یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
23 ستمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
نیو یارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ 'یہ ایک بہت اچھی اور انتہائی نتیجہ خیز ملاقات تھی۔ تاہم صدر ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ کمرے میں کون سے ایرانی رہنما موجود تھے۔' تاہم ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے اور خبر رساں ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کے درمیان نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ملاقات ہوئی۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
23 ستمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے اور خبر رساں ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کے درمیان نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ملاقات ہوئی۔
تاہم سرکاری نشریاتی ادارے نے اس ملاقات کو امریکہ کے اصرار پر ہونے والی ملاقات قرار دیا ہے۔
سرکاری نشریاتی ادارے کے ٹیلی گرام چینل پر جاری رپورٹ کے مطابق، یہ بات چیت اس لیے کی گئی تاکہ ایران سٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے اپنی ’شرائط‘ سے آگاہ کر سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران کی شرائط میں [امریکہ کی جانب سے] بحری محاصرے کا فوری خاتمہ، ایران کے تمام منجمد اثاثوں کی فوری رہائی، اور ’محورِ مزاحمت‘ سے وابستہ تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ شامل ہیں۔
’محورِ مزاحمت‘ سے مراد خطے میں ایران کے اتحادی اور پراکسی گروہ ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
صدر ٹرمپ کے مطابق منگل کو ایرانی اور امریکی رہنماؤں کے درمیان تین گھنٹے تک ملاقات ہوئی۔
یہ واضح نہیں ہے کہ اس ملاقات میں کون سے ایرانی حکام شریک تھے، تاہم ایرانی صدر مسعود پزشکیان اس وقت نیویارک کے سفر پر ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ پزشکیان سے ملاقات کے لیے ’شاید آمادہ‘ ہوں گے، اگرچہ کسی بھی فریق کی جانب سے اس ملاقات کی تصدیق نہیں کی گئی ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ اس سے ایران کے اندر کچھ حلقوں کی جانب سے ردِعمل سامنے آئے۔
روانگی سے قبل، پزشکیان نے تہران کے مہرآباد ہوائی اڈے پر نامہ نگاروں کو بتایا کہ اقوام متحدہ کا اجلاس انھیں ایران کے مؤقف کا ’مضبوطی سے دفاع‘ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
ایرانی ذرائع کی اطلاعات کے مطابق، توقع ہے کہ پزشکیان بدھ کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔
اس سے قبل پزشکیان نے گذشتہ برس جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ کشیدگی کے بعد اقوام متحدہ سے خطاب کیا تھا۔
امریکہ کے ان کے دورے کا ایران کے اندر کچھ حلقوں نے خیرمقدم کیا ہے، اگرچہ اس پر سخت گیر عناصر کی جانب سے کچھ مخالفت بھی سامنے آئی ہے جو ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی قسم کے معاہدے کے مخالف رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ منگل کو امریکی اور ایرانی رہنماؤں کے درمیان تین گھنٹے طویل بات چیت ہوئی ہے جس میں خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل تھے۔
نیو یارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک بہت اچھی اور انتہائی نتیجہ خیز ملاقات تھی۔ تاہم صدر ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ کمرے میں کون سے ایرانی رہنما موجود تھے۔‘
خیال رہے کہ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نیو یارک میں موجود ہیں جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان بھی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔
ملاقات میں شریک سٹیو وٹکوف نے بتایا کہ ’وہ اس وقت بہت اچھا محسوس کر رہے ہیں۔‘ لیکن اُنھوں نے اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا۔
صدر ٹرمپ نے بعدازاں کہا کہ ’دیکھتے ہیں کہ اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔‘
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی خصوصی نمائندوں سٹیو وائٹیکر اور جیرڈ کشنر نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے ممکنہ معاہدے کے حوالے سے ثالثوں سے ملاقات کی ہے۔
ثالث ممالک کے سربراہان اس وقت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود ہیں، جس کا آغاز آج ہوا ہے۔
پاکستان اور قطر ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی بات چیت میں دو ثالث ہیں۔
پاکستان کے وزیر داخلہ گذشتہ روز تہران گئے تھے، اور قطر کا کہنا ہے کہ اس کے نمائندے ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات پہنچا رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ@ForeignOfficePk
پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے افغانستان کے بارے میں او آئی سی کے رابطہ گروپ کے اجلاس میں طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ افغان سرزمین کو پڑوسی ممالک، خصوصاً پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے ’ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات‘ کریں۔
