یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
12 جون کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اوول آفس میں بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں دستاویزات کو حتمی شکل دینے کا مرحلہ ’اگلے چند دنوں میں مکمل ہو جانا چاہیے۔ ہم شاید یورپ میں اس پر دستخط کریں گے اور یہ ایک اچھی پیش رفت ہوگی۔‘
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
12 جون کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ایران کے ساتھ جنگ کے معاملے پر ایک ’بہترین معاہدہ‘ طے کر لیا ہے اور وہ اب دستاویزات کو ’حتمی شکل دینے کے مرحلے‘ میں داخل ہو رہے ہیں۔
اوول آفس میں بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں دستاویزات کو حتمی شکل دینے کا مرحلہ ’اگلے چند دنوں میں مکمل ہو جانا چاہیے۔ ہم شاید یورپ میں اس پر دستخط کریں گے اور یہ ایک اچھی پیش رفت ہوگی۔‘
خیال رہے اس سے قبل ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کی ایران کی اعلی ترین قیادت سے منظوری کے بعد وہ ایران کے خلاف آج کے طے شدہ حملے اور بمباری منسوخ کر رہے ہیں۔
اوول آفس میں بات کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ ان کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایسا معاہدہ ہونے جا رہا ہے، جس کے تحت ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں حاصل کر سکے گا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ معاہدے پر ’جلد ہی دستخط ہوں گے اور دستاویزات تقریباً حتمی شکل میں ہیں۔‘
انھوں نے اس موقع پر پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف بھی کی اور کہا کہ وہ اسرائیل، قظر متحدہ عرب امارات، سعودی عرب بحرین، کویت اور دیگر ممالک کے رہنماؤں سے بات کر چکے ہیں اور اب ترکی کے صدر اردوغان سے بھی بات کریں گے۔
’سب بہت خوش ہیں، اور مشرقِ وسطیٰ بھی بہت خوش ہے۔‘
کیا ایرانی رہبرِ اعلیٰ اس ممکنہ معاہدے سے متفق ہیں؟
اوول آفس میں ایک صحافی نے ٹرمپ سے پوچھا کہ وہ اس بات کے بارے میں کتنے پُراعتماد ہیں کہ اس ہفتے کے آخر تک ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا جائے گا؟
ٹرمپ نے جواب دیا: ’یہ جلد ہی ہوگا، شاید اسی ہفتے کے آخر میں۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا ایران کے رہبرِ اعلیٰ نے اس معاہدے سے اتفاق کر لیا ہے، تو ٹرمپ نے کہا: ’میری معلومات کے مطابق جواب ہاں میں ہے۔‘
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جیسے ہی معاہدے پر دستخط ہوں گے، آبنائے ہرمز پر امریکی بحری ناکہ بندی فوری طور پر اٹھا لی جائے گی۔
اس موقع پر ایک صحافی نے ذکر کیا کہ ٹرمپ ماضی میں بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکہ اور ایران کسی معاہدے کے قریب ہیں، تو اس بار کیا بات مختلف ہے؟
ٹرمپ نے جواب دیا: ’کیونکہ انھوں نے سخت نقصان اٹھایا ہے۔ انھوں نے ایسا نقصان اٹھایا ہے جو بہت کم لوگ ہی برداشت کر سکتے ہیں اور وہ میرے مقابلے میں معاہدہ کرنے کے کہیں زیادہ خواہش مند ہیں۔‘
ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ جو چیز بدلی ہے وہ معاہدے کے لیے ایران کا ’جوش و جذبہ‘ ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کلاس نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران خلیجی ریاستوں پر ایران کے تازہ حملوں کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کایا کلاس کا کہنا تھا کہ ’خلیجی ممالک اور ان کے اہم انفراسٹرکچر پر دوبارہ حملے باقابلِ قبول ہیں۔‘
’دوبارہ باقاعدہ جنگ کی طرف واپسی کی پورے خطے کو ایک بڑی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ جنگ سے نکلنے کے لیے سفارتکاری ہی بہترین راستہ ہے۔‘
اس سے قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ کایا کلاس کے ساتھ گفتگو میں انھوں نے امریکی ’جارحیت‘ کی مذمت کی تھی۔
