’بچہ ہمارا ہے، ہم جو چاہیں نام رکھیں‘: وہ ملک جہاں بچوں کے نام کا انتخاب منظور شدہ سرکاری فہرست سے کرنا لازمی ہے

    • مصنف, بی بی سی
    • عہدہ, مانیٹرنگ
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

تاجکستان کی حکومت نے ’قومی تاجک ناموں کی فہرست‘ کے نظرثانی شدہ ایڈیشن کی منظوری دے دی ہے اور اِس نئی فہرست میں سینکڑوں ایسے نام نکال دیے گئے ہیں جنھیں حکومت نے ’ثقافتی طور پر نامناسب‘ قرار دیا ہے۔

ان سینکڑوں ناموں کو فہرست سے خارج کرتے ہوئے اُن کی جگہ ’قومی روایات سے جڑے‘ نئے ناموں کو فہرست کا حصہ بنایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ تاجکستان میں نافذ قوانین کے مطابق، تاجک والدین پر اپنے نومولود بچے کے نام اِسی سرکاری فہرست میں سے منتخب کرنا لازمی ہے۔ اور اگر والدین اپنے بچے کو کوئی ایسا نام رکھتے ہیں جو کہ اس سرکاری فہرست میں شامل نہ ہو، تو اُن کے لیے یہ ثابت کرنا ضروری ہوتا ہے کہ بچے کو دیا گیا نام تاجکستان کی ثقافتی روایات سے ہم آہنگ ہے۔

تاجکستان کے خبررساں ادارے ’ایشیا پلس‘ کے مطابق ’جو والدین فہرست کے علاوہ کوئی نام رکھنا چاہتے ہیں، انھیں یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ بچے کو دیا گیا نام تاجکستان کی ثقافت کے لیے اجنبی نہیں ہے۔‘

البتہ، اس قانون کے تحت نسلی اقلیتوں اور غیر ملکی شہریوں کو استثنیٰ فراہم کیا گیا ہے۔

تاجکستان کی زبان و اصطلاحات کمیٹی کے مطابق، جاری کی گئی تازہ فہرست سے تقریباً 1,700 ناموں کو خارج کیا گیا ہے جبکہ قریب ایک ہزار نئے نام اس فہرست میں شامل کیے گئے ہیں۔ اس سے قبل 2023 میں شائع ہونے والی فہرست میں کل 4,056 نام موجود تھے تاہم نظرثانی کے بعد 2,311 نام برقرار رکھے گئے ہیں جبکہ 'آریائی ناموں' کی ایک ڈکشنری سے لیے گئے مزید 965 ناموں کا اضافہ کیا گیا ہے۔

اس تبدیلیوں کے بعد منظور شدہ سرکاری فہرست میں بچوں کی ناموں کی مجموعی تعداد 3,461 ہو گئی ہے۔

ثقافت پر توجہ

تاجک حکام کے مطابق اِن ترامیم کا مقصد تاریخی اور ثقافتی اہمیت کے حامل ناموں کو ترجیح دیتے ہوئے قومی شناخت کو مضبوط بنانا ہے۔

تاجکستان کی کمیٹی برائے زبان و اصطلاحات نے کہا ہے ’سابقہ فہرست سے سینکڑوں ناموں کے اخراج کی ایک بڑی وجہ اُن کی تاریخی بنیاد کا نہ ملنا اور اور تاجک ثقافت سے اُن کا کوئی تعلق نہ ہونا ہے۔‘

حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ بعض مسترد کیے گئے نام قانونی اقدار اور روایت کے خلاف تھے، جیسا کہ روزمرہ استعمال ہونے والی اشیا سے اخذ کردہ نام یا وہ نام شامل تھے جو لسانی یا ثقافتی طور پر ناموزوں سمجھے گئے۔

ناموں کی سرکاری فہرست میں حالیہ تبدیلی کے بعد کئی ایسے نام بھی نکال دیے گئے ہیں جو بیرونی اثرات (فارن انفلوئنس) کے تحت رائج ہوئے تھے یا تبدیل شدہ صورت میں استعمال ہو رہے تھے۔

