پیرس میں ہندو مذہبی گروہ کے ایفل ٹاور کے دورے پر تنازع کیوں ہوا؟

بی اے پی ایس کے ارکان نے پیرس میں ایفل ٹاور کے سامنے ایک مذہبی تقریب میں شرکت کی

،تصویر کا ذریعہKenzo TRIBOUILLARD / AFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنبی اے پی ایس کے ارکان نے پیرس میں ایفل ٹاور کے سامنے ایک مذہبی تقریب میں شرکت کی
    • مصنف, ڈین سیلز
    • مصنف, میمی سوابی
    • عہدہ, نامہ نگار برائے عالمی امور
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

فرانس میں ہندو مذہبی گروہ کے ایک وفد کے ایفل ٹاور کے دورے کے بعد ایک تنازع کھڑا ہوا ہے اور ملک میں صنفی مساوات سے متعلق نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

ایفل ٹاور پر کام کرنے والے ملازمین کی ہڑتال کے باعث اسے پیر کے روز بند کیا گیا ہے۔

ملازمین اور انتظامیہ کے مطابق، جب ہندو مذہبی وفد نے ایفل ٹاور کا دورہ کیا تو اس دوران خواتین ملازمین کو ان کی کام کی جگہ سے ہٹا دیا گیا تھا۔

ہندو مذہبی تنظیم بوچاسانواسی اکشر پروشوتم سوامی نارائن سنستھا (بی اے پی ایس) سے وابستہ تقریباً 100 افراد پر مشتمل ایک وفد نے سنیچر کے روز فرانس کے دار الحکومت پیرس میں اس معروف مقام کا دورہ کیا تھا۔

ملازمین کی یونین کی نمائندہ ڈایان ڈاووئن نے بتایا کہ وفد کی آمد پر خواتین سے کہا گیا کہ وہ وہاں سے ہٹ جائیں۔

انھوں نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ ’اس وفد کے دورے کے دوران خواتین سے کہا گیا کہ وہ اپنی کام کی جگہ چھوڑ دیں تاکہ وہاں مرد ملازمین کو تعینات کیا جا سکے۔‘

ڈاووئن نے یہ بھی کہا کہ بعد میں انتظامیہ نے اس واقعے پر ملازمین سے معذرت کی۔

ادھر بی اے پی ایس کا کہنا ہے کہ ان کا دورہ ٹاور کی انتظامیہ کے ساتھ پہلے سے طے شدہ تھا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ کسی بھی شخص کو رسائی سے محروم نہیں کیا گیا۔

تاہم گروہ نے اُن تمام افراد سے معذرت کی ہے جنھیں ’دکھ پہنچا یا کسی قسم کی زحمت اٹھانا پڑی۔‘

پیر کے روز ملازمین کی ہڑتال کے بعد ایفل ٹاور بند کر دیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپیر کے روز ملازمین کی ہڑتال کے بعد ایفل ٹاور بند کر دیا گیا تھا
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ڈاووئن نے کہا: ’اس سے ملازمین، خاص طور پر خواتین، کو بہت بُرا لگا۔ جو کچھ ہوا اور جس طرح بعض خواتین کے ساتھ برتاؤ کیا گیا، اس سے انھیں تحقیر کا احساس ہوا۔‘

انھوں نے کہا: ’ہفتے کے اختتام پر کشیدگی بڑھتی رہی۔ اسی لیے منگل کی صبح ملازمین نے اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔ پہلا مقصد انتظامیہ کے ساتھ بات چیت شروع کرنا تھا اور دوسرا یہ یقینی بنانا تھا کہ آئندہ کمپنی میں خواتین کے ساتھ اس طرح کا سلوک نہ ہو۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیرس میں اس یادگار کی نگرانی کرنے والی کمپنی ایس ای ٹی ای نے اس بات کی تصدیق کی کہ وفد نے درخواست کی تھی کہ دورے کا انتظام اس طرح کیا جائے کہ خواتین کے ساتھ رابطہ کم سے کم ہو۔

کمپنی نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ان شرائط کو قبول نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔‘

کمپنی کا کہنا تھا کہ یہ شرائط ’ایس ای ٹی ای کی اقدار اور مردوں اور عورتوں کے درمیان مساوات کے اصولوں کے مطابق نہیں تھیں۔‘

ایس ای ٹی ای کے صدر ایریل ویل نے کہا: ’یہ واضح طور پر ناقابل قبول طرزِ عمل ہے۔ میں ایفل ٹاور کی جمہوری اقدار اور مردوں اور عورتوں کے درمیان مساوات سے وابستگی کا اعادہ کرتا ہوں۔‘

بی بی سی نے ردِعمل کے لیے یونین سے رابطہ کیا ہے۔

ایک سائن بورڈ پر لکھا تھا کہ انتظامی و آپریشنل وجوہات کے باعث ٹاور مقررہ وقت پر نہیں کھل سکے گا۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنایک سائن بورڈ پر لکھا تھا کہ انتظامی و آپریشنل وجوہات کے باعث ٹاور مقررہ وقت پر نہیں کھل سکے گا

