آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, عباس عراقچی کی روس آمد پر پاکستان کی ثالثی کی تعریف مگر امریکہ پر تنقید: ’حد سے زیادہ مطالبات کے باعث مذاکرات اہداف حاصل نہیں کر سکے‘

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی دورہ پاکستان مکمل کر کے اب روس پہنچ چکے ہیں جہاں اُن کی صدر پوتن سے ملاقات متوقع ہے۔ ایرانی وزیر کا کہنا ہے کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ثالث کے طور پر اہم کردار ادا کیا ہے تاہم امریکہ کی جانب سے حد سے زیادہ مطالبات کے باعث مذاکرات اہداف حاصل نہیں کر سکے۔

خلاصہ

  • امریکہ، ایران مذاکرات میں تعطل کے بعد ایشیائی منڈیوں میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ: 2.2 فیصد اضافے کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 107.70 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی
  • ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی دورہ پاکستان مکمل کر کے روس روانہ ہو گئے ہیں۔ ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کے مطابق ایرانی وفد کا حالیہ دورۂ پاکستان 'دوطرفہ تعلقات کے جائزے اور علاقائی صورتحال پر مشاورت' کے لیے تھا
  • ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق دورہ پاکستان کے دوران عباس عراقچی نے ’امریکہ کے لیے ایران کے تحریری پیغامات‘ پاکستانی حکام کے حوالے کیے ہیں
  • لبنان کی وزارت صحت کے مطابق جنوبی لبنان پر ہوئے تازہ اسرائیلی فضائی حملوں میں 14 افراد ہلاک جبکہ 37 زخمی ہوئے ہیں

لائیو کوریج

  1. ایران مسئلے کی اہمیت کو نظر انداز کرنا مشکل ہے، کریملن

    کریملن کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوتن کے روز سینٹ پیٹرزبرگ میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کریں گے۔

    روس کے سرکاری خبر رساں ادارے تاس کے مطابق روسی حکومت کے ترجمان دمتری پیسکوف کا کہنا ہے کہ ایران اور مشرقِ وسطیٰ سے جڑی صورتِ حال جس طرح آگے بڑھ رہی ہے، اس تناظر میں ایران مسئلے کی اہمیت کو نظر انداز کرنا مشکل ہے۔

    خیال رہے کہ عباس عراقچی پاکستان اور عمان کے دورے کے بعد سوموار کے روز ہی روس پہنچے ہیں۔

    اس سے قبل سینٹ پیٹرزبرگ پہنچنے پر ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان اور عمان کے دورے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پاکستان نے حالیہ عرصے میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ثالث کے طور پر اہم کردار ادا کیا ہے، جس کے باعث اب تک کی تازہ پیش رفت پر تبادلۂ خیال ضروری تھا۔‘

  2. پاکستان میں شرح سود ایک فیصد اضافے کے بعد 11.5 فیصد پر پہنچ گیا

    پاکستان کے مرکزی بینک نے شرح سود ایک فیصد کا اضافہ کر دیا ہے۔

    سوموار کے روز سٹیٹ بینک آف پاکیستان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 27 اپریل کو ہونے والے اجلاس میں مانیٹری پالیسی کمیٹی نے 28 اپریل سے پالیسی کی شرح 100 بیسس پوائنٹس سے بڑھا کر 11.50 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اس سے قبل جنوری کے آخر میں مرکزی بینک نے شرح سود کو برقرار رکھا تھا۔

  3. اسرائیل کا جنوبی لبنان میں فضائی کارروائی کے دوران حزب اللہ کے تین ارکان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز جنوبی لبنان میں جاری کارروائیوں کے دوران حزب اللہ کے تین ارکان کو ہلاک کیا گیا ہے۔

    ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے تین جنگجوؤں کو اس وقت شناخت کیا گیا جب وہ ’فارورڈ ڈیفنس لائن کے جنوب‘ میں اسرائیلی فوجیوں کے قریب پہنچ رہے تھے۔

