جانب سے اس گھر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
تاہم مقامی انتطامیہ کے اہلکار کے مطابق پولیس اور رینجرز کے اہلکار جائے حادثہ سے تین کلومیٹر دور واقع چیک پوسٹ پر تعینات تھے۔
انتخابات میں مبینہ غیرملکی مداخلت کی تحقیقات ’آزادانہ معلومات‘ کی بنیاد پر شروع کی گئیں: اسرائیلی ایجنسی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل کی داخلی سلامتی کی ایجنسی شن بیت کا کہنا ہ کہ انتخابات میں مبینہ غیر ملکی مداخلت کی تحقیقات سیاسی شخصیات کی فراہم کردہ معلومات پر نہیں بلکہ ادارے کی اپنی ’آزادانہ معلومات‘ کی بنیاد پر شروع کی گئی تھیں اور اس کا مقصد قانونی اور جمہوری طریقے سے ووٹ ڈالنے والی کسی پوری برادری کو موردِ الزام ٹھہرانا نہیں ہے۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں رپورٹ ہونے والے بیان میں شن بیت کا کہنا تھا کہ انتخابات کے اختتام سے قبل ادارے سے باہر کسی کو بھی، سوائے سپریم کورٹ کے جج نوام سولبرگ کے، اس معلومات تک رسائی حاصل نہیں تھی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور دیگر دائیں بازو کے سیاست دانوں نے دعویٰ کیا کہ اس ہفتے کے انتخابات میں عرب جماعتوں کی غیر معمولی کامیابی جزوی طور پر انتخابی دھاندلی کا نتیجہ تھی۔ عرب رہنماؤں نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے نیتن یاہو پر اشتعال انگیزی کا الزام عائد کیا ہے۔
خیال رہے ترکی اور قطر انتخابات میں مداخلت کے الزامات کو مسترد کر چکے ہیں۔
ترکی نے اسرائیلی انتخابات میں مداخلت کی تردید کر دی
قطر کے بعد ترکی نے بھی اسرائیلی انتخابات میں مداخلت کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ترکی کے حکومتی سینٹر برائے کاؤنٹر ڈس انفارمیشن (غلط معلومات کے تدارک کے لیے بنائے گئے گئے حکومتی مرکز) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’بعض بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والے یہ دعوے کہ ’ترکی نے اسرائیلی انتخابات میں مداخلت کی‘ مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔‘
بیان میں مزید لہا گیا ہے کہ ’یہ الزامات عوامی رائے کو متاثر کرنے کے مقصد سے چلائی جانے والی ایک دانستہ اور کھلی گمراہ کن مہم کا حصہ ہیں۔‘
’ہم عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان جھوٹی خبروں اور گمراہ کن الزامات پر یقین نہ کریں، جن کا مقصد عوام کو غلط سمت میں لے جانا ہے۔‘
ترکی کا یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی داخلی سلامتی کی ایجنسی شن بیت کو ان الزامات کی تحقیقات سونپی گئی ہیں کہ ترکی اور قطر سے اسرائیل میں رقوم منتقل کی گئیں تاکہ عرب ووٹروں کے فیصلوں پر اثر ڈالا جا سکے۔ یہ الزامات بنیامین نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں کی جانب سے عائد کیے گئے تھے۔
ایرانی حکام کا مبینہ اسرائیل نواز نیٹ ورک کے پانچ اراکین گرفتار کرنے کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی سکیورٹی فورسز نے جنوبی صوبے کرمان میں مبینہ طور پر ایران کے خلاف افراد کو بھرتی اور تربیت دینے والے ایک مبینہ نیٹ ورک کے پانچ ارکان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق کرمان کے پبلک پراسیکیوٹر مہدی بخشی نے کہا کہ پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس ادارے نے چار ماہ کی تحقیقات کے بعد اس نیٹ ورک کا سراغ لگایا اور اس کے ارکان کو گرفتار کیا۔
بخشی نے دعویٰ کیا کہ یہ نیٹ ورک ایک ’فرقے‘ سے وابستہ تھا، جسے ہدایات اسرائیل سے آ رہی تھیں اور اس کے یورپی پارلیمنٹ کے چند ارکان سے بھی روابط تھے۔
ایرانی حکام عموماً ’فرقہ‘ کی اصطلاح بہائی عقیدے کے پیروکاروں کے لیے استعمال کرتے ہیں، جن پر وہ اسرائیل سے تعلقات کا الزام عائد کرتے ہیں۔ ایران اس مذہب کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کرتا، جبکہ بہائی برادری کو کئی دہائیوں سے ملک میں امتیازی سلوک اور پابندیوں کا سامنا ہے۔
