منیژه باختری: طالبان کے حکم پر عہدہ چھوڑنے سے انکار کرنے والی افغان سفارتکار، جو ایک کمرے سے سفارتخانہ چلاتی ہیں

ManizhaBakhtari
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 6 منٹ

جب سنہ 2021 میں افغانستان میں اشرف غنی حکومت کا خاتمہ ہوا اور طالبان نے ملک کے اقتدار پر قبضہ کر لیا تو منیژه باختری کو طالبان حکام کی جانب سے اپنا عہدہ چھوڑنے کا کہا گیا۔

آسٹریا میں افغانستان کی سفیر منیژه باختری نے طالبان کا یہ مطالبہ قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اِسی وجہ سے انھیں ’آخری سفیر‘ بھی کہا جاتا ہے۔

بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں منیژہ بختاری نے کہا کہ سنہ2021 میں جب افغانستان کی جمہوری حکومت کا خاتمہ ہوا اور طالبان اقتدار میں آئے تو وہ تقریباً 24 گھنٹوں تک شدید پریشانی میں مبتلا رہیں اور مسلسل یہ سوچتی رہیں کہ اب انھیں کیا کرنا چاہیے۔

’ایک دن پہلے تک جس گروہ کو ہم شدت پسند کہتے تھے، اب وہی ملک چلا رہا تھا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ انھیں لگتا تھا کہ چونکہ وہ ایک خاتون ہیں، اس لیے طالبان حکومت انھیں آسٹریا میں افغانستان کی سفیر کے عہدے سے ہٹانا چاہے گی۔

اُن کے مطابق انھوں نے خود سے سوال کیا کہ اگر وہ طالبان کا مطالبہ منظور کر لیں گی تو سفارتخانے کا اور وہاں موجود حساس دستاویزات کا کیا بنے گا؟

اور آخرکار منیژہ بختاری نے ایک فیصلہ کیا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے ایک منتخب حکومت نے بیرونِ ملک اپنے ملک اور افغان عوام کی نمائندگی کے لیے بھیجا تھا۔ تو میں کیوں چلی جاؤں؟' چنانچہ انھوں نے عہدہ چھوڑنے سے انکار کر دیا۔

اگرچہ برسوں قبل طالبان حکام انھیں اُن کے عہدے سے ہٹا چکے ہیں، مگر منیژہ باختری آج بھی بطور ’احتجاج‘ بطور سفیر اپنے عہدے پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور آسٹریا میں افغانستان کا سفارتخانہ ’اپنے اصولوں اور شرائط‘ کے مطابق چلا رہی ہیں۔

حالیہ انٹرویو میں بی بی سی نے اُن سے اُن کی کہانی جاننے کی کوشش کی ہے۔

جب منیژہ بختاری کو افغانستان سے نقل مکانی کر کے پاکستان آنا پڑا

Taliban in Afghanistan 1996
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

منیژه باختری افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پیدا ہوئی تھیں اور وہ بتاتی ہیں کہ جس اپارٹمنٹ میں وہ اپنے اہلخانہ کے ساتھ رہتی تھیں، اس علاقے میں زیادہ تر متوسط طبقے کے خاندان آباد تھے۔

باختری کے والد افغانستان کے معروف شاعر، ادیب اور مفکر تھے اور ادبی و سیاسی حلقوں میں اچھی طرح جانے جاتے تھے۔

باختری کے مطابق ’اگرچہ میری والدہ اُن حلقوں میں معروف نہیں تھیں، لیکن وہ افغان معاشرے کی اُس نسل کا حصہ تھیں جس نے جدیدیت کو اپنایا تھا۔ اُن کا پہناوا اُن کی بعد کی نسلوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ماڈرن ہوتا تھا اور وہ اپنے بال آڈری ہیپبرن کے انداز میں بنایا کرتی تھیں۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ مجاہدین کے عروج نے افغانستان کو کس طرح بدلا اور اُن کے خاندان کی زندگی کو کیسے متاثر کیا، باختری نے بتایا کہ اُس زمانے میں اُن کے والد کو اُن کی خیالات کی وجہ سے جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔

’اس وقت میرا خیال ہے کہ میری عمر صرف سات برس تھی۔ مجھے معلوم تھا کہ میرے والد گھر پر نہیں ہیں۔ میری والدہ نے ایک کہانی بنائی کہ ہمارے والد ہمارے لیے کھلونے اور کپڑے لینے گئے ہیں، لیکن ہمیں حقیقت کا اندازہ تھا کیونکہ ہم اپنی والدہ کو روتے دیکھتے تھے اور اُن کی آنکھیں سرخ رہتی تھیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ جب 90 کی دہائی میں طالبان فورسز کابل شہر میں داخل ہوئیں تو اُن کے والد کو فوری طور پر خطرہ لاحق ہوا اور انھوں نے فوراً ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

باختری کہتی ہیں کہ ان کے والد انھیں اور ان کی بہن کو بھی اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے، لیکن اس وقت تک باختری کی شادی ہو چکی تھی اور ان کا اپنا خاندان تھا، اس لیے وہ افغانستان ہی میں رہ گئیں۔

سنہ 1996 میں پہلی مرتبہ طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد اُن کے شوہر نے جب سابق افغان وزیر اعظم نجیب اللہ کی لاش کو چوک میں لٹکا ہوا دیکھا، تو انھوں نے پہلا بڑا فیصلہ کیا۔