لڑکوں کے ناموں سے اخذ کیے گئے لڑکیوں کے نام جیسا کہ ’امیرہ‘ اور ’عالیہ‘ کو قواعد کے منافی قرار دیتے ہوئے فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔ اسی طرح تاجک معاشرے میں مقبول نام ’جیسمین‘ کو اس کے یورپی لہجے کی وجہ سے فہرست سے نکالا گیا ہے جبکہ اِس کے روایتی متبادل ناموں ’یوسُمان‘ اور ’یوسمین‘ کو منظوری دی گئی ہے۔

نئی فہرست میں ایسے متعدد نام شامل کیے گئے ہیں جو مثبت صفات، قدرتی عناصر اور ثقافتی علامتوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان میں ’انوش‘ (مطلب ابدی یا لازوال)، ’ارغوان‘ (پھولدار درخت)، ’آرمین‘ (پرسکون یا حوصلہ افزا) اور ’آرناواز‘ (بہترین نام) شامل ہیں۔

دیگر شامل کیے جانے والے نام حسن اور اخلاقی خوبیوں پر زور دیتے ہیں، جیسا کہ ’بہار ناز‘ (دلکش اور خوبصورت)، ’بیہوش‘ (خوبصورت) اور ’بہینہ‘ (بہترین)۔

اس کے علاوہ چند روایتی اور تاریخی نام بھی فہرست میں شامل کیے گئے ہیں، جن میں ایک افسانوی کردار ’ویس‘ کے ساتھ ساتھ ’گُل‌دُخت‘، ’گوہرون‘ اور ’گیتی‘ جیسے نام شامل ہیں۔

حکومت نے اس نظرثانی شدہ فہرست کی باضابطہ منظوری رواں برس کے ابتدا میں دی تھی اور بعدازاں اسے نافذ العمل کر دیا گیا۔ ایشیا پلس کے مطابق اس فہرست کی کاپیاں سول رجسٹری کے دفاتر اور دیگر متعلقہ اداروں کو فراہم کر دی گئی ہیں، جبکہ ناموں کی اس تازہ فہرست کا مطبوعہ ایڈیشن بعد میں شائع کیا جائے گا۔

یہ اقدام 2016 میں متعارف کرائی جانے والی سابقہ قانون سازی کا تسلسل ہے، جس کے تحت تاجک بچوں کے ایسے نام رکھنے پر پابندی عائد کی گئی تھی جو ’تاجک ثقافت سے غیر متعلق‘ سمجھے جاتے ہیں، جبکہ اسی قانون سازی کے تحت ناموں میں ’امیر‘ اور ’شیخ‘ جیسے القابات کے استعمال کو بھی محدود کر دیا گیا تھا۔

’بچہ ہمارا ہے، ہم جو چاہیں اس کا نام رکھیں گے‘

تاجک حکومت کی جانب سے متعارف کروائی گئی ان تبدیلیوں نے سوشل میڈیا پر بھی بحث کو جنم دے دیا ہے، جہاں اس پر آنے والے ردعمل میں بعض صارفین اس کی حمایت جبکہ بعض اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔

فیس بک پر تبصرہ کرتے ہوئے صارف اینجیلا جمخانوا نے حکومت کی ترجیحات پر سوال اٹھاتے ہوئے لکھا کہ ’ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی اور مسئلہ ہی نہیں ہے۔ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے سینکڑوں تاجک، جو اپنے خاندانوں سے جدا ہیں، اب ناموں کے بارے میں فکر کریں؟ جس نے بچے کو جنم دیا ہے، اسے ہی فیصلہ کرنا چاہیے کہ بچے کا نام کیا رکھا جائے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ مضحکہ خیز بھی ہے اور افسوسناک بھی۔‘

پرو کریملن ٹیلیگرام چینل ’اوئی اوردو‘ نے 22 جون کو کہا کہ اس اعلان کے بعد تاجکستان کے آن لائن حلقوں پر خوب بحث جاری ہے۔

عوامی ردعمل کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے چینل نے متعدد صارفین کا حوالہ دیا، جن کا کہنا تھا ’بچہ ہمارا ہے، ہم جو چاہیں اس کا نام رکھیں گے۔‘