آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, جب تک تمام نکات پر اتفاق نہ ہو جائے، ممکنہ معاہدے پر دستخط کی باتیں بے معنی ہیں: ایران

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں ایران کے ساتھ معاہدے کے دستاویزات کو حتمی شکل دینے کا مرحلہ ’اگلے چند دنوں میں مکمل ہو جانا چاہیے اور اس پر شاید یورپ میں دستخط ہوں گے۔ دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جب تک معاہدے کے تمام نکات پر اتفاق نہ ہو جائے، معاہدے پر دستخط کب اور کہاں ہوں گے، ان باتوں کا فائدہ نہیں۔

خلاصہ

  • جب تک تمام نکات پر اتفاق نہ ہو جائے، دستخط کی باتیں بے معنی ہیں: ایرانی وزارتِ خارجہ
  • امریکی صدر کا ایران پر حملے منسوخ کرنے کا اعلان، معاہدے پر پہنچنے کا عندیہ
  • ایران کے ساتھ معاہدے کی صورت میں جے ڈی وینس اس تقریب میں شرکت کریں گے: ٹرمپ
  • خلیجی ریاستوں پر ایرانی حملے ناقابلِ قبول ہیں: یورپی یونین عہدیدار
  • امریکی اتحادیوں کا نقصان 'ایرانی اکاؤنٹس سے حاصل کیے گئے فنڈز' سے پورا کیا جائے گا: سیکریٹری خزانہ
  • غلط حکمتِ عملی اور جذباتی فیصلے پورے منظرنامے کو بدتر سمت میں لے جائیں گے: قالیباف کی امریکہ کو تنبیہ

لائیو کوریج

  1. لکی مروت میں مسجد کے قریب دھماکے میں بچی سمیت دو افراد ہلاک، 10 زخمی, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور

    خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں ایک مسجد کے قریب دھماکے میں ایک بچی سمیت دو افراد کی جان چلی گئی ہے جبکہ اس دھماکے میں 10 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    یہ واقعہ تھانہ غزنی خیل کے علاقے خیرو خیل میں آج جمع نماز کے وقت پیش آیا ہے۔ مقامی پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ کہ ایک مشتبہ موسٹر سائکل سوار راستے سے گزر رہا تھا جس پر وہاں تعینات امن کمیٹی کے لوگوں کو شک ہوا۔

    ضلعی پولیس افسر نذیر خان نے بتایا ہے کہ حملہ آور کو ٹارگٹ تک پہنچنے سے پہلے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور نے بارود موٹر سائکل پر نصب کیا تھا۔ ایسی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ ’دور ہو جاؤ یہ پھٹ سکتا ہے۔‘

    غزنی خیل تھانے کی پولیس ایس ایچ او محمد عرفان نے بتایا ہے کہ علاقے میں امن کمیٹی کے لوگ اور مقامی لوگ بھی جمعہ نماز یا دیگر ایسے مواقع پر چوکیداری کرتے ہیں۔

    عینی شاہد نے کیا دیکھا

    ایک مقامی شخص ساجد نے بتایا ہے کہ مسجد میں جمعہ نماز ادا کی جا رہی تھی اور جیسے ہی امام مسجد نے سلام پھیرا اس وقت تک حملہ آور بارود سے بھری موٹر سائکل لے کر مسجد کے دروازے پر پہنچ چکا تھا اور کوشش تھی کہ موٹر سائیکل مسجد کے اندر لے جائے۔

    اس دوران وہاں چوکیداری پر معمور ایک شخص نے موٹر سائکل سوار پر فائر کیا اور اس دوران دھماکہ ہوا ۔

    حملہ آور فائرنگ سے ہلاک

    مسجد کے دروازے پر تین سالہ عاصمہ گل بیٹھی تھی۔ وہ اپنے والد کے ساتھ آئی تھی ان کے والد جمعہ نماز ادا کر رہے تھے اور وہ والد کے انتظار میں بیٹی تھی۔

    مقامی لوگوں نے بتایا کہ اد دھماکے میں عاصمہ گل اور ایک ایک نوجوان اسد علی کی جان چلی گئی ہے۔

    اسد علی کی عمر 21 سال تک بتائی گئی ہے۔ پولیس رپورٹ کے مطابق لگ بھگ پونے تین بجے اطلاع موصول ہوئی کہ مسجد بیخانخیل، میں ایک موٹر سائیکل میں بارودی مواد نصب کرکے دھماکہ کیا گیا۔ دھماکے کے بعد خودکش حملہ آور کو علاقے کے لوگوں نے فائرنگ کرکے موقع پر ہلاک کر دیا ہے۔

    گزشتہ روز لکی مروت کے علاقے پہاڑ ِخیل پکہ میں دو افراد کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا۔ ان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان کا تعلق جمعیت علماء اسلام ف سے تھا۔

    اس واقعہ کے بعد جمعیت کے رہنماؤں اور کارکنوں نے لکی مورت میں احتجاج کیا ہے اور لکی مروت سے دیگر علاقوں کا جانے والے راستے احتجاج کے طور پر ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیے ہیں۔