پراسیکیوٹر نے کہا کہ نیٹ ورک کی قیادت، بھرتی، تربیت اور تنظیمی منصوبوں سے متعلق مزید تفصیلات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
امید کرتے ہیں اسرائیل کی نئی حکومت بات چیت کا آغاز کرے گی: فلسطینی صدر

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
فلسطینی صدر محمود عباس نے جمعرات کو کہا ہے کہ انھیں امید ہے کہ اسرائیل میں نئی حکومت کے قیام کے بعد امن مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکیں گے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نیکوسیا میں قبرص کے صدر نیکوس کرسٹوڈولائڈس کے ساتھ ملاقات کے دوران محمود عباس نے کہا کہ ’ہم کئی برسوں سے اسرائیل کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھاتے آ رہے ہیں تاکہ ان کے ساتھ امن قائم کیا جا سکے اور اسرائیل اور فلسطین سلامتی، استحکام اور امن کے ساتھ رہ سکیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ اسرائیل میں نئی حکومت کے قیام کے فوراً بعد ہم دوبارہ بات چیت اور مذاکرات کا آغاز کر سکیں گے۔‘
قطر نے اسرائیلی الیکشن میں مداخلت کے الزامات مسترد کر دیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
قطر نے اسرائیلی انتخابات میں مداخلت یا انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے کے لیے کسی سرگرمی کی مالی معاونت کے الزامات کو ’دو ٹوک‘ انداز میں مسترد کر دیا ہے۔
قطر کا یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی داخلی سلامتی کی ایجنسی شن بیت کو ان الزامات کی تحقیقات سونپی گئی ہیں کہ ترکی اور قطر سے اسرائیل میں رقوم منتقل کی گئیں تاکہ عرب ووٹروں کے فیصلوں پر اثر ڈالا جا سکے۔ یہ الزامات بنیامین نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں کی جانب سے عائد کیے گئے تھے۔
قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’یہ الزامات نہ صرف مضحکہ خیز بلکہ خطرناک بھی ہیں۔ اسرائیلی انتخابی مہم اور سیاسی مباحثوں میں بار بار قطر کا نام لیا جانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بعض اسرائیلی سیاسی اور میڈیا شخصیات ہمارے ملک کے بارے میں غیر معمولی حساسیت رکھتی ہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’قطر کو بعض اسرائیلی سیاست دانوں کی سیاسی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے قربانی کا بکرا نہیں بنایا جانا چاہیے۔ قطر کی جانب توجہ مبذول کرانے کے بجائے انھیں اپنے ووٹروں پر توجہ دینی چاہیے، عوام کی زندگی بہتر بنانے کے لیے کام کرنا چاہیے اور خطے میں ہونے والے نقصان کا ازالہ کرنا چاہیے۔‘
دوسری جانب اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے مبینہ غیر ملکی مداخلت کی تحقیقات کی حمایت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے کسی بھی عمل سے اسرائیل کی پوری عرب برادری کی ساکھ متاثر نہیں ہونی چاہیے۔
اسرائیلی صدر کی الیکشن میں غیر ملکی مداخلت کے الزامات پر ’مکمل تحقیقات‘ کی ہدایت، عرب برادری کی ساکھ نہ متاثر کرنے کی تلقین

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ نے انتخابات میں غیر ملکی مداخلت کے الزامات کی ’جامع اور مکمل‘ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، تاہم ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ ایسی تحقیقات سے اسرائیل کی پوری عرب برادری کی ساکھ متاثر نہیں ہونی چاہیے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بنیامین نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں نے عرب ووٹروں کی انتخابی شرکت بڑھانے کے لیے مبینہ ’انتخابی رشوت‘ کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ان الزامات کے بعد اسرائیل کی داخلی سلامتی کی ایجنسی شن بیت کو ان دعوؤں کی تحقیقات سونپی گئی ہیں کہ ترکی اور قطر سے اسرائیل میں رقوم منتقل کی گئیں تاکہ عرب ووٹروں کے انتخابی فیصلوں پر اثر انداز ہوا جا سکے۔
