گجرات میں زارا مجاہد کے قتل کے بعد دو پولیس افسران گرفتار: ’کورٹ میرج کرنے والی خاتون کو خاندان کے حوالے کیا گیا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, احتشام شامی
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع گجرات کی ایک مقامی عدالت نے زارا مجاہد کے مبینہ ’غیرت کے نام پر قتل‘ کے مقدمے میں اعانتِ جرم کے الزام میں گرفتار ہونے والے دو پولیس اہلکاروں کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔
جون 2026 کے دوران زارا مجاہد کے قتل کا مقدمہ اُن کے والد، بھائی، والدہ اور دیگر چار افراد کے خلاف درج کیا گیا تھا۔ جبکہ گجرات پولیس کے انسپیکٹرز فہد الرحمٰن اور اعجاز احمد پر اس قتل میں ملوث ملزمان کی معاونت کا الزام عائد ہونے کے بعد انھیں معطل کر کے ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا۔
پیر کے روز کھاریاں کے ایڈیشنل سیشن جج عمران خورشید کی عدالت میں زارا مجاہد قتل کیس میں گرفتار ہونے والے دونوں پولیس انسپیکٹرز کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستیں مسترد کی گئیں۔ اس موقع پر وکیلِ صفائی کا کہنا تھا کہ وہ سیشن کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کریں گے۔
یاد رہے کہ 21 ستمبر کو پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) نے دونوں پولیس انسپیکٹرز کو حراست میں لیا تھا۔ انسپیکٹر فہد الرحمٰن تھانہ صدر گجرات میں بطور ایس ایچ او کام کر رہے تھے جب انھیں تحویل میں لیا گیا۔ جبکہ انسپیکٹر اعجاز احمد تھانہ ٹانڈہ میں ایس ایچ او رہ چکے ہیں اور گرفتاری کے وقت ڈسٹرکٹ پولیس لائنز میں ڈیوٹی پر تھے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق گجرات کے گاؤں چک سکندر سے تعلق رکھنے والی خاتون زارا مجاہد نے پسند کی شادی کی تھی اور اس کے بعد وہ خاندان کے خوف کے باعث اپنے شوہر کے ہمراہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد منتقل ہو گئی تھیں۔
ادھر وکیلِ صفائی قاضی ظفر اللہ خان ایڈووکیٹ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ دونوں پولیس اہلکار بے قصور ہیں جنھیں زبردستی مقدمے میں ملوث کیا جا رہا ہے۔ جبکہ مقدمے میں مقتولہ کے والد، بھائی اور چچا کی طرف سے بھی ضمانت کی درخواستیں دائر ہو چکی ہیں، جن میں وکلائے صفائی نے مؤقف اپنایا ہے کہ ان کا قتل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
زارا مجاہد کا ’غیرت کے نام پر‘ قتل
گجرات کے تھانہ صدر لالہ موسیٰ میں 10 جون 2026 کو پولیس کی مدعیت میں قتل سمیت سات دفعات کے تحت زارا مجاہد کے قتل کی ایف آئی آر درج کی گئی تھی، جس میں 11 ملزمان کو نامزد اور چھ ملزمان کو نامعلوم ملزمان بتایا گیا تھا۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ زارا مجاہد کو اُن کے والد، بھائی، والدہ اور دیگر چار افراد نے مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کر دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ’ملزمان حقائق اور جرم چھپانے کے لیے مقتولہ کی لاش کو گاڑی میں ڈال کر ضلع خانیوال کے علاقے جہانیاں لے گئے ہیں اور وہیں اس کی تدفین کر دی۔ ملزمان کے کچھ رشتہ دار جہانیاں میں رہتے ہیں۔‘
واضح رہے کہ لالہ موسیٰ سے جہانیاں کا فاصلہ 400 کلومیٹر کے لگ بھگ ہے۔
مقدمے کے مدعی افسر نے ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ اطلاع ملنے پر وہ دیگر اہلکاروں کے ہمراہ گاؤں چک سکندر پہنچے اور وقوعے کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
اُن کے مطابق زارا مجاہد کی تلاش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ملزمان نے 13 اور 14 مئی 2026 کی درمیانی شب موضع چک سکندر میں انھیں قتل کر دیا تھا۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزمان مقتولہ کی لاش کو گاڑی میں ڈال کر جہانیاں لے گئے، گاڑی کو ڈرائیور عاطف رضا چلا رہا تھا جبکہ آٹھ یا نو مزید ملزمان بھی موجود تھے، جنھوں نے مبینہ قاتلوں کی اعانت کرتے ہوئے جرم چھپانے اور مقتولہ کی تجہیز و تکفین میں مدد کی۔
قتل کے 27 روز بعد، 10 جون کو پولیس کی مدعیت میں تھانہ صدر لالہ موسیٰ میں 11 نامزد اور 6 نامعلوم افراد کے خلاف یہ مقدمہ درج ہوا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دو پولیس انسپیکٹرز سمیت 17 نامزد ملزمان
ریجنل پولیس آفیسر گوجرانوالہ خرم شہزاد وڑائچ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ زارا مجاہد قتل کیس میں 17 افراد کو نامزد کیا گیا تھا۔ ان میں سے مقتولہ کے والدین سمیت گیارہ ملزمان کی شناخت کر لی گئی تھی جبکہ چھ افراد نامعلوم تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ایک شخص ملک سے باہر فرار ہو چکا ہے جس کی گرفتاری کے لیے انٹرپول پولیس سے مدد لی جائے گی۔‘