نیویارک میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کو افغانستان میں موجود دو درجن سے زائد ’دہشتگرد گروہوں‘ کی موجودگی پر شدید تشویش ہے، جن میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)، مجید بریگیڈ، داعش خراسان، القاعدہ اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) شامل ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ پاکستانی قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں ’بڑی قربانیاں‘ دے رہے ہیں اور افغان سرزمین سے کام کرنے والے گروہوں کے ہاتھوں پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اسحاق ڈار نے گذشتہ ہفتے خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں مسجد پر ہونے والے خودکش حملے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس میں کم از کم 24 پاکستانی ہلاک ہوئے۔
پاکستانی وزیرِ خارجہ نے او آئی سی پر زور دیا کہ وہ طالبان سے دہشتگردی کے خاتمے، اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری، منشیات، اسلحے اور انسانی سمگلنگ کی روک تھام اور افغانستان میں سیاسی شمولیت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرے۔
اُنھوں نے افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندیاں ختم کرنے اور لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کے روزگار پر عائد پابندیوں پر نظرثانی کرنے پر بھی زور دیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم اور روزگار پر پابندیوں پر او آئی سی کی تشویش کی حمایت کرتا ہے۔
اسحاق ڈار کے مطابق ’کوئی ملک پاکستان سے زیادہ افغانستان میں معمول کے حالات اور استحکام کا خواہاں نہیں‘ اور پاکستان ایک ایسے مستحکم اور خوشحال افغانستان کے لیے کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا جو اپنے ہمسایوں کے ساتھ امن سے رہے۔
اُنھوں نے قطر، ترکیہ اور سعودی عرب کی جانب سے طالبان کے ساتھ ثالثی اور مذاکرات کی کوششوں کو بھی سراہا۔

پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے اسلام آباد لانگ مارچ سے قبل جماعت کے رہنماؤں کے مبینہ اغوا اور گرفتاریوں کے واقعات کے بعد خیبر پختونخوا حکومت نے اپنے وزرا، ارکان اسمبلی اور دیگر رہنماؤں کو اپنی سکیورٹی بڑھانے اور غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلنے کا مشورہ دیا ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ چارسدہ سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی فضل محمد خان کو منگل کی دوپہر مسلح افراد مبینہ طور پر زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے خوفزدہ ہے اور اسی لیے ’اس طرح کے حربے‘ استعمال کیے جا رہے ہیں۔
شفیع جان سے جب پوچھا گیا کہ خیبر پختونخوا میں حکومت پی ٹی آئی کی ہے اور اس کے وزرا اور ارکان اسمبلی کو مبینہ طور پر اٹھایا جا رہا ہے تو صوبائی حکومت کیا کر رہی ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سب کچھ پولیس نہیں کر رہی بلکہ سب کو معلوم ہے کہ یہ کون کر رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اب اپنی سکیورٹی بڑھا دی ہے اور تمام ارکان اسمبلی، وزرا اور رہنماؤں سے کہا گیا ہے کہ وہ بھی اپنی سکیورٹی بڑھائیں اور غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں۔
فضل محمد خان کے مبینہ اغوا کا واقعہ
چارسدہ سے رکن قومی اسمبلی فضل محمد خان کو مبینہ طور پر مردان رنگ روڈ سے نامعلوم افراد اپنے ساتھ لے گئے۔
ان کے پرسنل سیکریٹری وقار خان نے بتایا کہ فضل محمد خان اسلام آباد سے چارسدہ جا رہے تھے اور ان کے ساتھ سرکاری سکیورٹی کا کوئی قافلہ نہیں تھا بلکہ وہ ایک نجی گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔
وقار خان کے مطابق جب فضل محمد خان مردان رنگ روڈ پر پہنچے تو وہاں تقریباً 10 سے 12 افراد موجود تھے جنھوں نے ان کی گاڑی روکی اور انھیں اپنے ساتھ لے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد سے فضل محمد خان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں مل سکیں۔
فضل محمد خان کے بھتیجے حمزہ نصیر خان نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبائی وزیر فضل شکور خان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بعد فضل محمد خان کافی احتیاط کر رہے تھے۔
ان کے مطابق وہ اپنی گاڑی میں سفر نہیں کر رہے تھے اور ان کے ساتھ سکیورٹی اہلکار بھی نہیں تھے بلکہ صرف ڈرائیور اور ان کے پرسنل سیکریٹری وقار خان موجود تھے۔
انھوں نے بتایا کہ رشکئی انٹرچینج سے مردان رنگ روڈ کے راستے ان کے علاقے تک پہنچنا نسبتاً مختصر راستہ ہے اور اسی راستے پر وہ جا رہے تھے کہ آگے ’نقاب پوش مسلح افراد‘ موجود تھے۔
حمزہ نصیر خان کے مطابق ان افراد نے گاڑی روکی، فضل محمد خان کو گاڑی سے نکال کر اپنے ساتھ لے گئے جبکہ ڈرائیور اور پرسنل سیکریٹری کو ایک دوسری گاڑی میں بٹھا کر مخالف سمت میں لے جایا گیا اور تقریباً ایک کلومیٹر دور چھوڑ دیا گیا۔
اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ فضل محمد خان کی گاڑی کے ٹائروں پر بھی فائرنگ کی گئی۔
حمزہ نصیر خان نے بتایا کہ واقعے کے حوالے سے مردان کے شیخ ملتون تھانے میں درخواست جمع کرا دی گئی اور ایف آئی آر درج ہونے کے بعد بدھ کو پشاور ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی جائے گی۔
اس سے قبل صوبائی وزیر پبلک ہیلتھ انجینیئرنگ فضل شکور خان کو بھی مبینہ طور پر اٹھائے جانے کا واقعہ پیش آیا تھا، جس کے بعد ایف آئی آر درج ہونے پر پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا۔
ابھی تک پولیس یا وفاقی حکومت کی جانب سے ایسا باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا جس میں یہ واضح کیا گیا ہو کہ فضل محمد خان کو کس ادارے یا افراد نے حراست میں لیا یا انھیں کہاں منتقل کیا گیا ہے۔
فضل محمد خان این اے 25 چارسدہ-2 سے رکن قومی اسمبلی ہیں۔ وہ 2024 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد امیدوار کے طور پر کامیاب ہوئے تھے۔
واقعے کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔ رکن قومی اسمبلی جنید اکبر خان نے فضل محمد خان کے مبینہ لاپتا ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات سے صوبے کے عوام اور ریاست کے درمیان بداعتمادی میں اضافہ ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہWaqar Khan
27 ستمبر کا لانگ مارچ
شفیع جان نے بی بی سی کو بتایا کہ 27 ستمبر کا لانگ مارچ جماعت کے بانی عمران خان کے علاج، ان کے مقدمات کی باقاعدہ سماعت اور انھیں ’تمام جائز حقوق‘ دینے کے مطالبات کے لیے کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق لانگ مارچ 27 ستمبر کو شروع ہو گا اور اس مرتبہ حکمت عملی پہلے سے مختلف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کارکن اسلام آباد کے لیے آٹھ مختلف مقامات سے روانہ ہوں گے اور تقریباً پانچ سے چھ دن میں اسلام آباد پہنچنے کی منصوبہ بندی ہے۔
شفیع جان کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اس لانگ مارچ کی قیادت کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ’پرامن طریقے‘ سے اسلام آباد جائے گی اور ضرورت پڑنے پر پیدل، موٹر سائیکلوں یا گاڑیوں سمیت مختلف ذرائع استعمال کیے جائیں گے۔
حالیہ دنوں میں ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ بعض ٹرانسپورٹرز نے لانگ مارچ کے لیے گاڑیاں فراہم کرنے سے انکار کیا ہے۔
اس بارے میں شفیع جان کا کہنا تھا کہ انھیں بھی یہ اطلاع ملی ہے کہ بس اڈوں پر ٹرانسپورٹرز کو گاڑیاں فراہم کرنے سے منع کیا گیا ہے، تاہم ان کے بقول اس طرح کے اقدامات سے لانگ مارچ نہیں رکے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کو دو صورتوں میں روکا جا سکتا ہے: ’ایک یہ کہ ہمارے مطالبات تسلیم کر لیے جائیں تو اس پر بات چیت ہو سکتی ہے اور دوسرا یہ کہ عمران خان خود لانگ مارچ روکنے یا ختم کرنے کا اعلان کریں۔ اس کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہیں ہے۔‘
جب شفیع جان سے پوچھا گیا کہ اسلام آباد میں لانگ مارچ روکنے کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں اور ماضی میں 26 نومبر کے احتجاج کے دوران فائرنگ بھی ہوئی تھی، تو اس مرتبہ طاقت کے استعمال کی صورت میں جانی نقصان کے خدشے کے بارے میں ان کا کیا کہنا ہے، تو انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی پرامن رہے گی۔
انھوں نے کہا کہ 'ایسا نہیں ہوگا کہ وہ گولی چلائیں۔ ہم نے 26 نومبر کو بھی گولی نہیں چلائی تھی۔ ہماری طاقت ہمارے ساتھ ہماری عوام ہو گی۔ اتنی تعداد میں لوگ نکلیں گے کہ سامنے والے کو گولی چلانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔'
ایران کے چار پڑوسی ممالک کے وزرائے خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارت کاری کے عمل کو بحال کرنے پر زور دیا ہے۔
نیویارک میں جاری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے موقع پر، سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے ایک مشاورتی اجلاس منعقد کیا اور ایک مشترکہ بیان جاری کیا۔
بیان میں خطے میں جاری کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور ’پائیدار حل کے حصول‘ کے لیے سفارت کاری کو واحد راستہ قرار دیا گیا۔
ان ممالک کے وزرائے خارجہ نے پائیدار ’امن و استحکام‘ کے لیے اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کی پاسداری کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
بیان میں سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کی گئی، جن میں حوثیوں کی جانب سے کیے گئے حالیہ حملے بھی شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ترکی کے صدر جب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کا جاری رہنما کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں ترک صدر کا کہنا تھا کہ وہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جنگ کے خاتمے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔
صدر اردوغان کا کہنا تھا کہ ’کوئی بھی صاحبِ ضمیر شخص غزہ میں پیش آنے والے واقعات سے آنکھیں نہیں چرا سکتا۔‘
