آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’پاکستان چیمپیئنز‘ کو ڈبلیو سی ایل کھیلنے کی اجازت نہ مل سکی: ’نقصان تو ہوا ہے لیکن پی سی بی کے فیصلے کا احترام ہے‘
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے اجازت نہ ملنے کے بعد ’پاکستان چیمپیئنز‘ نے متحدہ عرب امارات میں جاری ’ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز‘ (ڈبلیو سی ایل) سے دستبرداری کی تصدیق کر دی ہے۔
پاکستانی فرنچائز نے سنیچر کو ٹورنامنٹ کے افتتاحی روز ’بنگلہ دیش چیمپیئنز‘ جبکہ پیر کو آسٹریلیا چیمپیئنز کے خلاف میچ کھیلنا تھے جو کہ منسوخ کر دیے گئے۔
ڈبلیو سی ایل ایک بین الاقوامی ٹی 20 فرنچائز ٹورنامنٹ ہے جس میں مختلف ممالک کے سابق اور نامور کھلاڑی حصہ لیتے ہیں۔ اس ایونٹ کے تیسرے سیزن کا آغاز تین اکتوبر کو شارجہ کرکٹ سٹیڈیم سے ہوا تھا اور ٹرافی کی رونمائی کے موقع پر بھی پاکستانی کپتان شاہد آفریدی موجود نہیں تھے۔
ماضی میں ’پاکستان چیمپیئنز‘ کی قیادت سابق کپتان شاہد آفریدی اور محمد حفیظ کر چکے ہیں۔ جبکہ اس بار اس میں کامران اکمل، افتخار احمد، عمر امین، شعیب ملک، شرجیل خان، آصف علی، محمد عامر، وہاب ریاض، سہیل تنویر، عامر یامین، آصف آفریدی اور رومان رئیس جیسے نام حصہ لے رہے تھے۔
پاکستان چیمپیئنز کے مالک کامل خان نے باضابطہ طور پر پی سی بی سے اپنے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی تھی اور ٹیم کی شرکت کے حوالے سے بات چیت بھی جاری رکھی۔ لیکن اُن کے بقول پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے این او سی جاری نہیں کیا گیا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، تاہم کامل خان کے مطابق پی سی بی نے اُنھیں اس فیصلے سے مطلع کیا ہے۔
’ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز‘ کے انسٹاگرام اکاؤنٹ کے ذریعے جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’ہم اپنے مداحوں، شراکت داروں اور کرکٹ کمیونٹی کو مطلع کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان چیمپیئنز غیر متوقع وجوہات کی بنا پر ڈبلیو سی ایل سیزن تین میں شرکت نہیں کریں گے۔‘
ڈبلیو سی ایل کے مطابق اب تین اکتوبر سے 18 اکتوبر تک شارجہ اور دبئی سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے اس ٹورنامنٹ میں سات کے بجائے چھ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستانی فرنچائز کو اجازت کیوں نہ مل سکی؟
پاکستان چیمپیئنز کے مالک کامل خان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ گذشتہ سال ڈبلیو سی ایل کے ٹورنامنٹ کے دوران انڈیا کے برتاؤ پر پی سی بی نے ایکشن لیا تھا جبکہ اس پر ڈبلیو سی ایل نے معافی بھی مانگی تھی۔
خیال رہے کہ گذشتہ برس انگلینڈ میں ڈبلیو سی ایل کے دوسرے سیزن کے دوران انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے باعث انڈیا چیمپیئنز نے پاکستان کے ساتھ میچ نہیں کھیلا تھا۔ انڈیا چیمپیئنز کی دستبرداری کے باعث پاکستان چیمپیئنز فائنل میں پہنچ گئی تھی، جہاں اسے جنوبی افریقہ چیمپیئنز نے شکست دی تھی۔
پاکستان اور انڈیا کے درمیان میچ کی منسوخی پر پی سی بی نے کہا تھا کہ 'ڈبلیو سی ایل نے جان بوجھ کر میچز نہ کھیلنے والی ٹیم کو پوائنٹس دینے کا یکطرفہ فیصلہ کیا جو کھیل کی روح کے منافی ہے۔'
گذشتہ برس اگست میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی زیرِ صدارت بورڈ آف گورنرز کا اجلاس ہوا تھا۔
اس وقت پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق 'اجلاس میں ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجنڈز (ڈبلیو سی ایل) کے دوہرے معیار اور متعصبانہ رویے پر شدید مایوسی اور سخت ردعمل ظاہر کیا گیا اور آئندہ اپنی ٹیم نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔
خیال رہے کہ گذشتہ برس پاکستان اور انڈیا کا میچ منسوخ ہونے پر ڈبلیو سی ایل نے معذرت کی تھی۔
ادھر کامل خان کہتے ہیں کہ انڈیا کی جانب سے واک اوور دینے کا فائدہ پاکستان کو ہی ہوا تھا کیونکہ اس کے بعد پاکستان کو پوائنٹس ملے تھے اور اس نے فائنل کھیلا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں امید تھی کہ سب ٹھیک ہو جائے گا لیکن پی سی بی نے ہمیں این او سی نہیں دیا۔ ہم پی سی بی کے فیصلے کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے۔‘
’ہم نے کوشش کی کہ وہ اپنا فیصلہ تبدیل کر لیں لیکن وہ قائم رہے تو ہم نے اس کا احترام کیا ہے۔‘
کامل خان کہتے ہیں کہ ’ٹکٹیں اور ہوٹل بُک تھے۔ سپانسرشپ بھی طے تھے۔ نقصان تو ہوا ہے لیکن ہمیں اس کی فکر نہیں۔ کھلاڑیوں کو اس میں بہت اچھا ایکسپوژر ملتا ہے۔ جیسے شرجیل خان کی پرفارمنس کے بعد انھیں دیگر لیگز کھیلنے کا موقع ملا تھا۔‘
’اگر ہمارے پلیئرز وہاں کھیلتے تو فینز کو مزہ آنا تھا۔ ہر جگہ یہ بات ہوتی ہے کہ انڈین لیگز ہمارے پلیئر پِک نہیں کرتے۔ یہاں تو ہماری اپنی ٹیم ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ رواں سال ٹورنامنٹ شروع ہونے پر ان کی فرنچائز نے ٹرافی کی رونمائی، مشترکہ پریس کانفرنس یا دیگر کسی تقریب میں حصہ نہیں لیا۔
سوشل میڈیا پر ردِعمل
شیڈول کے مطابق پاکستان چیمپیئنز نے چھ اکتوبر کو ویسٹ انڈیز، 10 اکتوبر کو انڈیا اور 12 اکتوبر کو انگلینڈ کے خلاف میچز کھیلنے تھے جو منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
ڈبلیو سی ایل کے مطابق پاکستان چیمپیئنز کی دستبرداری کے بعد ٹورنامنٹ کا نیا شیڈول جاری کر دیا گیا ہے۔
ڈبلیو سی ایل کے 2024 اور 2025 کے سیزنز میں پاکستان چیمپیئنز کی ٹیم فائنل میں پہنچی تھی، تاہم سنہ 2024 میں اسے انڈیا چیمپیئنز جبکہ 2025 میں جنوبی افریقہ چیمپیئنز نے شکست دی تھی۔
پاکستان چیمپیئنز کی دستبرداری کے بعد اب اس ایونٹ میں انڈیا، انگلینڈ، آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش چیمپیئنز کی ٹیمیں شریک ہیں۔
سوشل میڈیا پر کامل خان کا کہنا ہے کہ ’ہم پی سی بی کے اختیار اور اس کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں، تاہم ہمیں یقیناً اس بات پر مایوسی ہے کہ ہمارے کھلاڑیوں کو کرکٹ لیجنڈز کے اس عالمی کرکٹ ایونٹ میں پاکستان چیمپیئنز کی نمائندگی کا موقع نہیں مل سکے گا۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنے کھلاڑیوں، سپورٹرز اور شائقین کا ان کے صبر اور مسلسل حمایت پر تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘
پاکستان چیمپیئنز کی دستبرداری پر سوشل میڈیا پر بھی بات ہو رہی ہے۔
آمنہ ملک نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ پاکستان چیمپیئنز کا ڈبلیو سی ایل میں شامل نہ ہونا ایک اہم پیش رفت ہے۔ گذشتہ برس میچ سے متعلق تنازع کے بعد پی سی بی اپنے مؤقف پر ڈٹا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
ایک انڈین صارف نے لکھا کہ بطور انڈین وہ سمجھتے ہیں کہ اگر گذشتہ برس پاکستان چیمپیئنز کے ساتھ میچ نہیں کھیلا تھا تو اس سال وہ پاکستان کے ساتھ کھیلنے کو تیار کیوں تھے۔
ایک صارف نے لکھا کہ یہ دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند صورتحال ہے۔ انڈیا کو کسی بہانے کی ضرورت نہیں، اور پاکستان اپنے وقار پر ڈٹا ہوا ہے۔ ویسے بھی، یہ لیگز پیسہ کمانے کے لیے ہوتی ہیں۔ ان میں کوئی حقیقی مقابلہ نہیں ہوتا؛ زیادہ تر کھلاڑی تو اب ٹھیک سے دوڑ بھی نہیں سکتے۔
مصباح نامی صارف نے لکھا کہ جب گذشتہ برس انڈین ٹیم نے میچ کا بائیکاٹ کیا تو پی سی بی کا ناراض ہونا مکمل طور پر جائز تھا۔