اٹلی کا ’پیسا‘ مینار اور ایمسٹرڈیم کے ’ڈانسنگ ہاؤسز‘ جھکے ہونے کے باوجود گرتے کیوں نہیں؟

    • مصنف, ڈیزی سٹیفنز
    • عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

پیسا کا مینار اٹلی کی سب سے علامتی عمارتوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ تاہم یہ واحد جھکی ہوئی عمارت نہیں ہے۔

نیدرلینڈز میں موجود ’ڈانسنگ ہاؤسز‘ سے لے کر چین کے ’ٹائیگر ہل پیگوڈا‘ تک دنیا کے مختلف مقامات پر کئی مشہور عمارتیں جھکی ہوئی ہیں۔ تو آخر یہ عمارتیں کیوں جھکتی ہیں؟ اور کیا ان کا جھکنا لازماً ان کے گرنے کی علامت ہوتا ہے؟

کچھ عمارتیں کیوں جھکتی ہیں؟

نیدرلینڈز کی ڈیلفٹ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں سول انجینیئرنگ کے شعبے سے وابستہ ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر مینڈی کورف کے مطابق عمارتوں کے ایک طرف جھکنے کی کئی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں۔ بعض صورتوں میں، مثلاً نیدرلینڈز کے مشہور ’ڈانسنگ ہاؤسز‘ میں، اس کی وجہ بنیاد کا نظام ہوتا ہے۔

مینڈی کورف کہتی ہیں کہ ایمسٹرڈم کے شہر کے مرکز میں زیادہ تر مکانات لکڑی کے ستونوں پر بنائے گئے ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ یہ ستون عمارتوں کی دیواروں اور اگلی سطح کے نیچے جوڑوں کی صورت میں لگائے جاتے ہیں۔ یہ ستون نرم مٹی، کوئلے جیسی زمین یا ریت پر مشتمل زمین کے تقریباً 12 میٹر نیچے تک جاتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اگر ستون مضبوط رہیں تو گھروں کو کچھ نہیں ہوتا۔‘

لیکن اگر وقت کے ساتھ یہ ستون گلنے یا خراب ہونے لگیں تو دراڑیں پڑ سکتی ہیں۔ محقق کے مطابق غیر مساوی گھساؤ یا وزن کی غیر متوازن تقسیم بھی وقت کے ساتھ عمارتوں کے جھکنے کا باعث بن سکتی ہے۔

پِیسا کی مثال

زمین کے حالات بھی عمارتوں کے ایک طرف جھکنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ پِیسا کے مینار کی صورت حال بھی اسی کی مثال ہے۔

یونیورسٹی آف پِیسا کے سوائل میکینکس اور فاؤنڈیشن سسٹمز کے پروفیسر نونزیانتے سکویگلیا اس ٹیم کے ارکان میں شامل ہیں جو مینار کے جھکاؤ کی نگرانی کرتی ہے۔

نونزیانتے سکویگلیا نے بی بی سی کے ریڈیو پروگرام ’وِٹنس ہسٹری‘ کو بتایا کہ ’مینار تعمیر کے بالکل آغاز سے ہی جھکنا شروع ہو گیا تھا کیونکہ زمین انتہائی نرم تھی۔ یہ تقریباً تین سے چار میٹر تک دھنس گیا تھا۔‘

کچھ عمارتیں انسانی مداخلت کے سبب تبدیل ہونے والے زمینی حالات کی وجہ سے بھی جھکتی ہیں۔ نیدرلینڈز کے شہر ڈیلفٹ میں واقع اووده کورک (پرانا چرچ) کا مینار اس کی مثال ہے۔

مینڈی کورف کہتی ہیں کہ ’یہ پِیسا کے مینار جتنا مشہور نہیں، لیکن اسی طرح جھکا ہوا ہے۔‘

یہ نہر کی طرف جھکا ہوا ہے کیونکہ نہر کھودتے وقت زمین کا ایک حصہ ہٹا دیا گیا تھا۔ ایک طرف زمین زیادہ نرم ہو گئی۔ عمارت کو سیدھا رکھنے والا دباؤ کم ہوتے ہی یہ تعمیر کے فوراً بعد جھکنے لگا۔

زیرِ زمین پانی میں تبدیلیاں بھی عمارتوں کے جھکنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ مینڈی کورف کہتی ہیں کہ بعض صورتوں میں عمارتوں کو جان بوجھ کر بھی جھکا ہوا بنایا جاتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ایمسٹرڈم میں بہت سے مکانات آگے کی طرف جھکے ہوئے بنائے گئے ہیں کیونکہ ماضی میں تاجروں کے گھر اسی طرح بنائے جاتے تھے۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ ان گھروں میں سے زیادہ تر نہر کے کنارے گودام کے طور پر استعمال ہوتے تھے، اور سامان کو آسانی سے اندر لے جانے کے لیے انھیں خاص طور پر آگے کی طرف جھکا کر بنایا جاتا تھا۔

اس لیے ان کا آگے کی طرف جھکنا کسی مسئلے کی نشاندہی نہیں کرتا۔ لیکن اگر وہ ایک طرف جھکیں تو سمجھ لیں کہ یہ جان بوجھ کر نہیں کیا گیا۔

