آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’ایک آئینی، قانونی مسئلے کو جذباتی مسئلہ بنا دیا گیا‘: پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ’مہاجرین مقیم پاکستان‘ کی 12 نشستوں کا تنازع کیا ہے؟
- مصنف, تابندہ کوکب
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 18 منٹ
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سپریم کورٹ آج (چھ جون) جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں پاکستان میں مقیم مہاجرین (جنھیں ’مہاجرین مقیم پاکستان‘ کہا جاتا ہے) کی 12 نشستوں کے حوالے سے دائر کردہ حکومتی ریفرنس کی سماعت کا باقاعدہ آغاز کر رہی ہے۔
کشمیر حکومت نے اِن 12 نشستوں اور دیگر متعلقہ آئینی معاملات پر رائے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔
کشمیر کی حکومت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ مہاجرین کی اِن 12 نشستوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا اور رواں ہفتے کے دوران اس ضمن میں خطے کی اسمبلی سے ایک قرارداد بھی منظور کروائی گئی ہے۔
تاہم دوسری جانب کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی نے بھی ان 12 نشستوں کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے نو جون (منگل) کو غیر معینہ مدت کے لیے احتجاج کی کال دے رکھی ہے اور شہریوں کو ہنگامی صورتحال کے لیے راشن ذخیرہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
احتجاج کی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے کشمیر حکومت نے پاکستان کی وفاقی حکومت سے اضافی نفری طلب کی ہے جبکہ احتجاج کے پیش نظر جموں و کشمیر یونیورسٹی اور میرپور انٹرمیڈیٹ بورڈ نے آٹھ جون سے شروع ہونے والے امتحانات منسوخ کر دیے ہیں۔
کشمیر حکومت کے ترجمان کا الزام ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی عوامی مسائل کے نام پر عوام میں گمراہ کُن اور بے بنیاد بیانیہ پھیلا رہی ہے۔
ترجمان کے مطابق حکومت نے مذاکرات، ریلیف اور مطالبات پر عملدرآمد کا راستہ اختیار کیا مگر ایکشن کمیٹی نے لچک کے بجائے دباؤ اور سڑک کی سیاست کو ترجیح دی، جو افسوسناک ہے۔
اس رپورٹ میں ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ ’مہاجرین مقیم پاکستان‘ کی 12 نشستوں کا تنازع کیا ہے اور اب اِن نشستوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیوں کیا جا رہا ہے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’مہاجرین مقیم پاکستان‘ کی نمائندگی کا آغاز کب اور کیوں کیا گیا؟
جموں و کشمیر خطے کے انڈیا کے زیر انتظام رہ جانے والے دونوں حصوں وادیِ کشمیر اور جموں سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں آنے والے 'مہاجرینِ کشمیر' جو کشمیر میں آبادکاری کی ناکافی سہولیات کے باعث پاکستان کے مختلف علاقوں میں آباد ہوئے تھے انھیں اس وقت کے سیاسی نظام میں برابر کی نمائندگی دی گئی۔ پاکستان کے قیام کے بعد یہ مہاجرین مختلف ادوار میں پاکستان آتے رہے ہیں۔
24 اکتوبر 1947 کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے بعد یہاں ایک عبوری نظام حکومت قائم ہوا جسے بعد میں 1960 میں بیسک ڈیموکریسی ایکٹ کے ذریعے تبدیل کیا گیا۔ اس نئے نظام کے تحت کے ایچ خورشید اس خطے کے پہلے صدر بنے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق الیکشن کمشنر فرحت علی میر نے بی بی سی کو بتایا کہ 'اُس دور میں ریاست کی حدود کے اندر موجود ووٹرز اور مہاجرین مقیم پاکستان دونوں کے لیے بارہ، بارہ سو نمائندے منتخب کیے جاتے۔ جس کے بعد یہ کونسل اپنا چیئرمین منتخب کرتی تھی جو خطے کا صدر بنتا تھا۔ مہاجرین کے لیے مختص 1200 نمائندوں میں 600 وادی کشمیر اور 600 جموں کے نمائندہ ہوتے۔'
