ایران جنگ، کنڈوم کی طلب میں اضافہ اور ایک بین الاقوامی کمپنی کی پریشانی

    • مصنف, اوسمند چیا
    • عہدہ, بزنس رپورٹر
  • مطالعے کا وقت: 3 منٹ

دنیا کی سب سے بڑی کنڈوم بنانے والی کمپنی کیریکس کے سربراہ نے کہا ہے کہ اگر ایران جنگ کے باعث خام مال کی فراہمی متاثر ہوتی رہی تو کمپنی اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں 30 فیصد یا اس سے بھی زیادہ اضافہ کر سکتی ہے۔

کیریکس کے چیف ایگزیکٹو گوہ میاہ کیات کے مطابق تنازع شروع ہونے کے بعد پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ملائیشیا میں قائم یہ کمپنی سالانہ پانچ ارب سے زائد کنڈوم تیار کرتی ہے اور ڈیوریکس اور ٹروجن جیسے عالمی برانڈز کے ساتھ ساتھ برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس جیسے اداروں کو بھی سپلائی کرتی ہے۔

گوہ نے یہ باتیں روئٹرز اور بلومبرگ کو دیے گئے انٹرویوز میں کہیں۔ بی بی سی نے بھی کمپنی سے رابطہ کیا ہے۔

جب سے ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز میں جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے، عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے۔

اس کے نتیجے میں یہ اہم بحری راستہ عملاً بند ہو گیا ہے، جس سے عالمی سپلائی رسد میں بڑی رکاوٹیں پیدا ہو گئی ہیں۔ دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر خام تیل، مائع قدرتی گیس (ایل این جی) اور دیگر پیٹروکیمیکلز عام طور پر اسی راستے سے گزرتے ہیں۔

کیریکس کمپنی اپنی مصنوعات کے لیے تیل سے حاصل ہونے والے خام مال پر انحصار کرتی ہے، جن میں امونیا (جو لیٹیکس کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے) اور سلیکون پر مبنی لبریکنٹس شامل ہیں۔

کمپنی کے مطابق اس سال کنڈوم کی مانگ میں تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ بڑھتے ہوئے فریٹ اخراجات اور شپنگ میں تاخیر نے قلت کو مزید بڑھا دیا ہے۔

گوہ میاہ کیات نے بلومبرگ سے بات کرتے ہوئے کہا: ’مشکل وقت میں کنڈوم کی ضرورت اور بڑھ جاتی ہے کیونکہ مستقبل غیر یقینی ہوتا ہے، یہ نہیں معلوم ہوتا کہ اگلے سال ملازمت ہوگی یا نہیں۔ اگر آپ اس وقت بچہ پیدا کرتے ہیں تو ایک اور فرد کی ذمہ داری بڑھ جائے گی۔‘

کنڈوم کی قیمتوں میں یہ اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی، جس نے پہلے ہی عالمی توانائی منڈیوں کو متاثر کیا ہے، اب عام صارفین کے لیے دیگر اشیا کی قیمتیں بھی بڑھا رہی ہے۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق اس جنگ کے باعث فضائی سفر بھی مہنگا ہو گیا ہے، اور اکنومی کلاس کے کم ترین کرایوں میں اوسطاً 24 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ادھر خلیجی خطے کے راستوں میں رکاوٹ کے باعث کھاد کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور ہیلیم کی کمی بھی پیدا ہو گئی ہے، جو کمپیوٹر چپس بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔

بوتل بند پانی کی صنعت بھی دباؤ کا شکار ہے کیونکہ مینوفیکچررز کو خام مال حاصل کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

اقوام متحدہ نے اس ماہ کے آغاز میں خبردار کیا تھا کہ ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث چینی، ڈیری مصنوعات اور پھلوں کی قیمتیں بھی بڑھیں گی۔