جھکاؤ کو درست کرنا

تو جب اتنی زیادہ جھکی ہوئی عمارتیں موجود ہیں تو ہمیں زیادہ فکر کیوں نہیں ہوتی؟ مینڈی کورف کے مطابق کسی عمارت کا جھکا ہونے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ ساختی طور پر غیر محفوظ ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’کسی عمارت کے واقعی غیر مستحکم ہونے کے لیے اسے کافی زیادہ جھکنا پڑتا ہے۔‘ تاہم بعض صورتوں میں جھکاؤ کو درست کرنا ضروری ہوتا ہے۔ پِیسا کا مینار بھی ان میں شامل ہے۔

اگرچہ مینار تعمیر کے آغاز میں ہی جھکنا شروع ہو گیا تھا، مگر 20ویں صدی میں کی گئی پیمائش کے مطابق اس کا جھکاؤ مسلسل بڑھ رہا تھا۔

نونزیانتے سکویگلیا کہتے ہیں کہ ’صورت حال خاصی تشویش ناک تھی۔‘

سنہ 1989 میں اٹلی کے شہر پاویا میں سِوِک ٹاور کے گرنے کا واقعہ ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ نونزیانتے سکویگلیا کے مطابق یہ واقعہ ’محرک‘ ثابت ہوا اور ایک سال بعد پِیسا کے مینار کو سیاحوں کے لیے بند کر دیا گیا۔

مینار کو محفوظ بنانے کے لیے اسے ہلکا سا سیدھا کرنے کے کئی خیالات پیش کیے گئے۔

نونزیانتے سکویگلیا کہتے ہیں کہ ’منتخب طریقہ مٹی نکالنا تھا۔‘

مینار کو چھیڑے بغیر، بنیاد کے شمالی حصے سے 37 مکعب میٹر مٹی نکالی گئی۔

11 سال بعد مینار دوبارہ کھول دیا گیا۔

’ایک خاص‘ صورتِ حال

تاہم مینڈی کورف کے مطابق یہ طریقہ ایک عام حل نہیں ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ پِیسا کے لیے مخصوص ایک بہت خاص صورتِ حال ہے۔ عام حالات میں ایسا طریقہ اختیار نہیں کیا جاتا۔‘

ایمسٹرڈم کے گھروں کی طرح لکڑی کے ستونوں پر کھڑی عمارتوں میں بنیاد کو تبدیل کرنے سے جھکاؤ کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے، لیکن اس کے لیے زمینی منزل کو مکمل طور پر ہٹانا پڑتا ہے۔

مینڈی کورف کہتی ہیں کہ بعض اوقات کسی عمارت کو کار جیک کی طرح اوپر اٹھا کر بھی سیدھا کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ کبھی کبھار فائدے کے بجائے نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اگر عمارت بہت زیادہ جھکی ہو تو اسے مکمل طور پر سیدھا کرنا بھی خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ عمارت وقت کے ساتھ اس جھکاؤ کی حالت کے مطابق خود کو ڈھال چکی ہوتی ہے۔‘

کم از کم صورت حال کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے بہت احتیاط ضروری ہے۔

مینڈی کورف کے مطابق آج انجینیئرز کے پاس عمارتوں کے حوالے سے تقریباً ہر چیز کرنے کی ٹیکنالوجی موجود ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ہر طرح کا حل ممکن ہے، لیکن یہ کافی مہنگے اور پیچیدہ عمل ہوتے ہیں۔‘

ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات

مینڈی کورف کی تحقیق کے مطابق صرف نیدرلینڈز میں تقریباً 75 ہزار گھروں کو، جو لکڑی کے ستونوں پر قائم ہیں، نقصان کا خطرہ لاحق ہے۔ اور ایسی عمارتوں کی تعداد جن کی بنیاد زمین کی سطح کے قریب ہے، اس سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔

مزید برآں خدشہ ہے کہ مستقبل میں یہ مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔

مینڈی کورف کہتی ہیں کہ ’ماحولیاتی تبدیلی اور زیرِ زمین پانی میں تبدیلیوں کی وجہ سے بعض اوقات ہم زیادہ تیزی سے خرابی دیکھتے ہیں۔‘ جب زیرِ زمین پانی کی سطح نیچے جاتی ہے تو لکڑی کے ستون ہوا کے رابطے میں آ جاتے ہیں، جس سے ان کے گلنے کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔

زیرِ زمین پانی میں تبدیلی زمین کی پرتوں کو بھی متاثر کرتی ہے، جس سے مختلف بنیادوں والی عمارتوں میں نئے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

تاہم مینڈی کورف اس بات پر زور دیتی ہیں کہ یہ ایک سست رفتاری سے آگے بڑھنے والا عمل ہے۔

جہاں تک پِیسا کے مینار کا تعلق ہے، سنہ 2001 میں مکمل ہونے والے 11 سالہ کام کے نتیجے میں اس کا جھکاؤ 40 سینٹی میٹر سے زیادہ کم کر دیا گیا۔

انجینیئرز کا خیال ہے کہ یہ مینار کم از کم 200 سال تک محفوظ رہے گا۔