دوسری جانب زیادہ تر عرب اسرائیلی جماعتوں پر مشتمل اتحاد جوائنٹ لسٹ نے نیتن یاہو کے دھاندلی اور غیر ملکی مداخلت کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
اتحاد نے اپنے بیان میں کہا ’نیتن یاہو اور ان کے فاشسٹ اتحادیوں کی جانب سے عرب شہریوں کے ووٹوں کے خلاف اشتعال انگیز مہم اس برادری کی سیاسی طاقت کے خوف کو ظاہر کرتی ہے۔‘
ادھر قطر نے بھی آج جاری کیے گئے ایک بیان میں اسرائیلی انتخابات میں کسی بھی قسم کی مداخلت کی تردید کی ہے۔
اگرچہ بیشتر ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے، عرب جماعتیں اب تک 19 نشستیں حاصل کرتی دکھائی دے رہی ہیں، جو ایک غیر معمولی تعداد ہے اور انہیں حکومت سازی اور سیاسی طاقت کے توازن میں فیصلہ کن کردار دے سکتی ہے۔
اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو کا اتحاد سب سے آگے، مگر اکثریت سے اب بھی محروم

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل کے عام انتخابات کے جزوی نتائج کے مطابق وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اپنے حریف اور سابق فوجی سربراہ گاڈی آئزنکوٹ پر معمولی برتری رکھتے ہیں، تاہم وہ اب بھی پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل کرنے سے دور ہیں۔
97 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی اور اس کے انتہائی دائیں بازو اور انتہائی مذہبی یہودی اتحادیوں کے 120 رکنی کنیسٹ میں 53 نشستیں حاصل کرنے کا امکان ہے، جبکہ آئزنکوٹ کی یشار پارٹی اور اس کے اپوزیشن اتحاد میں شامل تین دیگر یہودی جماعتوں کو 48 نشستیں ملتی دکھائی دے رہی ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے حکومت سازی کے لیے اتحادی حکومت قائم کرنے کی کوشش کرنے کا اعلان کیا ہے۔
عرب قیادت والی جماعتیں، جن کے ریکارڈ 19 نشستیں جیتنے کی توقع ہے، حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔ تاہم ایک جماعت کے سوا تمام یہودی جماعتوں نے ان کے ساتھ اتحاد نہ کرنے کا عہد کر رکھا ہے۔
جمعرات کو حکام نے تقریباً 4 لاکھ 80 ہزار غیر حاضر ووٹوں کی گنتی شروع کی، جن میں فوجی اہلکاروں، سفارت کاروں اور ہسپتالوں میں زیرِ علاج افراد کے ووٹ شامل ہیں، جو پولنگ سٹیشنوں تک نہیں پہنچ سکے تھے۔
ان ووٹوں سے اسرائیل کے متناسب نمائندگی کے انتخابی نظام کے تحت مختلف جماعتوں کو ملنے والی حتمی نشستوں کی تعداد تبدیل ہو سکتی ہے۔
نتائج کی حتمی توثیق کے بعد اسحاق ہرزوگ تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کریں گے اور حکومت بنانے کی ذمہ داری اس رہنما کو سونپیں گے جس کے بارے میں ان کا خیال ہو گا کہ اس کے کامیاب ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔ یہ عمل کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے۔
اگر کوئی رہنما حکومت بنانے میں ناکام رہتا ہے تو بالآخر اسرائیل کو ایک اور انتخابات کی طرف جانا پڑ سکتا ہے۔
سپین میں ٹرین حادثے سے قبل کنٹرول سینٹر اور ڈرائیوروں کے درمیان ہونے والی گفتگو کی ریکارڈنگ سامنے آ گئی, ہیری سیکولچ

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
سپین کے میڈیا نے ایسی آڈیو ریکارڈنگز شائع کی ہیں جن سے حادثے سے پہلے کے آخری لمحات میں ٹرین ڈرائیوروں اور ریلوے کنٹرول سینٹر کے درمیان ہونے والی گفتگو سامنے آئی ہے۔ اس حادثے میں کم از کم 69 افراد جان سے گئے جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔
حکام اس سانحے کی وجوہات کی تحقیقات کر رہے ہیں، جو بدھ کی صبح اُس وقت پیش آیا جب میڈرڈ سے سیویل جانے والی ایک ٹرین ایک رکی ہوئی ٹرین سے جا ٹکرائی۔
