ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کی آزادی کے کئی سال بعد بھی خود کو ’انڈیا کا شہری‘ ثابت کرنے کی کوشش کیوں کرتے رہے؟

    • مصنف, وقار مصطفیٰ
    • عہدہ, صحافی، محقق
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 13 منٹ

برصغیر کی آزادی میں ابھی سات آٹھ ماہ باقی تھے۔

سندھ کے بڑے زمیندار اور سیاست دان سر شاہ نواز بھٹو اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ شاہی ریاست جوناگڑھ میں حکومتی ذمے داریاں سنبھالنے گئے تو بمبئی میں تعلیم اور وسیع خاندانی جائیداد کی دیکھ بھال کے لیے اپنے نوجوان بیٹے ذوالفقار علی بھٹو کو چھوڑا۔

سنہ 1947 میں برطانوی ہندوستان کی انڈیا اور پاکستان میں تقسیم کے فوری بعد، جوناگڑھ پر انڈیا کی فوج کشی تو الگ کہانی ہے، بعد میں پاکستان کے وزیر، صدر اور وزیرِاعظم بننے والے ذوالفقار علی بھٹو اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرونِ ملک تھے جب انڈین حکومت نے ’بمبئی‘ میں ان کی اسی جائیداد کو ’متروکہ‘ (یعنی مالک کے پاکستان نقل مکانی کرنے پر چھوڑی ہوئی) قرار دے کر اپنی تحویل میں لے لیا۔

اس جائیداد کے دوبارہ حصول کے لیے اگلے نو سال تک بھٹو خود کو ’انڈیا کا شہری‘ قرار دے کر انڈیا میں عدالتی جنگ کیسے لڑے، پاکستان میں اس کے عوض کیا اور کیسے حاصل کیا، اور بعد کی کئی دہائیوں میں ان کے مخالفین نے ان کے انڈین شہریت کے اسی دعوے کا کئی بار سیاسی استعمال کیسے کیا، ہماری آج کی کہانی میں یہی بیان ہے۔

سٹینلے والپرٹ نے بھٹو کی سوانح عمری ’ذلفی بھٹو آف پاکستان: ہز لائف اینڈ ٹائمز‘ میں لکھا ہے کہ اپنے والدین کے جوناگڑھ جانے پر ذوالفقار بمبئی میں کارمائیکل روڈ پر واقع اپنے گھر ’دی نیسٹ‘ میں رہنے لگے۔

وکیل سنجوئے گھوش نے ’بار اینڈ بینچ‘ نامی ویب سائٹ کے لیے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ بمبئی میں 4 اے، ورلی سٹیٹ پر واقع یہ مکان سر شاہ نواز بھٹو نے بمبئی میونسپل کارپوریشن سے مستقل لیز پر حاصل کیا تھا۔ اس کے لیے 25,344 روپے ادا کیے گئے تھے اور سالانہ کرایہ صرف ایک روپیہ تھا۔

’وہ بمبئی کے مصروف فورٹ علاقے میں ایک اور خاندانی جائیداد، کئی منزلہ ہوٹل آسٹوریا، سے ایک لاکھ 10 ہزار روپے سے زیادہ کرایہ پاتے تھے، جو 1946-47 میں ایک خاصی بڑی رقم تھی۔ ان کے پاس کئی مالی ضمانتیں، قیمتی اشیا اور نقد رقم بھی چھوڑی گئی تھی۔‘

سنجوئے کے مطابق سر شاہ نواز نے یہ جائیدادیں اپنے 18 سالہ بیٹے کے نام منتقل کر دی تھیں۔

ستمبر 1947 کے اوائل میں ذوالفقار علی بھٹو تعلیم کے لیے امریکہ سدھارے۔ نومبر 1947 میں سر شاہ نواز بھٹو نے کراچی میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔

سنجوئے نے لکھا ہے کہ اس سے کچھ سال پہلے کیتھیڈرل اینڈ جان کونن سکول کے 15 سالہ طالب علم ذوالفقار علی بھٹو نے پیش گوئی کے انداز میں بانیِ پاکستان محمد علی جناح کے نام ایک خط میں لکھا تھا: ’وہ وقت آئے گا جب میں پاکستان کے لیے اپنی جان تک قربان کر دوں گا۔‘

سٹینلے لکھتے ہیں کہ ذلفی امریکہ میں اپنے دوستوں سے اکثر بانیِ پاکستان محمد علی جناح کا ذکر کرتے اور کہتے، ’وہی میرے رہنما ہیں! وہی میرے آئیڈیل ہیں، وہ شخص ہیں جن کی میں عزت کرتا ہوں۔‘