    اسرائیل نے لبنان کے اندر تقریباً دس کلومیٹر تک ’بفر زون‘ قائم کر رکھا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اس کا مقصد حزب اللہ کی جانب سے لاحق خطرے کو کم کرنا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اس وقت لبنان کا لگ بھگ پانچ فیصد رقبہ اسرائیلی فوج کے قبضے میں ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بنت جبیل میں حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے پر بھی فضائی حملی کیے گئے ہیں۔

    اس وقت لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی نافذ ہے تاہم حزب اللہ اس معاہدے کی فریق نہیں ہے۔

  4. ’حزب اللہ اب بھی منظم ہے اور ہتھیار نہیں ڈالے گی‘: نعیم قاسم کا لبنانی حکام پر اسرائیل کو ’بے جا رعایتیں‘ دینے کا الزام

    حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے امریکہ کی حمایت سے لبنان کی مزاحمت ختم کرنے کی کوششیں شروع کی تھیں تاہم وہ اب تک اس میں ناکام رہا ہے۔

    نعیم قاسم کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اسرائیل ایک بند گلی میں پھنس چکا ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ نقصانات اور آبادی کی نقل مکانی کے باوجود حزب اللہ اب بھی ’مضبوط اور منظم‘ ہے اور اسے عوامی حمایت حاصل ہے۔

    انھوں نے لبنانی حکام پر اسرائیل کو ’بے جا رعایتیں‘ دینے کا الزام عئد کیا۔

    نعیم قاسم نے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے امکان کو ’سرے سے مسترد‘ کرتے ہوئے بالواسطہ مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ کیا۔

    نعیم قاسم کا کہنا ہے کہ تنازع کے کسی بھی حل کے لیے بنیادی شرائط میں اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ، مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی افواج کا انخلا، ’قیدیوں‘ کی رہائی، متاثرہ آبادی کی اپنے علاقوں کو واپسی اور تعمیرِ نو شامل ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ ’اپنے ہتھیار نہیں ڈالے گی۔‘

  5. کوئٹہ: ’دہشت گردوں کی سہولت کاری‘ کے الزام میں گرفتار نرسنگ کی طالبہ کے والدین کا احتجاج

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں زیر تعلیم نرسنگ کی طالبہ خدیجہ بلوچ کی گرفتاری کے خلاف اُن کے اہلخانہ کا بولان میڈیکل کالج کے باہر دھرنا جاری ہے۔

    یاد رہے کہ خدیجہ بلوچ کو بولان میڈیکل کالج کے نرسنگ ہاسٹل سے 20 اور 21 اپریل کی درمیانی شب گرفتار کر کے ہدہ جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔ سرکاری حکام کا دعویٰ ہے کہ خدیجہ بلوچ کو ’دہشت گردوں کی سہولت کاری‘ کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

    تاہم دوسری جانب خدیجہ کے والدین کا دعویٰ ہے کہ اُن کی بیٹی بے گناہ ہے۔ انھوں نے حکام سے اپنی بیٹی کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 28 اپریل امتحانات شروع ہونے کے پیش نظر اُن کی بیٹی کو رہا کیا جائے۔

    خدیجہ بلوچ کا تعلق ایران سے متصل بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے ہیرونک سے ہے اور اہلخانہ کے مطابق وہ بولان میڈیکل کالج میں بی ایس نرسنگ کی ساتویں سمسٹر کی طالبہ ہیں۔

    وہ کالج کی نرسنگ ہاسٹل میں ہی رہائش پزیر تھیں جہاں سے انھیں 20 اور 21 اپریل کی درمیانی شب گرفتار کیا گیا تھا۔

    ان کے گرفتاری کے فوراً بعد کالج کی طالبات نے احتجاج کیا تھا، جس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور اب خدیجہ کے والدین بھی کیچ سے کوئٹہ پہنچ کر اس احتجاج میں شریک ہوئے ہیں۔