میڈرڈ میں قائم کنٹرول سینٹر اور دو ٹرین ڈرائیوروں کے درمیان ہونے والی تین آڈیو ریکارڈنگز سے بظاہر ظاہر ہوتا ہے کہ ایک تیز رفتار ٹرین کو آگے بڑھنے کی اجازت دے دی گئی، حالانکہ تقریباً 25 کلومیٹر آگے ایک دوسری ٹرین خراب ہو کر رکی ہوئی تھی۔
سرکاری ریلوے آپریٹر رینفے کی چلائی گئی ایک ٹرین میں 397 مسافر سوار تھے۔ اسی ریلوے لائن پر اس کے آگے نجی کمپنی اریو کی ایک ٹرین تھی، جس میں 147 مسافر موجود تھے۔
اطلاعات کے مطابق خود کار سگنلنگ نظام اور کمپیوٹر میں خرابی کے باعث متاثرہ حصے میں تمام ٹرینوں کو روک دیا گیا تھا۔
تاہم، سپین کے وزیرِ ٹرانسپورٹ کے مطابق، بعد میں رینفے ٹرین کو ’غلطی سے‘ آگے بڑھنے کا حکم دیا گیا۔
ال پائس اور آر ٹی وی ای سمیت سپین کے دیگر خبر رساں اداروں کی جانب سے شائع کی گئی آڈیو ریکارڈنگز میں دو ٹرینوں کے ڈرائیوروں اور دار الحکومت میں قائم کنٹرول سینٹر کے درمیان حادثے سے قبل ہونے والی گفتگو سنائی دیتی ہے۔
ایک ریکارڈنگ میں کنٹرول سینٹر کے ایک اہلکار رینفے ٹرین کے ڈرائیور سے بات کر رے ہیں، جو دوسری ٹرین کے پیچھے چل رہی تھی اور اسے کچھ تکنیکی مشکلات کا سامنا تھا۔
چند جملوں کے تبادلے کے بعد کنٹرول اہلکار ڈرائیور سے کہتے ہیں: ’اپنا سفر جاری رکھیں اور پھر [لیٹرل سگنلنگ بلاک کے تحت] معمول کی رفتار سے آگے بڑھیں۔‘
ڈرائیور جواب دیتے ہیں: ’معمول کی رفتار پر؟‘
جس پر کنٹرولر کہتے ہیں: ’جی ہاں۔‘
لیٹرل سگنلنگ بلاک ایک متبادل یا بیک اپ ریلوے نظام ہے، جو اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب خود کار سگنلنگ یا ڈیٹا ٹرانسمیشن کا نظام ناکام ہو جائے۔
دوسری ٹرین، جو اریو کمپنی چلا رہی تھی، کے ڈرائیور ایک اور آڈیو ریکارڈنگ میں کہتے ہیں کہ ٹرین کنٹرول نظام سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے اور ٹرین حرکت نہیں کر رہی۔
ڈرائیور کنٹرول سینٹر کو بتاتے ہیں کہ ٹرین ’اُردا کے داخلی سگنل کے سامنے رکی ہوئی ہے۔‘
چند جملوں کے تبادلے کے بعد اسے بھی معمول کے مطابق سفر دوبارہ شروع کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔
بعد کی ایک ریکارڈنگ کے مطابق اریو ٹرین کے ڈرائیور دوبارہ کنٹرول سینٹر سے رابطہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ ٹرین کو سٹارٹ نہیں کر پا رہے۔
وہ کہتے ہیں: ’ٹرین مجھے [سکیورٹی] نظام کو کنٹرول کرنے کی اجازت نہیں دے رہی، اسی لیے میں اب بھی داخلی سگنل کے سامنے رکا ہوا ہوں۔‘
اس آخری ریکارڈنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ کنٹرولر کو اطلاع دی جا چکی تھی کہ اریو کمپنی کی ٹرین اب بھی رکی ہوئی ہے، جبکہ رینفے ٹرین اس کی طرف بڑھ رہی تھی۔
اریو نے کہا ہے کہ اس کی ٹرین کو ’پیچھے سے آنے والی‘ دوسری ٹرین نے ٹکر ماری۔
سپین کے وزیرِ ٹرانسپورٹ آسکر پوینتے نے بدھ کو کہا کہ رفتار پر کسی قسم کی پابندی کے بغیر ٹرینوں کو دوبارہ چلنے کا حکم دینا ’نا قابلِ فہم‘ تھا۔
قطر نے امریکہ سے گیس درآمد کرنے کے لیے 20 سالہ معاہدہ کر لیا

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
قطر، جو دنیا میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے سب سے بڑے برآمد کنندگان میں شمار ہوتا ہے، نے امریکہ سے گیس درآمد کرنے کے لیے 20 سالہ معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ اور آبنائے ہرمز میں آمد و رفت محدود ہونے کے بعد قطر میں گیس کی پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہے۔
سرکاری کمپنی ’قطر انرجی‘ کے تحت ہونے والے اس معاہدے کے مطابق قطر ہر سال امریکہ کی ریاست لوئیزیانا میں قائم گیس پیدا کرنے والی کمپنی سے 30 لاکھ ٹن قدرتی گیس خریدے گا، جبکہ مائع گیس کی ترسیل 2030 سے شروع ہو گی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کی طویل مدت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ قطر سمجھتا ہے کہ آبنائے ہرمز کا بحران مستقبل قریب میں ختم ہونے کا امکان نہیں۔
