لکی مروت میں مسجد کے قریب دھماکے میں بچی سمیت دو افراد ہلاک، 10 زخمی, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور
خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں ایک مسجد کے قریب دھماکے میں ایک بچی سمیت دو افراد کی جان چلی گئی ہے جبکہ اس دھماکے میں 10 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
یہ واقعہ تھانہ غزنی خیل کے علاقے خیرو خیل میں آج جمع نماز کے وقت پیش آیا ہے۔ مقامی پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ کہ ایک مشتبہ موسٹر سائکل سوار راستے سے گزر رہا تھا جس پر وہاں تعینات امن کمیٹی کے لوگوں کو شک ہوا۔
ضلعی پولیس افسر نذیر خان نے بتایا ہے کہ حملہ آور کو ٹارگٹ تک پہنچنے سے پہلے نشانہ بنایا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور نے بارود موٹر سائکل پر نصب کیا تھا۔ ایسی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ ’دور ہو جاؤ یہ پھٹ سکتا ہے۔‘
غزنی خیل تھانے کی پولیس ایس ایچ او محمد عرفان نے بتایا ہے کہ علاقے میں امن کمیٹی کے لوگ اور مقامی لوگ بھی جمعہ نماز یا دیگر ایسے مواقع پر چوکیداری کرتے ہیں۔
عینی شاہد نے کیا دیکھا
ایک مقامی شخص ساجد نے بتایا ہے کہ مسجد میں جمعہ نماز ادا کی جا رہی تھی اور جیسے ہی امام مسجد نے سلام پھیرا اس وقت تک حملہ آور بارود سے بھری موٹر سائکل لے کر مسجد کے دروازے پر پہنچ چکا تھا اور کوشش تھی کہ موٹر سائیکل مسجد کے اندر لے جائے۔
اس دوران وہاں چوکیداری پر معمور ایک شخص نے موٹر سائکل سوار پر فائر کیا اور اس دوران دھماکہ ہوا ۔
حملہ آور فائرنگ سے ہلاک
مسجد کے دروازے پر تین سالہ عاصمہ گل بیٹھی تھی۔ وہ اپنے والد کے ساتھ آئی تھی ان کے والد جمعہ نماز ادا کر رہے تھے اور وہ والد کے انتظار میں بیٹی تھی۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ اد دھماکے میں عاصمہ گل اور ایک ایک نوجوان اسد علی کی جان چلی گئی ہے۔
اسد علی کی عمر 21 سال تک بتائی گئی ہے۔ پولیس رپورٹ کے مطابق لگ بھگ پونے تین بجے اطلاع موصول ہوئی کہ مسجد بیخانخیل، میں ایک موٹر سائیکل میں بارودی مواد نصب کرکے دھماکہ کیا گیا۔ دھماکے کے بعد خودکش حملہ آور کو علاقے کے لوگوں نے فائرنگ کرکے موقع پر ہلاک کر دیا ہے۔
گزشتہ روز لکی مروت کے علاقے پہاڑ ِخیل پکہ میں دو افراد کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا۔ ان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان کا تعلق جمعیت علماء اسلام ف سے تھا۔
اس واقعہ کے بعد جمعیت کے رہنماؤں اور کارکنوں نے لکی مورت میں احتجاج کیا ہے اور لکی مروت سے دیگر علاقوں کا جانے والے راستے احتجاج کے طور پر ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیے ہیں۔