    خدیجہ کے والد پیر جان بلوچ کا دعویٰ ہے کہ اُن کی بیٹی کو بے بنیاد الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے اور اُن پر مبینہ طور پر یہ دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو تسلیم کریں۔

    پیر جان بلوچ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ماضی قریب میں وہ اور اُن کی بیٹی تربت میں سی ٹی ڈی حکام کے سامنے پیش ہوئے تھے، جہاں سے، ان کے بقول، انھیں کلیئر قرار دیا گیا تھا۔

    تاہم محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کا دعویٰ ہے کہ گرفتار ہونے والی طالبہ کے خلاف دہشتگردوں کی معاونت اور سہولت کاری کے واضح ثبوت ملے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ سہولت کاری کے شواہد سامنے آئے جس پر قانونی طریقے سے کارروائی کی گئی اور ملزمہ کو قوانین کے مطابق انٹرنمنٹ ڈٹینشن سینٹر میں رکھا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ خدیجہ کو حراست میں لینے سے قبل قانونی تقاضوں کے مطابق اُن کے اہلخانہ کو باقاعدہ طور پر آگاہ کیا گیا تھا۔

    انھوں نے بتایا کہ خدیجہ کے خلاف تمام کارروائی قانون کے مطابق کی جا رہی ہے اور اس معاملے کو مکمل طور پر قانون کی حدود میں رہتے ہوئے ہینڈل کیا جا رہا ہے۔

  6. پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں بطور ثالث اہم کردار ادا کیا: ایرانی وزیرِ خارجہ

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی روس کے شہر سینٹ پیٹرز برگ میں پاکستان اور عمان کے دورے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان نے حالیہ عرصے میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ثالث کے طور پر اہم کردار ادا کیا ہے، جس کے باعث اب تک کی تازہ پیش رفت پر تبادلۂ خیال ضروری تھا۔‘

    ٹیلی گرام پر موجود اپنے بیان میں انھوں نے مزید کہا کہ ’مذاکراتی عمل میں بعض مقامات پر پیش رفت کے باوجود امریکہ کے غلط طرزِ عمل اور حد سے زیادہ مطالبات کے باعث مذاکرات کا گذشتہ دور اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکا، اس لیے موجودہ صورتحال پر پاکستان میں دوستوں کے ساتھ مشاورت ناگزیر تھی۔‘

    عباس عراقچی نے اپنے اس بیان میں کہا کہ ’پاکستان میں بہتر انداز میں مشاورت ہوئی اور یہ دورہ کامیاب رہا، جس میں ماضی کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور اس بات پر غور کیا گیا کہ کن حالات میں مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔‘

  7. پاسدارانِ انقلاب کے نئے سربراہ منظرِ عام سے غائب کیوں ہیں؟

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر اِن چیف بریگیڈیئر جنرل احمد واحدی مارچ کے آغاز سے ہی میڈیا سے غائب ہیں۔

    مارچ میں ہی انھیں پاسدارانِ انقلاب کمانڈر ان چیف کے اعلیٰ عہدے پر تعینات کیے جانے کی خبریں سامنے آئی تھیں۔

    وہ آخری مرتبہ 11 فروری کو عوامی سطح پر سامنے آئے تھے کہ جب انھوں نے جنوبی شہر شیراز میں سنہ 1979 کے انقلاب کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ ایک ریلی میں ’دشمن‘ کو ایران کے خلاف کسی بھی مہم جوئی سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔

    یکم مارچ کو بعض خبر رساں اداروں کی ویب سائٹس نے یہ خبر دی تھی کہ واحدی کو پاسدارانِ انقلاب کا نیا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔

    تاہم ان ویب سائٹس میں کوئی بھی بڑی سرکاری خبر رساں ایجنسی یا پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ ادارہ شامل نہیں تھا۔

    احمد واحدی کے پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر اِن چیف بننے کی یہ خبر ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں میجر جنرل محمد پاکپور اور کئی سینئر کمانڈروں کی ہلاکت کے بعد سامنے آئی تھی۔