نورین نیازی کی نظر بندی ختم کرنے کے لیے درخواست, ترہب اصغر، بی بی سی اردو، لاہور
پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کی بہن نورین نیازی کی نظر بندی میں توسیع کا نوٹیفکیشن واپس لینے کے لیے ان کے وکیل رانا مدثر عمر نے ڈپٹی کمشنر لاہور کو درخواست دے دی ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نورین نیازی گذشتہ 38 روز سے کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں اور گذشتہ رات دل میں تکلیف کے باعث انھیں ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔
درخواست کے مطابق نورین نیازی سے اہلِ خانہ اور وکلا کی ملاقات بھی نہیں کروائی جا رہی، جبکہ وہ ایک غیر سیاسی خاتون ہیں، اس لیے ان کی نظر بندی میں توسیع امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔
درخواست میں ڈپٹی کمشنر لاہور سے استدعا کی گئی ہے کہ نورین نیازی کی نظر بندی میں توسیع کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے۔
عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان کو ستمبر میں مینٹیننس آف پبلک آرڈر کے تحت 30 دن کے لیے حراست میں لیا گیا تھا، جس میں بعد میں توسیع کر دی گئی تھی۔
اپنے شوق سے ایران نہیں جاتا، وزیرِ اعظم نے خصوصی ذمہ داری دے رکھی ہے: محسن نقوی

،تصویر کا ذریعہAPP
وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے سینیٹ میں کہا ہے کہ وہ ایران ’اپنے شوق‘ سے نہیں جاتے بلکہ وزیرِ اعظم نے انھیں چند خصوصی ذمہ داریاں سونپ رکھی ہیں۔
آج جمعرات کے روز سینیٹ کے اجلاس سے خطاب میں محسن نقوی نے کہا کہ ان کا دورۂ ایران وزیر اعظم کی جانب سے دی گئی ذمہ داری نبھانے کے سلسلے میں تھا، اور اس کا تعلق اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے بعد وہاں موجود بحران سے ہے۔
واضح رہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ فضل الرحمٰن نے بدھ کو ایوان میں خطاب کرتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ ایران میں دفاعی امور سے متعلق اہم اجلاس ہو رہا ہے، لیکن پاکستان کے وزیرِ دفاع اس میں شریک نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ وزیرِ دفاع اور وزیرِ خارجہ ایوان میں موجود ہیں جبکہ وزیر داخلہ تہران میں بیٹھے ہیں۔
فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ ایسے موقع پر پاکستان کی نمائندگی اور متعلقہ وزرا کی عدم موجودگی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
آج جمعرات کے روز سینیٹ میں اس بات کا جواب دیتے ہوئے وزیرِ داخلہ نے وضاحت کی کہ ان کے دورۂ ایران کا تعلق کسی دفاعی معاہدے سے نہیں تھا۔
تقریر کے دوران محسن نقوی نے فضل الرحمان پر تنقید کی جس پر ان کی جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹرز سے تلخ کلامی بھی ہوئی۔
اس دوران چیئرمین سینیٹ ارکان سے نظم و ضبط برقرار رکھنے کی اپیل کرتے نظر آئے۔
سینیٹ میں تقریر کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے تحریک انصاف کے سینیٹر علی ظفر کو مخاطب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’یہی لوگ‘ خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانے کا مطالبہ کرتے تھے۔
’علی ظفر صاحب! یہی لوگ گورنر راج لگنے سے پہلے ہمیں کہتے تھے کہ گورنر راج لگائیں، ہماری ان سے جان چھڑائیں۔‘
تقریر میں محسن نقوی کا اشارہ بظاہر جمعیت علمائے اسلام کے اراکین کی جانب تھا، تاہم انھوں نے وضاحت نہیں کی کہ وہ کن کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا: ’یہ جو آپ کے ساتھ بیٹھ کر اپوزیشن کرتے ہیں، یہ دل سے گورنر راج لگوانا چاہتے تھے۔‘
وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ وہ اپنی بات ثابت بھی کر سکتے ہیں۔
ایران اور امریکہ میں مذاکرات کی بحالی کے لیے نائب صدر جے ڈی وینس کا محسن رضائی کو خط: امریکی میڈیا