’ستمبر 1948 کے اوائل میں جناح کی وفات پر ذلفی نے پاکستان کے پہلے سفیر برائے واشنگٹن، ایم اے ایچ اصفہانی، کو ایک خط میں لکھا کہ: ’اس نازک موقع پر ہم یتیم ہو گئے ہیں، جب ہمیں اپنے محبوب قائد کی بے پایاں فیاضی کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت تھی۔‘

انھوں نے گرمیوں کی چھٹیوں میں کچھ عرصہ واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے میں رضاکارانہ کام بھی کیا۔

دوسری جانب، 6 جولائی 1949 کو انڈیا میں ذوالفقار علی بھٹو کو ’املاک چھوڑنے والا‘ یا ’اِویکیوئی‘ قرار دے کر ان کی جائیدادیں سرکاری تحویل میں لے لی گئیں۔

وکیل اور مصنف اے جی نورانی نے ’فرنٹ لائن‘ میگزین کے لیے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ بھٹو نے اس فیصلے کو کسٹوڈین، کسٹوڈین جنرل، بمبئی اور پنجاب ہائی کورٹ، اور بالآخر انڈیا کی سپریم کورٹ میں مختلف کارروائیوں کے ذریعے نو سال تک چیلنج کیا۔

’ایک طرف وہ اس فیصلے کی مخالفت کر رہے تھے کہ وہ املاک چھوڑنے والے ہیں، اور پاکستان، اس کی شہریت یا وہاں کی مستقل سکونت سے کسی تعلق کی تردید کر رہے تھے؛ دوسری طرف انھوں نے پاکستان میں ایک درخواست دائر کر رکھی تھی کہ بمبئی ہائی کورٹ میں جمع عدالتی رقم انھیں ادا کی جائے، کیونکہ وہ وہاں املاک ترک کرنے والے کی حیثیت سے دعوے دار تھے۔‘

اے جی نورانی نے لکھا کہ 19 نومبر 1965 کو انڈیا کی پارلیمان کے ایوانِ بالا، یعنی راجیہ سبھا، میں بحالیِ مہاجرین کے وزیر مہاویر تیاگی نے کہا: ’پاکستان کے وزیرِ خارجہ جناب ذوالفقار علی بھٹو تقسیم کے وقت اپنے والدین کے ساتھ بمبئی میں مقیم تھے اور وہاں ان کی جائیدادیں تھیں۔‘

’ایوان کی کارروائی کی سرکاری رپورٹ اور مہاویر تیاگی کی جانب سے ایوان میں پیش کی گئی عدالتی دستاویزات کے مطابق بھٹو نے 27 جولائی 1949 کو ڈپٹی کسٹوڈین آف ایویکی پراپرٹی اور 17 نومبر 1951 کو کسٹوڈین کے سامنے حلفاً کہا کہ سینیئر کیمبرج کا امتحان پاس کرنے کے بعد وہ تقریباً 8 ستمبر 1947 کو بمبئی سے امریکہ روانہ ہوئے، جہاں وہ مستقل مقیم تھے۔

انھوں نے اپنی درخواست میں مزید کہا کہ جب وہ 8 ستمبر 1947 کو بیرونِ ملک روانہ ہوئے تو ان کے پاس انڈیا کا پاسپورٹ تھا۔ اس سے پہلے، 27 جولائی 1949 کو، انھوں نے حلفاً یہ بھی کہا، ’میں نے 1945 سے مختلف جامعات میں داخلے کے لیے درخواستیں دینا شروع کر دی تھیں۔ ان کی طرف سے جوابات میرے والد کو موصول ہوتے تھے۔ میری تعلیم بمبئی میں ہوئی۔ میں کراچی میں مقیم نہیں ہوں۔‘

30 جنوری 1956 کو انڈیا کے کسٹوڈین جنرل کے سامنے اپنی اپیل میں انھوں نے خود کو کراچی میں عارضی طور پر مقیم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا، ’درخواست گزار بالغ تھا، قانونی طور پر اپنے معاملات کا خود ذمہ دار تھا، اور محض اس وجہ سے کہ اس کے والدین کراچی میں رہتے تھے اور اس کی شادی بھی وہیں ہوئی تھی، یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ کراچی ہی اس کا مستقل گھر تھا۔‘