باختری کہتی ہیں کہ ’اگر میرے والد ملک نہ چھوڑتے تو اُن کا انجام بھی (نجیب جیسا) یہی ہوتا۔‘

انھوں نے بتایا کہ یہ صورتحال دیکھتے ہوئے بالآخر انھوں نے بھی دیگر ہزاروں افراد کی طرح افغانستان چھوڑ کر پاکستان جانے کا فیصلہ کیا۔

پاکستان کے سفر کے دوران باختری اپنے بچوں کے بارے میں بہت فکر مند تھی۔ ’ہمیں بہت سے دوسرے لوگوں کے ساتھ ایک منی بس میں روانہ ہونا پڑا۔ چھوٹی وین میں ہم اتنے زیادہ لوگ بھرے ہوئے تھے کہ سانس لینا بھی تقریباً ناممکن تھا۔‘

باختری بتاتی ہیں کہ جب وہ بارڈر پر پہنچیں تو وہاں کسی کے پاس پاسپورٹ نہیں تھا۔

ان کے مطابق پاکستان پہنچنے کے بعد ان کے پاس ابتدائی کچھ ماہ گزارہ کرنے کے جتنے پیسے تھے۔ بعد ازاں بیرونِ ملک مقیم ان کے رشتہ داروں نے اُن کی مدد کی۔

باختری کی کابل واپسی اور وزارتِ خارجہ میں نوکری

Manizha Bakhtari

11 ستمبر 2001 کے حملوں اور اس کے بعد امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے افغانستان پر حملے کے نتیجے میں طالبان حکومت کا خاتمہ ہوا اور پاکستان میں مقیم دیگر کئی افغان پناہ گزینوں کی طرح باختری نے بھی افغانستان واپس جانے کا فیصلہ کیا۔

وہ اسے ’اپنی زندگی کے بہترین لمحات میں سے ایک' قرار دیتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ کسی جادوئی تجربے جیسا محسوس ہوتا تھا۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ جب اس وقت کی افغان حکومت کی وزارت خارجہ نے اُن سے رابطہ کیا تو وہ اس وقت تدریس کے شعبے سے منسلک تھیں۔

'اُس وقت میں کابل یونیورسٹی میں لیکچرار تھی اور ایک این جی او میں بھی کام کر رہی تھی، جب مجھے افغان وزیر خارجہ کی کال موصول ہوئی۔'

ان کے مطابق اس وقت وزارت خارجہ نوجوان خواتین کو اپنی وزارت میں شامل کرنے کی کوشش کر رہی تھی کیونکہ طالبان دور میں بہت سی خواتین ملک چھوڑ چکی تھیں اور واپس نہیں آنا چاہتی تھیں۔

وہ بتاتی ہیں وزارتِ خارجہ کی نوکری ان کے لیے ’ایک امتحان تھا۔‘

’آج مجھے اس فیصلے پر کوئی افسوس نہیں، لیکن یہ میرے لیے آسان فیصلہ نہیں تھا۔ مجھے تدریس، اپنے طالب علموں اور اپنے بچپن کے خواب کو چھوڑنا پڑا۔‘

@ManizhaBakhtari

طالبان کی واپسی

جب 2021 میں طالبان نے ایک بار پھر کابل کا کنٹرول سنبھالا تو منیژہ باختری آسٹریا میں افغانستان کی سفیر تھیں۔

وہ کہتی ہیں کہ یہ ان کے لیے اخلاقی طور پر واضح مؤقف اختیار کرنے اور ایک مشکل فیصلہ کرنے کا وقت تھا۔

’مجھے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ افغانستان میں کیا ہو گیا ہے۔ حتیٰ کہ جس روز صدر اشرف غنی نے افغانستان چھوڑا، تب بھی میرا یہی خیال تھا کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ حکومت کے خاتمے کے بعد بیرون ملک تعینات بہت سے سفارتکاروں کے لیے یہ غیر یقینی صورتحال کا وقت تھا۔

’ایک دن پہلے تک جس گروہ کو ہم شدت پسند کہتے تھے، اب وہی ملک چلا رہا تھا۔‘

’میں 24 گھنٹے یہی سوچتی رہی کہ کیا کروں؟ کیا میں بس اپنا سامان سمیٹوں اور چلی جاؤں، اور اپنے ساتھیوں سے بھی یہی کرنے کو کہوں؟‘

ان کا کہنا ہے کہ اس کے بعد انھیں طالبان حکام کی جانب سے رابطہ کر کے کہا گیا کہ وہ تمام سفارتکاروں کے ساتھ زوم پر ایک میٹنگ کرنا چاہتے ہیں۔ ’لیکن میں نے اس میٹنگ میں شرکت قبول نہیں کی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ سنہ 2022 میں انھیں طالبان حکومت کی جانب سے ایک خط موصول ہوا جس میں انھیں آگاہ کیا گیا تھا کہ انھیں اُن کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا۔

انھیں مضبوط حمایت حاصل تھی اور عالمی برادری بھی طالبان حکومت کو افغانستان کی قانونی حکومت کے طور پر تسلیم نہیں کرتی تھی۔

منیژہ نے فیصلہ کیا کہ وہ بطور احتجاج اپنے عہدے پر کام کرنا جاری رکھیں گی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے اب میں اس سفارتخانے کو اپنے اصولوں اور اپنی شرائط کے مطابق چلا رہی ہوں اور طالبان کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالوں گی۔‘