    رپورٹ کے مطابق تقرری سے قبل احمد واحدی پاسدارانِ انقلاب کے ڈپٹی کمانڈر اِن چیف کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

  8. اسرائیلی وزیر اعظم کے خلاف تین مقدمات کی سماعت چھ ہفتے کی تاخیر کے بعد ایک مرتبہ پھر ملتوی

    یروشلم پوسٹ نامی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کی عدالتی سماعت شروع ہونے سے تقریباً 90 منٹ قبل ان کے وکیل کی درخواست پر ’اچانک منسوخ‘ کر دی گئی۔

    نیتن یاہو کو آج تقریباً چھ ہفتوں کی تاخیر کے بعد فوجداری مقدمے میں گواہی دینا تھی۔

    یہ تیسری مرتبہ ہے کہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں اور حزب اللہ کے ساتھ جنگ کے باعث عدالتی سماعت ملتوی کی گئی ہے۔

    تاہم تاحال حکام کی جانب سے آج کی سماعت میں تاخیر اور اس کے منسوخ کیے جانے کی کوئی سرکاری وجہ سامنے نہیں آئی ہے۔

    نیتن یاہو گزشتہ پانچ برس سے تین الگ مقدمات رشوت لینے، دھوکہ دہی اور امانت میں خیانت جیسے الزامات کا سامنا ہے۔

    گزشتہ سال موسمِ خزاں اسرائیلی وزیرِ اعظم نے ملک کے صدر سے اس معاملے میں معافی کی درخواست کی تھی۔

  9. ملزم پر آج عدالت میں باضابطہ فردِ جرم عائد کی جائے گی

    واشنگٹن ڈی سی میں سنیچر کی رات وائٹ ہاؤس رپورٹرز کے عشائیے کے دوران ہونے والی فائرنگ کے ملزم کو آج عدالت میں پیش کیے جانے کی توقع ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق ملزم کی شناخت کیلیفورنیا کے شہر ٹورنس سے تعلق رکھنے والے 31 سالہ کول تھامس ایلن کے نام سے ہوئی ہے۔

    امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم ٹرمپ انتظامیہ کے ارکان کو نشانہ بنا رہا تھا اور خود ڈونلڈ ٹرمپ بھی ایک ’ممکنہ‘ ہدف تھے۔

    واقعے کے ایک گھنٹے سے بھی کم وقت بعد ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے‘ اور بعد میں حملہ آور کی تصویر بھی شیئر کی۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ملزم کو گزشتہ روز شمال مغربی واشنگٹن ڈی سی کے میٹروپولیٹن پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ایک تھانے میں رکھا گیا تھا اور آج اسے دارالحکومت کے جنوب مشرقی حصے میں واقع ایک حراستی مرکز منتقل کیا جائے گا۔

    امکان ہے کہ آج ہی حملہ آور پر ایک وفاقی اہلکار پر حملہ کرنے اور اسلحہ کے استعمال کے الزامات عائد کیے جائیں گے۔

  10. میں پریشان نہیں تھا، ہم ایک افراتفری کی شکار دنیا میں رہتے ہیں: صدر ٹرمپ

    امریکہ میں بی بی سی کے شراکت دار خبر رساں ادارے سی بی ایس نیوز کو اٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جب یہ سوال کیا گیا کہ واسنگٹن میں تقریب کے دوران فائرنگ کی وجہ سے وہ خوفزدہ یا فکر مند ہوئے؟

    تو اس کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ ’میں پریشان نہیں تھا۔ میں زندگی کو بہت اچھے سے سمجھتا ہوں۔ ہم ایک افراتفری کی شکار دنیا میں رہتے ہیں۔‘