  2. مشرقی یروشلم میں اسرائیل کی کارروائیوں پر فلسطینیوں کا غصہ: ’انھوں نے مستقبل تباہ کر دیا‘, یولیندا نیل، بی بی سی نیوز

    یروشلم کے قدیم فصیل بند شہر البستان کے نیچے ایک پہاڑی سے بڑا اسرائیلی ایکسکیویٹر ایک فلسطینی گھر کو گراتا دکھائی دیتا ہے جس کا شور گونج رہا ہے۔

    یہ شہر یہودیوں، مسیحیوں اور مسلمانوں کے لیے مقدس ہے اور اسرائیل-فلسطین تنازعے کا مرکز بھی۔ اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں مشرقی یروشلم پر قبضہ کیا اور بعد میں اسے ضم کر لیا، جسے زیادہ تر ممالک تسلیم نہیں کرتے۔

    2023 کے آخر سے سلوان کے علاقے البستان میں اب تک 59 جائیدادیں مسمار کی جا چکی ہیں۔ غزہ، ایران اور لبنان کی جنگوں کی وجہ سے عالمی توجہ ہٹنے کے دوران مشرقی یروشلم میں فلسطینیوں کو گھروں سے بے دخل کیے جانے کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

    وہاں کے رہائشی 58 سالہ فایز عواد کہتے ہیں کہ ’اب کوئی مستقبل نہیں رہا۔ انھوں نے مستقبل اور سب کچھ تباہ کر دیا۔ ہم نے ساری زندگی یہ گھر بنانے میں لگا دی، اور اب ہمیں پھر صفر پر لے آئے ہیں۔‘

    گزشتہ دو دہائیوں سے یروشلم البستان کو بائبل سے منسوب پارک میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ حالیہ عرصے میں عدالتوں کے احکامات کے تحت انہدامی کارروائیاں تیز ہو گئی ہیں۔

    بین الاقوامی قانون کے تحت مقبوضہ علاقوں میں آبادکاری اور جبری نقل مکانی غیر قانونی ہے۔ مقامی بلدیہ کا کہنا ہے کہ وہ ’تمام شہریوں کے مفاد‘ میں کام کر رہی ہے اور کھلی جگہوں کی کمی کے باعث پارک بنانا چاہتی ہے۔

    فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ انھیں تعمیراتی اجازت نامے حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2025 میں یروشلم میں منظور ہونے والی نئی رہائش کا صرف 7 فیصد فلسطینیوں کے لیے تھا، حالانکہ وہ آبادی کا تقریباً 40 فیصد ہیں۔

    اب تک البستان کے نصف مکانات منہدم ہو چکے ہیں۔ بہت سے رہائشی بھاری جرمانوں سے بچنے کے لیے خود ہی اپنے گھروں کو گرانے پر مجبور ہیں۔

    مقامی کارکن فخری ابو دیاب کہتے ہیں کہ ’ہمیں خبردار کیا جا رہا ہے کہ باقی گھروں کو بھی جلد گرا دیا جائے گا۔‘

    مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیل نے تقریباً 160 بستیاں قائم کی ہیں جہاں سات لاکھ یہودی آباد ہیں۔ فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں، جبکہ موجودہ اسرائیلی حکومت اس خیال کی مخالفت کرتی ہے۔

    اقوام متحدہ کے مطابق تقریباً 200 فلسطینی خاندان بے دخلی کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

    اسرائیلی قوانین کے تحت 1948 سے پہلے یہودیوں کی ملکیت والی جائیدادوں کا دعویٰ کیا جا سکتا ہے، مگر فلسطینیوں کو اس طرح کا حق حاصل نہیں۔

    سلوان، مسجد اقصیٰ کے قریب ہونے کی وجہ سے اسرائیلی حکام اور آبادکار گروہوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔

    ایک اور کیس میں باشا خاندان کو بھی بے دخلی کا سامنا ہے۔ 76 سالہ مفید باشا کہتے ہیں کہ ’ہم کہاں جائیں؟ ہمارے پاس کوئی اور جگہ نہیں۔‘

    عدالت نے عارضی طور پر ان کی بے دخلی روک دی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق نئی زمین رجسٹریشن پالیسی کو بھی زمین کے حصول اور فلسطینیوں کی بے دخلی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

    ماہر اویو تاتارسکی کہتے ہیں کہ ’آج یروشلم میں فلسطینی خود کو اپنے گھروں میں بھی غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔‘

    ان کے مطابق اسرائیلی حکومت شہر میں ایسی حقیقت کو مضبوطی سے قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے جہاں فلسطینی حقوق اور موجودگی کے لیے بہت کم گنجائش ہو۔

  3. ایران پر حملے کی دھمکی سے معاہدوں کی بات چیت تک، واشنگٹن اور تہران کے درمیان دو روز میں کیا کچھ ہوتا رہا

    امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کا معاہدہ قریب ہے اور ایران پر مزید حملوں کی دھمکی سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔

    امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تیسرے دن یہ اعلان کر کے صورتِ حال بدل دی کہ جنگ کے خاتمے کا معاہدہ قریب ہے۔

    دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ان اطلاعات کو ’قیاس آرائیاں‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کچھ بھی حتمی نہیں ہوا اور امریکہ نے نئے مطالبات پیش کیے ہیں۔

    تاہم اس صورتحال تک پہنچنے سے قبل ان دونوں میں ایک دوسرے پر حملے اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔

    ایران پر ’سخت حملے‘ کی دھمکی سے ’معاہدے کے قریب تک‘

    حالیہ اعلان سے پہلے دو راتوں کے دوران امریکہ نے جنوبی ایران اور آبنائے ہرمز کے اطراف علاقوں کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے خلیجی ریاستوں اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کا اعلان کیا۔

    امریکی سنٹرل کمانڈ نے ایران پر کارروائی کو اپاچی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے ردِعمل میں ’متناسب جواب‘ قرار دیا۔

    جمعرات کو امریکی صدر نے حملے جاری رکھنے اور ایرانی تیل و گیس تنصیبات پر قبضے کے عزم کا اظہار کیا۔ انھوں نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا کہ ’امریکہ آج رات ایران پر بمباری کرے گا، بہت سخت"، اور کہا کہ ایران اپنی زیادہ تر دفاعی صلاحیت کھو چکا ہے۔‘

    اس کے ردِعمل میں ایران کے خاتم الانبیاء سنٹرل ہیڈکوارٹر نے کہا کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو اس سے بھی زیادہ سخت جواب دیا جائے گا، اور ایرانی میڈیا کے مطابق خبردار کیا کہ ’یا تو تیل اور گیس کی برآمدات سب کے لیے ہوں گی یا کسی کے لیے نہیں۔‘

    گزشتہ دو راتوں میں امریکہ نے جنوبی ایران اور آبنائے ہرمز کے قریب حملے کیے جبکہ ایران نے خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔

    تاپم پھر صدر ٹرمپ نے بعد میں کہا کہ وہ حملے نہیں کریں گے اور ایک ’بہترین معاہدہ‘ قریب ہے، جس پر ممکنہ طور پر یورپ میں دستخط ہو سکتے ہیں۔

    ٹرمپ کے مطابق معاہدے کے تحت ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور آبنائے ہرمز سے ناکہ بندی ختم کر دی جائے گی۔

    دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ معاہدے کے اہم حصے تقریباً تیار ہیں لیکن وہ اپنی سرخ لکیروں پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

    امریکہ نے اس سے قبل ایران کے ساتھ کب ’معاہدے ہونے کے قریب‘ کا بیان دیا

    یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی ٹرمپ کئی بار معاہدے کے قریب ہونے کا دعویٰ کر چکے ہیں تاہم اب تک کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں ہو سکا۔

    ٹرمپ نے 20 اپریل کو کہا تھا کہ معاہدہ ’جلد‘ ہو جائے گا۔ جس کے بعد 6 مئی کو کہا کہ جنگ ’جلد ختم‘ ہو جائے گی اور 14 نکاتی یادداشت قریب ہے۔

    23 مئی کو بتایا کہ معاہدے پر ’وسیع بات چیت‘ ہو چکی ہے۔ تاہم چند روز بعد کہا کہ وہ شرائط سے خوش نہیں۔ 28 مئی کو جے ڈی وینس نے کہا کہ معاہدہ ’بہت قریب‘ ہے یہاں تک کہ 29 مئی کو ٹرمپ نے ’حتمی فیصلہ‘ کرنے کے لیے اجلاس کیا۔ اور اب پطر ان کا دعویٰ سامنے آ گیا ہے کہ چند دنوں میں معاہدہ ہو جائے گا۔

    ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو مطالبہ کر رہے ہیں کہ معاہدے میں ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام پر سخت پابندیاں شامل ہوں۔

    ان پیش رفتوں کے بعد تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق ایران پابندیوں کے خاتمے، اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی اور علاقے سے امریکی افواج کے انخلا کی ضمانت چاہتا ہے۔

    کشیدگی میں کمی کے مطالبات

    دوسری جانب اقوام متحدہ اور کئی ممالک نے بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے تحمل اور جنگ بندی پر عمل کا مطالبہ کیا ہے۔

    حالیہ حملوں کے بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کے ترجمان نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گہری تشویش ہے۔

    انھوں نے فریقین پر زور دیا کہ جنگ بندی پر مکمل عمل کریں اور مزید کشیدگی سے گریز کریں۔

    پاکستان، روس، چین، ترکی، انڈیا اور سعودی عرب نے بھی کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

  4. اب تک کی اہم خبروں پر ایک نظر

    پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں کے حوالے سے بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے۔