،تصویر کا ذریعہSaul Loeb-Pool/Getty Images
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کو خط لکھا ہے۔
خبر کے مطابق نائب صدر نے خط میں زور دیا ہے کہ امریکہ کے ممکنہ فوجی حملوں کو روکنے کے لیے کسی بھی قسم کے مذاکرات ’جوہری معاملے پر بات چیت‘ کے بغیر ممکن نہیں ہوں گے۔
ایگزیوس کے مطابق یہ خط تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے امکان کا جائزہ لینے کے لیے بھیجا گیا تھا، اور اس خط کی تجویز خود جے ڈی وینس نے دی تھی۔
ایگزیوس نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے لکھا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس تجویز کا خیرمقدم کیا تھا۔
اس سے قبل وال سٹریٹ جرنل نے اس خط کی ترسیل کی خبر دی تھی۔ نیو یارک ٹائمز نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ وینس کا خط گذشتہ ہفتے قطری ثالثوں کے ذریعے محسن رضائی تک پہنچایا گیا تھا۔
اس اخبار کے مطابق وینس نے ’براہِ راست مذاکرات‘ کی تجویز پیش کی اور ان مذاکرات کی ذاتی طور پر قیادت کرنے کے لیے اپنی آمادگی کا اظہار کیا۔
تاہم، ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہا کہ اس خط کا تعلق ایران کو ادویات اور طبی سامان کی فراہمی میں مدد سے تھا۔
گذشتہ ہفتے، جب روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ عاصم منیر تہران کے دورے پر تھے، اسی دوران قطری وفد کی ایرانی دار الحکومت آمد کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
تاہم، پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھے جانے والے ذرائع ابلاغ نے قطری وفد کی آمد کی تردید کی تھی۔
نشریاتی ادارے العربیہ نے بھی بدھ کی شب اطلاع دی کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ترکی کی میزبانی میں ایک اجلاس کے انعقاد کی کوششیں جاری ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران کا جوہری پروگرام ان مذاکرات کے ممکنہ موضوعات میں شامل ہو گا۔
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے: پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
،تصویر کا کیپشنآبنائے ہرمز (فائل فوٹو) ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تین آئل ٹینکر، جنھوں نے ایران کے مقرر کردہ ضوابط کی خلاف ورزی کی تھی، آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے نتیجے میں آگ کی زد میں آ گئے ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ان آئل ٹینکروں نے ’اپنے ریڈار اور نیویگیشن کے نظام بند کر دیے تھے اور آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں موجود غیر مجاز راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے، جس دوران وہ سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر دھماکوں کا شکار ہو گئے۔‘
ابھی تک ان آئل ٹینکروں کے نام، پرچم، ملکیت یا ان کے عملے کی حالت کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں، اور تین آئل ٹینکروں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ تاہم برطانیہ کی تنظیم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے آبنائے ہرمز میں ایک جہاز میں آگ لگنے کی اطلاع موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔
سمندری سلامتی کی نگرانی کرنے والے اس ادارے کے بیان کے مطابق، ایک جہاز کے کپتان نے جمعرات کی صبح تین بجے اطلاع دی کہ اس نے عمان کے علاقے خصب سے شمال میں نو بحری میل کے فاصلے پر ایک دوسرے جہاز کو آگ کی لپیٹ میں دیکھا ہے۔
پولنگ کے بعد سیاسی تعطل، کیا اسرائیل نئے انتخابات کی جانب بڑھ رہا ہے؟, ٹام بینیٹ، تل ابیب

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
