’یہ ناقابلِ یقین ہے‘: ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں آٹھ وکٹیں لینے والے محمد عباس کو بابر اعظم نے دوسرے میچ میں کیوں نہیں کھلایا؟

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 5 منٹ

’شاندار فارم کے باوجود عباس کو ڈراپ کر دیا گیا۔ پی سی بی اپنے ہی پیر پر کلہاڑی مارنے کا ماہر ہے۔۔عباس نے پہلے ٹیسٹ میں آٹھ وکٹیں لیں، مخالف بیٹرز اُنھیں کھیل نہیں پا رہے تھے۔۔وہ ایسے بولر ہیں کہ جنھیں آپ ہر کنڈیشن میں کھیلا سکتے ہیں۔‘

یہ سوشل میڈیا پر آنے والا وہ ردِعمل ہے جو پاکستان کرکٹ ٹیم کی جانب سے ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں محمد عباس کو ڈراپ کرنے پر سامنے آ رہا ہے۔

دوسرے ٹیسٹ میچ کے پہلے روز ویسٹ انڈیز نے پانچ وکٹوں کے نقصان پر 239 رنز بنا لیے ہیں، لیکن محمد عباس کو ڈراپ کرنے پر بحث کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

خیال رہے کہ پہلے ٹیسٹ میچ میں ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو 90 رنز سے شکست دے دی تھی، یوں دوسرا اور آخری ٹیسٹ پاکستان کے لیے سیریز میں شکست سے بچنے کا آخری موقع ہے۔

’ہم نے کنڈیشنز دیکھ کر یہ فیصلہ کیا‘

پورٹ آف سپین میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے چار تبدیلیاں کیں۔ پہلے ٹیسٹ میچ میں انجری کا شکار ہونے والے سابق کپتان شان مسعود کی جگہ عبداللہ شفیق کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔

آل راؤنڈر عامر جمال کی جگہ مڈل آرڈر بلے باز اویس ظفر کو شامل کیا گیا، خرم شہزاد کی جگہ سپنر ساجد خان نے فائنل الیون میں جگہ بنائی۔

لیکن سب سے حیران کن تبدیلی پہلے ٹیسٹ میچ میں آٹھ وکٹیں لینے اور حریف بیٹرز کو مشکل میں ڈالنے والے محمد عباس کی جگہ عبید شاہ کو شامل کرنا تھا۔

عبید شاہ ٹیسٹ کرکٹر نسیم شاہ کے بھائی ہیں۔ اویس ظفر اور عبید شاہ دونوں پاکستان کے لیے اپنا ٹیسٹ ڈیبو کر رہے ہیں۔

ٹاس کے موقع پر جب کپتان بابر اعظم سے محمد عباس کو ڈراپ کرنے سے متعلق سوال ہوا تو اُنھوں نے کہا کہ پچ اور کنڈیشنز کو دیکھ کر یہ فیصلہ کیا گیا۔

محمد عباس پاکستان کی جانب سے سب سے اچھی بولنگ اوسط کے ساتھ وکٹیں حاصل کرنے میں سرِفہرست ہیں۔ پاکستان کے سابق کپتان عمران خان، وسیم اکرم اور وقار یونس بھی محمد عباس سے پیچھے ہیں۔

’یہ ناقابلِ یقین ہے‘

محمد عباس کو ڈراپ کرنے پر زیادہ تر تجزیہ کار اور صارفین پاکستان کرکٹ ٹیم انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں، تاہم کچھ اس فیصلے کا دفاع بھی کر رہے ہیں۔

سپورٹس تجزیہ کار اور کرک انفو کے ایڈیٹر عثمان سمیع الدین نے گذشتہ 10 برس کے دوران محمد عباس کی بولنگ کے اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ پچھلے 10 سال کے دوران محمد عباس ہر طرح کی کنڈیشنز میں پاکستان کے سب سے کامیاب بولر رہے ہیں۔