ان کے مطابق 'یہ حکومت تمام ریاست کشمیر کی نمائندہ حکومت کے طور پر قائم کی گئی، جو بالاخر (انڈیا کے زیر انتظام) کشمیر کی مکمل آزادی تک قائم رہنا تھی۔'
فرحت کہتے ہیں کہ 'نمائندوں کی تعداد مہاجرین کی کُل تعداد کے بجائے اُس علاقے کے اعتبار سے تقسیم کی گئی جہاں وہ جا کر آباد ہوئے۔'
سابق الیکشن کمشنر فرحت میر کا کہنا تھا کہ 'سنہ 1964 میں ایک نیا نظام آیا اس میں بھی یہ نمائندگی جاری رہی اور سٹیٹ کونسل بنی تو اس میں بھی مہاجرین شامل تھے۔ اس کے بعد 1970 کا صدارتی نظام آیا تو اس وقت سٹیٹ کونسل کو ہی اسمبلی قرار دے دیا گیا ہے۔ اس کے بعد 1971 میں ہونے والے انتخابات میں سردار عبد القیوم منتخب ہو کر صدر بنے۔ اس وقت پولنگ کے دوران ہر فرد کے دو ووٹ ہوتے تھے ایک ممبر اسمبلی کے لیے جبکہ ایک صدر کے لیے ڈالا جاتا تھا۔'
انھوں نے بتایا کہ 'اس کے بعد ہر حکومت میں مہاجرین کے منتخب نمائندے اسمبلی میں بھی رہے اور یہ نمائندے وزیر اور مشیر بھی رہے۔'
ماجد خان کشمیر مہاجرین کی پشاور کی نشست پر رکن اسمبلی منتخب ہوتے رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ 1970 کے بعد سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے الیکٹرول کالج کا نظام بدل کر ہر شخص کو انفرادی ووٹ کا حق دیا گیا اور '2018 میں ہونے والی 13ویں آئینی ترمیم میں کشمیر اسمبلی کی 53 نشستوں کا تعین کیا گیا، 33 براہ راست ریاست سے منتخب کردہ، 12 مہاجرین پاکستان، پانچ خواتین کی، ایک ٹیکنوکریٹ، ایک علمائے مشائخ، اور ایک اوور سیز کشمیریوں کے لیے ہو گی۔'
فرحت علی میر کے مطابق موجودہ دور میں 'مہاجرین کے کل ووٹرز کشمیر ویلی کے 32 ہزار کے قریب، جموں کے چار لاکھ سے زائد ہیں جبکہ ریاستی حدود میں رہنے والے ووٹرز 35 لاکھ سے زائد ہیں۔ مہاجرین کے حلقوں میں ووٹنگ ٹرن آؤٹ 60 فیصد تک ہوتا ہے اور جموں کے لوگ زیادہ ووٹ ڈالتے ہیں جو زیادہ تر پاکستان کے صوبے پنجاب کے علاقوں میں آباد ہیں۔'
کشمیر میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 33 لاکھ 65 ہزار 839 ہے جبکہ مہاجرین مقیم پاکستان (کشمیر ویلی) 33598 اور مہاجرین جموں چار لاکھ 49 ہزار 48 ہیں۔
مہاجرین کی سیٹوں پر کیا تنقید کی جاتی ہے؟
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندوں کا دعویٰ ہے کہ یہ نشستیں ابتدا میں ریاستی اسمبلی کا حصہ نہیں تھیں بلکہ انھیں برسوں پہلے 'ایک مخصوص سوچ کے تحت' کشمیر اسمبلی کا حصہ بنایا گیا۔
ان کا الزام ہے کہ اِن 12 نشستوں پر منتخب ہونے والے نمائندوں کو متعدد بار کشمیر میں حکومت گرانے اور وزرائے اعظم کی تبدیلی کے لیے استعمال کیا گیا۔
کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں وزیرِ اعظم کے انتخاب کے لیے کسی بھی جماعت کو کم از کم 27 اراکینِ اسمبلی کی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے، اور نہ صرف عوامی ایکشن کمیٹی بلکہ خود سیاسی جماعتیں بھی یہ تسلیم کرتی ہیں کہ اس نوعیت کے معاملات میں اِن بارہ نشستوں کا کردار ہوتا ہے۔
پاکستان میں موجود ان بارہ نشستوں کے ووٹرز مختلف علاقوں پر پھیلے ہوئے ہیں، اگر ایک نشست کے کچھ ووٹرز کراچی میں ہیں تو اور کچھ بلوچستان میں بھی ہیں۔ تاہم یہ تمام مہاجرین ِ جموں و کشمیر کے علاوہ شہروں میں پھیلے ہوئے ہیں ان میں پشاور، راولپنڈی، نارووال، گجرات، ملتان، راولپنڈی، اٹک، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، کراچی، سوات، دیر، مانسہرہ وغیرہ شامل ہیں۔
ان سیٹوں کے خاتمے کا مطالبہ کرنے والی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا الزام ہے کہ ’مقامی وسائل کے بے دریغ ضیاع میں مہاجرین کے نام پر پاکستان میں موجود 12 حلقوں کا ایک بڑا کردار ہے۔‘