پولیس ریکارڈ کے مطابق مقدمے میں مقتولہ کا بھائی احمد مرتضیٰ، والد مجاہد اور چچا عاطف رضا گرفتار ہو کر جیل منتقل ہو چکے ہیں۔ جبکہ مقتولہ کی والدہ اور پھوپھی سمیت چار ملزمان عبوری ضمانت پر ہیں۔ جبکہ مقتولہ کے ایک چچا سمیت دو ملزمان اشتہاری ہو چکے ہیں۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ مقتولہ کی تدفین کا بندوبست کرنے والے دو ملزمان کے کردار کا تعین کیا جا رہا ہے۔
خرم شہزاد وڑائچ کا کہنا تھا کہ دونوں پولیس انسپیکٹرز کو معطل کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف ملازمت سے برخاستگی کے لیے محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
’یہ بلاشبہ ایک سنگین واقعہ ہے جس میں ایک بے گناہ خاتون کی جان گئی۔ اس کیس کی ابتدائی انکوائری میں دونوں پولیس انسپیکٹرز قصوروار پائے گئے تھے، جس پر میں نے ہی ان کے خلاف کارروائی کی باضابطہ طور پر منظوری دی اور ان کی گرفتاری عمل میں آئی۔‘
آر پی او کہتے ہیں کہ ’جو پرائیویٹ لوگ اس واقعے میں ملوث پائے گئے، ان سب کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی اور جو پولیس افسران ملوث ہوں گے، ان کے خلاف قانونی اور محکمانہ، دونوں کارروائیاں ہوں گی۔ ہماری کسی پولیس اہلکار سے کوئی ہمدردی نہیں، نہ ہی ہم کسی کو اس سنگین معاملے میں رعایت دیں گے۔‘
’بے گناہ معصوم انسان کا قتل ہو جائے اور پولیس کو اس کا علم نہ ہو، ایسا ہو نہیں سکتا۔ اس واقعے کا سراغ پولیس نے اپنے انٹیلیجنس نیٹ ورک سے لگایا اور ہمیں کامیابی ملی۔‘
ادھر وکیلِ صفائی قاضی ظفر اللہ خان ایڈووکیٹ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ دونوں پولیس اہلکار ایف آئی آر میں نامزد نہیں تھے اور ان کو محض شک کی بنیاد پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 120 بی کے تحت گرفتار کیا گیا، جو کہ مجرمانہ سازش میں شریک ہونے پر لگائی جاتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ دونوں پولیس اہلکار بے قصور ہیں جنھیں زبردستی مقدمے میں ملوث کیا جا رہا ہے۔
مقدمے میں مقتولہ کے والد مجاہد، بھائی احمد مرتضیٰ اور چچا عاطف رضا کی طرف سے بھی ضمانت کی درخواستیں دائر ہو چکی ہیں، جن میں وکلائے صفائی نے مؤقف اپنایا ہے کہ ان کا قتل سے کوئی تعلق نہیں ہے اور پولیس نے بدنیتی کی بنیاد پر انھیں حراست میں لیا ہے۔
وکلائے صفائی کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست ملزمان کے خلاف نہ کوئی عینی شاہد گواہ ہے اور نہ کوئی ثبوت۔ ’پولیس کی ساری کارروائی سنی سنائی باتوں پر مشتمل ہے جو کہ یک طرفہ طور پر کی گئی ہے۔‘
پولیس انسپیکٹرز کا مبینہ کردار کیا تھا؟
اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل ایک پولیس افسر نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ زارا مجاہد قتل کیس میں ملزمان کی معاونت کرنے پر تفتیشی افسر کی جانب سے ضمنی نمبر 44 کے تحت ان دونوں پولیس انسپیکٹرز کو 'گناہ گار' قرار دیا گیا، جس پر انھیں باقاعدہ حراست میں لیا گیا۔
ان کے مطابق دونوں گرفتار پولیس اہلکار ’غیرت کے نام پر قتل‘ کی جانے والی خاتون کے کیس میں ملوث ملزمان کی معاونت میں ملوث پائے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک انسپیکٹر نے کورٹ میرج کرنے والی خاتون کو حراست میں لے کر اس کے اہلِ خانہ کے حوالے کر دیا تھا جنھوں نے بعد ازاں مبینہ طور پر اسے قتل کر دیا۔
تفتیشی ٹیم کے رکن کے مطابق زارا کے اہلِ خانہ نے اُن کے شوہر کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کروانے کے بجائے 23 جنوری 2026 کو تھانہ صدر لالہ موسیٰ میں نامعلوم ملزمان کے خلاف چوری کا ایک مقدمہ درج کروایا تھا، جس کے بعد لالہ موسیٰ صدر پولیس نے اس وقت کے ایس ایچ او کی سربراہی میں اس جوڑے کو حراست میں لے لیا تھا۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’پولیس کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ پولیس نے خاتون کو اس کے والدین کے حوالے کر دیا اور صرف اس کے شوہر کی گرفتاری کا اندراج چوری کے مقدمے میں کیا، یوں پولیس افسران کی مبینہ سہولت کاری کے ساتھ یہ سب کچھ ہوا۔‘
تاہم وہ بتاتے ہیں کہ جون میں پولیس کو ’خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی کہ خاتون کو قتل کر دیا گیا ہے، جس پر پولیس کی طرف سے خاندان کو کہا گیا کہ وہ خاتون زارا کو تھانے میں پیش کریں، لیکن خاندان کے لوگ اس میں ناکام رہے۔‘
تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ دوسرے پولیس انسپیکٹر نے مبینہ طور پر ’خاندان کو مزید وقت حاصل کرنے میں سہولت فراہم کی۔‘




