    خبروں کا سلسلہ آگے بڑھانے سے قبل ایک نظر اب تک کی اہم خبروں پر،

    • مصر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف طے شدہ حملے منسوخ کرنے کے اعلان کو سراہتے ہوئے ایران اور امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ ایک معاہدے تک پہنچنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں۔
    • صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ایران کے ساتھ جنگ کے معاملے پر ایک ’بہترین معاہدہ‘ طے کر لیا ہے اور وہ اب دستاویزات کو ’حتمی شکل دینے کے مرحلے‘ میں داخل ہو رہے ہیں۔
    • ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ قطر اور پاکستان کی بطور ثالث کوششوں کے باوجود امریکہ کے اقدامات کی وجہ سے مذاکراتی عمل متاثر ہوا ہے۔
    • پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں جمعیت علمائے اسلام ف سے تعلق رکھنے والے دو افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ہیں اور صبح سے پشاور کو کراچی سے ملانے والی شاہراہ انڈس ہائی وے پر احتجاج جاری ہے۔
    • پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں جمعیت علمائے اسلام ف سے تعلق رکھنے والے دو افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ہیں اور صبح سے پشاور کو کراچی سے ملانے والی شاہراہ انڈس ہائی وے پر احتجاج جاری ہے۔
    • انڈیا کی وزارتِ پیٹرولیم نے پیٹرول پمپس کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ کسی بھی صارف کو ایک دن میں 200 لیٹر سے زیادہ ہائی سپیڈ ڈیزل فروخت نہ کریں۔
  5. ٹرمپ انتظامیہ ایرانیوں کو ملک بدر کر کے سینٹرل افریقہ ریپبلک بھیجنے کا منصوبہ بنا رہی ہے: روئٹرز

    ٹرمپ انتظامیہ ایرانیوں اور دیگر تارکینِ وطن کی ایک تعداد کو ملک بدر کر کے سینٹرل افریقہ ریپبلک بھیجنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے کو اس معاملے سے باخبر دو وکلا اور ایک عہدیدار نے بتایا ہے۔

    وکلا کے مطابق جن ایرانیوں کو امریکہ ڈی پورٹ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے ان میں دو ایسی خواتین بھی شامل ہیں جنھیں اگر ایران واپس بھیجا گیا تو انھیں ممکنہ طور پر تشدد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    ان خواتین کی وکیل ایملی ٹراسٹل کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک خاتون عیسائیت قبول کر چکی ہے جبکہ دوسری جمہوریت نواز سرگرم کارکن ہے۔

    سینٹرل افریقہ ریپبلک ایک طویل عرصے سے عدم استحکام، تشدد اور غربت کا شکار ہے۔ سینٹرل افریقہ ریپبلک نے حال ہی میں امریکہ سے ڈی پورٹ کیے جانے والے افراد کو قبول کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔

    امریکی محکمۂ خارجہ اور سینٹرل افریقہ ریپبلک نے فوری طور پر اس معاملے پر تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

    ٹراسٹل کے مطابق دونوں خواتین کو نومبر 2024 میں امریکہ پہنچنے پر حراست میں لے لیا گیا تھا۔ انھوں نے امریکہ میں پناہ کے لیے درخواست دی تھی۔

    اس معاملے سے آگاہ ایک عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا کہ اس معاہدے کے تحت وسطی افریقی جمہوریہ جانے والی پہلی پرواز میں تقریباً 20 افراد سوار ہوں گے، جن میں شامی اور افغان شہری بھی شامل ہوں گے۔ دونوں وکلا کا کہنا ہے کہ یہ پرواز جمعرات کے روز روانہ ہو سکتی ہے۔

  6. پاکستان آرمی کی ٹیم کی برطانیہ میں ہونے والے بین الاقوامی پیس سٹکنگ مقابلے میں پہلی پوزیشن

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے پاکستان آرمی کی ایک ٹیم نے برطانیہ کی رائل ملٹری اکیڈمی میں منعقدہ بین الاقوامی ’پیس سٹکنگ‘ مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔

    اس حوالے سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے پاکستانی آرمی ٹیم کی نمائندگی پاکستان ملٹری اکیڈمی (پی ایم اے) نے کی تھی۔ اس ٹیم نے مقابلے میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام نمایاں اعزازات اپنے نام کیے۔

    اعلامیے کے مطابق پاکستانی ٹیم نے مجموعی ٹیم ٹرافی میں پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ ’بیسٹ پیس سٹکر‘ اور ’بیسٹ ڈرِل ڈرائیور‘ کے ایوارڈز بھی اپنے نام کیے۔

    اس مقاملے میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی ٹیم نو ارکان پر مشتمل تھی، جس کی قیادت میجر حیدر گلزار کر رہے تھے۔ ٹیم پانچ جون کو سالانہ بنیادوں پر منعقد ہونے والے اس بین الاقوامی مقابلے میں شرکت کے لیے برطانیہ پہنچی تھی۔

