آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شام کے ایک فوجی اڈے پر حملہ اسرائیل اور ترکی کے درمیان کشیدگی کی وجہ کیوں بن رہا ہے؟
شام میں حلب کے قریب واقع فضائی اڈے ابو الظہور پر اسرائیلی حملوں نے اسرائیل اور ترکی کے درمیان ایک نئی سیاسی کشیدگی کو جنم دیا ہے۔
بنیامین نیتن یاہو کی حکومت نے ان حملوں کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس اڈے پر ممکنہ طور پر ترک افواج تعینات کی جا سکتی تھیں۔ تاہم انقرہ نے اس مؤقف کو ’ناقابلِ دفاع دعوی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شام کی خودمختاری کی خلاف ورزی کو جائز ثابت کرنے کی کوشش ہے۔
ایک غیر معمولی ردِعمل میں امریکہ نے بھی اسرائیلی حملوں کو ’غیر ضروری اشتعال انگیزی‘ قرار دیا۔ واشنگٹن نے کہا کہ وہ اسرائیل، ترکی اور شام کے درمیان ممکنہ فوجی تصادم اور کشیدگی سے بچنے کے لیے ایک ایسا طریقۂ کار وضع کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو مختلف فریقوں کے درمیان فوجی رابطے اور ہم آہنگی کو یقینی بنا سکے۔
اسرائیلی نے شام میں کہاں حملہ کیا؟
شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے ایک فوجی ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اسرائیل نے منگل کے روز ابو الظہور فضائی اڈے کے رَن وے اور سٹوریج مراکز پر آٹھ فضائی حملے کیے۔
ایک اور فوجی ذریعے اور فضائی اڈے کے قریب رہنے والے ایک شہری کے مطابق ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، جبکہ اسرائیلی فوج نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
یہ فضائی اڈہ شمال مغربی شام میں واقع ہے اور ترکی کی سرحد سے تقریباً 70 کلومیٹر مشرق کی جانب واقع ہے۔ 14 سالہ شامی جنگ کے دوران کئی مرتبہ مختلف فریقوں کے قبضے میں آنے کے بعد 2013 سے یہ اڈہ ایک فعال فوجی ہوائی اڈے کے طور پر استعمال نہیں ہو رہا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک سکیورٹی ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ یہ فضائی اڈہ سنہ 2012 سے غیر فعال تھا اور اس وقت شامی وزارتِ دفاع کی نگرانی اور حفاظت میں تھا۔
دوسری جانب شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ یہ فضائی حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب حالیہ دنوں میں ایک ترک فوجی وفد نے اس مقام کا دورہ کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق یہ دورہ اڈے کو دوبارہ فعال بنانے کی کوششوں کا حصہ تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ حملہ بظاہر مارچ کے بعد پہلا واقعہ ہے جس میں اسرائیل نے شامی حکومتی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہو۔ مزید یہ کہ یہ حملہ اُس علاقے سے کافی فاصلے پر کیا گیا، جہاں اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی شام میں اپنا سکیورٹی زون برقرار رکھے ہوئے ہے۔
اسرائیل کا مؤقف
سرکاری سطح ہر ایک روز کی خاموشی کے بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ شام ابو الظہور فضائی اڈے پر ترک افواج کو تعینات کرنے کی اجازت دے کر سکیورٹی معاملات کے حوالے سے اسرائیل کے ساتھ طے شدہ ’اسٹیٹس کو‘ کو تبدیل کرنے والا تھا۔
وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل نے بارہا شام کو خبردار کیا تھا کہ اس نوعیت کی تعیناتی اس کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گی، لیکن شامی حکومت نے ان انتباہات کو نظرانداز کیا۔
بیان میں زور دیا گیا کہ اسرائیل ’اپنی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے کو برداشت نہیں کرے گا‘
اس بیان میں اسرائیل نے فضائی حملوں کی ذمہ داری واضح طور پر قبول نہیں کی، جبکہ ترکی نے بھی نہ تو اس اڈے پر اپنی افواج کی موجودگی کی تصدیق کی اور نہ وہاں کسی تعیناتی کے منصوبے کی۔
شام اور عراق کے لیے امریکی خصوصی ایلچی ٹام باراک نے کہا کہ یہ حملہ اس تاثر کی عکاسی کرتا ہے ’چاہے وہ درست ہو یا نہ ہو‘ کہ ترکی آئندہ عرصے میں ابو الظہور میں اپنی موجودگی بڑھا سکتا ہے۔
اسرائیلی بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب شام اور اسرائیل کے درمیان سکیورٹی مذاکرات تاحال کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔
شامی صدر احمد الشرع نے جولائی میں کہا تھا کہ ان کا ملک اسرائیل کے ساتھ ایک سکیورٹی معاہدے پر پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ ٹام باراک نے تصدیق کی کہ دونوں فریق کشیدگی میں کمی اور سرحدی سلامتی کے موضوعات پر متعدد مرتبہ بات چیت کر چکے ہیں، تاہم ابھی تک کسی حتمی مفاہمت تک نہیں پہنچا جا سکا۔
ترکی کا اسرائیل پر شام کو عدم استحکام کا شکار کرنے کا الزام
