’بلوٹوتھنگ‘: منشیات کے بجائے نشے سے آلودہ خون منتقل کرنے کا طریقہ جو ایک مہلک بحران کو جنم دے رہا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty/BBC
- مصنف, ریبیکا تھورن
- عہدہ, ورلڈ سروس گلوبل ہیلتھ
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
فجی میں گذشتہ ہفتے قومی سطح پر ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان تب سامنے آیا کہ جب ایچ آئی وی کے کیسز میں بڑی تیزی سے اضافے کے حوالے سے خبر سامنے آنا شروع ہوئیں۔ فجی کا شمار اب دنیا کے اُن ممالک میں ہونے لگا ہے کہ جہاں ایچ آئی وی کے کیسز نہ صرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں بلکہ اسے اب اس مرض کے مراکز میں سے بھی ایک تصور کیا جانے لگا ہے۔
یہ صورتحال اب اس جدید دور میں ایک بار پھر اس بات کی یاد دلاتی ہے کہ دنیا بھر میں ایچ آئی وی اور ایڈز کے خلاف ہونے والی ترقی کے باوجود بعض خطوں میں یہ اب بھی ایک بڑا خطرہ ہیں، جبکہ بیماری کا پھیلاؤ بہت تیزی سے قابو سے باہر ہونے کے امکانات اب بھی باقی ہیں۔
بحرالکاہل کے اس ملک میں اب تقریباً ہر 60 بالغ افراد میں سے ایک ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے، جبکہ پانچ سال پہلے یہ شرح ہر 167 بالغ افراد میں ایک تھی۔ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایڈز کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً چار کروڑ 10 لاکھ افراد ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
فجی میں اس بحران کو مزید سنگین بنانے والا ایک تشویشناک رجحان بعض منشیات استعمال کرنے والوں میں سامنے آیا ہے، جسے ’بلوٹوتھنگ‘ کہا جاتا ہے۔
اس عمل میں ایک شخص منشیات استعمال کرنے کے بعد اپنے جسم سے ایک ٹیکے کی مدد سے خون نکال کر اسے دوسرے شخص میں انجیکٹ کر دیتا ہے تاکہ وہ بھی اس کا اثر محسوس کر سکے۔
منشیات استعمال کرنے والے اسے پیسے بچانے کا ایک طریقہ سمجھتے ہیں، کیونکہ اس طرح انجیکشن کے ذریعے استعمال ہونے والی منشیات کو زیادہ سے زیادہ افراد تک باآسانی پہنچایا جا سکتا ہے۔
یہ طریقہ افریقہ کے بعض ممالک، جن میں لیسوتھو، زمبابوے اور جنوبی افریقہ شامل ہیں، میں بھی دیکھا گیا ہے۔
تاہم یہ عمل فجی میں کس حد تک عام ہے اور ملک میں ایچ آئی وی کے موجودہ بحران میں اس کا کتنا کردار ہے، اس بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے باوجود کمیونٹی ورکرز کا کہنا ہے کہ ’بلوٹوتھنگ‘ ایک سنگین مسئلہ ہے اور دنیا بھر کی حکومتوں اور صحت کے اداروں کو اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
ایک غیر سرکاری تنظیم ’ڈرگ فری فجی‘ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کلیسی وولاتابو کہتی ہیں کہ ’ہم کچھ کرنے سے پہلے مزید کتنی جانیں ضائع ہونے دیں گے؟‘
’بلوٹوتھنگ‘ اتنا خطرناک کیوں ہے؟
ایچ آئی وی خون کے ذریعے منتقل ہونے والی بیماری ہے۔ اس لیے منشیات سے متاثرہ خون ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل کرنے کے عمل کے دوران ایک ہی سوئی یا ٹیکہ استعمال کرنے والے افراد میں بھی وائرس منتقل ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے ہیپاٹائٹس بی اور سی سمیت دیگر انفیکشنز اور سنگین نوعیت کے بیکٹیریا سے ہونے والے انفیکشنز کی منتقلی کا خطرہ ’غیر معمولی حد تک زیادہ‘ ہو جاتا ہے۔
فجی میں منشیات استعمال کرنے والوں کے درمیان پہلے ہی ٹیکے یا انجیکشن شیئر کرنا عام ہے، جبکہ ان کے لیے جراثیم سے پاک انجیکشن کا سامان حاصل کرنا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔ لیکن ’بلوٹوتھنگ‘ کے سامنے آنے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ غربت بھی اس خطرناک عمل کے پیچھے ایک اہم وجہ ہو سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کلیسی وولاتابو کہتی ہیں کہ جب انھوں نے پہلی مرتبہ لوگوں کو یہ عمل کرتے دیکھا تو وہ حیران رہ گئی تھیں۔