    اس مقابلے میں دنیا بھر کی افواج کی 16 ٹیموں نے حصہ لیا تھا۔

    بین الاقوامی پیس سٹکنگ مقابلہ ایک سالانہ فوجی تقریب ہے جو برطانیہ کے رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ میں منعقد کی جاتی ہے۔ اس مقابلے میں دنیا بھر کی افواج کے ڈرل انسٹرکٹرز اور کیڈٹس حصہ لیتے ہیں، جہاں اُن کی فوجی نظم و ضبط اور ڈرل کی درستگی کو پرکھا جاتا ہے۔

  7. لکی مروت میں جمیعت علمائے اسلام کے دو کارکنوں کی ہلاکت کے خلاف احتجاج، انڈس ہائی وے بند, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں جمعیت علمائے اسلام ف سے تعلق رکھنے والے دو افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ہیں اور صبح سے پشاور کو کراچی سے ملانے والی شاہراہ انڈس ہائی وے پر احتجاج جاری ہے۔

    گذشتہ روز سابق ویلج کونسل ناظم اور جمیعت علمائے اسلام کے مقامی رہنما گل زرین ٹھیکیدار اور مطیع اللہ کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس قتل کے واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور جمعیت علمائے اسلام کے رہنماؤں نے احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

    آج صبح انڈس ہائی وے پر تاجہ زئی کے مقام پر مظاہرین نے مقتولین کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد لاشوں کو سڑک پر رکھ کر انڈس ہائی کو ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند کردیا۔

    اس بارے میں ضلعی پولیس افسر نذیر خان سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ پولیس اس معاملے کی چھان بین کر رہی ہے اور اس بارے میں تفصیلی رپورٹ بعد میں جاری کی جائے گی۔

    اس کے علاوہ اس واقعے کے متعلق بات کرنے کے لیے لکی مروت پولیس امن کمیٹی کے رہنما خالد خان سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

    لکی مروت پولیس امن کمیٹی کے ایک دوسرے رہنما یونس خان کا کہنا تھا کہ صورتحال جلد واضح ہو جائے گی۔

    مظاہرے میں جے یو آئی کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان کے بیٹے مولانا اسجد محمود اور جماعت دوسرے رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد شریک ہے۔

    مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مولانا اسجد محمود کا کہنا تھا کہ ہمارے جن دو بندوں کو ہلاک کیا گیا، ان کے قاتل معلوم ہیں۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ ان افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔

    ریجنل پولیس افسر بنوں رب نواز خان سے اس بارے میں رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ مقامی انتظامیہ اور پولیس مظاہرین کے ساتھ رابطے میں ہیں اور معاملات کو سلجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    جمعیت علمائے اسلام کی مقامی قیادت نے اب سے کچھ دیر قبل پورے ضلع کی سڑکوں کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مقامی قیادت کے مطابق خیبر پخونخوا کو پنجاب کے ضلع میانوالی سے ملانی والی شاہراہ کو درہ تنگ، بنوں جانے والی شاہرہ کو نورنگ اور ڈیرہ اسماعیل خان جانے والی شاہراہ کو غزنی خیل کے مقام پر بند کر دیا جائے گا۔

    خیال رہے کہ خیبر پختونخوا کے بیشتر علاقے خاص طور پر صوبے جنوبی اضلاع سے پرتشدد واقعات تواتر سے رپورٹ ہو رہے ہیں۔

    پولیس پر حملے اور سرکاری اہلکاروں کے اغوا کے واقعات آئے روز پیش آ رہے ہیں۔ لکی مروت اور بنوں میں پولیس امن کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں جن میں پولیس اہلکاروں کے علاوہ مقامی شہری بھی شامل ہیں۔

    بنوں اور لکی مروت کا شمار حالیہ مہینوں میں خیبر پختونخوا کے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع ہوتا ہے جہاں شدت پسندوں کے حملوں اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    مئی 2026 میں بنوں میں فتح خیل پولیس چوکی پر شدت پسندوں نے بارود سے بھری گاڑی چوکی سے ٹکرا دی تھی۔ دھماکے اور بعد ازاں فائرنگ کے تبادلے میں متعدد پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے جبکہ چوکی کو شدید نقصان پہنچا تھا۔

    لکی مروت میں بھی پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے کئی واقعات پیش آئے ہیں۔ مختلف حملوں میں پولیس اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ جوابی کارروائیوں اور آپریشنز میں متعدد شدت پسند مارے گئے ہیں۔

  8. پنجاب میں 24 گھنٹوں کے دوران بارش اور آندھی سے جڑے واقعات میں پانچ افراد ہلاک

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بارش اور آندھی سے جڑے واعات میں پانچ افراد ہلاک اور 23 زخمی ہوئے ہیں۔

    ریسکیو پنجاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نارووال میں آسمانی بجلی گرنے کے دو مختلف واقعات میں دو افراد ہلاک ہوئے جبکہ گوجرانوالہ میں درخت گرنے سے ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔

    بیان کے مطابق لاہور میں ایک شخص کرنٹ لگنے جبکہ کینال روڈ پر درخت گرنے سے ایک موٹر سائیکل سوار ہلاک ہوا ہے۔

    اس کے علاوہ لاہور، گوجرانوالہ، نارووال، قصور اور شیخوپورہ میں مختلف واقعات میں 23 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    ترجمان ریسکیو فاروق احمد کا کہنا ہے کہ شہری کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں ریسکیو ہیلپ لائین 1122 پر ابلاع دیں۔

  9. انڈیا میں پیٹرول پمپس پر کسی بھی صارف کو 200 لیٹر سے زیادہ ڈیزل فروخت کرنے پر پابندی عائد

    انڈیا کی وزارتِ پیٹرولیم نے پیٹرول پمپس کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ کسی بھی صارف کو ایک دن میں 200 لیٹر سے زیادہ ہائی اسپیڈ ڈیزل فروخت نہ کریں۔

    نئے حکم نامے کے مطابق صنعتی، تجارتی اور ادارہ جاتی صارفین کو پیٹرول پمپس سے پیٹرول اور ڈیزل خریدنے سے روک دیا گیا ہے اور انھیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی ضرورت کا ایندھن بلک یا بڑی تعداد میں پیٹرولیم مصنوعات فروخت کے مراکز سے خریدیں۔

    بی بی سی ہندی نے انڈین خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اس پابندی کا اطلاق اگلے 90 روز تک ہو گا۔ پی ٹی آئی کی خبر کے مطابق ’یہ اقدام بعض علاقوں میں ڈیزل کی طلب میں غیر معمولی اضافے کے بعد اٹھایا گیا ہے، جہاں بلک صارفین قیمت کے فرق کی وجہ سے پیٹرول پمپوں سے ایندھن خریدنے لگے تھے۔‘

    ڈیزل بلک میں زیادہ قیمت پر اُن ٹیلی کام ٹاورز اور بڑی صنعتوں کو فروخت کیا جاتا ہے جو بجلی پیدا کرنے یا دیگر ضروریات کے لیے ڈیزل استعمال کرتی ہیں۔

    دہلی میں پیٹرول پمپوں پر ڈیزل کی قیمت 95.20 انڈین روپے فی لیٹر ہے، جبکہ بلک میں اس کی قیمت 134.50 روپے ہے۔

  10. مصر کا ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے منسوخ کرنے کا خیر مقدم: دونوں ملک معاہدے تک پہنچنے کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں، مصری وزارتِ خارجہ

    مصر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف طے شدہ حملے منسوخ کرنے کے اعلان کو سراہتے ہوئے ایران اور امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ ایک معاہدے تک پہنچنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں۔

    مصری وزارتِ خارجہ کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مصر کو امید ہے کہ ’دستیاب موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف زیرِ التوا امور پر اتفاقِ رائے حاصل کیا جائے گا اور ایک ایسا ماحول پیدا کیا جائے گا جو جنگ کے خاتمے اور علاقائی استحکام کے ایک نئے مرحلے کے آغاز کے لیے سازگار ہو۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مصر ’علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ رابطے اور تعاون کے ذریعے کشیدگی میں کمی لانے کے لیے اپنی مسلسل، سنجیدہ اور مخلصانہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔‘

  11. حزب اللہ کا جنوبی لبنان اور وادیِ بقاع میں اسرائیلی فوج پر متعدد حملوں کا دعویٰ

    حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان اور وادیِ بقاع کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فوجی دستوں، بکتر بند گاڑیوں کے خلاف ڈرون، میزائل اور راکٹ حملوں کی ایک سلسلہ وار کارروائی کی ہے۔

    گروہ کی جانب سے بدھ سے جمعرات تک جاری رہنے والی کارروائیوں کے متعلق جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے اسرائیلی فوجیوں اور بکتر بند گاڑیوں کے ایک اجتماع کو نشانہ بنایا۔

    حزب اللہ کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے خاص طور پر الطیّر حرفا سے ملحقہ علاقے الراجمان پر مرکوز تھے، جہاں چار مختلف مواقع پر حملے کیے گئے۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ لبنانی شہروں ناقورہ، القوازہ، رشّاف، القنطرہ، زوتر الشرقیہ اور یعمر الشقيف میں بھی اسرائیلی افواج اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

  12. پشین اور قلعہ عبداللہ میں دو پولیس تھانوں پر حملے، نامعلوم افراد اہلکاروں سے اسلحہ چھین کر فرار

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے اضلاع پشین اور قلعہ عبداللہ میں جمعرات کے روز نامعلوم مسلح افراد نے پولیس کے دو تھانوں پر حملے کیے اور انھیں نقصان پہنچایا جبکہ وہاں موجود اہلکاروں سے اسلحہ بھی چھین کر لے گئے۔

    محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کا کہنا ہے کہ قلعہ عبداللہ میں حملہ گیلو کے علاقے میں کیا گیا۔