ترکی کے صدر کے دفتر نے بدھ کے روز نیتن یاہو کے دفتر سے جاری کردہ ان بیانات کو مسترد کر دیا۔ انقرہ کے مطابق ان الزامات کا مقصد شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو نشانہ بنانے والی غیر قانونی اسرائیلی کارروائیوں کو جائز ثابت کرنا ہے۔
ترک ایوانِ صدر نے مزید کہا کہ یہ الزامات نیتن یاہو کی جانب سے اسرائیلی انتخابات سے قبل اپنی ’توسیع پسندانہ اور عدم استحکام پیدا کرنے والی پالیسیوں‘ کو جاری رکھنے کی خواہش کا نتیجہ ہیں۔ بیان میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ خطے میں پائیدار امن اسی صورت ممکن ہے جب اسرائیل بین الاقوامی قانون کا احترام کرے اور اپنی ’جارحانہ اور جبر پر مبنی پالیسیوں‘ کو ترک کرے۔
ترک صدارتی بیان میں ابو الظہور فضائی اڈے پر فوجی تعیناتی کے امکان کا براہِ راست ذکر نہیں کیا گیا، تاہم اس بات پر زور دیا گیا کہ انقرہ امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے شامی حکومت کے ساتھ ’جائز بنیادوں پر‘ تعاون جاری رکھے گا اور شام کو عدم استحکام کا شکار ہونے نہیں دے گا۔
دوسری جانب ترکی کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ یہ فضائی حملے شام کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں اور اس نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اس کی نظر میں ’بڑھتی ہوئی اسرائیلی جارحیت‘ کے خاتمے کے لیے زیادہ مؤثر اور مضبوط مؤقف اختیار کرے۔
نیٹو میں دوسری سب سے بڑی فوج رکھنے والا ترکی شامی صدر احمد الشرع کے نمایاں ترین اتحادیوں میں شامل ہے۔ انقرہ شامی فوج کی تربیت میں مدد فراہم کر رہا ہے، ریاستی اداروں اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِ نو میں معاونت کر رہا ہے اور شام کو فوجی و سفارتی حمایت بھی فراہم کر رہا ہے۔
ترکی کا الزام ہے کہ اسرائیل نئی شامی حکومت کو کمزور کرنے اور ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے 6 اگست کو کہا تھا کہ اسرائیل کے مسلسل حملے شام کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں اور انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ وہ شام کی علاقائی سالمیت کا احترام کرے۔
ترکی کو شام میں حملے سے قبل اطلاع دی گئی تھی؟
امریکی ایلچی ٹام باراک نے ان فضائی حملوں کو ’غیر ضروری اشتعال انگیزی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملے علاقائی استحکام قائم کرنے میں رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور مزید فوجی کارروائیوں کے بجائے بات چیت کو ترجیح دیں۔
باراک نے کہا کہ ترکی کو حملوں کے بارے میں پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی اور اس نے اسرائیلی طیاروں کو اپنی سرحد کی سمت شمال کی جانب جاتے ہوئے دیکھا تھا، جس کی وجہ سے ترکی کے لیے ممکنہ فوجی ردِعمل کی تیاری کرنا ایک فطری بات ہو سکتی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’دانشمندی سے کام لینے‘ کے باعث صورتحال مزید خراب ہونے سے بچ گئی اور یہ کہ واشنگٹن کی ترجیح اب کشیدگی میں کمی لانا اور معاملات کو زیادہ محتاط انداز میں آگے بڑھانے کے لیے ماحول فراہم کرنا ہے۔
باراک نے انکشاف کیا کہ امریکہ اسرائیل، ترکی اور شام کے درمیان ممکنہ کشیدگی اور تصادم کو روکنے کے لیے ایک خصوصی طریقۂ کار وضح کرنے پر کام کر رہا ہے۔ اس کا مقصد فوجی اور سیاسی فریقوں کے درمیان غلط فہمیوں یا غیر ارادی جھڑپوں سے بچنا ہے۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن پہلے ہی متعلقہ فریقوں کے درمیان معلومات کے تبادلے اور رابطے کے عمل میں سہولت فراہم کر رہا ہے، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اس نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے اور اس کے لیے زیادہ وسائل مختص کیے جائیں، کیونکہ مواصلاتی ذرائع میں سرمایہ کاری کرنا فوجی طاقت پر انحصار کرنے کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہے۔
ترکی اور اسرائیل نے گذشتہ سال شام میں اپنی افواج کے درمیان کسی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے ایک رابطہ چینل قائم کیا تھا۔ تاہم حالیہ فضائی حملوں نے ان انتظامات کی محدودیت کو نمایاں کر دیا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ انقرہ کو حملے سے قبل کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔
بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام میں اثر و رسوخ بڑھانے کا مقابلہ