پاکستان سپر لیگ فرنچائز ملتان سلطانز کے سابق مالک علی ترین نے ایکس پر لکھا کہ شاندار فارم کے باوجود عباس کو ڈراپ کر دیا گیا۔ پی سی بی ’اپنے ہی پیر پر کلہاڑی مارنے‘ کا ماہر ہے۔

بہرام قاضی نامی صارف نے لکھا کہ ’میں عبید شاہ کے ٹیسٹ ڈیبو کے حق میں ہوں، تاہم محمد عباس کو بینچ پر بٹھانا سمجھ سے باہر ہے۔‘

باسط سبحانی نامی صارف نے لکھا کہ ’یہ ناانصافی اور ایک سنگین غلطی ہے۔ پہلے ٹیسٹ میں اُنھوں نے نہ صرف آٹھ وکٹیں لیں، بلکہ اُنھوں نے دلیری سے بلے بازی بھی کی۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ محمد عباس نے اب تک ویسٹ انڈیز میں چھ ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں اور 18.24 کی اوسط سے وہ 29 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔

صارف بھرت راما راج نے ایکس پر لکھا کہ ہر وہ بولر جو 120 سے 125 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کراتا ہے، ٹیسٹ کرکٹ میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ لیکن عباس کا گیند پر کنٹرول محض ’اچھا‘ نہیں بلکہ ’مثالی‘ ہے۔

’انھیں پاکستان کے لیے ہر ٹیسٹ میچ کھیلنا چاہیے۔ وہ طویل سپیلز کرانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں اور ساتھ ہی ایک پرجوش کرکٹر بھی ہیں۔‘

سپورٹس جرنلسٹ دانیال رسول نے ایکس پر لکھا کہ ایک اعداد و شمار اس بات کی بہترین عکاسی کرتا ہے کہ عباس کو ٹیم سے ڈراپ کیا جانا کتنا غیر معمولی واقعہ ہے۔

اُن کے بقول اس سے قبل ایک ہی سیریز کے دوران پانچ وکٹیں لینے کے باوجود ٹیم سے باہر کیے جانے والے واحد پاکستانی بولر احتشام الدین تھے، جنھوں نے 1980-1979 میں انڈیا کے دورے کے دوران کانپور میں پانچ وکٹیں لینے کے بعد چنئی میں عمران خان کے لیے جگہ چھوڑی تھی۔

عامر ملک نامی صارف نے محمد عباس کو ڈراپ کرنے پر لکھا کہ ’یہ ناقابلِ یقین ہے کہ آپ ایسے وکٹ ٹیکر کو ہی باہر کر دیتے ہیں کہ جس کا ریکارڈ یہ ہے کہ جنھوں نے سلو پچز پر بھی وکٹوں کے ڈھیر لگائے ہیں۔‘

صحافی ارفع فیروز زکی نے ایکس پر لکھا کہ ’پہلے ٹیسٹ میں شاندار کارکردگی کے باوجود محمد عباس کو ٹیم سے باہر رکھنا ٹیم انتظامیہ کے لیے ایک مشکل فیصلہ تھا۔ تاہم انھیں ٹیم میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا کہ سست پچ پر ان کی میڈیم پیس بولنگ کم مؤثر ثابت ہو گی۔‘

محمد عباس کا ٹیسٹ کریئر

سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے 36 سالہ محمد عباس پاکستان کے لیے 30 ٹیسٹ میچز میں 118 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔

اُنھوں نے پاکستان کے لیے سنہ 2017 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کنگسٹن میں اپنا ٹیسٹ ڈیبو کیا تھا۔

اُن کی بولنگ اوسط 22.38 ہے جبکہ اُنھوں نے صرف 2.50 کے اکانومی ریٹ سے رنز دیے ہیں۔ وہ سات مرتبہ ایک اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔

بنگلہ دیش کے خلاف حالیہ دو ٹیسٹ میچز کی سیریز میں بھی وہ پاکستان کے سب سے کامیاب بولر رہے تھے۔ اُنھوں نے دونوں ٹیسٹ میچز میں 10 وکٹیں حاصل کی تھیں۔