اُنھوں نے غزہ کو ’سب سے بڑا قبرستان‘ قرار دیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ اقوامِِ متحدہ امن قائم کرنے کی اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہی ہے۔ اُنھوں نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کا مطالبہ بھی کیا۔
اپنی تقریر کے آغاز پر ترک صدر کا کہنا تھا کہ اُنھیں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کی عدم موجودگی پر افسوس ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کی ایک عدالت نے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی ایک اور خاتون رہنما گلزادی بلوچ کو قتل کے ایک مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔
یہ مقدمہ ضلع کچھی کے علاقے مچھ میں ایک خاندانی تنازع کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا، جس میں محمد اعظم نامی شخص ہلاک ہوئے تھے۔ وہ گلزادی بلوچ کے بہنوئی تھے۔
مچھ تھانے میں اکتوبر 2022 میں درج ہونے والی ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مقتول محمد اعظم کی بیوی اور ان کی بہن گلزادی نے انھیں قابو کیا، جبکہ ان کے بھائیوں عبدالودود ساتکزئی اور آغا محمد ساتکزئی نے ان پر کلہاڑی اور ڈنڈے سے وار کیے۔
ایف آئی آر کے مطابق محمد اعظم زخمی ہوئے اور بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔
کوئٹہ میں ایڈیشنل سیشن جج ون سید قادر شاہ بخاری نے پیر کے روز اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے گلزادی بلوچ کو عمر قید کی سزا سنائی۔
دستیاب عدالتی رپورٹوں کے مطابق دیگر نامزد ملزمان مفرور ہیں اور ان کے خلاف کارروائی الگ رکھی گئی ہے۔
بی وائی سی کے زیرِ حراست رہنماؤں کے وکلا کی ٹیم کے رکن اسرار جتک ایڈووکیٹ نے فیصلے کے حوالے سے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ جب وہ عدالت پہنچے تو ریڈر نے انھیں فیصلے کے بارے میں آگاہ کیا اور اس وقت جج خود عدالت میں موجود نہیں تھے۔
تاہم عدالت کے ایک اہلکار سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ فیصلہ کھلی عدالت میں سنایا گیا تھا۔
اسرار جتک ایڈووکیٹ نے فیصلے کو آئین کے آرٹیکل 10 اے کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے کے گواہان کے حوالے سے انھوں نے درخواستیں جمع کرائی تھیں۔
انھوں نے کہا کہ وہ درخواستیں ابھی تک زیرِ التوا تھیں اور ان پر کوئی حکم جاری کیے بغیر حتمی فیصلہ سنا دیا گیا۔
خیال رہے کہ گلزادی بلوچ کو اپریل 2025 میں بی وائی سی کے احتجاج کے حوالے سے کوئٹہ میں درج مقدمات میں گرفتار کیا گیا تھا۔
وہ بی وائی سی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبو بلوچ، صبغت اللہ بلوچ اور بیبرگ بلوچ کے ہمراہ ڈسٹرکٹ جیل کوئٹہ میں زیرِ حراست ہیں۔
اس سے قبل بی وائی سی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور تنظیم کے رہنما صبغت اللہ شاہ کو گوادر میں ایک سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کے مقدمے میں کوئٹہ کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ بدھ کی شام سے پشاور اور اسلام آباد کو ملانے والی شاہراہ ایم ون موٹروے ’دونوں اطراف سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہے گی۔‘
ایک بیان میں ترجمان موٹروے پولیس نے بتایا ہے کہ بدھ کی شام سے ’ایم ون موٹروے اسلام آباد ٹول پلازہ سے چھچھ انٹرچینج تک دونوں اطراف سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہے گی۔‘
بیان کے مطابق اس موٹروے کے تمام پوائنٹس بشمول اسلام آباد ٹول پلازہ، فتح جنگ/ ترنول انٹرچینج، سنگجانی/اے ڈبلیو ٹی انٹرچینج، براہمہ باہتر انٹرچینج، برہان انٹرچینج، ہزارہ موٹروے انٹرچینج، غازی انٹرچینج اور چھچھ انٹرچینج بند رہیں گے۔
جبکہ موٹروے پولیس کا مزید کہنا ہے کہ موٹروے ایم 14 ’ہکلہ تا کنڈل دونوں اطراف سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہے گی۔‘
جبکہ جی ٹی روڈ این فائیو ’اٹک خورد کے مقام پر دونوں اطراف سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہے گی۔‘
دوسری جانب ایک پیغام میں اسلام آباد ٹریفک پولیس نے اپنی ایڈوائزری میں کہا ہے کہ بدھ کی رات سے تمام شہری ’جڑواں شہروں اسلام آباد و راولپنڈی سمیت دیگر اضلاع سے پشاور موٹروے ایم ون پر سفر کرنے سے گریز کریں اور غیر ضروری سفر مؤخر کریں۔‘
اس کا مزید کہنا ہے کہ لاہور کو اسلام آباد سے ملانے والی موٹروے ایم 2 ہر قسم کی ٹریفک کے لیے کھلی رہے گی۔
خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی، جو خیبر پختونخوا میں برسرِ اقتدار ہے، نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اقوامِ متحدہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے ’انتہا پسند بائیں بازو کے ایجنڈے کے نفاذ‘ کا پلیٹ فارم قرار دیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے اندرونی ذرائع کے مطابق ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کا پہلا سال تنظیم (یو این) کے لیے افراتفری اور غیر یقینی صورتحال کا باعث رہا، تاہم اُن کے مطابق اب اقوامِ متحدہ نسبتاً بہتر پوزیشن میں ہے۔
