پاکستانی پرچم سے سفید رنگ غائب، ہاکی فیڈریشن کی معذرت: ’میدان میں کھڑے اہلکاروں نے اسے کیوں نہ دیکھا؟‘

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 6 منٹ

پاکستان اور انڈیا کسی بھی کھیل کے میدان میں جب بھی سامنے آتے ہیں، تو سوشل میڈیا پر جہاں ایک دوسرے کی ٹیم سے موازنہ اور میچ کے نتائج پر بحث شروع ہو جاتی ہے تو وہیں میچ کے دوران ہونے والے کچھ واقعات بھی خبروں کی زینت بنتے ہیں۔

ایسا ہی کچھ گذشتہ روز لندن میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایف آئی ایچ پرو لیگ کے ہاکی میچ میں ہوا جس میں انڈیا نے پاکستان کو تین کے مقابلے میں چار گول سے شکست دے دی۔

پاکستانی شائقین اس شکست پر تو اداس تھے ہی لیکن اس میچ کے شروع ہونے سے قبل بھی کچھ ایسا ہوا جس پر پاکستانی فینز شدید غصے کا اظہار کرتے نظر آئے۔

غلط پرچم کی نمائش کا یہ معاملہ اس قدر سنگین ہو گیا کہ انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کو پاکستان سے معافی مانگنا پڑی۔

پرو لیگ میچ میں کیا ہوا؟

یہ واقعہ 23 جون کو لندن میں ہاکی پرو لیگ میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان میچ سے قبل قومی ترانوں کی تقریب کے دوران پیش آیا۔ تقریب کے دوران جب پاکستان کا قومی پرچم سامنے لایا گیا تو اس میں دو رنگوں یعنی سفید اور سبز کی بجائے صرف ایک سبز رنگ تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان کا قومی پرچم سبز اور سفید رنگ پر مشتمل ہے جس میں تین حصے سبز اور ایک حصہ سفید رنگ کا ہوتا ہے۔ سبز رنگ مذہب اسلام اور سفید پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کو ظاہر کرتا ہے جبکہ سبز حصے کے بالکل درمیان میں چاند (ہلال) اور پانچ کونوں والا ستارہ ہوتا ہے۔

لیکن پرو لیگ کے میچ میں دکھائے جانے والے جھنڈے سے سفید حصہ بالکل غائب تھا۔

ایک بین الاقوامی ایونٹ میں غلط قومی پرچم پر پاکستان کے سوشل میڈیا اور ہاکی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا، جس کے بعد پرو لیگ انتظامیہ نے پاکستان ہاکی فیڈریشن سے باضابطہ تحریری معذرت کی ہے۔

ایف آئی ایچ پرو لیگ کی پاکستان سے معذرت

ایف آئی ایچ پرو لیگ کی ڈائریکٹر ہیلری ایٹکنسن نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین احمد وانی کے نام خط میں پاکستان کے قومی پرچم کی غلط نمائش پر معذرت کا اظہار کیا۔

خط میں کہا گیا کہ ’کسی بھی ٹیم کا قومی پرچم اس کی شناخت، فخر اور نمائندگی کی اہم علامت ہوتا ہے اور اس غلطی سے پاکستانی ٹیم، اس کے سپورٹرز، پاکستانی عوام اور پاکستان ہاکی فیڈریشن کی دل آزاری ہوئی جس پر ایف آئی ایچ کو گہرا افسوس ہے۔‘

ہیلری ایٹکنسن نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتظامی غلطی تھی اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے تمام انتظامی اور آپریشنل طریقہ کار کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے گا۔

انھوں نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ آئندہ کسی بھی ٹیم کے قومی تشخص اور وقار سے متعلق ایسی کوتاہی نہیں ہونے دی جائے گی۔