اے جے نورانی نے عدالتی دستاویزات کے حوالے سے لکھا کہ اپیل میں انھوں نے مزید کہا کہ ’معزز کسٹوڈین یہ سمجھنے میں ناکام رہے کہ درخواست گزار انڈیا کے شہری کی حیثیت سے انڈین پاسپورٹ پر امریکہ گئے تھے اور متعلقہ وقت میں بھی انڈیا کے شہری ہی رہے۔ کسٹوڈین نے ریکارڈ پر کسی ثبوت کے بغیر یہ نتیجہ اخذ کرنے میں غلطی کی کہ درخواست گزار نے بالغ ہونے کے بعد کسی متعلقہ وقت میں کراچی کو اپنا مستقل وطن تسلیم کر لیا تھا۔‘

’11 ستمبر 1957 کو انھوں نے انڈیا کی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرتے ہوئے استدعا کی کہ املاک چھوڑنے والے کی حیثیت سے ان کے خلاف ہونے والی تمام کارروائیاں کالعدم قرار دی جائیں۔‘

اے جے نورانی کے مطابق اسی سال 1957 میں وہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان کے وفد کے رکن بنے۔ جنرل اسمبلی کا اجلاس ہر سال ستمبر میں شروع ہوتا ہے۔ اپریل 1958 میں، انھوں نے جنیوا میں سمندری قانون سے متعلق کانفرنس میں پاکستان کے وفد کے ساتھ شرکت کی۔

’13 اگست 1958 کو بھٹو نے انڈیا کی سپریم کورٹ میں اپنی اپیل واپس لینے کی درخواست دی اور کہا، درخواست گزار اب کراچی میں مستقل سکونت اختیار کر چکا ہے اور اس معزز عدالت میں زیرِ سماعت اپیل نمبر 489، سال 1957، کی مزید پیروی کا ارادہ نہیں رکھتا۔

عدالت نے 3 نومبر 1958 کو اپیل واپس لینے کی اجازت دے دی۔ اس اجازت سے چند ہی روز پہلے وہ فوجی حکمراں ایوب خان کی کابینہ میں وزیرِ تجارت مقرر ہو چکے تھے۔

اے جے نورانی کے مطابق پاکستان میں بھٹو دعووں کے اندراج کے قانون، 1955، کے تحت معاوضے کے لیے دو سال پہلے، یعنی 1956 میں، دعوے دائر کر چکے تھے۔

’پاکستان میں دائر کردہ اپنے دعوے میں بھٹو نے بمبئی کے آسٹوریا ہوٹل کی مالیت 12 لاکھ روپے اور مکان کی مالیت ایک لاکھ 40 ہزار روپے لگائی۔ تاہم، دعووں کے افسر نے ہوٹل کے لیے تین لاکھ 93 ہزار 952 روپے کے دعوے کی تصدیق کی۔ دوسرے اثاثے کے بارے میں اس نے قرار دیا کہ بھٹو ایک لاکھ 40 ہزار روپے مالیت کی سیکیورٹیز کے حق دار ہیں۔ بھٹو نے ڈپٹی کلیمز کمشنر کے سامنے اپیل کی۔ کمشنر نے 6 اکتوبر 1956 کے اپنے حکم میں معاوضے کے تعین کے لیے ہوٹل کی مالیت بڑھا کر 9 لاکھ 97 ہزار 991 روپے کر دی۔‘

’لیکن بھٹو نے کلیمز کمشنر کے سامنے نظرثانی کی درخواست دائر کی۔ کمشنر نے حکومت کے منظور کردہ نظرثانی شدہ فارمولے کے تحت، جس میں 1946 کے مجموعی سالانہ کرائے کو 40 سے ضرب دے کر مالیت کا تعین کیا جاتا تھا، جائیداد کی سرمایہ جاتی مالیت 44 لاکھ 30 ہزار 400 روپے مقرر کر دی۔

اے جے نورانی لکھتے ہیں کہ یہ حتمی حکم 18 ستمبر 1957 کو جاری ہوا، یعنی بھٹو کے انڈیا کی سپریم کورٹ میں اپیل دائرکرنے کے ٹھیک ایک ہفتے بعد۔

وہاں وہ انڈیا کے شہری ہونے کی حیثیت سے اسی جائیداد پر اپنا حق جتا رہے تھے، جس کے عوض پاکستان میں بیک وقت پاکستانی شہری کی حیثیت سے معاوضے کا مطالبہ بھی کر رہے تھے۔