    بی بی سی کی جانب سے بذریعہ فون رابطہ کرنے پر قلعہ عبداللہ میں تعینات ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بدھ کے روز مسلح افراد کی ایک بڑی تعداد نے گلستان کے سرحدی علاقے میں واقع گیلو پولیس چوکی پر حملہ کیا۔

    ان کے مطابق حملہ آوروں نے پولیس تھانے کو گرا دیا جبکہ اس کے بعض حصوں کو نذر آتش بھی کیا۔

    انھوں نے بتایا کہ اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم حملہ آور تھانے سے دو ایس ایم جیز، ایک گاڑی اور موٹر سائیکل لے گئے۔

    سینیئر پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ جب پولیس اور سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری حملہ آوروں کے خلاف کاروائی کے لیے پہنچی تو اس سے پہلے ہی وہ وہاں سے فرار ہو چکے تھے۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ جس علاقے میں یہ حملہ ہوا ہے وہ ضلع نوشکی کے سرحد کے قریب واقع ہے۔

    اس ہی روز ایک اور حملے میں مسلح افراد نے ضلع پشین کے سرحدی علاقے دینار میں سلطان پولیس تھانے کو بھی نقصان پہنچایا۔

    پشین میں تعینات ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ مسلح افراد تھانے کو نقصان پہنچانے کے علاوہ اہلکاروں سے اسلحہ بھی چھین کر لے گئے ہیں۔

    خیال رہے کہ عید سے قبل اسی تھانے کی حدود سے نامعلوم مسلح افراد محکمہ حیوانات کے شیپ فارم سے 400 سے زائد بھیڑیں بھی چھین کر لے گئے تھے۔

    یہ گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران بلوچستان میں پولیس کے تھانوں پر تیسرا حملہ تھا۔

    اس سے قبل ضلع دُکی میں نرہن پولیس تھانے پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا تھا۔

    ایس پی دُکی منصور احمد بزدار نے بتایا کہ حملہ آوروں نے بھاری اسلحے سے تھانے پر حملہ کیا لیکن پولیس اہلکاروں کی بھرپور مزاحمت کی وجہ سے وہ تھانے میں داخل نہیں ہوسکے۔

    انھوں نے بتایا کہ جھڑپ کے دوران پولیس کا ایک جوان ہلاک اور ایک زخمی بھی ہوا ہے۔

    ان حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔

  13. ایران کی انڈین بحری جہازوں پر امریکی حملوں کی مذمت

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ پر انڈین تجارتی جہازوں پر ’وحشیانہ حملوں‘ کا الزام لگاتے ہوئے اسے ’امریکہ کی مسلح لوٹ مار اور ریاستی قزاقی کی جاری پالیسی کا واضح ثبوت‘ قرار دیا پے۔

    خیال رہے کہ جمعرات کی صبح پالاؤ کے پرچم بردار سیٹّی بیلو نامی آئل ٹیکر پر امریکی حملے میں تین انڈین ملاح ہلاک ہو گئے تھے جسے انڈیا کے وزیرِ جہاز رانی نے ’انتہائی افسوسناک‘ قرار دیا ہے۔

    اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں انڈین ملاحوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بقائی نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکہ کو اس ’غیر قانونی رویے‘ پر جوابدہ ٹھہرائے۔

  14. ایران کے ساتھ معاہدے کی صورت میں جے ڈی وینس اس تقریب میں شرکت کریں گے: ٹرمپ

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ابتدائی معاہدے پر دستخط ممکنہ طور پر اس ہفتے کے اختتام پر یورپ میں ہوں تاہم وہ اس تقریب میں شرکت نہیں کریں گے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اس تقریب میں شرکت کریں گے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں بھی امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس نے کی تھی۔

  15. جب تک تمام نکات پر اتفاق نہ ہو جائے، دستخط کی باتیں بے معنی ہیں: ایرانی وزارتِ خارجہ

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ قطر اور پاکستان کی بطور ثالث کوششوں کے باوجود امریکہ کے اقدامات کی وجہ سے مذاکراتی عمل متاثر ہوا ہے۔

    اسماعیل بقائی نے زور دے کر کہا کہ معاہدے کے متن کے بیشتر حصے پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا ہے تاہم امریکہ کے متضاد مؤقف نے معاہدے تک پہنچنے کے عمل میں عدم استحکام اور رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایک انٹرویو میں معاہدے کے وقت اور مقام سے متعلق دعوؤں کو ’محض میڈیا کی قیاس آرائیاں‘ قرار دی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک متعلقہ حکام معاہدے کے متن کے ہر ایک جز پر حتمی نتیجے تک نہیں پہنچتے، تب تک اس پر دستخط کے وقت اور مقام کے بارے میں بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