ایف آئی ایچ پرو لیگ انتظامیہ نے اپنے خط میں پاکستان ہاکی فیڈریشن اور قومی ٹیم کی پرو لیگ میں شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ تمام ٹیموں کے ساتھ احترام اور پیشہ ورانہ رویہ برقرار رکھنا ان کی اولین ترجیح ہے۔

’اس معاملے پر پاکستانی ٹیم کی انتظامیہ سے بھی پوچھ گچھ ہونی چاہیے‘

صحافی حسیب ارسلان نے ایکس پر لکھا کہ ایک ایسی قوم کے لیے، جس نے متعدد ورلڈ کپ اور اولمپک گولڈ میڈل جیتے اور بین الاقوامی ہاکی کی تاریخ تشکیل دینے میں مدد کی، یہ مایوس کن ہے۔

انھوں نے انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ آپ پاکستان کا درست قومی پرچم دکھانے میں ناکام رہے۔

’اس طرح کی غلطی پیشہ ورانہ مہارت پر توجہ دینے کے بارے میں سنگین سوالات کو جنم دیتی ہے۔‘

منیب فرخ نے میچ سے قبل ہونے والی تقریب کی تصویر شیئر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ’یہ پاکستان کے جھنڈے کو کیا ہو گیا؟‘

انھوں نے لکھا کہ یہ ’ناقابل قبول‘ ہے۔

صحافی فیضان لکھانی نے ایکس پر لکھا کہ بین الاقوامی تقریب میں اس بنیادی اور ناقابل قبول غلطی پر ایف آئی ایچ تنقید کا مستحق ہے تاہم انھوں نے پاکستانی ٹیم کی انتظامیہ پر بھی تنقید کی۔

انھوں نے لکھا کہ ’پاکستانی ٹیم کی انتظامیہ سے بھی پوچھ گچھ ہونی چاہیے۔ اگر سوشل میڈیا پر شائقین نے سیکنڈز میں اس غلطی کو دیکھ لیا تو میدان میں کھڑے اہلکاروں نے اسے کیسے نوٹس نہیں کیا۔‘

اس دوران کچھ صارفین ایسے بھی تھے جو قومی پرچم کو بھول کر پاکستان کی شکست پر سوال کرتے نظر آئے۔

صحافی شاہد ہاشمی نے لکھا کہ ’انڈیا نے پاکستان کو ہاکی پرو لیگ میں شکست دے دی۔ انڈیا کے خلاف 18 میچز میں پاکستان ایک بار بھی جیت نہیں سکا۔‘

اس ساری بحث میں کچھ صارفین ایسے بھی تھے جو اس بات کی نشاندہی کرتے نظر آئے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان حالیہ کرکٹ میچز کے برعکس اس ہاکی میچ میں دونوں ٹیموں کے کھلاڑی ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے نظر آئے۔

انڈیا سے شیکھر گپتا نے لکھا کہ ’حریفوں نے نہ صرف ہاتھ ملائے بلکہ آپس میں ہائی فائیوز (یعنی ایک دوسرے کو داد دینے) کا تبادلہ بھی کیا۔ وقت آ گیا ہے کہ کرکٹ میں بھی یہ معمول بحال ہو جائے۔‘

یاد رہے کہ ٹاس کے دوران ہاتھ نہ ملانے سے متعلق تنازع پہلی مرتبہ گذشتہ برس 14 ستمبر کو اس وقت سامنے آیا تھا جب انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان سوریا کمار یادیو پاکستانی کپتان سلمان علی آغا سے ہاتھ ملائے بغیر ٹاس کے دوران واپس چلے گئے تھے۔

یہاں سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان کرکٹ کے میدان میں بھی کشیدگی کا آغاز ہو گیا تھا، کھلاڑیوں نے میچ کے بعد بھی روایتی ہینڈ شیک نہیں کیا تھا اور سوریا کمار یادیو میچ جیتنے کے بعد اپنی ٹیم کو لے کر ڈریسنگ روم میں چلے گئے تھے۔