،تصویر کا کیپشنتخمینوں کے مطابق نہ تو گادی آئزنکوٹ (بائیں) اور نہ ہی بنیامین نیتن یاہو (دائیں) اکثریت حاصل کرنے کے لیے درکار نشستیں جیت سکیں گے۔ اسرائیل ایک سیاسی تعطل کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔
منگل کے انتخابات کے بعد 90 فیصد سے زیادہ ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے، لیکن نہ موجودہ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کا اتحاد اور نہ ہی ان کے اہم حریف گادی آئزنکوٹ کا بلاک اکثریت حاصل کرتا نظر آ رہا ہے۔
حکومت بنانے کے لیے بڑی جماعتوں میں سے کسی ایک کو غالباً اپنی انتخابی مہم کے وعدوں سے دستبردار ہونا پڑے گا، جس کا مطلب ہے کہ سب سے زیادہ امکان نئے انتخابات کا ہو سکتا ہے۔
یہاں چار ممکنہ منظرنامے پیش ہیں۔
نیتن یاہو کی قیادت میں قومی اتحاد کی حکومت
کیا نیتن یاہو، آئزنکوٹ کو قومی اتحاد کی حکومت میں شامل ہونے پر آمادہ کر سکتے ہیں؟
ایسا کرنے کے لیے آئزنکوٹ کو اپنے بنیادی سیاسی مؤقف سے دستبردار ہونا ہو گا۔ انھوں نے خود کو نیتن یاہو کا واحد متبادل قرار دیا ہے اور اپنی انتخابی مہم نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے وعدے پر استوار کی تھی۔
صرف گذشتہ رات ہی انھوں نے اپنے انتخابی ہیڈکوارٹر میں سٹیج پر آ کر نیتن یاہو سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ’آج ہی سیاسی زندگی سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کریں‘ اور سامعین سے کہا تھا کہ اسرائیلی عوام نیتن یاہو کی ’جھوٹ کی سیاست‘، ’تقسیم اور اشتعال انگیزی‘ سے تنگ آ چکے ہیں۔
لیکن یہ سب اُس وقت تھا جب ایک اہم ایگزٹ پول، جس میں ابتدا میں آئزنکوٹ کے بلاک کو برتری دی گئی تھی، بعد میں نظرثانی کے بعد تبدیل ہوا اور نیتن یاہو ان سے آگے نکل گئے۔
نیتن یاہو کوشش کر سکتے ہیں کہ اپنی لیکود پارٹی اور آئزنکوٹ کی یشار پارٹی کے ساتھ اتحادی حکومت بنائیں، اس مقصد کے لیے وہ انتہائی دائیں بازو اور سخت گیر مذہبی جماعتوں کو، جو اِس وقت ان کے اتحادی ہیں، اتحاد سے الگ کر سکتے ہیں۔
تاہم گذشتہ رات لیکود ہیڈکوارٹر میں انھوں نے اپنے ’وفادار اتحادیوں‘ کا شکریہ ادا کیا اور ’مضبوط دائیں بازو کی حکومت‘ کا مطالبہ کیا، جسے بعض مبصرین نے اس اشارے کے طور پر دیکھا ہے کہ وہ ان جماعتوں کے ساتھ اپنا اتحاد برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔
ایک ایسی بات جو اتحادی حکومت کے امکانات بڑھا سکتی ہے، وہ ایران کے ساتھ دوبارہ کسی تنازع کا آغاز ہو سکتا ہے، جو جماعتوں کی قیادت پر سنجیدہ دباؤ ڈال سکتا ہے کہ وہ اپنے سیاسی اختلافات ایک طرف رکھ کر مل کر کام کریں۔
انتخابات سے قبل کے دنوں میں اسرائیلی اور امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ نیتن یاہو ایران پر نئے حملوں کے حق میں تھے اور انھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا تھا کہ امریکہ بھی اس میں شریک ہو۔
نیتن یاہو کے ناقدین اسے ایک اور علاقائی تنازع میں داخل ہو کر اپنی سیاسی حیثیت بچانے کی کوشش قرار دیں گے۔
عرب جماعتوں کے ساتھ آئزنکوٹ کی قیادت میں اتحاد
یہ اسرائیلی سیاست میں ایک بہت بڑی تبدیلی ہو گی۔ صرف ایک آزاد عرب جماعت 2021 میں باضابطہ طور پر حکومتی اتحاد کا حصہ بنی تھی، اور وہ تجربہ زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکا۔
آئزنکوٹ اور ان کے بلاک کی (ایک کے سوا) تمام یہودی جماعتیں پہلے ہی ان عرب جماعتوں کے ساتھ حکومت بنانے کے امکان کو مسترد کر چکی ہیں۔ لیکن اس وقت اپوزیشن کے لیے اکثریت حاصل کرنے کا یہی واحد راستہ دکھائی دیتا ہے۔
الیکشن کی رات کی سب سے اہم خبر عرب جماعتیں تھیں۔ لگتا ہے کہ انھوں نے توقعات کے برعکس کارکردگی دکھائی ہے اور وہ ریکارڈ 19 نشستیں حاصل کر سکتی ہیں۔
اس میں اسرائیل کی عرب آبادی کی غیر معمولی حد تک زیادہ ووٹنگ نے مدد دی، جو ملک کی کُل آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ ہے اور جو اکثر خود کو اسرائیل کے فلسطینی شہری قرار دیتی ہے۔