    اسماعیل بقائی کا مزید کہنا تھا کہ معاہدے کا متن ہمارے لیے پہلے ہی واضح ہے مگر امریکی فریق ہر بار غیر معقول مطالبات سامنے لاتا رہا۔ انھوں نے ایک بار پھر زور دیا کہ ایران دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود اپنے اصولی مؤقف اور ریڈ لائنز سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

  16. دستاویزات کو ’حتمی شکل دینے کے مرحلے‘ میں ہیں: صدر ٹرمپ کا ایران کے ساتھ یورپ میں ممکنہ معاہدے پر دستخط کا عندیہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ایران کے ساتھ جنگ کے معاملے پر ایک ’بہترین معاہدہ‘ طے کر لیا ہے اور وہ اب دستاویزات کو ’حتمی شکل دینے کے مرحلے‘ میں داخل ہو رہے ہیں۔

    اوول آفس میں بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں دستاویزات کو حتمی شکل دینے کا مرحلہ ’اگلے چند دنوں میں مکمل ہو جانا چاہیے۔ ہم شاید یورپ میں اس پر دستخط کریں گے اور یہ ایک اچھی پیش رفت ہوگی۔‘

    خیال رہے اس سے قبل ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کی ایران کی اعلی ترین قیادت سے منظوری کے بعد وہ ایران کے خلاف آج کے طے شدہ حملے اور بمباری منسوخ کر رہے ہیں۔

    اوول آفس میں بات کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ ان کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایسا معاہدہ ہونے جا رہا ہے، جس کے تحت ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں حاصل کر سکے گا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ معاہدے پر ’جلد ہی دستخط ہوں گے اور دستاویزات تقریباً حتمی شکل میں ہیں۔‘

    انھوں نے اس موقع پر پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف بھی کی اور کہا کہ وہ اسرائیل، قظر متحدہ عرب امارات، سعودی عرب بحرین، کویت اور دیگر ممالک کے رہنماؤں سے بات کر چکے ہیں اور اب ترکی کے صدر اردوغان سے بھی بات کریں گے۔

    ’سب بہت خوش ہیں، اور مشرقِ وسطیٰ بھی بہت خوش ہے۔‘

    کیا ایرانی رہبرِ اعلیٰ اس ممکنہ معاہدے سے متفق ہیں؟

    اوول آفس میں ایک صحافی نے ٹرمپ سے پوچھا کہ وہ اس بات کے بارے میں کتنے پُراعتماد ہیں کہ اس ہفتے کے آخر تک ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا جائے گا؟

    ٹرمپ نے جواب دیا: ’یہ جلد ہی ہوگا، شاید اسی ہفتے کے آخر میں۔‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا ایران کے رہبرِ اعلیٰ نے اس معاہدے سے اتفاق کر لیا ہے، تو ٹرمپ نے کہا: ’میری معلومات کے مطابق جواب ہاں میں ہے۔‘

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جیسے ہی معاہدے پر دستخط ہوں گے، آبنائے ہرمز پر امریکی بحری ناکہ بندی فوری طور پر اٹھا لی جائے گی۔

    اس موقع پر ایک صحافی نے ذکر کیا کہ ٹرمپ ماضی میں بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکہ اور ایران کسی معاہدے کے قریب ہیں، تو اس بار کیا بات مختلف ہے؟

    ٹرمپ نے جواب دیا: ’کیونکہ انھوں نے سخت نقصان اٹھایا ہے۔ انھوں نے ایسا نقصان اٹھایا ہے جو بہت کم لوگ ہی برداشت کر سکتے ہیں اور وہ میرے مقابلے میں معاہدہ کرنے کے کہیں زیادہ خواہش مند ہیں۔‘

    ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ جو چیز بدلی ہے وہ معاہدے کے لیے ایران کا ’جوش و جذبہ‘ ہے۔

  17. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کی ایران کی اعلی ترین قیادت سے منظوری کے بعد وہ ایران کے خلاف آج کے طے شدہ حملے اور بمباری منسوخ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بات چیت اور حتمی نکات، تصوراتی اور تفصیلی دونوں سطحوں پر، تمام متعلقہ فریقوں کی جانب سے منظور کر لیے گئے ہیں، جن میں امریکہ، اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکی، پاکستان، بحرین، کویت، اردن، مصر اور دیگر شامل ہیں۔‘
    • یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کلاس نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران خلیجی ریاستوں پر ایران کے تازہ حملوں کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیا ہے۔
    • ایران کی جوائنٹ ملٹری کمانڈ نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے خلاف مزید حملے کرنے کی کوشش کی تو اسے ’پہلے سے کہیں زیادہ سخت‘ جواب دیا جائے گا۔
    • امریکی سیکریٹری خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی اتحادیوں کے خلاف کیے جانے والے کسی بھی نقصان کی قیمت ’ایرانی اکاؤنٹس سے حاصل کیے گئے فنڈز‘ سے ادا کی جائے گی۔
    • ایران کے پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ’غلط حکمتِ عملیاں اور جذباتی فیصلے پورے منظرنامے کو بدتر سمت میں لے جائیں گے۔‘
  18. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