جنوبی کوریا میں پائلٹس اپنی ویڈیو بنانے میں مشغول رہے اور لڑاکا طیارے آپس میں ٹکرا گئے

    • مصنف, کیلی این جی
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • مطالعے کا وقت: 4 منٹ

جنوبی کوریا کے حکام کو علم ہوا ہے کہ 2021 میں دو لڑاکا طیاروں کے فضا میں تصادم کی وجہ حادثے کے وقت پائلٹس کا تصاویر اور ویڈیوز بنانا تھا۔

سیئول کے بورڈ آف آڈٹ اینڈ انسپیکشن کے مطابق یہ واقعہ وسطی شہر ڈیگو میں ایک فضائی مشن کے دوران پیش آیا تھا۔

پائلٹ اس حادثے میں محفوظ رہے تاہم تصادم کے باعث طیاروں کو نقصان پہنچا جس کی مرمت پر فوج کو 880 ملین وون (596,000 امریکی ڈالر) خرچ کرنا پڑے۔

پائلٹوں میں سے ایک پر، جو کہ اب فوج چھوڑ چکا ہے، 88 ملین وون جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔

یہ واقعہ اس لیے پیش آیا کہ مذکورہ پائلٹ اپنی فوجی یونٹ کے ساتھ آخری پرواز کی یاد میں تصاویر لینا چاہتا تھا۔

آڈٹ بورڈ نے بدھ کو شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس وقت پائلٹوں کے درمیان اہم پروازوں کی تصاویر لینا ’ایک عام رواج‘ تھا۔

رپورٹ کے مطابق، پائلٹ نے پرواز سے قبل بریفنگ میں یہ ارادہ ظاہر بھی کیا تھا۔

وہ مشن کے دوران لیڈر کے طیارے کی پیروی کر رہا تھا اور بطور ونگ مین طیارہ اڑا رہا تھا کہ واپسی کے سفر کے دوران اس نے اپنے ذاتی موبائل فون کا استعمال کرتے ہوئے تصاویر لینا شروع کر دیں۔

یہ دیکھ کر لیڈ طیارے کے پائلٹ نے اپنے جہاز میں موجود ایک اور پائلٹ سے ونگ مین طیارے کی ویڈیو بنانے کو کہا۔

اس کے بعد ونگ مین پائلٹ نے اچانک اپنا جہاز اوپر کی جانب لے جا کر پلٹا دیا تاکہ کیمرے میں بہتر طور پر آ سکے۔اس حرکت کے نتیجے میں دونوں طیارے ایک دوسرے کے بہت قریب آ گئے۔

ٹکراؤ سے بچنے کے لیے لیڈ طیارے نے تیزی سے نیچے اترنے کی کوشش کی۔ تاہم دونوں ایف‑15 کے طیارے آپس میں ٹکرا گئے، جس سے لیڈ طیارے کے بائیں پر اور ونگ مین طیارے کی دم کے سٹیبلائزر کو نقصان پہنچا۔

جنوبی کوریا کی فضائیہ نے اس واقعے کے بعد ونگ مین پائلٹ کو معطل کر دیا تھا جس نے بعد میں فوج چھوڑ کر ایک تجارتی ایئرلائن میں ملازمت حاصل کر لی تھی۔

فضائیہ نے مرمت کے اخراجات کی مد میں ونگ مین پائلٹ پر 880 ملین وون جرمانہ عائد کرنے کی کوشش کی اور جب پائلٹ نے جرمانے کے خلاف اپیل کی تو اس کے نتیجے میں آڈٹ بورڈ کی جانب سے تحقیقات شروع ہوئیں۔

تحقیقات کے دوران ونگ مین پائلٹ نے تسلیم کیا کہ اس کی اچانک کی گئی حرکت تصادم کا سبب بنی، لیکن اس نے مؤقف اختیار کیا کہ لیڈ طیارے کے پائلٹ نے اس حرکت پر ’خاموش رضامندی‘ ظاہر کی تھی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ عکس بندی کی جا رہی ہے۔

تحقیقات کے بعد آڈٹ بورڈ نے فیصلہ دیا کہ ونگ مین پائلٹ کو فضائیہ کی جانب سے عائد جرمانے کی رقم کا صرف دسواں حصہ ادا کرنا چاہیے۔

بورڈ نے کہا کہ پائلٹوں کے ذاتی کیمروں کے استعمال کو مناسب طور پر منظم نہ کرنے پر فضائیہ پر بھی کچھ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

بورڈ نے اس بات کو بھی مدنظر رکھا کہ ونگ مین پائلٹ کا اس واقعے سے قبل ریکارڈ اچھا تھا اور اس نے فوری طور پر اپنے طیارے کو بحفاظت اڈے پر واپس لا کر اسے مزید نقصان سے بچایا۔

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس واقعے میں ملوث دیگر پائلٹوں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی یا نہیں۔