لائیو, محسن رضائی ایرانی نیشنل سکیورٹی کونسل میں رہبر اعلیٰ کے نمائندہ مقرر، حوثیوں کا بحیرہ احمر میں سعودی بندرگاہ ’المخا‘ پر حملے کا دعویٰ
یمنی حوثیوں کے ایک فوجی ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ ’حوثی فورسز نے بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع المخا بندرگاہ میں سعودی فورسز پر دوبارہ حملے شروع کر دیے ہیں۔‘ دوسری جانب محسن رضائی کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا نیا سیکریٹری اور مجتبیٰ خامنہ ای کے نمائندہ مقرر کر دیا گیا ہے۔
خلاصہ
محسن رضائی کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا نیا سیکریٹری مقرر کر دیا ہے۔
یمنی حوثیوں کا بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع المخا بندرگاہ میں سعودی فورسز پر نئے حملوں کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر کہا ہے کہ ’ایران نے51 سال سے بُرا رویہ اختیار کر رکھا ہے‘
آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھولی جائے گی جب تک امریکہ تہران کے چھ مطالبات تسلیم نہیں کر لیتا: ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل
لائیو کوریج
تہران میں مذہبی شخصیت کے اغوا اور قتل کے الزام میں چار مرد اور ایک خاتون گرفتار
،تصویر کا ذریعہTASNIM
،تصویر کا کیپشنحمید رضا رجب زادہ
ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی کے مطابق تہران میں ایک مذہبی شخصیت کے اغوا اور قتل کے سلسلے میں پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں چار مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔
دارالحکومت تہران میں سرگرم حمید رضا رجب زادہ کو چند روز قبل مبینہ طور پر اغوا کیا گیا تھا، جس کے بعد ان کے قتل کی ویڈیو ان کے اہل خانہ کو بھیجی گئی۔
فارس نیوز کے مطابق پولیس کے ترجمان سعید منتظرالمہدی نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران چار مردوں اور ایک نوجوان خاتون کو گرفتار کیا گیا ہے۔
روکنا نیوز ویب سائٹ نے بھی رپورٹ کیا کہ گرفتار افراد نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ اس واقعے کا مرکزی ملزم تاحال فرار ہے اور پولیس انھیں تلاش کر رہی ہے۔ تاہم بعد میں مہر نیوز ایجنسی نے سعید منتظرالمہدی کے حوالے سے بتایا کہ مرکزی ملزم کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’اس واقعے میں مرکزی کردار ادا کرنے والے شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔‘
اس سے قبل سخت گیر ایرانی ذرائع ابلاغ نے اپوزیشن گروہوں اور مبینہ امریکی و اسرائیلی ایجنٹوں پر اس نوعیت کی ’دہشت گردانہ کارروائیوں‘ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔
فارس نیوز کے مطابق رجب زادہ تقریباً 15 روز قبل لاپتا ہوئے تھے۔ چار روز قبل ایک نئے قائم کیے گئے حکومت مخالف ٹیلی گرام چینل پر ان کے زخمی جسم کی ایک ویڈیو جاری کی گئی، جو بعد میں سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر پھیل گئی۔
فارس نیوز نے بتایا کہ ’اوپن سورس انٹیلی جنس کے تجزیے کے مطابق اس چینل کی جانب سے ماضی میں کیے گئے متعدد دعوے جھوٹے ثابت ہوئے تھے اور بظاہر ان کا مقصد زیادہ سے زیادہ صارفین کو اپنی جانب متوجہ کرنا تھا۔‘
فارس نیوز کے مطابق مذکورہ چینل نے جلاوطن ایرانی اپوزیشن تنظیم مجاہدین خلق آرگنائزیشن کی سرگرمیوں سے متعلق پرانی ویڈیوز بھی مبینہ طور پر اپنے مواد کے طور پر شائع کی تھیں۔
آبنائے ہرمز میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے حملوں کا سسلہ جاری ہے: برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ ’مشرق وسطیٰ میں خطرے کی سطح بدستور ’شدید‘ ہے جبکہ آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر حملے جاری ہیں۔
تنظیم کے مطابق سنیچر کے روز آبنائے ہرمز میں متحدہ عرب امارات کے ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ آبنائے ہرمز سے تجارتی آمدورفت کی سطح بدستور ’کم‘ ہے اور اس وقت صرف چند بحری جہاز ہی اس راستے سے گزر رہے ہیں۔
تنظیم نے اپنی تازہ ماہانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ’ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے حملے اور ڈرانے دھمکانے کی کارروائیاں جاری ہیں۔ ان کارروائیوں میں بحری جہازوں سے ریڈیو کے ذریعے رابطہ کرکے ان کی شناخت کرنا، ڈرونز کی پروازیں اور تجارتی جہازوں کی نگرانی شامل ہیں۔‘
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ’یہ اقدامات اس بات کا اظہار ہیں کہ ایران اہم بحری گزرگاہوں میں اپنی موجودگی قائم رکھنا اور وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔‘
تنظیم کے مطابق براہِ راست فوجی کارروائیاں بھی جاری ہیں، جن میں بحری جہازوں کے قریب میزائل یا دیگر پرجیکٹائل فائر کرنا اور دھماکے شامل ہیں۔ یہ واقعات عمان کی جانب جانے والے جنوبی بحری راستوں، بالخصوص لیما، خصب اور کمزار کے علاقوں میں پیش آ رہے ہیں۔
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کے مسلسل خطرے سے بھی خبردار کیا ہے۔
’جنرل جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں‘ امریکی میڈیا میں ایران کے ساتھ جنگ پر بحث
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنجنرل ڈین کین (فائل فوٹو)
ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں، تاہم امریکی میڈیا میں اس معاہدے کے ممکنہ اثرات پر بحث جاری ہے۔
اب یہ معاملہ ایک قدم آگے بڑھ گیا ہے اور اطلاعات کے مطابق جنگ کے مستقبل سے متعلق اختلافات امریکی کابینہ اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف تک پہنچ گئے ہیں۔
امریکی نیوز چینل سی این این نے رپورٹ کیا ہے کہ ’امریکہ کے اعلیٰ ترین فوجی عہدیدار جنگ سے نکلنے اور امریکی فوجیوں کو محفوظ رکھنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں، جبکہ کانگریس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے خاتمے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مزید سخت اقدامات، جن میں ایرانی مظاہرین کو ہتھیار فراہم کرنا بھی شامل ہے، کے حامیوں کی آوازیں زور پکڑ رہی ہیں۔‘
دوسری جانب ایران میں جنوری میں ہونے والے خونریز مظاہروں کو چھ ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد نیویارک ٹائمز نے ایک تفصیلی رپورٹ میں ان ایرانیوں کی مایوسی کا ذکر کیا ہے جنھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی مدد کی یقین دہانی پر بھروسا کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق مظاہرین بدستور بحران کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ اب جنگ ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہUS Navy via Getty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
سی این این نے معاملے سے واقف تین ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین نے حالیہ ہفتوں کے دوران صدر کے دیگر اعلیٰ مشیروں کے ساتھ گفتگو میں ایران کے ساتھ جنگ کو مزید بڑھانے کے ممکنہ نتائج پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کیا جانا چاہیے۔
ان ذرائع میں سے ایک نے سی این این کو بتایا کہ ’کین جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔‘
رپورٹ کے مطابق جنرل ڈین کین اس معاملے میں اکیلے نہیں ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے حوالے سے امریکہ ایک اہم موڑ پر پہنچ چکا ہے۔
انھوں نے جنگ کو مزید بڑھانے کے لیے فوجی آپشنز سے متعلق اپنے خدشات کابینہ کے دیگر اہم ارکان، جن میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس شامل ہیں، کے ساتھ بھی شیئر کیے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی جنرل کین نے ٹرمپ کے دیگر اہم مشیروں اور ساتھیوں کے ساتھ الگ الگ بات چیت بھی کی ہے تاکہ مختلف حکومتی اداروں کے درمیان رابطہ اور ہم آہنگی یقینی بنائی جا سکے اور صدر سے ملاقات سے قبل تمام حکام ایک ہی مؤقف پر ہوں۔
رپورٹ کے مطابق ان بات چیت کا مقصد دستیاب فوجی آپشنز کی حدود اور ان سے وابستہ خطرات کو واضح کرنا تھا، جن میں ایسے آپشنز بھی شامل ہیں جن کے لیے امریکی زمینی فوج کی تعیناتی ضروری نہیں ہوگی۔
،تصویر کا ذریعہ@CENTCOM
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
ایران کے ساتھ جنگ کو پانچ ماہ گزر چکے ہیں اور وسط مدتی انتخابات میں 90 دن سے بھی کم وقت باقی ہے۔ ایسے میں اس جنگ میں کسی بھی قسم کی کامیابی، چاہے وہ صرف علامتی ہی کیوں نہ ہو، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم اگر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے ساتھ ایران بحری جہازوں سے گزرنے کی فیس وصول کرنے اور امریکی جنگی بحری جہازوں کو اس آبی گزرگاہ سے گزرنے سے روکنے کی شرط عائد کرتا ہے تو ٹرمپ کی اس ممکنہ فتح کا ’علامتی‘ پہلو بھی باقی نہیں رہے گا۔
امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے جمعے کی شب رپورٹ کیا کہ ایران نے امریکہ کو خلیج فارس سے نکالنے کے لیے موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے اور عمان کے ساتھ معاہدے کے لیے اپنی شرائط میں امریکی بحری جنگی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے پر پابندی کی شرط بھی شامل کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ، جو ان مذاکرات میں شریک نہیں ہے، بارہا واضح کر چکا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر پابندیاں عائد کرنے یا اس پر محصول وصول کرنے کو قبول نہیں کرے گا۔
وال سٹریٹ جرنل کے مطابق یہ معاملہ، دیگر کئی اہم اختلافات کے ساتھ، عمان اور ایران کے درمیان معاہدے کو حتمی شکل دینے میں تاخیر کا سبب بن رہا ہے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابات: پونچھ ڈویژن کے چار حلقوں میں پولنگ کا آغاز
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
پاکستان کے زیرِِ انتظام کشمیر میں ریاستی اسمبلی کے
تیسرے مرحلے میں ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں آج (10 اگست) پونچھ ڈویژن کے چار
حلقوں میں شہری اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔
اِن چار حلقوں میں ضلع باغ کے تین اور ضلع حویلی کا
ایک حلقہ شامل ہیں۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے الیکشن کمیشن کے مطابق ان چار حلقوں
میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد ساڑھے چار لاکھ سے زیادہ ہے اور ان حلقوں میں ایک موجودہ
اور دو سابق وزرائے اعظم بھی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔
ابتدائی طور پر ریاستی اسمبلی کے تیسرے اور آخری مرحلے
میں ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں پونچھ ڈویژن کے 11 حلقوں میں پولنگ آج ہونا تھی،
تاہم گذشتہ ہفتے الیکشن کمیشن نے امن و امان کی صورتحال اور انتخابات میں حصہ لینے
والے امیدواروں کی طرف سے خدشات کے اظہار کے بعد سات حلقوں میں پولنگ ملتوی کرنے کا
اعلان کیا تھا۔
پونچھ ڈویژن کے وہ سات حلقے جہاں پولنگ ملتوی کی گئی
وہ راولاکوٹ اور پلندری کے اضلاع میں واقع ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں حال ہی میں کالعدم
قرار دی گئی ’جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی‘ کے کارکنوں اور سکیورٹی فورسز میں ناصرف
جھڑپیں ہوئی بلکہ ہلاکتیں بھی ہوئیں۔
پاکستان کے زیرِِ انتظام کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس
(ریٹائرڈ) غلام مصطفیٰ مغل نے گذشتہ دنوں بی بی سی کو بتایا تھا کہ جن سات حلقوں میں
انتخابات کو ملتوی کیا گیا ہے وہاں پر امن وامان کی صورتحال بہتر ہوتے ہی پولنگ کی
نئی تاریخ دی جائے گی۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کا پونچھ ڈویژن لگ بھگ گذشتہ دو ماہ سے خبروں میں ہے اور یہیں سے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات کے حق میں نو جون کو مظفر آباد کی جانب لانگ مارچ کا آغاز کیا تھا۔ تاہم سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مظاہرین کو پونچھ ڈویژن کے شہر راولا کوٹ میں ہی روک لیا تھا اور گذشتہ دو ماہ سے سینکڑوں مظاہرین راولا کوٹ کے نزدیک ’دریک‘ کے مقام پر دھرنا دیے ہوئے ہیں۔
اسی مقام پر مظاہرین اور سکیورٹی اداروں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں سب سے زیادہ ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں اور ہلاک ہونے والوں میں مظاہرین کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بھی شامل ہیں۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی ریاستی اسمبلی کے انتخابات کو تین مراحل میں تقسیم کیا گیا تھا۔ پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کے 13 حلقوں پر انتخابات کا انعقاد کیا گیا تھا اور نتائج کے مطابق ان 13 حلقوں میں سے نو پر مسلم لیگ ن جبکہ چار حلقوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔
دوسرے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن کی نو اور مہاجرین کی 12 نشستوں پر انتخابات ہوئے۔ الیکشن نتائج کے مطابق 21 نشستوں میں سے 15 پر مسلم لیگ ن جبکہ چھ پر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب قرار پائے تھے۔
موساد کے سربراہ نے ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام سازش کے منصوبہ ساز دو اعلیٰ عہدیدار برطرف کر دیے: اسرائیلی میڈیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق موساد کے سربراہ رومن گوفمین نے خفیہ ایجنسی کے دو انتہائی سینئر عہدیداروں کو برطرف کر دیا ہے، جنھیں ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام سازش کے منصوبہ ساز قرار دیا جا رہا تھا۔
اسرائیلی چینل 12 کے مطابق برطرف کیے گئے عہدیداروں میں سے ایک دسمبر سنہ 2015 سے موساد کے انٹیلی جنس شعبے کے سربراہ تھے، جبکہ دوسرے عہدیدار خفیہ ایجنسی کے ایرانی امور کے شعبے کے سربراہ تھے۔ اسرائیلی ٹی وی نیٹ ورک نے دونوں عہدیداروں کے نام ظاہر نہیں کیے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں عہدیداروں نے ایک تحریری آپریشنل منصوبہ تیار کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا، جس کا مقصد کرد گروہوں کی مدد سے ایران میں اسلامی جمہوریہ کی حکومت کا تختہ الٹنا اور ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج کو ہوا دینا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ یہی وہ منصوبہ تھا جس کی تفصیلات نیویارک ٹائمز نے اس سے قبل شائع کی تھیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے مارچ میں ایران پر حملے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قائل کرنے کی کوششوں کے دوران یہی منصوبہ ان کے سامنے بھی پیش کیا تھا۔
اس وقت موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا تھے، جنہیں رواں سال جون میں رومن گوفمین نے عہدے پر تبدیل کیا تھا۔
ایران کی بحری ناکہ بندی کے آغاز سے اب تک 55 بحری جہازوں کا رخ موڑا گیا: سینٹکام کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہ@CENTCOM
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
امریکی فوج کی مشرق وسطیٰ میں کارروائیوں کی ذمہ دار کمان سینٹکام نے دعویٰ کہا ہے کہ ’ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کے آغاز سے اب تک امریکی فورسز نے 55 تجارتی بحری جہازوں کا رخ موڑا جبکہ دو جہازوں کو فائرنگ کرکے آگے بڑھنے سے روک دیا۔‘
سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’20 سے زائد امریکی جنگی بحری جہاز مشرق وسطیٰ میں فوجی مشنز کی حمایت کے لیے تعینات ہیں، جن میں ایران پر امریکہ کی عائد کردہ بحری ناکہ بندی پر سختی سے عمل درآمد بھی شامل ہے۔‘
سینٹکام نے اپنی پوسٹ کے ساتھ امریکی بحری جہاز یو ایس ایس راس کے ملاحوں کی تصویر بھی شیئر کی۔
امریکی کمان کے مطابق بحری ناکہ بندی کے دوران امریکی فوجی دستوں نے دو بحری جہازوں پر سوار ہو کر ان کی تلاشی بھی لی۔
،تصویر کا ذریعہ@CENTCOM
محسن رضائی ایرانی نیشنل سکیورٹی کونسل میں رہبر اعلیٰ کے نمائندہ مقرر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے
محمد باقر ذوالقدر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد محسن رضائی کو سپریم نیشنل
سکیورٹی کونسل کا نیا سیکریٹری مقرر کر دیا ہے۔
صدارتی دفتر کے نائب برائے
مواصلات و اطلاعات مہدی طباطبائی نے اتوار کو ایک سرکاری بیان میں اس تقرری کا
اعلان کرتے ہوئے کہا کہ محسن رضائی کو صدارتی حکم نامے کے ذریعے اس عہدے پر مقرر
کیا گیا ہے۔
یہ تقرری ایسے وقت میں ہوئی
ہے جب رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اس سے کچھ ہی دیر قبل محسن رضائی
کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں اپنا نمائندہ مقرر کیا تھا۔
انھوں نے رضائی کے ’تجربے‘ اور ’آٹھ سالہ مقدس دفاع کے اہم پیش روؤں میں شامل ہونے‘ کے کردار کا حوالہ
دیا۔ آٹھ سالہ مقدس دفاع سے مراد سنہ 1980 کی دہائی میں ایران اور عراق کے درمیان
ہونے والی جنگ ہے۔
محسن رضائی سنہ 1981 سے سنہ
1997 تک پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر ان چیف رہے ہیں۔ وہ اس کے علاوہ متعدد اہم
سیاسی، عسکری اور اقتصادی عہدوں پر بھی فائز رہ چکے ہیں، جن میں ’مجلس تشخیص مصلحت
نظام‘ کے سیکریٹری اور نائب صدر برائے اقتصادی امور کے عہدے شامل ہیں۔
ایک الگ حکم نامے کے تحت آیت
اللہ خامنہ ای نے محمد باقر ذوالقدر کو اپنا سیاسی مشیر بھی مقرر کر دیا ہے۔
ایران نے 51 سال سے برا رویہ اختیار کر رکھا ہے: ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ
سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ ’ایران نے51 سال سے
برا رویہ اختیار کر رکھا ہے۔‘
ٹرمپ نے اپنی پوسٹ کے ساتھ ایرانی کرنسی ریال کی
قدر میں ہونے والی نمایاں کمی کو ظاہر کرنے والا ایک چارٹ بھی جاری کیا۔
چارٹ میں سنہ 2025 کے آغاز سے اب تک ایرانی ریال کی
قدر میں ہونے والی کمی دکھائی گئی ہے۔
ٹرمپ نے چارٹ کا عنوان ’ایران کے پاس پیسہ نہیں‘ رکھا
اور اس کے ساتھ لکھا ’ان کی کرنسی بے وقعت ہے۔‘
،تصویر کا ذریعہtruthsocial.com/@realDonaldTrump
حوثیوں کا المخا بندرگاہ میں سعودی فورسز پر دوبارہ حملے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
یمنی حوثیوں کے ایک فوجی ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز
کو بتایا ہے کہ ’حوثی فورسز نے بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع المخا بندرگاہ میں
سعودی فورسز پر دوبارہ حملے شروع کر دیے ہیں۔‘
حوثیوں سے وابستہ ٹی وی چینل المسیرہ کی جانب سے
نشر کی گئی تصاویر میں متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرونز فائر کیے جانے کا منظر
دکھایا گیا ہے۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ٹیلی گرام پر جاری
بیان میں کہا کہ ’ان حملوں میں سعودی فورسز کے اسلحے کے گوداموں کو نشانہ بنایا
گیا۔‘
یمنی فوج کے مطابق اتوار کو اس سے قبل ہونے والے
ایک اور حملے میں کم از کم سات افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے تھے۔
گذشتہ روز کی چند اہم خبروں کا خلاصہ
آج کے دن میں آگے بڑھنے سے قبل گذشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروہ کا کہنا ہے کہ یمن میں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے خلاف اس کی کارروائیاں جاری ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اتوار کو ہونے والے حملوں میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
اتوار کی شب بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں میں موبائل فون سروس کو معطل کردی گئی۔ موبائل فون سروس کی بندش کی وجہ سے لوگوں کو رابطوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
حماس کے عہدیدار باسم نعیم نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ ’امریکہ، جو اس معاہدے کا ضامن ہے، اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو اور ان کی حکومت پر امن منصوبے کے روڈ میپ پر عمل درآمد کے لیے دباؤ ڈالے۔‘
اتوار کے روز ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اپنے صدارتی دور کے تیسرے سال کے آغاز پر ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ملک کو درپیش موجودہ مسائل، عوام کی روزمرہ ضروریات پوری کرنے اور ان کے حل کے طریقوں پر بات چیت کی گئی۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے اتوار کے روز ایک بار پھر کہا کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکیں گے۔ بنیامن نیتن یاہو نے کہا کہ ’اسرائیل اس مقصد کے حصول کے لیے امریکہ اور عرب ممالک کے ساتھ مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے نتائج سے قطع نظر اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔‘
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت
دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج
کوریج جاری ہے۔