بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں زیر تعلیم نرسنگ کی طالبہ خدیجہ بلوچ کی
گرفتاری کے خلاف اُن کے اہلخانہ کا بولان
میڈیکل کالج کے باہر دھرنا جاری ہے۔
یاد رہے کہ خدیجہ بلوچ کو بولان میڈیکل کالج کے نرسنگ ہاسٹل
سے 20 اور 21 اپریل کی درمیانی شب گرفتار کر کے ہدہ جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔ سرکاری
حکام کا دعویٰ ہے کہ خدیجہ بلوچ کو ’دہشت گردوں کی سہولت کاری‘ کے الزام میں
گرفتار کیا گیا ہے۔
تاہم دوسری جانب خدیجہ کے والدین کا دعویٰ ہے کہ اُن کی بیٹی
بے گناہ ہے۔ انھوں نے حکام سے اپنی بیٹی کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے
کہ 28 اپریل امتحانات شروع ہونے کے پیش نظر اُن کی بیٹی کو رہا کیا جائے۔
خدیجہ بلوچ کا تعلق ایران سے متصل بلوچستان کے ضلع کیچ کے
علاقے ہیرونک سے ہے اور اہلخانہ کے مطابق وہ بولان میڈیکل کالج میں بی ایس نرسنگ کی
ساتویں سمسٹر کی طالبہ ہیں۔
وہ کالج کی نرسنگ ہاسٹل میں ہی رہائش پزیر تھیں جہاں سے انھیں
20 اور 21 اپریل کی درمیانی شب گرفتار کیا
گیا تھا۔
ان کے گرفتاری کے فوراً بعد کالج کی طالبات نے احتجاج کیا تھا،
جس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور اب خدیجہ کے والدین بھی کیچ سے کوئٹہ پہنچ کر اس
احتجاج میں شریک ہوئے ہیں۔
خدیجہ کے والد پیر جان بلوچ کا دعویٰ ہے کہ اُن کی بیٹی کو بے
بنیاد الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے اور اُن پر مبینہ طور پر یہ دباؤ ڈالا جا رہا
ہے کہ وہ اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو تسلیم کریں۔
پیر جان بلوچ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ماضی قریب میں وہ اور اُن
کی بیٹی تربت میں سی ٹی ڈی حکام کے سامنے پیش ہوئے تھے، جہاں سے، ان کے بقول، انھیں
کلیئر قرار دیا گیا تھا۔
تاہم محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی
کا دعویٰ ہے کہ گرفتار ہونے والی طالبہ کے خلاف دہشتگردوں کی معاونت اور سہولت کاری
کے واضح ثبوت ملے تھے۔
انھوں نے کہا کہ سہولت کاری کے شواہد سامنے آئے جس پر قانونی
طریقے سے کارروائی کی گئی اور ملزمہ کو قوانین کے مطابق انٹرنمنٹ ڈٹینشن سینٹر میں
رکھا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خدیجہ کو حراست میں لینے سے قبل قانونی
تقاضوں کے مطابق اُن کے اہلخانہ کو باقاعدہ طور پر آگاہ کیا گیا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ خدیجہ کے خلاف تمام کارروائی قانون کے
مطابق کی جا رہی ہے اور اس معاملے کو مکمل طور پر قانون کی حدود میں رہتے ہوئے
ہینڈل کیا جا رہا ہے۔