وہ بی بی سی ورلڈ سروس کو بتاتی ہیں کہ ’پانچ یا چھ لوگ وہاں کھڑے تھے اور اس انجیکشن کے لیے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔‘
’اس طرح وہ مزید پانچ لوگوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ یعنی صرف پانچ افراد سے یہ تعداد 25 سے 30 لوگوں تک پہنچ سکتی ہے اور یہ سب کچھ کتنی آسانی سے ہو سکتا ہے۔‘
فجی کی وزارتِ صحت نے سنہ 2024 میں ’بلوٹوتھنگ‘ کو ملک میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز کی ایک وجہ قرار دیا تھا۔ رواں سال جنوری میں وزارت نے ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو ’قومی بحران‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے نمٹنے کے لیے سرنج اور سوئیوں کی فراہمی کا پروگرام شروع کیا جائے گا۔
تاہم عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ فجی میں ’بلوٹوتھنگ‘ کے بڑے پیمانے پر رائج ہونے کے شواہد بہت کم ہیں۔ ادارے نے گزشتہ سال دسمبر میں اس حوالے سے ایک جائزہ لیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ڈبلیو ایچ او نے منشیات انجیکٹ کرنے والے 56 افراد سے بات کی۔ ان میں سے صرف دو افراد نے ’بلوٹوتھنگ‘ میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا، جبکہ چار افراد نے یہ کہا کہ انھوں نے ایسا ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔
کلیسی وولاتابو کہتی ہیں کہ ’وہ بھی اس وقت تک یہ ماننے کو تیار نہیں تھیں کہ لوگ واقعی ایسا کر رہے ہیں، جب تک انھوں نے خود یہ عمل ہوتے نہیں دیکھا۔‘
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’انجیکشن کے ذریعے منشیات استعمال کرنے والوں کے بارے میں پائے جانے والے سماجی داغ اور شرمندگی کی وجہ سے فجی کی حکومت بھی اس مسئلے سے نمٹنے میں ہچکچاتی رہی ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے معلوم تھا کہ ایک سونامی آنے والا ہے۔ آپ چاہتے تھے کہ ہم آج جس صورتحال میں بیٹھے ہیں، یہاں تک نہ پہنچیں۔‘
دنیا بھر میں ایچ آئی وی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ایچ آئی وی ایک ایسا وائرس ہے جو مدافعتی نظام کے خلیوں کو نقصان پہنچاتا ہے اور جسم کی عام انفیکشنز اور بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت کمزور کر دیتا ہے۔
یہ وائرس جسمانی رطوبتوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ عام طور پر یہ غیر محفوظ جنسی تعلقات کے دوران پھیلتا ہے، تاہم کٹے یا زخمی حصوں کے ذریعے اور ایک دوسرے کی استعمال شدہ ٹیکوں یا سوئیاں کے استعمال کرنے سے بھی منتقل ہو سکتا ہے۔
حمل، بچے کی پیدائش اور بچے کو دودھ پلانے کے دوران ماں سے بچے میں بھی یہ وائرس منتقل ہو سکتا ہے۔
ایڈز، یعنی ’ایکوائرڈ امیون ڈیفیشنسی سنڈروم‘، اس وقت لاحق ہوتا ہے جب ایچ آئی وی کے باعث مدافعتی نظام کو شدید نقصان پہنچنے کے بعد متعدد سنگین اور جان لیوا انفیکشنز اور بیماریاں حملہ آور ہو جائیں۔
گذشتہ چند دہائیوں میں علاج کے طریقوں میں ہونے والی پیش رفت نے ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنے والے افراد کی متوقع عمر میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق سنہ 2025 میں دنیا بھر میں تقریباً پانچ لاکھ 70 ہزار افراد ایچ آئی وی سے متعلق وجوہات کی بنا پر ہلاک ہوئے، جو سنہ 2004 میں اس وبا کی بلند ترین سطح کے مقابلے میں 73 فیصد کم ہے۔
اب تجویز کردہ علاج میں اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی (اے آر ٹی) شامل ہے۔ یہ علاج عام طور پر خون میں وائرس کی مقدار کو اس حد تک کم کر دیتا ہے کہ وہ ٹیسٹ میں ظاہر نہیں ہوتی۔ اس سے مدافعتی نظام محفوظ رہتا ہے اور جنسی تعلق کے ذریعے وائرس کی منتقلی بھی روکی جا سکتی ہے۔