اگرچہ امریکہ حالیہ دنوں میں اقوامِ متحدہ کے باقاعدہ اور امن مشنز کے بجٹ کے لیے اپنے لازمی واجبات کی مد میں 827 ملین ڈالر ادا کر چکا ہے، لیکن اس کے باوجود واشنگٹن اب بھی تنظیم کے اربوں ڈالر کی رقوم روکے ہوئے ہے۔ ساتھ ہی امریکی حکومت بعض اقوامِ متحدہ کے اداروں اور بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) پر تنقید اور دباؤ کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
تاہم دوسری جانب امریکہ اپنے تزویراتی مقاصد کے لیے اقوامِ متحدہ پر انحصار بھی کر رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے گینگ تشدد سے متاثرہ ہیٹی میں سلامتی کے قیام کے لیے اقوامِ متحدہ کے ساتھ فعال تعاون کیا۔ اسی طرح امریکہ نے غزہ امن منصوبے اور امن بورڈ کے قیام کی توثیق کے لیے بھی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کیا۔
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے دوران بھی واشنگٹن نے خلیجی ممالک کی قیادت کے ساتھ مل کر سلامتی کونسل میں ایک قرارداد منظور کرانے کے لیے کام کیا تھا اور اس قرارداد کے حق میں ریکارڈ تعداد میں ووٹ ملے تھے۔ اس قرارداد میں ایران کی مذمت کی گئی تھی، تاہم امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتی کہ اقوامِ متحدہ دنیا بھر کے ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے اور بڑے سفارتی اہداف کے حصول کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شدید تنقید کے باوجود واشنگٹن اپنی ترجیحات آگے بڑھانے کے لیے اس عالمی ادارے سے تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک واضح انتخاب پیش کیا: یا تو ایران واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ کرے اور ملک کی تعمیرِ نو کی راستہ اختیار کرے، یا پھر اسے ’صفحۂ ہستی سے مٹ جانے‘ کے خطرے کا سامنا کرنا ہو گا۔
تاہم اپنی تقریر میں ساتھ ہی انھوں نے یہ پیش گوئی بھی کی کہ ممکنہ طور پر ایران کے ساتھ امریکی مڈٹرم انتخابات کے بعد کسی معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ کے یہ ریمارکس اُن کی روایتی ’دباؤ پر مبنی سفارتکاری‘ کی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتے ہیں، جس کے تحت مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا جاتا ہے لیکن ساتھ ہی طاقت کے بھرپور استعمال کی دھمکی بھی دی جاتی ہے۔
تاہم ان کے بیان میں ایران کے سیاسی نظام کو نشانہ بنانے اور خود ایران کے لیے خطرے کے درمیان حد فاصل دھندلی دکھائی دی۔ ’بقا کے کسی امکان کے نہ ہونے‘ اور آئندہ نسلوں کے لیے ’کوئی امید باقی نہ رہنے‘ جیسے الفاظ اس تناظر میں خاصی معنویت رکھتے ہیں کہ یہ انتباہ ایک ایسی تنظیم، اقوامِ متحدہ، کے فورم سے دیا گیا جو مستقبل کی نسلوں کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچانے کے مقصد سے قائم کی گئی تھی۔
اس کے باوجود یہ خطاب سفارتکاری کے خاتمے کا اعلان نہیں تھا۔ بلکہ اسے ممکنہ مذاکرات کے لیے شرائط متعین کرنے کی کوشش قرار دیا جا سکتا ہے، جس میں یہ پیغام دیا گیا کہ واشنگٹن اب بھی معاہدے کے لیے تیار ہے، لیکن یہ آمادگی ایک ایسے ماحول میں پیش کی جا رہی ہے جہاں ایران کو اپنے وجود کے لیے سنگین خطرات کا سامنا ہونے کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر یوکرین کی جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں فریق اب اس جنگ سے ’تنگ آ چکے ہیں‘ اور یہ کہ تنازع کا مذاکرات کے ذریعے خاتمہ قریب ہے۔
یہ بات واضح نہیں کہ وہ کس بنیاد پر یہ بات کر رہے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب یوکرین اور روس ایک دوسرے کے علاقوں کے کافی اندر تک میزائل اور ڈرون حملوں کا تبادلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
صدر ٹرمپ اپنی مدتِ صدارت کے آغاز سے ہی بارہا اس نوعیت کے دعوے کرتے رہے ہیں۔ اپریل اور مئی میں وائٹ ہاؤس کے بعض عہدیداروں، جن میں اقوامِ متحدہ میں موجودہ امریکی سفیر مائیک والٹز بھی شامل ہیں، نے عندیہ دیا تھا کہ جنگ بندی چند ہفتوں میں ممکن ہو سکتی ہے، تاہم ایسا نہیں ہوا۔
گذشتہ سال اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ٹرمپ نے سب کو حیران کرتے ہوئے روس کو ’کاغذی شیر‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اُن کے خیال میں یوکرین کے پاس اب بھی روسی قبضے میں جانے والے تمام علاقے واپس لینے کا امکان موجود ہے۔
یہ واضح نہیں کہ آیا اب بھی اُن کی رائے یہی ہے یا نہیں، تاہم ٹرمپ آج بعد میں یوکرین کے صدر وولوڈیمیر زیلنسکی سے ملاقات کرنے والے ہیں، اور دنیا بھر میں بہت سے لوگ اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہوں گے کہ آیا ٹرمپ اپنی موجودہ امید پسندی کی کوئی وجہ بیان کرتے ہیں یا نہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے اقوامِ متحدہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں تمام ممالک کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی ہماری مہم میں ہمارا ساتھ دیں حتیٰ کہ وہ تجارتی جہازوں پر حملے بند کر دیں، جوہری ہتھیار بنانے کا خواب چھوڑ دیں اور دہشت گردی کی حمایت بند کر دیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم مل کر کھڑے ہوں تو ہم جلد ہی اس آفت سے چھٹکارا پا لیں گے جس کا ہمیں 51 سالوں سے سامنا ہے اور تیل کی قیمتیں تنازع سے پہلے سے بھی کم سطح پر آجائیں گی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے ساتھ معاہدہ ہو جائے گا۔
نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران مشرقِ وسطی میں بد معاشی کرتا تھا، لیکن اب نہیں کر سکتا۔
انھوں نے کہا کہ میں شروع سے کہتا آیا ہوں کہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیا جا سکتا لیکن بہت سے صدور نے اس پر توجہ نہیں دی۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف آپریشن ایپک فیوری کے نتیجے میں ایرانی بحریہ کے جہاز، ان کے ریڈارز، ان کی فوج اور ان کے میزائل اور ڈرون بنانے کی فیکٹریاں بھی تقریباً بند ہو گئی ہیں۔ ’ایک چیز جو ختم نہیں ہوئی ہے وہ ہے مہنگائی۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ اب مجھے فیصلہ کرنا ہے کہ آیا ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا ہے یا انھیں مکمل طور پر تباہ کر دینا ہے۔
’میرا خیال ہے کہ (امریکہ کے وسط مدتی) الیکشن کے بعد ایران کے ساتھ معاہدہ ہو جائے گا‘۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ انتخابات میں کیسے پرفارم کرتے ہوں ’لیکن وہ بھول گئے ہیں کہ میں نے ان انتخابات میں حصہ نہیں لینا، میں پہلے ہی حصہ لے چکا ہوں اور بھاری اکثریت سے جیتا تھا۔‘
’ًمیں اگلے ڈھائی سال یہیں ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یو این ہیڈکوارٹرز پہنچ چکے ہیں جہاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’یہاں موجود ہونا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم پیش رفت کر رہے ہیں، ہمارا ملک بہت اچھا کام کر رہا ہے۔‘
تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا اقوام متحدہ کے حوالے سے رویہ ہمیشہ تنقیدی رہا ہے اور وہ اپنے یو این ہیڈکوارٹرز کے اپنے سابقہ دوروں کے دوران اکثر اس کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ اس کے باوجود وہ اس عالمی پلیٹ فارم کو اپنی پالیسیوں اور مؤقف پیش کرنے کے لیے مؤثر ذریعہ سمجھتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ عموماً امریکہ کی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہیں اور دیگر ممالک کی پالیسیوں اور اقدامات پر تنقید کرتے ہیں۔
ماضی میں وہ نہ صرف حریف ممالک بلکہ امریکی اتحادیوں کو بھی اس پلیٹ فارم کے ذریعے تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ رواں سال بھی توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اس بات پر روشنی ڈالیں گے کہ وہ کس طرح عالمی نظام کو نئی شکل دے رہے ہیں، جبکہ اپنی انتظامیہ کی اُن کوششوں کا دفاع بھی کریں گے جن کا مقصد، اُن کے بقول، اقوام متحدہ اور ’دیگر عالمی اداروں‘ کو امریکی خودمختاری میں مداخلت سے روکنا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ان کے متوقع خطاب کا لہجہ خاصا سخت اور تصادم پر مبنی ہو سکتا ہے، جسے سننے والے بہت سے عالمی رہنماؤں کے لیے غیر آرام دہ صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
سری لنکا کی ہائی کورٹ نے 2019 کے ایسٹر سنڈے بم حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار 15 افراد کو مجرم قرار دے دیا ہے۔ ان حملوں میں 270 افراد ہلاک اور 500 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔
مجرم قرار دیے جانے والوں میں نوفر مولوی بھی شامل ہیں، جنھیں استغاثہ نے ان خودکش بم دھماکوں کا مرکزی منصوبہ ساز قرار دیا تھا۔ عدالت نے دیگر نو افراد کو بری کر دیا گیا۔
تین گرجا گھروں اور تین پُرتعیش ہوٹلوں پر ہونے والے مربوط حملے 2009 میں خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد سری لنکا کے مہلک ترین حملے تھے۔ ان حملوں میں 45 غیر ملکی بھی ہلاک ہوئے تھے۔
حملے کرنے والے تمام بمبار دھماکوں میں مارے گئے تھے۔ تفتیش کار اس سے قبل ان دھماکوں کا الزام اسلام پسند شدت پسندوں پر عائد کر چکے ہیں، جبکہ فردِ جرم عائد کیے گئے 25 افراد سری لنکا کی مسلم اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں سے ایک شخص دورانِ حراست ہلاک ہو گیا تھا۔
ملزمان پر 23 ہزار سے زیادہ الزامات عائد کیے گئے تھے، جن میں قتل، دہشت گردی کی سازش اور آتشیں اسلحہ رکھنے جیسے الزامات شامل تھے۔
استغاثہ کی جانب سے 2,300 سے زیادہ افراد نے گواہی دی۔ مقدمے میں 2,076 شواہد بھی پیش کیے گئے، جن میں دھماکا خیز مواد، تلواریں اور آتشیں اسلحہ شامل تھا۔
حملوں کے بعد سری لنکن حکام نے اس واقعے کو ایک ’بڑی انٹیلی جنس ناکامی‘ قرار دیا تھا۔ سری لنکا کی پارلیمنٹ کو بتایا گیا تھا کہ انڈیا کی جانب سے حملوں کے بارے میں فراہم کی گئی پیشگی اطلاع متعلقہ حکام تک مؤثر انداز میں نہیں پہنچائی گئی۔
2023 میں سری لنکا کی سپریم کورٹ نے سابق صدر میتھری پالا سری سینا کو بم دھماکوں کے متاثرین کو لاکھوں روپے ہرجانے کی ادائیگی کا حکم دیا تھا۔