    سی بی ایس نیوز کو دیے جانے والے انٹرویو میں صدر ٹرمپ سے جب یہ پوچھا گیا کہ مُمکنہ طور پر آپ اس حملے کا اصل حدف تھے تو اُن کا کہنا تھا کہ ’میں اس بارے میں تو کُچھ نہیں کہہ سکتا مگر میں نے حملہ آور کی اب تک سامنے آنے والی دستاویزات دیکھی ہیں اور وہ (حملہ آور) انتہاپسندانہ نظریات سے متاثر ہو چکا ہے، وہ پہلے مسیحی نظریات پر چلنے والا تھا تاہم پھر اس نے انھیں چھوڑ دیا۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’وہ زندگی میں بہت سے دیگر مسائل سے گُزر رہا تھا جن کے بارے میں اُس کے بھائی نے بھی ذکر کیا اور شکایت کی ہے اور انتظامیہ کو مزید بہت کُچھ بتایا ہے۔‘

    سنیچر کی شب واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس رپورٹرز کے عشائیے میں فائرنگ کرنے والے مشتبہ حملہ آور کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔

    امریکہ کے قائم مقام اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ حملہ آور ممکنہ طور پر امریکی صدر اور اُن کی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدے داروں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔

    حملہ آور کے حوالے سے مزید جاننے کے لیے پڑھیے یہ تحریر

  11. علاقائی اور عالمی چیلنجز کے پیش نظر ایران اور روس کے درمیان تعاون اہمیت کا حامل ہے، عباس عراقچی

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ روسی حکام کے ساتھ سینٹ پیٹرزبرگ میں ان کی ملاقاتوں کا ایجنڈا کئی اہم امور پر مشتمل ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق سینٹ پیٹرزبرگ پہنچنے پہ ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’روس میں اہم شخصیات کے ساتھ ملاقات میں جاری جنگ کی صورتحال، علاقائی اور عالمی پیش رفت کا جائزہ اور تہران و ماسکو کے درمیان سیاسی تعلقات کو فروغ دینا ایجنڈے میں سرِفہرست ہیں۔‘

    عراقچی نے مزید کہا کہ ماسکو کے ساتھ اس دورے کے دوران ایک وقفے کے بعد مشاورت کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے پر بات ہوگی۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ روسی حکام کے ساتھ ملاقاتیں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال کا اہم موقع فراہم کرتی ہیں۔

    ایرانی وزیر خارجہ وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ ’مذاکرات میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے طریقوں پر بھی غور کیا جائے گا، ساتھ ہی علاقائی امور، خاص طور پر خطے میں تیزی سے بدلتی صورتحال پر بھی معاملات کو آگے بڑھانے پر بات ہوگی۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ دورہ ان کے حالیہ دورے کا تسلسل ہے جس میں پاکستان اور سلطنتِ عمان شامل تھے، جہاں مذاکرات کی تازہ صورتحال اور مشترکہ امور پر بات چیت کی گئی جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی سے متعلق مسقط کے ساتھ تکنیکی مشاورت بھی جاری ہے۔‘

    عباس عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ علاقائی اور عالمی چیلنجز کے پیش نظر ایران اور روس کے درمیان قریبی تعاون خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔

  12. ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی روس پہنچ گئے

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سوموار کی صبح روس کے شمال مغربی شہر سینٹ پیٹرزبرگ پہنچ گئے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ’ایران کے سفیر کاظم جلالی اور بعض روسی حکام نے ان کا روس پہنچنے پر استقبال کیا۔‘

    اطلاعات کے مطابق عراقچی ’پرواز میناب 168‘ کے ذریعے روس پہنچے ہیں، واضح رہے کہ یہ وہی پرواز ہے کہ جس پر انھوں نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے پہلے دور میں شمولیت کے لیے ایرانی وفد کے ساتھ پاکستان کا سفر کیا تھا۔

    اس پرواز کو ایران کے صوبہ ہرمزگان کے شہر میناب کے ایک سکول پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ہلاک ہونے والے بچوں سے منسوب کیا گیا ہے۔