تاہم گذشتہ سال یو این ایڈز کی سربراہ وِنی بایانیما نے کہا تھا کہ ’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیرونی امداد روکنے کے فیصلے کے نتیجے میں ہر روز مزید دو ہزار افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہو سکتے ہیں اور اگلے چار برس میں 60 لاکھ سے زیادہ اضافی اموات ہو سکتی ہیں۔‘
یو این ایڈز کے مطابق سنہ 2025 میں دنیا کے تین خطوں اور 21 ممالک میں ایچ آئی وی کے نئے کیسز میں اضافہ ہوا۔ ان ممالک میں افغانستان، سری لنکا، نیپال، کینیا، سوڈان، برازیل، پاکستان، یمن، مصر، سینیگال اور فلپائن شامل ہیں۔
’بلوٹوتھنگ‘ اور کہاں ہو رہی ہے؟

،تصویر کا ذریعہPonto Tumisi
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق لیسوتھو میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی شرح دنیا میں دوسری سب سے زیادہ ہے اور خواتین میں اموات کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی بیماری ہے۔
لیسوتھو میں ’بلوٹوتھنگ‘ کے رجحان سے نمٹنے کی کوشش کرنے والی تنظیموں میں ’موکھوسی اوآ مانگوانا‘، یعنی ’ایک ماں کی پکار‘ بھی شامل ہے۔ اس گروپ میں ایسی خواتین شامل ہیں جو اپنے ان بچوں کے تجربات ایک دوسرے سے شیئر کرتی ہیں جو نشے کے مسائل سے دوچار ہیں۔
ان خواتین نے ’بلوٹوتھنگ‘ کے بارے میں جنوبی افریقہ میں ہونے کی بات سنی تھی، لیکن سنہ 2024 میں انھیں معلوم ہوا کہ یہ عمل ان کے اپنے ملک میں بھی ہو رہا ہے، خاص طور پر ’ٹریپ ہاؤسز‘ میں۔ یہ ایسے خالی یا نجی مقامات ہوتے ہیں جہاں منشیات استعمال کرنے والے گروہ کی شکل میں منشیات خریدتے، فروخت کرتے اور استعمال کرتے ہیں۔
پونٹو تومیسی کی بیٹی کرسٹل میتھ استعمال کرنے سے پہلے پڑھائی میں بہت اچھی طالبہ تھیں اور ہمیشہ بہترین نمبروں سے کامیاب ہوتی تھیں۔ تومیسی کا کہنا ہے کہ ’بلوٹوتھنگ‘ اس وقت کی جاتی ہے جب لوگ تھوڑی مقدار میں موجود منشیات کو آپس میں بانٹنا چاہتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’بے شک وہ جانتے ہیں کہ ان کے خون کے گروپس ایک دوسرے سے مطابقت رکھتے ہیں یا نہیں، یا یہ کہ خون کے ذریعے کون سی بیماریاں منتقل ہو سکتی ہیں، اس سے انھیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘
تومیسی کا کہنا ہے کہ ’صحت کے کارکنوں نے انھیں بتایا ہے کہ ’بلوٹوتھنگ‘ جیسا کوئی عمل موجود ہی نہیں، کیونکہ ان کے خیال میں خون اس طرح ایک دوسرے کو دینے کے بعد کسی شخص کا زندہ رہنا ممکن نہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہPonto Tumisi
یو این ایڈز کے علاقائی ڈائریکٹر ایمون مرفی کے مطابق خون براہِ راست ایک دوسرے کو منتقل کرنے کے ایسے ہی طریقے دنیا کے بعض دیگر حصوں میں بھی سامنے آئے ہیں، تاہم وہاں انھیں مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر تنزانیہ میں منشیات انجیکٹ کرنے والے افراد میں اسے ’فلیش بلڈ‘ کہا جاتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’یہ دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر پھیلنے والا رجحان نہیں ہے۔‘
لیکن پونٹو تومیسی کو خدشہ ہے کہ منشیات کے استعمال کے یہ نئے اور کم معروف طریقے دوسرے ممالک میں بھی لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہ سکتے ہیں۔
وہ خبردار کرتی ہیں کہ منشیات کے استعمال کے مسئلے سے براہِ راست متاثر ہونے والے لوگوں کو محتاط رہنا چاہیے اور اس کی ابتدائی علامات کے بارے میں خود کو آگاہ رکھنا چاہیے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’اگر آپ والدین ہیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ دنیا کے کس حصے میں رہتے ہیں، آپ ایک انسان ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ بھی خطرے سے دوچار ہیں۔ منشیات کی لت میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔‘




