بھٹو کی ایوب خان کی وزارت سے علیحدگی کے ایک سال بعد یعنی سنہ 1967 میں ان کی شہریت قومی اسمبلی میں بحث کا باعث بنی۔

لیکن اس سے پہلے ایوب خان کی اپنی تین مارچ کی ڈائری میں لکھا، ’انڈیا سے کچھ دستاویزات میرے ہاتھ لگی ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسٹر بھٹو 1958 تک خود کو انڈین شہری قرار دیتے رہے تھے اور کہتے تھے کہ وہ کراچی میں محض عارضی طور پر مقیم ہیں۔ میں نے مزید تصدیق کے لیے کہا ہے۔ اس سے صرف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شخص کس قدر بے اصول اور بے ضمیر ہے۔‘

تیس جون 1967 کی ایوب خان کی ڈائری میں درج ہے کہ ’قومی اسمبلی میں ایک مشکل سوال اٹھایا گیا۔ سنہ 1958 میں وزیر بننے تک بھٹوانڈین عدالتوں میں یہ اعلان کرتے رہے تھے کہ وہ کراچی میں مقیم انڈین شہری ہیں۔ اس کا مقصد انڈیا میں ان کے والدین کی چھوڑی ہوئی جائیداد کے عوض کچھ معاوضہ حاصل کرنا تھا۔ درحقیقت وہ تقریباً ایک لاکھ پچاس ہزار روپے کے لیے اپنا ضمیر بیچ رہے تھے۔ ہمیں اس بارے میں حال ہی میں معلوم ہوا، جب انڈین پارلیمان میں اس معاملے پر بحث ہوئی اور یہ انڈیا کے اخبارات میں شائع ہوا‘۔

انگریزی روزنامہ ’ڈان‘ کی ایک خبر کے مطابق ’سنہ 1958 میں وزیر بننے تک مسٹر زیڈ اے بھٹو کی شہریت کی حیثیت کا معاملہ آج، 30 جون، سوالات کے وقفے کے دوران میں قومی اسمبلی میں ہلچل کا باعث بنا۔ یہ معاملہ حکومتی ارکان میں شامل رکن اسمبلی حبیب الرحمٰن بھنڈاری نے ایک مختصر نوٹس کے ذریعے اٹھایا۔

’اپوزیشن ارکان کی جانب سے ضمنی سوالات کی بوچھاڑ کے جواب میں وزیرِ اطلاعات خواجہ شہاب الدین نے کہا کہ متعلقہ دستاویزات سے بادی النظر میں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ 1958 تک مسٹر بھٹو پاکستان میں خود کو پاکستانی شہری اور انڈیا میں انڈین شہری قرار دیتے رہے تھے۔ اپوزیشن کے بعض ارکان بار بار بلند آواز میں کہتے رہے کہ اس مرحلے پر یہ معاملہ اٹھانے کے پیچھے بدنیتی کارفرما ہے۔‘

’مسٹر بھنڈاری نے امورِ خارجہ کے پارلیمانی سیکریٹری سے پوچھا تھا کہ ’کیا وہ حکومتِ پاکستان کے سابق وزیرِ خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کی انڈیا کی شہریت کے بارے میں ایک انڈین وزیر کے بیان سے آگاہ ہیں؟‘

’پارلیمانی سیکریٹری عبدالاول بھوئیا نے اثبات میں جواب دیا۔‘

انھوں نے ایوان میں ایک تحریری بیان پڑھ کر سنایا، جس میں کہا گیا تھا کہ ’19 نومبر 1965 کو راجیا سبھا میں توجہ دلاؤ تحریک کے جواب میں انڈیا کے اُس وقت کے وزیرِ بحالیِ مہاجرین، مسٹر تیاگی، نے کہا تھا کہ کسٹوڈین آف ایویکیو پراپرٹی کے قبضے میں لی گئی جائیداد کی واپسی کے لیے دائر درخواست کے سلسلے میں مسٹر زیڈ اے بھٹو نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ انڈین شہری ہیں اور ہمیشہ سے انڈین شہری رہے ہیں۔

’مسٹر تیاگی نے یہ بھی کہا تھا کہ مسٹر بھٹو نے پاکستان میں مستقل سکونت اختیار کرنے کا حتمی فیصلہ صرف 1958 میں، پاکستان کے وزیرِ تجارت بننے کے بعد کیا اور کسٹوڈین کے فیصلے کے خلاف اپنی اپیل واپس لینے کے لیے انڈین سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔‘

سلمان تاثیر اپنی کتاب ’بھٹو، اے پولیٹیکل بایوگرافی‘ میں لکھتے ہیں کہ انڈیا کے وزیرِ بحالیِ مہاجرین نے جب 1965 میں الزامات لگائے تھے تو اس وقت حکومتِ پاکستان نے ان کی سختی سے تردید کی تھی۔

’یہ الزام بمبئی میں شاہ نواز بھٹو کے ایک مکان کی فروخت سے پیدا ہوا تھا، جو ان کے بیٹے ذوالفقار علی بھٹو کے نام پر تھا۔ چونکہ اس وقت بھٹو نابالغ تھے، اس لیے مکان کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم ان کی طرف سے عدالت میں جمع کرا دی گئی۔ تقسیمِ ہند کے بعد بھٹو امریکہ روانہ ہو گئے تو 6 جولائی 1949 کو عدالتی حکم کے تحت انھیں متروکہ جائیداد سے متعلق قانون کے تحت متروکہ جائیداد کا مالک قرار دے دیا گیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ اپنی رقم کی واپسی کے لیے صرف پاکستانی عدالت میں درخواست دے سکتے تھے۔

’اس زمانے میں بیشتر لوگوں کی طرح بھٹو نے بھی ’برطانوی ہندوستانی‘ پاسپورٹ پر امریکہ کا سفر کیا تھا۔ چنانچہ ان کا مؤقف تھا کہ انڈین عدالت کو انھیں متروکہ جائیداد کا مالک قرار دینے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔ اپنی رقم واپس لینے کے لیے ان کی کچھ غیر محتاط کوششوں کے نتیجے میں انھوں نے ایسے متعدد بیانات دیے جو بعد کے برسوں میں ان کے لیے باعثِ خفت بنے۔

’ان میں سے ایک بیان یہ تھا: محض اس بنا پر کہ درخواست گزار کے والدین کراچی میں مقیم تھے اور درخواست گزار کی شادی بھی وہیں ہوئی تھی، یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ متعلقہ مدت کے دوران کسی وقت درخواست گزار کا گھر بھی کراچی میں تھا۔‘

سلمان تاثیر کے مطابق اسی دوران وہ پاکستان میں قانونی چارہ جوئی کے ذریعے بھی اپنی جمع شدہ رقم واپس لینے کی کوشش کر رہے تھے، جہاں وہ خود کو پاکستانی شہری کی حیثیت سے پیش کر رہے تھے۔

’بھٹو کے اس طرزِ عمل میں کوئی پراسرار یا بدنیتی پر مبنی بات نہیں تھی۔ انھوں نے رقم کی واپسی کے لیے درخواست صرف 20 برس کی عمر میں دائر کی تھی، اور سرحد کے دوسری طرف رہ جانے والی جائیداد کے معاملات پر پاکستانیوں اور انڈین شہریوصں کے درمیان اس نوعیت کی پیچیدہ قانونی کشمکش عام تھی۔ تاہم، اس معاملے میں انھیں اپنی پوزیشن کی وضاحت کرنا پڑی۔ انھوں نے دفاع میں کہا کہ وہ اور ان کا خاندان ایک طویل عرصے سے سندھ میں مقیم تھے۔ اگرچہ وہ انڈیا کے پاسپورٹ پر امریکہ گئے تھے، لیکن جولائی 1949 میں انھوں نے پاکستانی پاسپورٹ حاصل کر لیا تھا۔‘

تیس نومبر 1967 کو بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد ڈالی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی رکن رفیع رضا نے اپنی کتاب ’ذوالفقار علی بھٹو اینڈ پاکستان، 1967-1977‘ میں لکھتے ہیں کہ ’ایوب خان کے وزیرِ اطلاعات نے قومی اسمبلی میں وہ الزام دہرایا جو 1965 کی جنگ کے بعد انڈین پارلیمان میں بھی لگایا جا چکا تھا کہ بھٹو نے بمبئی کی جائیداد پر انڈین شہریت کی بنیاد پر اپنا دعویٰ نومبر 1958 میں، وفاقی وزیر بننے کے بعد ہی واپس لیا تھا۔