    اس دورے کا مقصد ’روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات اور بات چیت‘ بتایا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ روس سے قبل ایرانی وزیرِ خارجہ نے اتوار کے روز مسقط کا دورہ کرنے اور عمانی حکام سے ملاقات کے بعد گزشتہ تین دنوں میں دوسری بار اسلام آباد کا سفر کیا، جہاں ماسکو روانگی سے قبل مختصر قیام کے دوران انھوں نے پاکستانی حکام سے بھی ملاقات کی تھی۔

  13. مالی کے وزیرِ دفاع علیحدگی پسندوں کے حملے میں ہلاک

    مالی کے وزیرِ دفاع دارالحکومت باماکو کے قریب اپنی رہائش گاہ پر ہونے والے بظاہر ایک خودکش ٹرک بم دھماکے میں ہلاک ہو گئے۔

    متعدد خبر رساں اداروں کے مطابق سادیو کامارا کی ہلاکت ملک بھر میں جہادی شدت پسندوں اور علیحدگی پسندوں کی جانب سے کیے گئے مربوط حملوں کی ایک لہر کا حصہ ہے۔

    سرکاری ٹی وی نے چند گھنٹوں بعد ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ حملہ آوروں کا مقابلہ کرتے ہوئے زخمی ہوئے تھے اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

    اطلاعات کے مطابق مالی میں فوجی حکومت کے سربراہ جنرل اسیمی گوئتا کو ان کی رہائش گاہ کو نشانہ بنائے جانے کے بعد محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

    ادھر شمالی علاقے میں مالی کی فوج کی جانب سے معاوضے پر خدمات سر انجام دینے والے روسی فوجیوں نے دو روزہ جھڑپوں کے بعد کڈال شہر سے انخلا پر آمادگی ظاہر کی، یہ بات علیحدگی پسند گروپ ازواد لبریشن فرنٹ کی جانب سے بتائی گئی ہے۔

    مالی گزشتہ کئی برسوں سے القاعدہ اور دولتِ اسلامیہ سے منسلک گروہوں کے ساتھ ساتھ ایف ایل اے کی بغاوتوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کا شکار رہا ہے۔

    سادیو کامارا مالی کے فوج کے رکن رہ چُکے ہیں اور انھیں فوج کی جانب سے حکومت میں آنے کے بعد وزیرِ دفاع مقرر کیا گیا تھا۔

    کامارا کے اہلِ خانہ اور فرانسیسی میڈیا کے حوالے سے خبر رساں اداروں نے بتایا کہ سنیچر کے روز کاتی میں القاعدہ سے منسلک جنگجوؤں کے اس حملے میں کامارا کے خاندان کے کم از کم تین افراد بھی ہلاک ہوئے۔

    حکومتی ترجمان عیسیٰ عثمان کولیبالی نے اتوار کی شام ایک بیان میں کہا کہ کامارا اس وقت ہلاک ہوئے جب ایک خودکُش حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی سے اُن کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا۔‘

    بیان میں کہا گیا کہ انھوں نے حملہ آوروں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کیا اور ’کچھ کو ہلاک کرنے میں کامیاب رہے، تاہم وہ زخمی ہو گئے اور بعد میں ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وفات پا گئے۔

  14. امریکہ، ایران مذاکرات میں تعطل کے بعد ایشیائی منڈیوں میں تیل کی قیمت میں اضافہ

    ایشیا میں پیر کی صبح تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، جب امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کے دوسرا دور ایک بار پھر سے تعطل کا شکار دیکھائی دے رہا ہے۔

    عالمی معیار برینٹ خام تیل کی قیمت میں دو اعشاریہ دو فیصد اضافہ ہوا اور یہ 107 اعشاریہ سات صفر ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ امریکی منڈی میں فروخت ہونے والا خام تیل دو اعشاریہ ایک فیصد اضافے کے ساتھ 96 اعشاریہ چار صفر ڈالر فی بیرل ہو گیا ہے۔

    یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کے روز کہا کہ واشنگٹن نے ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات کے لیے پاکستان بھیجے جانے والے وفد کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔

    ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے عالمی توانائی کی فراہمی شدید دباؤ کا شکار ہے، کیونکہ ایران کی جانب سے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے ردعمل میں نہ صرف آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے بلکہ اس اہم تجارتی آبی گُزر گاہ سے آنے اور جانے والے مال بردار بحری جہازوں پر حملوں کی دھمکی بھی دے رکھی ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کے روز کہا کہ ’عمان کے ساتھ، جو آبنائے ہرمز کے ساتھ واقع اس کا ہمسایہ ملک ہے دو طرفہ امور اور علاقائی پیش رفت سے متعلق اہم مذاکرات جاری ہیں۔‘

    انھوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’ہماری توجہ ان طریقوں پر مرکوز ہے جن کے ذریعے محفوظ بحری آمد و رفت کو یقینی بنایا جا سکے جو تمام عزیز ہمسایہ ممالک اور دنیا کے مفاد میں ہو۔‘

    انھوں نے اپنے بیان کے آخر پر لکھا کہ ’ہمارے ہمسایہ ممالک ہماری ترجیح ہیں۔‘

    عام طور پر دنیا کے تقریباً پانچواں حصہ خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) آبنائے ہرمز کے راستے گزرتا ہے۔

  15. عباس عراقچی کا عمانی میزبانوں کا شکریہ: ’محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانے کے طریقوں پر توجہ مرکوز رہی‘

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پوسٹ میں اپنے عمانی میزبانوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    ایکس پر اپنے پیغام میں عراقچی نے لکھا ہے کہ وہ عمان میں اپنے شفیق میزبانوں کے شکر گزار ہیں۔

    ان کے مطابق ’عمان دورے کے دوران دوطرفہ امور اور علاقائی پیش رفت پر اہم بات چیت ہوئی۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ہماری توجہ ایسے طریقوں پر مرکوز رہی جن کے ذریعے محفوظ آمدورفت کو یقینی بنایا جا سکے، جو ہمارے تمام عزیز ہمسایوں اور دنیا کے مفاد میں ہو۔‘

    انھوں نے ایک بار پھر دہرایا کہ ’ہمارے ہمسائے ہماری ترجیح ہیں۔‘

  16. ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ آبنائے ہرمز کے حوالے سے اچھی بات چیت ہوئی: عمانی وزیر خارجہ

    عمان کے وزیر خارجہ نے ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ ان کی ایرانی منصب کے ساتھ آبنائے ہرمز پر اچھی بات چیت ہوئی ہے۔

    یاد رہے کہ عباس عراقچی سنیچر کو پاکستان سے دورہ کرنے کے بعد عمان روانہ ہوئے تھے جہاں ان کی عمان کے سلطان کے ساتھ علاقائی پیش رفت اور ثالثی کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔

    عمانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایرانی وزیر خارجہ ڈاکٹر عراقچی کے ساتھ اچھی بات چیت ہوئی ہے۔‘

    بدر البوسعيدی نے لکھا کہ ’ساحلی ممالک کی حیثیت سے ہم بین الاقوامی برادری کے لیے اپنی مشترکہ ذمہ داری اور اس فوری انسانی ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں کہ طویل عرصے سے حراست میں موجود ملاحوں کو رہا کیا جائے۔‘

    ان کے مطابق ’آزادیٔ نقل و حرکت کو پائیدار طور پر یقینی بنانے کے لیے وسیع سفارت کاری اور عملی حل درکار ہیں۔‘

  17. جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں میں 14 ہلاک اور 37 زخمی: لبنانی وزارت صحت

    لبنان کی وزارت صحت نےدعویٰ کیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اتوار کو جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں میں 14 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    یاد رہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان حال ہی میں جنگ بندی میں مزید تین ہفتے کی توسیع کی گئی تھا۔