بی اے پی ایس نے اتوار کو پیرس میں اپنے پہلے بڑے مندر کے لیے ایک تقریب منعقد کی تھی۔

پیرس میں قائم بی اے پی ایس مندر نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ انھوں نے ایفل ٹاور انتظامیہ کے ساتھ رابطہ کر کے طے کیا تھا کہ دورہ ٹاور کے کھلنے کے وقت ہو گا تاکہ دیگر افراد کو کسی قسم کی دشواری یا زحمت نہ ہو۔

مندر نے اس سے پیدا ہونے والی کسی بھی پریشانی پر معذرت کی اور کہا: ’ہم باہمی احترام اور خدمت کی آفاقی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔‘

بی اے پی ایس اپنی ویب سائٹ پر خود کو ایک روحانی اور رضاکاروں کے ذریعے چلنے والی تنظیم قرار دیتی ہے جو ہندو اقدار کے ذریعے معاشرے کی بہتری کے لیے کام کرتی ہے۔

دنیا کے کئی بڑے شہروں میں اس کے مندر موجود ہیں، جن میں لندن، لاس اینجلس اور سڈنی شامل ہیں۔

'فرانس میں یہ ناقابل قبول ہے‘

اس معاملے پر سوشل میڈیا پر بھی ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ متعدد صارفین اور سیاسی شخصیات خواتین ملازمین کو ہٹانے کی اطلاعات پر تنقید کر رہی ہیں اور اسے صنفی مساوات اور خواتین کی آزادی سے متعلق اقدار کے منافی قرار دے رہی ہیں۔

پیرس کے میئر ایمانویل گریگوائر نے کہا کہ اس دورے سے متعلق حالات کی تحقیقات کی جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا: ’میں ایفل ٹاور کے ملازمین کی ناراضی کو سمجھتا ہوں اور ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ ان کا احتجاج جائز ہے۔ ہمارے تاریخی مقامات کے سامنے یا اس شہر میں کہیں بھی مردوں اور عورتوں کے درمیان مساوات ختم نہیں ہونی چاہیے۔ اسے ہر جگہ اور سب کے لیے نافذ ہونا چاہیے۔‘

فرانس کی دائیں بازو کی رہنما میرین لو پین نے کہا: ’فرانس میں ہم کبھی یہ قبول نہیں کریں گے کہ خواتین کی موجودگی کو محدود کیا جائے۔‘

فرانس کے دائیں بازو کے سابق وزیر اعظم گیبریل اٹال نے کہا: ’فرانس میں کوئی ثقافت، کوئی عقیدہ، عبادت کا کوئی طریقہ، کوئی بھی چیز اور کوئی بھی شخص خواتین کے بارے میں یہ فیصلہ کرنے کا حق نہیں رکھتا کہ ان کی جگہ کیا ہے۔‘

فرانس کی قومی اسمبلی کی صدر یائل بران پیوے نے کہا: ’میں یہ قبول نہیں کروں گی کہ غیر ملکی مہمانوں کے مطالبات پورے کرنے کے لیے خواتین کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جائے۔‘

فرانس کے رکن پارلیمان میشیل بارنیئر کے مطابق ’ایفل ٹاور تمام فرانسیسی شہریوں کی مشترکہ ملکیت ہے، اس لیے خواتین کو اس جگہ سے ہٹانے کی کوئی ہدایت ناقابلِ قبول ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں ان کا کہنا تھا: ’ہم خواتین کو نہ چھپاتے ہیں، نہ انھیں منظر سے غائب کرتے ہیں۔ ہم ان کا احترام کرتے ہیں اور ان کی آزادی کا دفاع کرتے ہیں۔‘

ایکس پر رائے دیتے ہوئے محقق اور مصنف راجیو ملہوترا نے لکھا کہ اگر بی اے پی ایس کے سوامی خواتین کے قریب نہیں جا سکتے تو انھیں خود عوامی مقامات سے گریز کرنا چاہیے، نہ کہ خواتین کو وہاں سے ہٹایا جائے۔ ان کے مطابق ایفل ٹاور پر ہونے والا واقعہ مقامی عملے کے ساتھ ناانصافی تھا۔

انڈین صحافی سنکت اپادھیائے نے ایکس پر لکھا کہ وہ ہمیشہ سے سوامی نارائن مندروں میں خواتین کے خلاف امتیازی قواعد کو غیر معقول سمجھتے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 1990 کی دہائی میں ان کی والدہ کو مندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی، جس پر ان کا خاندان وہاں سے واپس چلا گیا تھا۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ اب یہ لوگ سیاحت کے لیے بھی جانا چاہتے ہیں؟ اور بین الاقوامی سیاحتی مقامات پر بھی اپنی شرائط نافذ کرنا چاہتے ہیں؟