آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پشاور میں بال لگوانے کی سرجری کے دوران لائیو موسیقی: ’دل کو سکون ملتا ہے کہ میری وجہ سے مریض کی تکلیف دور ہوئی‘
آپ نے یقیناً ایسی ویڈیوز دیکھی ہوں گی جن میں سرجری کے دوران مریض موسیقی کا کوئی آلہ بجا رہا ہو۔ لیکن کیا آپ یہ چاہیں گے کہ سرجری کے دوران کوئی اور آپ کو لائیو موسیقی سنائے؟
حال ہی میں پاکستان کے شہر پشاور سے ایک ایسی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں ایک مریض کا ہیئر ٹرانسپلانٹ (سر پر مصنوعی بال لگوانے کا عمل) جاری ہے مگر ساتھ میں موسیقار ان کے لیے ہارمونیئم بجاتے ہوئے گانا گا رہا ہے۔
یہ ویڈیو دراصل پشاور میں ڈاکٹر حبیب ہیئر ٹرانسپلانٹ کلینک کی ہے جو ان کے ٹک ٹاک چینل پر لگائی گئی تھی۔
پاکستان میں اس ویڈیو پر کافی تبصرے ہوئے جس کے بعد ویڈیو میں نظر آنے والے ڈاکٹر حبیب نے اس بارے میں تفصیل سے بات کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’جیسا کہ آج آپ لوگ دیکھ رہے ہیں کہ آپریشن تھیٹر میں کیسا ماحول بنا ہوا ہے۔‘ وہ ایک طرف موسیقی اور دوسری جانب ہونے والی سرجری کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔
’سرجری کے دوران کبھی کبھار ہم میوزک کا پروگرام کر لیتے ہیں‘
ڈاکٹر حبیب مریض کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’میرے دوست کی آج ہیئر ٹرانسپلانٹ سرجری تھی۔ انھوں نے کہا کہ یار میں نے آپ کی ایک میوزک والی ویڈیو دیکھی تھی، تو میرے لیے بھی میوزک کا انتظام کروا لیں۔‘
پھر وہ گلوکار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’نیاز (موسیقار) کو میں ایک میسج کرتا ہوں اور وہ آ جاتا ہے۔‘
ویڈیو پر ہونے والی تنقید کے متعلق ڈاکٹر حبیب کہتے ہیں کہ تو کچھ لوگ ان ویڈیوز پر اعتراض کرتے ہیں کہ ’آپریشن تھیٹر میں ایسا نہ ہو کہ انفیکشن ہو جائے، یہ ہو جائے، وہ ہو جائے۔ ہیئر ٹرانسپلانٹ ایک ایسی سرجری ہے جس میں تمام چیزیں ڈسپوزیبل استعمال کی جاتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’اگر آپ کا سرجن ماہر ہو تو اس میں انفیکشن نہیں ہوتا۔ جب ہم انھیں (گلوکار کو) او ٹی میں لاتے ہیں تو سکرَب وغیرہ بھی پہنایا جاتا ہے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’یہ ہارٹ سرجری جیسی کوئی اتنی بڑی یا میجر سرجری نہیں۔ اس دوران کوئی بھی او ٹی میں آ سکتا ہے، لیکن آنا نہیں چاہیے۔‘
’ماحول کو کچھ حد تک کنٹرول میں رکھنا چاہیے۔ تو اس طرح کبھی کبھار ہم میوزک کا پروگرام کر لیتے ہیں۔‘
پھر وہ کیمرے کا رخ مریض کی جانب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’اس پر اکثر لوگ تنقید بھی کرتے ہیں۔ لیکن میں یہ کرتا رہتا ہوں۔۔۔ مریض سے پوچھتے ہیں کہ اس بارے میں ان کے کیا تاثرات ہیں۔‘
جس پر مریض (جن کے سر پر بال لگانے کا عمل جاری ہے) کہتے ہیں کہ ’ڈاکٹر صاحب کے ساتھ میرا کافی عرصے سے تعلق ہے، پرانی جان پہچان ہے، خصوصاً پشاور کے حوالے سے۔ ڈاکٹر صاحب ہمیشہ مجھ سے کہتے تھے کہ آپ کی ہیئر لائن اور کچھ ٹرانسپلانٹ ضروری ہے، یہ کروا لیں۔‘
’آج ہماری خوش قسمتی یہ بھی ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی طرف سے تفریح تمام مریضوں کے لیے دستیاب ہے، ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ ہم مہینے میں ایک مرتبہ مریض کے لیے لائیو انٹرٹینمنٹ بھی فراہم کرتے ہیں۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’اس وقت میری ٹریٹمنٹ تقریباً مکمل ہو چکی ہے۔ مجھے تشویش تھی کہ پتہ نہیں کیا ہوگا، تکلیف کیسی ہوگی، لیکن میں نے اسے کافی انجوائے کیا۔‘