شام کے وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے لیے کوئی حقیقی سکیورٹی جواز موجود نہیں تھا۔ انھوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ اپنی حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کرے کیونکہ اسے صرف دمشق ہی نہیں بلکہ شام کے اتحادیوں کا بھی سامنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دمشق اسرائیل کو اس پالیسی سے باز رکھنے اور اس کے حملے رکوانے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔
بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے اسرائیل نے شام میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں، جن میں خاص طور پر ملک کے جنوبی اور وسطی حصوں میں واقع حکومتی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیل نے جنوب مغربی شام کے کچھ علاقوں پر بھی کنٹرول قائم کیا ہے اور شامی فوج کے ہتھیاروں اور بھاری فوجی سازوسامان کے ایک بڑے حصے کو بھی تباہ کیا ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ دمشق کی نئی قیادت کو اس کے اسلام پسند مسلح پس منظر کے باعث شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور صدر احمد الشرع کے مغربی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات کے باوجود اپنی سرحدوں کے قریب کسی مسلح اسلام پسند موجودگی کو قبول نہیں کرے گا۔
بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے سے قبل اسرائیل کا مؤقف تھا کہ اس کے بار بار کیے جانے والے فضائی حملوں کا مقصد شام میں ایرانی اثرورسوخ کو محدود کرنا اور لبنان میں حزب اللہ تک ہتھیاروں کی ترسیل کو روکنا ہے۔
ترکی کا میڈیا اسرائیلی حملوں کو کیسے دیکھ رہا ہے؟
ترکی کے میڈیا آؤٹ لیٹس نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل ان حملوں کے ذریعے ترکی کو اشتعال دلانے اور دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ تصادم کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں اور تبصرہ نگاروں نے ان حملوں کو براہِ راست اسرائیل کے آئندہ انتخابات سے بھی جوڑا ہے۔
حکومت نواز ترک اخبار ترکیہ نے اپنی رپورٹ میں اس کارروائی کو ’اسرائیل کی جانب سے شدید اشتعال انگیزی‘ قرار دیا۔
اخبار نے ریٹائرڈ شامی کرنل فائز اسمر کا حوالہ دے کر لکھا کہ سرحد کے قریب واقع فضائی اڈے کو نشانہ بنانا دراصل ترکی کے خلاف اسرائیل کی ’خفیہ جنگی اشتعال انگیزی‘ ہے۔
آزاد خبر رساں ویب سائٹ سربستیت نے دعویٰ کیا کہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست تصادم ’بال بال ٹل گیا۔‘ رپورٹ میں تجزیہ کار چارلس لسٹر کے اس دعوے کا حوالہ دیا گیا کہ حملے سے صرف چند گھنٹے قبل ایک ترک فوجی وفد اس اڈے پر موجود تھا۔
18 اگست کی شب ایک ٹاک شو کے دوران حکومت نواز نیوز چینل اے ہیبر نے سکرین پر یہ سوال نمایاں کیا: ’کیا اسرائیل ترکی کے صبر کا امتحان لے رہا ہے؟‘ چینل نے یہ تاثر بھی دیا کہ اسرائیل اکتوبر میں ہونے والے انتخابات سے قبل کسی جنگ یا بڑے تصادم کا خواہاں ہے۔
صحافی یلدرائے اوغور نے بھی ایکس پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ نیتن یاہو اپنی انتخابی مہم کے دوران ’ترکی کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ‘ کرنے کی کوشش کریں گے۔
ترکی کا منصوبہ
متعدد ترک میڈیا اداروں نے اس بات پر بھی توجہ دلائی کہ یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب ترکی شام میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔
ترکیہ اخبار نے نام ظاہر نہ کرنے والے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایک ترک کمپنی نے حال ہی میں اس فضائی اڈے کے رَن وے کی مرمت اور بحالی کا کام انجام دیا تھا۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ’یہ حملہ ایک واضح پیغام ہے۔۔۔ جو ترکی کی اُن سٹریٹجک منصوبوں کے خلاف دیا جا رہا ہے جو اب نظریاتی مرحلے سے نکل کر عملی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ اس کا مقصد شامی فوج کی صلاحیتوں کو محدود کرنا ہے۔‘
ترکیہ اخبار کے مطابق ریٹائرڈ شامی کرنل اسمر کہتے ہیں کہ ’اسرائیل کا سب سے بڑا خوف شام میں ترکی کا بڑھتا ہوا فوجی اثرورسوخ ہے۔‘
رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل کو اس بات پر تشویش ہے کہ شام ممکنہ طور پر ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ہونے والے مکہ معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے۔
18 اگست کو این ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مبصر ایلیف شاہین نے کہا کہ جیسے جیسے شام میں استحکام آ رہا ہے اور ترکی کا کردار بڑھ رہا ہے، اسرائیل خطے میں خود کو زیادہ ’گھرا ہوا‘ اور ’پریشان‘ محسوس کر رہا ہے۔
اسی طرح حکومت نواز تجزیہ کار محمود اوور نے 18 اگست کو اے ہیبر سے گفتگو میں کہا: ’ہم خطے میں اسرائیل کے گرد گھومتی سیاست کے خاتمے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔‘