’براڈ پیک‘ پر برفانی تودہ گرنے سے نرمل پرجا سمیت 10 کوہ پیما لاپتہ، کم از کم تین کے ٹریکرز کی نشاندہی ہو گئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے شمالی علاقے میں واقع دُنیا کی 12 ویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے بعد معروف نیپالی کوہ پیما نرمل پرجا سمیت لاپتہ ہونے والے 10 کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے کارروائی جاری ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ اب تک کم از کم تین کوہ پیماؤں کے ٹریکرز کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔
براڈ پیک کو کوہ پیمائی کی مہمات کے لیے مشکل ترین پہاڑوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور یہاں برفانی تودہ گرنے کا واقعہ جمعرات کی دوپہر پیش آیا تھا۔
کوہ پیما قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں واقع 8047 میٹر بلند چوٹی پر کیمپ ٹو سے کیمپ تھری کی جانب بڑھ رہے تھے کہ برفانی تودے کی زد میں آئے جس کے بعد ان کے ساتھ رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔
الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق جمعے کی صبح تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں شروع کی گئی اور اب تک امدادی ٹیموں کو چار کوہ پیماؤں کی لوکیشن معلوم ہو گئی ہے، تاہم اُن کے زندہ یا مردہ ہونے کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
پاکستانی حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ تین کوہ پیماؤں کے ٹریکرز کی نشان دہی ہوئی ہے جو تقریباً چھ سے سات ہزار میٹرز کی بلندی پر موجود ہیں جبکہ پاکستان کے الپائن کلب کے جنرل سیکرٹری ایاز شگری کے مطابق، قراقرم کے پہاڑوں میں لاپتہ ہونے والے 10 کوہ پیماؤں کی تلاش اور بچاؤ کے آپریشن میں چار افراد کے ٹریکرز کی جگہ کا علم ہوا ہے تاہم وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ وہ لوگ مردہ ہیں یا زندہ۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جن کوہ پیماؤں کی نشاندہی ہوئی ہے ان تک پہنچنے کی کوشش ہو رہی ہے لیکن جب سے ٹریکرز کی نشاندہی ہوئی ہے ان میں کسی قسم کی کوئی حرکت نہیں دیکھی گئی۔
ادھر نیپالی اخبار 'کانتی پور' کی ایک رپورٹ کے مطابق نرمل پرجا کی ٹریکنگ ڈیوائس میں حرکت دکھائی دے رہی ہے۔ نرمل پرجا کے کاروباری شراکت دار منگما گیابو شیرپا نے اخبار کو بتایا کہ ٹریکنگ سسٹم میں ڈیوائس کی پوزیشن تبدیل ہو رہی ہے۔
کوہ پیما جب بلند چوٹیوں پر چڑھتے ہیں تو عام طور پر جی پی ایس ٹریکنگ ڈیوائسز اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ سنہ 2024 میں، نیپالی حکومت نے ماؤنٹ ایورسٹ پر جانے والے کوہ پیماؤں کے لیے ایسے ٹریکرز کو لازمی قرار دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تلاش اور بچاؤ کی کارروائی جاری
الپائن کلب آف پاکستان کے حکام نے بی بی سی کی کیرولین ڈیوس کو بتایا کہ لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش اور بچاؤ کی کارروائی جاری ہے۔ خیال رہے کہ ایسے بلند ترین علاقوں میں خراب موسم اور دشوار گزار حالات ریسکیو کارروائیوں کو مشکل بنا دیتے ہیں۔
ایاز شگری کے مطابق فی الحال ڈرونز اور زمینی ٹیم ریسکیو آپریشن میں شریک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جن کوہ پیماؤں کی نشاندہی ہوئی ہے ان کے مقام تک پہنچنے کے لیے اندازاً چار گھنٹے تک چڑھائی کرنا ہوگی۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ جمعے کی شام تک صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔
ایاز شگری کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستانی فوج کے دو ہیلی کاپٹرز اس وقت کے ٹو بیس کیمپ پر پہنچ چکے ہیں اور جلد ریسکیو مشن کا حصہ بنیں گے۔
الپائن کلب کے مطابق ان ہیلی کاپٹرز میں امدادی کارکن اور اضافی خصوصی سازو سامان بھی موجود ہے۔

،تصویر کا ذریعہInstagram/sohailsakhii
لاپتہ کوہ پیماؤں میں کون کون شامل ہے
لاپتہ کوہ پیماؤں کا یہ گروپ نرمل پرجا اور ان کے پانچ نیپالی ساتھیوں، پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی، امریکہ اور عمان سے تعلق رکھنے والی دو خواتین کوہ پیماؤں اور ایک چینی کوہ پیما پر مشتمل ہے۔
پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کا تعلق ہنزہ سے ہے اور وہ ماضی میں کے ٹو، نانگا پربت، گیشربرم ون اور گیشربرم ٹو جیسے پہاڑ سر کر چکے ہیں۔
عمان کی خاتون کوہ پیما نظیرہ احمد عبداللہ الحارثی 2019 میں ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والی پہلی عمانی خاتون بنی تھیں۔ اس کے بعد انہوں نے دنیا کی کئی بلند چوٹیوں کو سر کیا، جن میں مناسلو، کے ٹو اور نانگا پربت شامل ہیں۔
2022 میں وہ کے ٹو کی چوٹی پر پہنچنے والی پہلی عمانی خاتون بنیں جبکہ 2024 میں انھوں نے نانگا پربت بھی سر کی۔
دوسری خاتون کوہ پیما میلوری گیس کا تعلق امریکہ سے ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق براڈ پیک مہم پاکستان میں ان کی پہلی انتہائی بلندی والی کوہ پیمائی مہم تھی۔
نرمل پرجا کون ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
نرمل پرجا، جنھیں نمز دائی کے نام سے جانا جاتا ہے، کوہ پیمائی کے متعدد ریکارڈز کے مالک ہیں لیکن ان کا سب سے مشہور کارنامہ 2019 میں صرف چھ ماہ میں دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں کو سر کرنا رہا ہے۔
نیپال میں واقع دنیا کے ساتویں بلند پہاڑ کے قریب ڈھولگیری میں جنم لینے والے نرمل نیپال میں ہی چتیوان ضلع کے میدانی علاقوں میں پلے بڑھے اور 2003 میں 18 سال کی عمر میں برٹش آرمی بریگیڈ کی گورکھا رجمنٹ میں شامل ہوئے تھے۔
ان کے کوہ پیمائی کے سفر کا آغاز تب ہوا جب وہ 2012 میں ایورسٹ بیس کیمپ تک پیدل گئے اور طے شدہ منصوبے کے مطابق واپس آنے کے بجائے اُنھوں نے پہاڑ سر کرنے کا فیصلہ کیا۔
سنہ 2018 میں نرمل نے فوج کی نوکری چھوڑی اور اگلے ہی سال دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں کو سب سے کم وقت میں سر کرنے سمیت کئی ریکارڈ بنا ڈالے۔
نرمل نے آٹھ ہزار میٹر سے زیادہ بلندی والے تمام پہاڑوں کو 2019 میں صرف چھ ماہ اور چھ دن میں سر کیا جبکہ اس سے پہلے یہ ریکارڈ سات برس دس ماہ کی مدت کا تھا جو جنوبی کوریا سے تعلق رکھنے والے کم چانگ ہو کے نام تھا۔
ان کی ویب سائٹ کے مطابق، یہ 14 چوٹیاں ایک ایسے ’ڈیتھ زون‘ (موت کے علاقے) کی نمائندگی کرتی تھیں جہاں انسانی زندگی کا وجود ممکن نہیں تھا۔
ان کے اس کارنامے پر ایک دستاویزی فلم بھی بنائی گئی جس کا نام 14 چوٹیاں: کچھ بھی ناممکن نہیں رکھا گیا۔
اس کارنامے کے بعد اپنے پیغام میں نرمل نے کہا تھا کہ ’کوئی بھی اپنے خوابوں کو حاصل کر سکتا ہے اگر وہ اس پر توجہ دے۔ یہ پہاڑ پر چڑھنے کی بات نہیں اپنے اہداف حاصل کرنے کی بات ہے۔‘
دنیا کی کئی بلند ترین چوٹیوں کو تیز ترین وقت میں سر کرنے پر ان کے نام چھ گنیز ورلڈ ریکارڈز بھی درج ہیں۔
’براڈ پیک‘ ابتدائی منصوبے کا حصہ نہیں تھا

،تصویر کا ذریعہInternational Space Station
پاکستان میں مہم جوئی کے سفر سے قبل نرمل پرجا کا کہنا تھا کہ ’براڈ پیک‘ ابتدائی منصوبے کا حصہ نہیں تھا۔
مہم پر روانہ ہونے سے قبل پیر کو ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں پرجا کا کہنا تھا کہ شروع میں ان کا براڈ پیک سر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
اُن کا کہنا تھا کہ ابتدا میں منصوبہ صرف گیشابرم ٹو سر کرنے کا تھا۔ لیکن پاکستان روانہ ہونے سے پہلے انھیں احساس ہوا کہ اگر وہ وہاں قیام کے دوران اسے بھی سر کر لیتے ہیں تو ’آٹھ ہزار میٹر سے بلند تمام 14 پہاڑوں کو (بغیر آکسیجن کے) دو مرتبہ سر کرنے والے تاریخ کا پہلا فرد‘ بننے کے لیے صرف ایک اور پہاڑ سر کرنا باقی رہ جائے گا۔
ایکس پر پرجا نے لکھا تھا کہ ’اے براڈ پیک میں تجھ سے صرف اُوپر جانے اور بحفاظت واپس آنے کا طلبگار ہوں۔ میں کسی بھی پہاڑ کو معمولی یا یقینی نہیں سمجھتا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
براڈ پیک: مشکل پہاڑوں میں سے ایک
پاکستان میں واقع ’براڈ پیک‘ کو کوہ پیمائی کی مہمات کے لیے انتہائی مشکل پہاڑوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور یہ دنیا کا 12 ویں بلند ترین جبکہ قراقرم کے سلسلے کا تیسری سب سے اونچا پہاڑ ہے۔
اس کی بلندی 8047 میٹر ہے اور اسے براڈ پیک یا چوڑی چوٹی کا نام اس کے غیرمعمولی طور پر چوڑے ’سمٹ رج‘ کی وجہ سے دیا گیا جو تقریباً دو کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔
براڈ پیک ان 14 ’ڈیتھ زون‘ (انتہائی خطرناک بلندی والی) چوٹیوں میں شامل ہے جنھیں نرمل پرجا نے 2019 میں چھ ماہ سے کچھ زائد عرصے میں سر کیا تھا۔
سنہ 2022 میں نیٹ فلکس کی ایک فلم اسی نام سے جاری کی گئی تھی جس میں اس پولش کوہ پیما کی کہانی بیان کی گئی تھی جس نے اس پہاڑ کی چوٹی کو موسمِ سرما میں پہلی بار سر کرنے کی کوشش کی تھی۔
ناسا کے مطابق مارچ 2012 تک براڈ پیک کو 404 مرتبہ سر کیا جا چکا ہے جب کہ 21 کوہ پیما اسے سر کرنے کی کوشش کے دوران مارے گئے ہیں۔



