اس دوران وہ ایک اور مریض سے بھی ملواتے ہیں جن کا پروسیجر غالباً ابھی ابھی ختم ہوا اور ڈاکٹر صاحب کے بقول وہ وہاں میوزک سننے کے لیے بیٹھے ہیں۔
’کبھی ڈاکٹروں تو کبھی مریضوں کی فرمائش پر مختلف گانے گاتا ہوں‘
بی بی سی اردو کے بلال احمد سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر حبیب شاہ نے بتایا کہ وہ پشاور میں 2011 سے پلاسٹک سرجری کے شعبے سے وابستہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’چونکہ ٹراسپلانٹ کا پروسیجر آٹھ سے دس گھنٹوں پر محیط ہوتا ہے اس لیے مریض کو توجہ ہٹانے کے لیے کبھی کبھار موسیقی کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ آپریشن تھیٹر میں ٹی وی وغیرہ لگے ہوتے ہیں، مگر موسیقی کا تجربہ 2018 سے شروع کیا گیا جس میں وقتاً فوقتاً مختلف فنکار آتے رہتے ہیں اور اس سے پہلے رباب کے فنکار بھی آچکے ہیں۔‘
ڈاکٹر حبیب نے بتایا کہ ’چونکہ کاسمیٹکس سرجری میں مریض کو پورا بے ہوش نہیں کیا جاتا اس لیے مریض موسیقی کو انجوائے کرتے ہیں۔‘
ان کے مطابق پوری دنیا میں اس طرح کے آپریشن تھیٹر میں موسیقی کا رجحان چلا آرہا ہے ’بلکہ ترکی میں تو ایسے آپریشن تھیٹر میں بھی موسیقی لگائی جاتی ہے جہاں مریض مکمل بے ہوش ہو۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ ’مہینے میں ایک دو بار اس طرح کا اہتمام کر لیا جاتا ہے جس سے مریضوں کے ساتھ ڈاکٹر بھی محظوظ ہوتے رہتے ہیں اور اس طرح فنکاروں کی بھی حوصلہ افزائی ہوجاتی ہے۔‘
ویڈیو میں ہارمونیئم بجانے والے گلوکار نیاز ہیں جو گذشتہ پچیس سالوں سے موسیقی سے وابستہ ہیں اور ان کا تعلق پشاور سے ہے۔
بی بی سی نیوز اردو کے لیے بلال احمد سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’ڈاکٹر صاحب کی طرف گذشتہ تین سالوں سے یہ سلسلہ شروع کیا گیا ہے جہاں کبھی ڈاکٹروں کی فرمائش اور کبھی مریضوں کی فرمائش پر مختلف گانے گاتا ہوں۔‘
نیاز نے بتایا کہ ’آپریشن تھیٹر میں موسیقی کا ایک الگ تجربہ رہا ہے جس سے دل کو سکون ملتا ہے کہ میری وجہ سے مریض کی تکلیف یا جو اس کے ذہن میں سرجری کو لے کر بُرے خیالات آتے ہیں، وہ میوزک کی وجہ سے دور ہو جاتے ہیں۔‘
گذشتہ برس نومبر میں بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق انڈیا کے دارالحکومت دہلی کے ایک آپریشن تھیٹر میں خاتون کی سرجری کے دوران ان کے کانوں پر رکھے گئے ہیڈ فونز سے بانسری کی نرم دھنیں سنائی دے رہی تھیں۔
اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگرچہ بے ہوشی کی دوائیں دماغ کے زیادہ تر حصوں کو سُلا دیتی ہیں، لیکن سننے کی صلاحیت کچھ حد تک کام کرتی رہتی ہے۔ اسی لیے موسیقی سننے والے مریض کم دوا لیتے ہیں اور ہوش میں آنے پر زیادہ جلد اور صاف ذہن کے ساتھ جاگتے ہیں۔
دہلی کے مولانا آزاد میڈیکل کالج اور لوک نائک ہسپتال سے شائع ہونے والی ایک تحقیق میں یہی بات سامنے آئی تھی۔ تحقیق کے مطابق جنرل اینستھیزیا کے دوران چلایا جانے والا موسیقی کا استعمال ادویات کی ضرورت کو معمولی مگر بامعنی حد تک کم کر سکتا ہے اور صحت یابی کے عمل کو بہتر بنا سکتا ہے۔