عباس عراقچی کے مطابق انھوں نے کایا کلاس کو بتایا تھا کہ حالیہ امریکی حملے ’بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی‘ اور ان کے سبب جنگ بندی ’بے معنی‘ ہو گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کی ایران کی اعلی ترین قیادت سے منظوری کے بعد وہ ایران کے خلاف آج کے طے شدہ حملے اور بمباری منسوخ کر رہے ہیں۔
ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’بات چیت اور حتمی نکات، تصوراتی اور تفصیلی دونوں سطحوں پر، تمام متعلقہ فریقوں کی جانب سے منظور کر لیے گئے ہیں، جن میں امریکہ، اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکی، پاکستان، بحرین، کویت، اردن، مصر اور دیگر شامل ہیں۔‘
تاہم انھوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی اس وقت تک مکمل طور پر برقرار رہے گی جب تک یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار نہیں کر لیتا۔
’دستخط کے وقت اور مقام کا اعلان جلد کیا جائے گا۔‘
ایران کی جانب سے صدر ٹرمپ کے بیان پر تاحال کوئی جواب سامنے نہیں آیا ہے۔
ایران کی جوائنٹ ملٹری کمانڈ نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے خلاف مزید حملے کرنے کی کوشش کی تو اسے ’پہلے سے کہیں زیادہ سخت‘ جواب دیا جائے گا۔
اس کا کہنا ہے کہ امریکہ ایک جانب معاہدے کی بات کرتا ہے مگر دوسری جانب جارحانہ اقدامات کرتا ہے اور یہ ایک ’کھلا تضاد‘ ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ آج رات ایران پر ’بہت سخت‘ حملہ کرے گا۔ انھوں نے ’مستقبلِ قریب‘ میں ایران کی تیل اور گیس کی مارکیٹس پر ’مکمل کنٹرول حاصل کرنے‘ کا عزم بھی ظاہر کیا۔
ٹرمپ کی ان دھمکیوں کے بعد ایران کی جوائنٹ ملٹری کمانڈ نے خبردار کیا کہ ’یا تو تیل اور گیس کی برآمدات سب کے لیے ہوں گی یا پھر کسی کے لیے نہیں ہوں گی۔‘
امریکی سیکریٹری خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی اتحادیوں کے خلاف کیے جانے والے کسی بھی نقصان کی قیمت ’ایرانی اکاؤنٹس سے حاصل کیے گئے فنڈز‘ سے ادا کی جائے گی۔
بیسنٹ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ خلیجِ فارس میں آبنائے ہرمز اتھارٹی، ایران کی طرف سے قائم کیا گیا نیا ادارہ، کو ادا کیے جانے والے کسی بھی ٹول کی ’[ایرانی] فنڈز سے تلافی کی جائے گی۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’ایران کی جانب سے کیا جانے والا ہر حملہ ان معاشی اور مالی نتائج کو مزید گہرا کرے گا جن کا اسے سامنا ہے۔‘
اس سے قبل آج ایران نے اردن، بحرین اور کویت میں امریکی مفادات پر حملوں کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا۔ یہ حملے جنوبی ایران میں امریکی کارروائیوں کے بعد کیے گئے۔
ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایک ’لامتناہی دلدل‘ میں پھنس سکتا ہے۔
ایران کے پارلیمانی سپیکر اور مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’غلط حکمتِ عملیاں اور جذباتی فیصلے پورے منظرنامے کو بدتر سمت میں لے جائیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ یہ فیصلے ’توانائی کے بنیادی انفراسٹرکچر اور منڈیوں کو ہلا سکتے ہیں‘، جس سے ایک ’لامتناہی دلدل‘ پیدا ہو سکتا ہے جس میں ’آپ برسوں تک پھنسے رہیں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ: ’آپ ایک مختلف ایران دیکھیں گے۔‘
یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر ’آج رات بہت سخت‘ حملہ کرنے اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرنے کی دھمکیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔
پاکستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال میں بڑی تعداد میں پاکستانیوں نے ملازمتوں کے لیے بیرون ملک کا رُخ کیا اور اس سال کے دوران سات لاکھ 62 ہزار افراد ملازمت کے لیے بیرون ملک منتقل ہوئے ہیں۔
اکنامک سروے کے مطابق بیرون ملک جانے والے 64 فیصد یعنی پانچ لاکھ 30 ہزار افراد ملازمت کے لیے سعودی عرب گئے جبکہ 68 ہزار افراد قطر اور 52 ہزار سے زائد بہتر ملازمت کے مواقعوں کی تلاش میں متحدہ عرب امارات منتقل ہوئے ہیں۔
پاکستان کی آبادی 25 کروڑ 20 لاکھ افراد پر مشتمل ہے جس میں 26 فیصد آبادی کی عمر 15 سے 29 سال ہے۔
اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان کی آٹھ کروڑ 31 لاکھ افراد پر مشتمل افرادی قوت میں سے سات کروڑ 72 لاکھ افراد کے پاس روزگار کے مواقع موجود ہیں لیکن سات فیصد افراد بے روزگار ہیں۔ پاکستان کی 33 فیصد افرادی قوت زراعت، لائیو سٹاک اور فشریز سے وابستہ ہے جبکہ خدمات کے شعبے سے تقریباً 18 فیصد افراد وابستہ ہیں۔
اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان میں عوام کی اوسط عمر 67 سال آٹھ ماہ ہے۔ پاکستان اپنے جی ڈی پی کا اعشاریہ آٹھ فیصد صحت کے شعبے پر خرچ کرتا ہے۔ ملک میں 1934 سرکاری ہسپتال ہیں اور رجسٹرڈ ڈاکٹروں کی تعداد 3 لاکھ 36 ہزار ہے۔
اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر بچوں میں 33.6 فیصد بچے شدید غذائی قلت سے دوچار ہیں۔ پاکستان میں فی کس بنیادی خوراک کی اشیا کی قیمت جولائی 2025 میں 5600 روپے تھی جو اب مارچ میں بڑھ کر 5813 روپے ہو گئی ہے۔
اس ڈیٹا سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فی کس بنیادی غذائی اشیا کی قیمتوں میں 3.2 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اطلاعات کے مطابق قطر کے ایک مذاکراتی وفد نے آج صبح کے ابتدائی گھنٹوں تک میں تہران میں متعدد ملاقاتیں کی ہیں۔
ایک قطری عہدیدار نے بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ مذکورہ مذاکراتی ٹیم اس کے بعد دوحہ واپس آ گئی ہے جبکہ سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
قطر نے ایران کے اردن، بحرین اور کویت پر حملوں کی مذمت کی ہے، جو ایران پر امریکی حملوں کے بعد کیے گئے۔ اس نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا ہے اور کشیدگی میں کمی کے لیے اقدامات پر زور دیا ہے۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے بھی آج صحافیوں کو بتایا کہ ملک کے وزیرِ داخلہ نے اس ہفتے ایران میں اعلیٰ قیادت سے ’اہم ملاقاتیں‘ کی ہیں۔
بظاہر امریکہ کی حکمتِ عملی یہ نظر آ رہی ہے کہ دوبارہ جنگ شروع کرنے کے بجائے ایران پر حملوں کو روز بروز بڑھایا جائے۔ ایران بھی اسی انداز میں جواب دے رہا ہے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر جنگ بندی ’عملی طور پر بے معنی‘ ہو چکی ہے۔
عرب خلیجی ریاستوں کو ایک بار پھر اس تنازع کے اگلے محاذ پر لا کھڑا کیا گیا ہے کیونکہ ایران ان ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں ایسا لگتا ہے کہ ایرانی حکومت نے ٹرمپ کی دوبارہ جنگ شروع کرنے سے ہچکچاہٹ کا فائدہ اٹھایا ہے، تاہم ان کے رویے میں ایک بار پھر تبدیلی آ سکتی ہے۔
اس کے باوجود قطر اور پاکستان کے ثالث اب بھی کسی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تاہم اب اس کے امکانات مزید کم ہو سکتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ آج رات ایران پر ’مزید بمباری کرے گا، جو کہ نہ صرف مزید بڑے پیمانے پر ہوگی بلکہ طاقتور بھی ہو گی۔‘
امریکی چینل فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس ’کوئی دفاع نہیں ہے، وہ ختم ہو چکے ہیں لیکن اخبارات اور میڈیا یہ لکھنے سے انکار کر رہا ہے۔‘
’ہم چاہیں تو کل ہی وہاں داخل ہوسکتے ہیں، فوجی اہلکار بھیج سکتے ہیں۔ میں وہاں فوجی اہلکار نہیں بھیجنا چاہتا لیکن اگر میں چاہوں تو ہم فوجی اہلکاروں کا ایک چھوٹا دستہ بھیج کر وہاں کا کنٹرول سنبھال سکتے ہیں۔‘
خیال رہے اس سے قبل ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پوسٹ میں بھی ایران پر آج رات ایک بار پھر حملہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’مستقبل قریب میں کسی بھی وقت ہم خارگ جزیرے اور آئل انفراسٹرکچر کے دیگر اہم مقامات کا کنٹرول سنبھال لیں گے اور اس کی تیل و گیس کی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لیں گے، بالکل اسی طرح جیسے ہم نے وینزویلا کے ساتھ کیا ہے۔‘
صدر ٹرمپ نے نے فاکس نیوز کو بتایا کہ امریکہ نے گذشتہ رات ایران پر ’250 ملین ڈالر مالیت کے بم گرائے‘ اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرنے کی اپنی دھمکی کو دہرایا۔