برسوں تک بہت سے عرب ووٹرز نے اسرائیلی انتخابات کا بائیکاٹ کیا اور کہا کہ ووٹ ڈالنا ایسے نظام کو جائز قرار دینے کے مترادف ہو گا جو ان کے بقول انھیں دوسرے درجے کا شہری سمجھتا ہے۔ لیکن گذشتہ رات ان کی بڑی تعداد میں شرکت کی وجہ اسرائیل کی تاریخ کے سب سے دائیں بازو کے حکومتی اتحاد کو اقتدار سے ہٹانے کی خواہش تھی۔
متحدہ عرب لسٹ، جس کے بارے میں اندازہ ہے کہ اسے آٹھ نشستیں ملیں گی، کہہ چکی ہے کہ وہ اپوزیشن کی حکومت میں شامل ہو جائے گی، جبکہ جوائنٹ لسٹ، اندازے کے مطابق جو 11 نشستیں جیت سکتی ہے، نے کہا ہے کہ وہ اقتدار سے باہر رہتے ہوئے ایسی حکومت کی حمایت کرے گی۔
تاہم اس وقت اس منظرنامے کی حمایت کرنے والے واحد یہودی رہنما ڈیموکریٹس کے یائیر گولان ہیں۔ اور غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے جیسے مسائل اس اتحاد کو مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔
یہ حقیقت کہ یہودی جماعتیں ویسے تو منقسم ہیں لیکن عرب جماعتوں کی شمولیت کے خلاف متحد نظر آتی ہیں، اسرائیلی معاشرے میں موجود گہری تقسیم کی نشاندہی کرتی ہے۔
نیتن یاہو کی قیادت میں اکثریتی حکومت، اپوزیشن کے دائیں بازو کے ارکان کی شمولیت کے ساتھ
کیا نیتن یاہو دائیں بازو کی جماعتوں کو آمادہ کر سکتے ہیں کہ وہ آئزنکوٹ کے بلاک سے الگ ہو کر ان کے اتحاد میں شامل ہو جائیں؟
اگر نیتن یاہو یہ پیشکش کریں تو ممکنہ طور پر دو شخصیات ایسی ہیں جو اسے قبول کر سکتی ہیں۔ نفتالی بینیٹ، جو بیاحاد سیاسی اتحاد کے مشترکہ رہنما ہیں، اور ایویگڈور لیبرمین، جو یسرائیل بیتینو پارٹی کے رہنما ہیں۔
دونوں دائیں بازو کے رہنما ہیں، سکیورٹی کے معاملات پر سخت مؤقف رکھتے ہیں اور بعض سیاسی نکات پر ان کا اور نیتن یاہو کا نقطۂ نظر ایک جیسا ہے۔
لیکن دونوں نے اپنی انتخابی مہم واضح طور پر نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے وعدے پر چلائی، اور ساتھ ہی سخت گیر مذہبی طبقے پر بھی فوجی بھرتی لازمی کرنے کی حمایت کی، جس سے ان کا براہِ راست ٹکراؤ ان دو سخت گیر مذہبی جماعتوں سے ہو جاتا ہے جو پہلے ہی نیتن یاہو کی حکومت کا حصہ ہیں۔ اس لیے ان کا یکجا ہونا مشکل نظر آتا ہے۔
بعض مبصرین نے تجویز دی ہے کہ بینیٹ اور لیبرمین کی جماعتیں سخت گیر مذہبی جماعتوں کی جگہ لے سکتی ہیں، لیکن موجودہ انتخابی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس گروپ کے پاس اکثریت حاصل کرنے کے لیے مطلوبہ نشستیں موجود نہیں ہوں گی۔
نئے انتخابات
اگر مذکورہ بالا منظرناموں میں سے کسی پر اتفاق نہ ہو سکا تو فطری نتیجہ نئے انتخابات ہو گا۔
بہت سے لوگ اسے نیتن یاہو کی ایک خاموش کامیابی تصور کریں گے، کیونکہ نئے انتخابات تک وہ نگران وزیرِ اعظم کے طور پر برقرار رہیں گے، اور وہ شاید یہ سمجھتے ہوں کہ انھیں ان انتخابات میں کامیابی کا بہتر موقع مل سکتا ہے۔
کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عرب ووٹرز کی اتنی زیادہ شرکت دوبارہ دیکھنے کو نہیں ملے گی، خاص طور پر اگر پارلیمان میں ان کی ریکارڈ نمائندگی کے باوجود کوئی تبدیلی نہ آ سکی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ دوسرے انتخابات میں دائیں بازو کے مزید ووٹرز متحرک ہو جائیں۔
نیتن یاہو یہ شرط بھی لگا سکتے ہیں کہ تقریباً 70 ہزار اسرائیلی، جو بیرونِ ملک سے ووٹ ڈالنے کے لیے واپس آئے تھے اور جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ان کے مخالف ہیں، دوبارہ ایسا نہیں کریں گے۔
اس کے علاوہ ممکن ہے کہ دائیں بازو کی کئی جماعتیں آئندہ کم ووٹ حاصل کریں یا انتخاب میں حصہ ہی نہ لیں، جس سے لیکود اور اس کے اتحادیوں کو نسبتاً زیادہ ووٹ مل سکتے ہیں۔
2019 سے 2022 کے درمیان اسرائیل میں پانچ الگ الگ انتخابات ہوئے، کیونکہ نیتن یاہو اور ان کے سیاسی حریف باہمی تعاون پیدا کرنے میں بار بار ناکام رہے تھے۔