’یہ الزامات ڈان نے بھی 2 جولائی 1967 کے اداریے میں دہرائے، جس کی سرخی تھی: ’افسوس ناک انکشافات۔‘ چونکہ وزیر کے الزامات کو پارلیمانی استحقاق کے تحت قانونی تحفظ حاصل تھا، اس لیے فیصلہ کیا گیا کہ ان الزامات کی تردید میں تفصیلی جواب جاری کیا جائے اور ہتکِ عزت کے الزام میں ’ڈان‘ کو قانونی نوٹس بھیجا جائے۔ کئی وکلا نے اس معاملے میں شامل ہونے سے گریز کیا۔ میں نے اخبار کو قانونی نوٹس بھیجا، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنے الزامات واپس لے اور ہرجانہ ادا کرے۔‘

’نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پاکستان اور انڈیا کے تعلقات کے بارے میں مسٹر زیڈ اے بھٹو کا رویہ، پاکستانی پاسپورٹ حاصل کرنا، انڈیا میں ان کا مقدمہ اور پاکستان میں جائیداد کے عوض معاوضے کا دعویٰ، یہ سب ایسے معاملات ہیں جن کا ریکارڈ موجود ہے اور جو اب بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔‘

’ہم نے عدالت سے رجوع نہ کرنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ اس صورت میں ہتکِ عزت کی ایک طویل قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا۔ بعد ازاں، بھٹو کو ہراساں کرنے کے لیے ان کے خاندان کے اسلحے کے ذخیرے کے لائسنس منسوخ کر دیے گئے۔ اس اقدام کے نتیجے میں بھٹو کے خلاف ان کا پہلا سیاسی مقدمہ قائم ہوا۔‘

اخبار ’دی ہندو‘ کی 8 اگست 1967 کی ایک رپورٹ کے مطابق انڈیا کے وزیرِ خارجہ ایم سی چھاگلا نے 7 اگست کو نئی دہلی میں انڈین پارلیمان کے ایوانِ زیریں لوک سبھا کے وقفۂ سوالات کے دوران کہا کہ پاکستان کے سابق وزیرِ خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کا معاملہ ’دوہری وفاداری‘ کا ہے۔

’وزیرِ خارجہ نے ہیم باروا کے سوال کے جواب میں کہا کہ ان کے خیال میں بھٹو انڈیا واپس آنا نہیں چاہیں گے۔ جب حزبِ اختلاف کے تین دیگر ارکان، ناتھ پائی، سمر گوہا اور ایم ایل سوندھی نے پوچھا کہ اگر ’گمراہ بیٹا‘ واپس آ جائے تو کیا حکومت اسے انڈین شہریت دینے پر غور کرے گی، تو وزیرِ خارجہ نے کہا کہ بھٹو کی واپسی ایک فرضی صورتِ حال ہے۔ تاہم، اگر وہ واپس آتے ہیں تو ملک کا قانونِ شہریت ان کے معاملے کا فیصلہ کرے گا۔‘

’چھاگلا نے مزید کہا کہ بھٹو کی حالیہ تقاریر سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ماضی کی طرح انڈیا کے بارے میں ’مخالفانہ اور زہر آلود‘ زبان استعمال کر رہے ہیں۔ ناتھ پائی نے پوچھا کہ اگر بھٹو اپنی شہریت تبدیل کرنے کا فیصلہ کریں تو کیا حکومت انھیں بمبئی میں ان کی جائیدادیں واپس دینے پر غور کرے گی؟ وزیرِ خارجہ نے دوٹوک جواب دیا: نہیں، جناب!

جب رکن نے وزیراعظم سے جواب طلب کیا تو اندرا گاندھی نے بھی نفی میں سر ہلایا‘۔

سٹینلے والپرٹ لکھتے ہیں کہ 1977 میں وزیر اعظم بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد ضیا الحق کی حکومت نے بھی بھٹو کی گرفتاری کے بعد شائع کیے گئے متعدد وائٹ پیپرز میں، ان سے ایک دہائی قبل ایوب خان کی فوجی حکومت کی طرح، ذوالفقار بھٹو کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ ان میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ امریکہ اور برطانیہ میں قیام کے دوران وہ مسلسل خود کو انڈیا کا شہری سمجھتے رہے تھے۔ لیکن یہ دعوے واضح طور پر غلط تھے۔‘

’وطن واپسی کے بعد انھوں نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرکے اپنے والد کی بمبئی کی جائیداد کی مناسب قیمت حاصل کرنے کی کوشش ضرور کی، لیکن امریکہ میں ان کا خاصا وقت اپنے دوستوں اور سماجی تنظیموں کو پاکستان اور جدید دنیا میں اس ملک کی اہمیت سے آگاہ کرنے میں گزرا‘۔