تاہم انھوں نے اس بات پر شبہات بھی ظاہر کیے کہ آیا امریکہ میں ایسی فوجی کارروائی کے لیے ’حوصلہ‘ موجود ہے یا نہیں۔
ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’مجھے یقین نہیں کہ ملک میں ایسے عسکری آپریشن کی خواہش موجود ہے، چاہے یہ جتنا بھی اچھا ہو۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج رات پھر ایران پر ’بہت سخت حملہ‘ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ایران کے خارگ جزیرے کا کنٹرول سنبھالنے کا عندیہ دیا ہے۔
ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’امریکہ آج رات ایران پر بہت سخت حملہ کرے گا۔‘
’مستقبل قریب میں کسی بھی وقت ہم خارگ جزیرے اور آئل سٹرکچر کے دیگر اہم مقامات کا کنٹرول سنبھال لیں گے اور اس کی تیل و گیس کی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لیں گے، بالکل اسی طرح جیسے ہم نے وینزویلا کے ساتھ کیا ہے۔‘
خیال رہے امریکی صدر کی جانب سے ایران پر سخت حملے کے اعلان کے بعد امریکی افواج نے جمعرات کی صبح ایران پر مزید حملے کیے تھے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ان حملوں کو ایران کی ’مسلسل اور بلا اشتعال جارحیت‘ کا ردِعمل قرار دیا۔ دریں اثنا مغربی تہران اور مہرآباد ایئرپورٹ کے قریب دھماکوں کی آوازیں سننے کی غیر سرکاری اطلاعات موصول ہوئیں۔ ایران کے شہر کرج کے رہائشیوں نے بھی دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔
اس کے جواب میں ایران نے خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کا دعویٰ کیا۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق، آئی آر جی سی نیوی نے آبنائے ہرمز میں دو بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو آبنائے سے ’غیر قانونی طور پر گزرنے کا ارادہ‘ کر رہے تھے۔
بعدازاں ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسیوں نے بتایا کہ بحرین میں پانچویں امریکی بیڑے پر ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔
عمان کے ساحل کے قریب آئل ٹینکر پر امریکی حملے میں ہلاک ہونے والے ایک ملاح کے والد کا کہنا ہے کہ ان کی اپنے بیٹے سے آخری بار منگل کو بات ہوئی تھی اور تب ’سب کچھ ٹھیک تھا۔‘
رام جی چوراسیا نے روئٹرز کو بتایا کہ ان کا بیٹا آٹھ یا نو ماہ قبل گھر سے روانہ ہوا تھا۔
چوراسیا کا کہنا ہے کہ انھیں بتایا گیا کہ جہاز پر ’بم گرایا گیا ہے‘ اور عملے کے ’کئی ارکان لاپتہ ہیں۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ انھیں کون سی معلومات ملی ہیں تو والد آبدیدہ ہو گئے۔
آبنائے ہرمز کی بندش پر ایران اور امریکہ کے متضاد دعوے جاری ہیں۔
بدھ کے روز ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا کہ مصروف بحری گزرگاہ ’ہر قسم کے بحری جہازوں کے لیے مکمل طور پر بند‘ کر دی گئی ہے۔
جمعرات کی صبح ایران میں آبی گزرگاہ کے ادارے نے ایک بار پھر کہا کہ گذشتہ روز امریکی حملوں کی نئی لہر کے بعد آبنائے بند ہے۔
تاہم رات کے دوران امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس کی تردید کی اور کہا کہ ’تجارتی جہاز آج رات بھی آبنائے ہرمز میں آ جا رہے ہیں۔‘
ان مذاکرات میں آبنائے ہرمز کی مرکزی حیثیت ہے جہاں امریکہ اور ایران دونوں اس پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایران نے جنگ کے آغاز سے ہی اس آبی گزرگاہ کو عملاً بند کر رکھا ہے جس کے باعث ہزاروں ملاح پھنسے ہوئے ہیں جبکہ امریکہ نے جواباً ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
ایران نے خلیج فارس اتھارٹی قائم کی ہے جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ اس سے جنگ کے بعد ایرانی فوج کو اس گزرگاہ کی نگرانی کا اختیار مل جائے گا۔
تاہم امریکہ کا اصرار ہے کہ جنگ کے بعد ایران کو یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے ایک ’خفیہ مشن‘ کے تحت 200 تجارتی جہازوں کو اس آبی راستے سے گزرنے میں مدد دی ہے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کے تازہ حملوں نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کو ’عملاً بے معنی‘ بنا دیا ہے۔
ایک بیان میں وزارت نے امریکہ کی جانب سے کیے گئے ’غیر قانونی اور مجرمانہ حملوں‘ کی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کشیدگی میں اضافے کے نتائج کی ذمہ داری امریکی قیادت پر عائد ہو گی۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ اس نے بدھ کے روز جنوبی ایران میں فوجی، نگرانی اور ریڈار تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے ’حق دفاع‘ کے تحت حملوں کی ایک نئی لہر مکمل کی ہے۔
ادھر ایران نے بھی حملے کیے جن میں بحرین، کویت اور اردن میں پورے خطے میں پھیلے امریکی فوجی اثاثوں کو نشانہ بنایا گیا۔
دریں اثنا پالاؤ کے پرچم بردار سیٹّی بیلو نامی آئل ٹیکر پر امریکی حملے میں تین انڈین ملاح ہلاک ہو گئے ہیں جسے انڈیا کے وزیرِ جہاز رانی نے ’انتہائی افسوسناک‘ قرار دیا ہے۔ بدھ کے روز امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا تھا کہ اس نے آئل ٹینکر کو ناکارہ بنا دیا ہے۔ اس ٹینکر پر آبنائے ہرمز کی بحری گزرگاہ کی جاری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
انڈیا کی حکومت نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ تین انڈین ملاح لاپتہ ہیں اور 21 انڈین عملے کے ارکان کو بچا لیا گیا ہے۔
ادھر عمان میں انڈین سفارت خانے نے کہا ہے کہ وہ ایک علیحدہ واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے جس میں عمان کی بندرگاہ کے قریب ایک جہاز شامل تھا۔ یہ واقعہ جمعرات کی ابتدائی صبح پیش آیا۔
یہ اس ہفتے عمان کے ساحل کے قریب کام کرنے والے جہازوں پر حملوں کی سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی پر دباؤ بڑھ گیا ہے کیونکہ بدھ کے روز مسلسل دوسرے دن دونوں فریقین کے درمیان حملوں کا تبادلہ ہوا اور دونوں نے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
حملوں میں اس اضافے کے باوجود ایران کے تین ذرائع نے آج صبح روئٹرز کو بتایا کہ سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں اور مذاکرات منجمد ایرانی فنڈز کی بحالی کے گرد مرکوز ہیں۔
تہران میں مقامی حکام نے اطلاع دی ہے کہ آج کے امریکی حملوں کے نتیجے میں صوبے میں تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی اسنا نے یہ خبر تہران صوبے کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ کے حوالے سے دی ہے۔
آج صبح کے امریکی حملوں میں، خلیج فارس کے ساحل کے علاقوں کے علاوہ، تہران، کرج، ابیق، قزوین، ورامن، مالارڈ اور اشتہارد کے ارد گرد ممکنہ فضائی حملوں سے ہونے والے دھماکوں کی اطلاع ملی ہے۔
پاکستان کی حکومت کے مطابق رواں مالی سال کے دوران ملک کی معیشت کی سالانہ شرحِ نمو 3.7 فیصد رہی ہے۔
وزارتِ خزانہ مالی سال 2025-2026 کا اقتصادی جائزہ آج جاری کرے گی، جس میں بتایا گیا ہے کہ اس دوران شرحِ نمو اور ٹیکس وصولیوں سمیت کئی اہم اقتصادی اہداف حاصل نہیں کیے جا سکے۔
رواں مالی سال کے لیے جی ڈی پی کی شرحِ نمو کا ہدف 4.2 فیصد مقرر کیا گیا تھا، تاہم حقیقی شرح 3.7 فیصد رہی۔
دستاویز کے مطابق مالی سال 2025-2026 کے پہلے دس ماہ کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 6.2 فیصد رہی، تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث اپریل اور مئی میں افراطِ زر میں اضافہ دیکھنے میں آیا، اور مئی میں یہ شرح بڑھ کر 11.66 فیصد تک پہنچ گئی۔
زرعی شعبے کی شرحِ نمو 2.9 فیصد رہی، جو مقررہ ہدف 4.5 فیصد سے کم ہے، اگرچہ چاول، گندم، گنا اور مکئی سمیت اہم فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا۔
صنعتی شعبے کی کارکردگی بھی ہدف سے کم رہی، جہاں 4.30 فیصد کے مقابلے میں شرحِ نمو 3.51 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
تاہم خدمات کے شعبے نے نسبتاً بہتر کارکردگی دکھائی اور 4 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں 4.09 فیصد شرحِ نمو حاصل کی۔
رپورٹ کے مطابق ترسیلاتِ زر میں نو فیصد اضافہ ہوا اور جولائی سے مئی کے دوران یہ 38 ارب ڈالر رہیں، جو جون کے اختتام تک بڑھ کر 41 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔
برآمدات کا سالانہ ہدف 35.3 ارب ڈالر تھا، لیکن 11 ماہ کے دوران یہ 28 ارب ڈالر تک محدود رہیں۔ دوسری جانب درآمدات کا ہدف 65.2 ارب ڈالر تھا، جبکہ اسی مدت میں درآمدات 63 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔
مزید برآں، رواں مالی سال کے دوران ٹیکس وصولیوں کا حجم 14,799 ارب روپے تک رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی پر ایک بار پھر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات اور تحمل کا راستہ اختیار کریں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا ہے کہ پاکستان ایران-امریکہ مذاکرات کے حوالے سے اب بھی پرامید ہے، اگرچہ ان میں درپیش چیلنجز سے آگاہی بھی ہے۔ ترجمان کے مطابق پاکستان مختلف فریقین کے ساتھ رابطے میں ہے اور سفارت کاری کے لیے گنجائش کم ہونے کے باوجود مثبت کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ فریقین کو امن کو ایک اور موقع دینا چاہیے اور مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
ترجمان نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پرامن حل کے لیے پرامید ہے اور ثالثی کی کوششیں جاری ہیں۔
ان کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے حال ہی میں ایران کا دورہ کیا، جبکہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ایران سمیت خطے کے دیگر وزرائے خارجہ کے ساتھ رابطے جاری ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ لبنان کے آرمی چیف نے حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا، جسے دو طرفہ تعلقات کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے حوالے سے انڈین مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان ان بیانات کو مسترد کرتا ہے۔
ان کے مطابق انڈیا ایسے بیانات انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے دیتا ہے، جبکہ پاکستان اپنے زیر انتظام کشمیر کے امور کو آئین اور قانون کے مطابق حل کر رہا ہے۔
انڈین وزیر کی جانب سے پاکستان کو پانی کی فراہمی روکنے کے بیان پر بھی دفتر خارجہ نے سخت ردعمل دیا۔
ترجمان نے کہا کہ ایسے اقدامات جنوبی ایشیا کے امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں اور اگر صورتحال خراب ہوئی تو اس کی ذمہ داری انڈیا پر عائد ہوگی۔ انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
صومالیہ میں پاکستانیوں کی رہائی کی کوششیں
بریفنگ میں بتایا گیا کہ صومالی قزاقوں کے پاس موجود پاکستانیوں کی رہائی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ترجمان کے مطابق تقریباً 50 دن گزرنے کے باوجود انھیں رہائی نہیں مل سکی ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان سومالی حکام اور مقامی قبائل کے ساتھ رابطے میں ہے، جبکہ اسحاق ڈار نے اس معاملے پر سومالی وزیر خارجہ سے بھی بات کی ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ متاثرہ پاکستانیوں کی بحفاظت واپسی کے لیے کوششیں جاری رہیں گی۔
پاکستان اور ترکی نے خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلۂ خیال کرتے ہوئے تحمل اور سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے گذشتہ رات ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان سے ٹیلیفون پر بات چیت کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے علاقائی پیش رفت کا جائزہ لیا۔
پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں مکالمہ اور تحمل انتہائی اہم ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں وزرائے خارجہ نے امید ظاہر کی کہ تمام فریقین کے درمیان جلد مفاہمت ہوگی، جو خطے میں پائیدار امن اور استحکام کا باعث بنے گی۔
اس موقع پر پاکستان اور ترکی نے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے اور اعلیٰ سطح روابط جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا تاکہ دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