گذشتہ ماہ دو سابق اعلیٰ سرکاری اہلکاروں کو مجرمانہ غفلت کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ تاہم سری لنکا میں کئی دہائیوں سے سزائے موت پر عمل درآمد معطل ہے، اس لیے ایسی سزائیں عموماً عمر قید میں تبدیل کر دی جاتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSatellite image: Vantor
سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے دوبارہ فعال ہونے کی اطلاعات کے بیچ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل کی قیمت دو ڈالر کی کمی کے بعد 98 ڈالر فی بیرل پر ریکارڈ کی گئی ہے۔
حال ہی میں سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق سعودی عرب اپنی اہم تیل پائپ لائن، ایسٹ ویسٹ پائپ لائن، کو دوبارہ فعال کرنے کے آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔ یہ وہ پائپ لائن ہے جسے مبینہ حوثی حملے میں شدید نقصان پہنچا تھا جس کے بعد اسے بند کر دیا گیا تھا۔
اس پائپ لائن کے ذریعے سعودی عرب آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتے ہوئے تیل برآمد کرتا ہے۔
خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق انھیں اس معاملے سے باخبر تین ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب نے اپنی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر دوبارہ آپریشنز شروع کر دیے ہیں اور امکان ہے کہ بحیرہ احمر پر واقع ینبع بندرگاہ سے تیل کی برآمدات منگل کی شام تک بحال ہو جائیں گی۔
متعدد تیل تاجروں کا کہنا ہے کہ اس پائپ لائن کی بحالی کے آثار پہلے ہی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور کئی آئل ٹینکر یَنبع بندرگاہ پہنچتے دیکھے گئے ہیں، جہاں اس پائپ لائن کے ذریعے منتقل ہونے والا خام تیل برآمد کیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ 13 ستمبر کو ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب کو ایسٹ ویسٹ پائپ لائن بند کرنا پڑی تھی، جس کے نتیجے میں ینبع بندرگاہ پر خام تیل کی لوڈنگ معطل کر دی گئی تھی۔
تاجروں کے مطابق منگل کو سپلائی کی بحالی کی خبر نے عالمی تیل منڈیوں پر اثر کیا اور تیل کی فروخت میں اضافہ دیکھا گیا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت دو ڈالر فی بیرل سے زائد گری اور اب آٹھ ستمبر کے بعد سے اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہMir Raza Ali Family
کراچی میں نوجوان تاجر میر رضا کے قتل کے کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے اسسٹنٹ سپرانٹینڈنٹ پولیس (اے ایس پی) ندا جنید سے سوال کیا ہے کہ کیا انھیں شواہد خراب کرنے یا تحقیقات کو کسی مخصوص سمت میں لے جانے کے لیے کسی نے احکامات دیے یا دباؤ ڈالا۔
سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال پر مشتمل ایک رکنی کمیشن نے اے ایس پی ندا سے تحقیقات میں ان کی غیر معمولی شمولیت پر سخت سوالات کیے۔ کمیشن نے سوال کیا کہ نہ میر رضا کا فون انھیں ملا اور نہ ہی فون ان کی تحویل میں تھا، تو وہ کیس کی مختلف میٹنگز میں کیوں شریک رہیں؟
کمیشن نے پانچ اگست کو پولیس سرجن کی میٹنگ میں ان کی شرکت، وہاں موجودگی کی وجہ اور این سی سی آئی اے جانے کے اختیارات سے متعلق بھی سوالات کیے۔
کمیشن نے کہا کہ بچوں سے زیادتی یا ریپ کے کیس میں خاتون افسر کو ساتھ لے جانا سمجھ آتا ہے، لیکن اس معاملے میں ان کا کیا کام تھا؟ ندا نے بتایا کہ انھیں سینیئر افسر کی ہدایت تھی، جبکہ ڈی آئی جی عامر فاروقی نے این سی سی آئی اے جانے کی ہدایت کی تھی۔
کمیشن نے سوال کیا کہ اگر سینیئر افسر غیر قانونی ہدایت دے تو کیا وہ بھی مان لیں گی؟ ندا نے کہا کہ این سی سی آئی اے کے ساتھ معمول کی ملاقات تھی اور سینیئر پولیس افسران بھی ساتھ تھے۔
کمیشن نے کہا کہ وہ اس کیس میں خلافِ ضابطہ بہت آگے نکلی ہوئی تھیں اور سوال کیا کہ ڈی آئی جی عامر فاروقی نے انھیں تحقیقات میں کیا کردار دیا تھا۔ ندا کے مطابق انھیں میر رضا کے خاندان کے بیانات کے وقت بیٹھ کر نوٹس لینے کی ہدایت کی گئی تھی، تاہم خاندان کا بیان تفتیشی افسر نے ریکارڈ کیا اور ان کی جانب سے بیان میں کوئی مداخلت نہیں کی گئی۔
میر رضا کی فیملی کے وکیل جبران ناصر نے کمیشن کو بتایا کہ وہ بھی خاندان کے بیان کے موقع پر موجود تھے۔ ان کے مطابق اے ایس پی ندا نے میر رضا اور احمد کی آخری گفتگو کو عجیب قرار دیا تھا، جبکہ خاندان نے بھی اے ایس پی ندا کی موجودگی پر اعتراض کیا تھا۔
جبران ناصر کے مطابق ڈی آئی جی عامر فاروقی نے کہا تھا کہ اے ایس پی ندا معاونت کے لیے موجود ہیں۔
جوڈیشل کمیشن نے ندا سے پوچھا کہ کیا پولیس نے کبھی ان کا بیان ریکارڈ کیا اور کیا ان کی شمولیت کا کوئی روزنامچہ بنایا گیا؟ ندا نے جواب دیا کہ ان کا کوئی بیان نہیں لیا گیا۔
جبران ناصر نے کہا کہ گواہ فیض کے مطابق علی شاز نے بتایا تھا کہ اے ایس پی نے میر رضا کے دوستوں یا کرپٹو سے متعلق سوالات پوچھنے کی ہدایت کی تھی، تاہم ندا نے کہا کہ انھوں نے علی شاز کو کوئی سوالات نہیں بھیجے۔ اس پر کمیشن نے کہا کہ یہاں جو آ رہا ہے اسے کچھ نہیں پتا اور جو آ رہا ہے وہ جھوٹ بول رہا ہے۔ انھوں نے سوال کیا کہ ندا کو مشکوک نہیں لگا کہ ایک شخص ان سے منسوب ایسی باتیں کر رہا ہے۔
کاروباری معاملات کے حوالے سے کمیشن نے میر رضا کے بزنس پارٹنر عابد سے میر رضا کے کاروبار میں نقصان اور مالی دباؤ سے متعلق سوالات کیے۔ عابد نے کہا کہ اسے میر رضا کے کسی اور کاروبار میں نقصان کی معلومات نہیں تھیں اور میر رضا نے کبھی مالی دباؤ کا ذکر نہیں کیا۔
کمیشن نے اپریل کے بعد میر رضا سے ہونے والی ملاقاتوں کے بارے میں پوچھا تو عابد نے بتایا کہ میر رضا سے بہت ملاقاتیں ہوتی رہیں اور عید الاضحیٰ پر جانور خریدنے بھی وہ ان کے ساتھ گئے تھے۔
کمیشن نے میر رضا کی گمشدگی سے قبل تین کروڑ روپے مانگنے کے بارے میں سوال کیا تو عابد نے کہا کہ اسے معلوم نہیں کہ یہ رقم کیوں مانگی گئی تھی، کیونکہ رضا سے گفتگو میں کبھی ایسی بات نہیں ہوئی۔
عابد نے بتایا کہ پولیس نے ممکنہ طور پر 16 اگست کو انھیں بیان ریکارڈ کروانے کے لیے بلوایا تھا اور اس نے پولیس کو سرمایہ کاری سے متعلق بھی بیان دیا۔
ان کے مطابق ڈی آئی جی عامر فاروقی نے کرپٹو، بزنس پارٹنر احمد اور میر رضا سے متعلق سوالات کیے۔
عابد نے بتایا کہ پولیس نے ان سے واٹس ایپ چیٹ کا ریکارڈ نہیں لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ میر رضا کی گمشدگی کی اطلاع ملنے کے وقت وہ مدینہ میں تھے، بعد میں شیری نے انھیں میر رضا کی لاش ملنے کے بارے میں بتایا۔
عابد کے مطابق پولیس کو بیان دینے کے موقع پر اس کی خاندان سے ملاقات ہوئی۔
کمیشن نے عابد سے سوال کیا کہ اتنی سرمایہ کاری کے باوجود وہ خاندان سے ملنے گھر کیوں نہیں گئے، جس کے بعد کمیشن نے دوسرے پارٹنر آصف کو بھی روسٹرم پر طلب کر لیا۔
آصف کا کہنا تھا کہ میر رضا سے ان کے بہت اچھے تعلقات تھے اور وہ اور اس کا بھائی عابد ساتھ ہی ہوتے تھے۔ کمیشن نے عابد کے پولیس بیان سے متعلق بھی سوال کیا۔ عابد نے بتایا کہ ان کا بیان کیمرے کے سامنے ریکارڈ کیا گیا تھا، تاہم انھیں ان کا بیان کبھی پڑھ کر نہیں سنایا گیا۔
کمیشن نے نشاندہی کی کہ پولیس کے بیان میں رقم کے علاوہ دیگر معاملات کا ذکر نہیں، جبکہ کرپٹو اور احمد سے متعلق بھی سوالات کیے گئے تھے۔ عابد نے بتایا کہ پولیس نے ان سے کرپٹو اور احمد کے بارے میں سوالات کیے تھے لیکن انھیں نہیں معلوم کہ یہ باتیں بیان میں شامل کیوں نہیں کی گئیں۔
کارروائی کے دوران پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ بھی کمیشن کے روبرو پیش ہوئیں اور دستاویزات جمع کروائے جو کمیشن کے رجسٹرار نے وصول کیے۔
پولیس سرجن نے کمیشن کو ایک درخواست بھی پیش کی۔ کمیشن نے کہا کہ ڈاکٹر سمیعہ پہلے ہی بہت بہادری کا مظاہرہ کر رہی ہیں، ان پر اور کمیشن دونوں پر کیچڑ اچھالا جا رہا ہے۔ کمیشن نے کہا کہ ڈاکٹر سمیعہ کی درخواست پر احکامات جاری کیے جائیں گے۔
جبران ناصر نے بتایا کہ پولیس سرجن کی سربراہی میں میڈیکل بورڈ کے بعد سپر میڈیکل بورڈ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں اور ڈاکٹر اسامہ کے بیان کے بعد سپر میڈیکل بورڈ بنانے کی تجویز سامنے آئی۔
کمیشن کا کہنا تھا کہ اگر سپر میڈیکل بورڈ بنتا ہے تو اسے سندھ ہائی کورٹ کے پلیٹ فارم پر چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
جبران ناصر نے کہا کہ خاندان کے سوال کا ابھی تک جواب نہیں دیا گیا اور میڈیکل بورڈ عدالت کے احکامات پر بنایا گیا تھا۔ انھوں نے سوال کیا کہ کیا سپر میڈیکل بورڈ عدالتی احکامات کو سپر سیڈ کرسکتا ہے۔
کمیشن کے مطابق ڈاکٹر سمیہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر اسامہ کی جانب سے ان کے خلاف منفی مہم چلائی جا رہی ہے اور اس مہم کی وجہ سے وہ شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔
کمیشن کا کہنا تھا کہ سوموار کے روز تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج لاشاری اور سی پی ایل سی کے نمائندے کاشف کو بلایا جائے گا، جبکہ اسی روز اے آئی جی آزاد خان، ڈی آئی جی عامر فاروقی اور ڈی آئی جی فرخ لنجار کو سوالنامے بھیجے جائیں گے۔
اسلام آباد میں امریکی سفارتخانہ نے ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ 30 اگست کو ایک کارروائی کے نتیجے میں دو کروڑ دس لاکھ ڈالر مالیت کی تقریباً 463 کلوگرام کرسٹل میتھم فیٹامین (جسے آئس بھی کہا جاتا ہے) ضبط کی گئی ہے۔
اعلامیے کے مطابق 14 سے 29 اگست کے درمیان پاکستان کے انسدادِ منشیات کے ادارے اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کے کراچی بندرگاہ پر قائم کنٹرول یونٹ نے پاکستان سے سری لنکا کی جانب روانگی کے لیے لدے ہوئے کنٹینرز میں افغانستان میں تیار ہونے والی غیرقانونی منشیات کی موجودگی کا شبہ ظاہر کیا۔
امریکی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ اے این ایف کی جانب سے بروقت اطلاع موصول ہونے پر امریکہ کے انسدادِ منشیات کے ادارے ڈرگ انفورسمینٹ ایڈمنسٹریشن (ڈی ای اے) نے متعلقہ ممالک کے حکام کے ساتھ کام کرتے ہوئے منشیات کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس کارروائی کے دوران پاکستانیوں سمیت متعدد مشکوک افراد کی گرفتاری عمل میں آئی۔