    وزارت کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اتوار کے روز جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ’دو بچوں اور دو خواتین سمیت 14 افراد ہلاک اور تین خواتین سمیت 37 زخمی ہوئے ہیں۔

  18. ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی وفد کے ہمراہ روس روانگی

    بی بی سی فارسی نے کچھ دیر قبل خبر دی ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ایک سفارتی وفد کے ہمراہ اپنے دورے کو جاری رکھتے ہوئے روس روانہ ہو گئے ہیں۔

    عباس عراقچی کل ماسکو میں صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات اور بات چیت کرنے والے ہیں۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے اس سے قبل اسلام آباد اور مسقط کے دورے کے دوران پاکستانی اور عمانی حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔

  19. مشتبہ حملہ آور کو حراستی مرکز منتقل کیا جائے گا، سی بی ایس کی رپورٹ

    قانون نافذ کرنے والے ذرائع نے بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز کو بتایا ہے کہ واشنگٹن میں تقریب کے دوران فائرنگ کے واقعے کا مشتبہ حملہ آور اس وقت واشنگٹن ڈی سی کے شمال مغربی علاقے میں میٹروپولیٹن پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ایک تھانے میں زیرِ حراست ہے۔

    ان کے مطابق اسے آج بعد میں دارالحکومت کے جنوب مشرقی علاقے میں واقع ایک حراستی مرکز منتقل کیا جائے گا، جس کے بعد پیر کے روز مشتبہ حملہ آور کو وفاقی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے صحافیوں کے لیے عشائیے کی تقریب کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا جہاں صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ بھی موقع پر موجود تھے، جنھیں بحفاظت تقریب سے نکال لیا گیا تھا۔

  20. ایرانی وفد کا دورۂ پاکستان دوطرفہ تعلقات کے جائزے اور علاقائی صورتحال پر مشاورت کے لیے تھا: ایرانی سفیر

    پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ ایرانی وفد کے حالیہ دورۂ پاکستان کا مقصد دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لینا اور علاقائی صورتحال پر مشاورت کرنا تھا اور یہ دورہ کامیابی کے ساتھ مکمل ہوگیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں انھوں نے بتایا کہ یہ دورہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے علاقائی سفارتی دورے کے آغاز کا حصہ تھا۔ ان کے مطابق اس دوران پاکستان کی حکومت، فوج اور عوام کی جانب سے مکمل تعاون رہا۔

    رضا امیری مقدم نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں جنگ کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے ان کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔

    ایرانی وفد کا دورہ مکمل سکیورٹی اور پُرسکون ماحول میں ہوا: ایرانی سفیر

    ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ پچھلے مرحلے کی طرح اس بار بھی ایرانی وفد کا دورہ مکمل سکیورٹی اور پُرسکون ماحول میں ہوا، جو پاکستانی حکام کی مؤثر منصوبہ بندی اور انتظامات کا نتیجہ تھا۔

    اپنے بیان میں ایرانی سفیر نے فوج کے عملے، سکیورٹی فورسز، پولیس، سرکاری اداروں کے ملازمین اور بالخصوص اسلام آباد کے رہائشیوں کا شکریہ ادا کیا، جنھوں نے اس عرصے کے دوران مہمان نوازی، تعاون اور صبر کا مظاہرہ کیا۔

    انھوں نے ایران اور پاکستان کے درمیان دوستی کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اپنی ٹویٹ میں سیرینا ہوٹل اور ریڈ زون کے اطراف ٹریفک پابندیاں ختم کیے جانے اور شہریوں کے صبر پر شکریہ کا اظہار کیا تھا۔

    انھوں نے لکھا تھا کہ ’ میں اہلِ پاکستان، بالخصوص اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہریوں کے صبر اور تعاون پر دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آپ کی حمایت ہمیں اپنے مہمانوں کی حفاظت کو یقینی بنانے اور خطے میں امن کے لیے اپنی کوششوں کو آگے بڑھانے کے قابل بناتی ہے۔‘