ایکشن کمیٹی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ’ان حلقوں کو حکومت پاکستان ایک ٹول کے طور پر استعمال کرتی ہے اور ان حلقوں کے ممبران کو عدم استحکام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے ان حلقہ جات کو فوری ختم کیا جائے اور وہ مہاجرین جو خطے کے اندر رہائش پذیر ہیں انھیں ہی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے۔‘
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم فیصل ممتاز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ کشمیر کے فنڈز کے باہر جانے اور (ان سیٹوں کے ذریعے) پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا کشمیر کی سیاست پر اثر انداز ہونے جیسے الزامات بھی درست ہیں لیکن اِن شکایات پر بات ہو سکتی ہے اور اِن کا حل نکالا جا سکتا ہے جس کے لیے کوششیں کی جا رہی تھی اور اسی لیے ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات ہو رہے تھے۔
ماجد خان مہاجرین کی پشاور کی نشست پر رکن اسمبلی منتخب ہوتے رہے ہیں اور ماضی میں حکومتی وزیر اور اہم حکومتی کمیٹیوں کے سربراہ بھی رہے ہیں۔
ماجد خان نے فنڈنگ ریاست سے باہر جانے کے الزامات پر کہا کہ ’ایکشن کمیٹی نے ریاست کو جغرافیائی حد تک محدود کر دیا ہے۔ ہر مہاجر نشست کے ممبر اسمبلی کو سوا تین کروڑ روپے ملتے ہیں جبکہ یہاں ریاست میں ہر ایم ایل اے کو دو ارب روپے ملتے ہیں۔ اور جو فنڈنگ ہمارے حلقوں میں جاتی ہے وہ کشمیری باشندوں کے تیئں ریاست کی ذمہ داری ہے۔ آئین یہ حق اپنے ووٹر کو دیتا ہے۔ ریاست میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو وہاں سیٹل کیا گیا تھا۔ اب یہ پیسہ ان پر خرچ کیوں نہ ہو۔‘
ماجد خان کہتے ہیں کہ ’یہ رقم ان ووٹرز کے چھوٹے چھوٹے مسائل جیسے قبرستان کی جگہ لینے، چاردیواریاں بنانے، پانی کے لیے بور کروا کر دینے جیسے مسائل کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔‘
ماجد خان کا موقف ہے کہ ان نشستوں پر حکومتوں کو عدم استحکام کا شکار کرنے کا الزام غلط ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’کوئی ایک موقع ایسا نہیں جب 12 مہاجرین کی نمائندوں نے عدم اعتماد دیا ہو یا بلیک میل کر کے عہدے لیے ہوں۔ جب تک مقامی نمائندے شامل نہ ہوں عدم اعتماد کی کوئی تحریک کامیاب نہیں ہوتی۔ صرف 12 لوگ حکومت نہیں گرا سکتے۔ اس کے لیے 27 لوگوں کی حمایت اور دستخط چاہیے ہوتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ جعلی بیانیہ اور محض افواہیں ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ان نشستوں کے خاتمے سے ہم اپنی وحدت کمپرومائز کر جائیں گے۔ اصلاحات کرنے سے کون روکتا ہے، اصلاحات ضرور کریں لیکن اتحاد اور کشمیر کے موقف پر سمجھوتہ نہ کریں۔‘
’ووٹ کا حق لینے سے ریاست اور مہاجرین کا رشتہ کٹ جائے گا‘
ماجد خان کے مطابق '1947 میں جب انڈیا کے زیر انتظام علاقوں سے سکیورٹی مسائل کی وجہ سے لوگوں نے اس طرف نقل مکانی کی تو ریاست کے یہ علاقے زیادہ ترقی یافتہ نہیں تھے، اس لیے یہاں مہاجرین کا آباد ہونا مشکل تھا۔'
اُن کے مطابق اس لیے مہاجرین کو پاکستان کے علاقوں میں آباد کیا گیا۔ پنجاب کے سرحدی علاقے جموں میں کشیدگی کے بعد وہاں سے نقل مکانی کرنے والوں کو پاکستان کے صوبہ پنجاب کے علاقوں میں آباد کیا گیا۔
ماجد خان کا کہنا ہے کہ انفرادی ووٹ کا حق ملنے کے بعد ’1975 میں کشمیر کا پہلا وزیر اعظم پشاور کی نشست سے ہی منتخب ہوا، جو میرے دادا خان عبدالحمید خان تھے۔ اور یہ مہاجر اور مقامی کی دیوار اس وقت نہیں تھی۔‘
ماجد خان کہتے ہیں کہ ’میرے حلقے کے لوگ یہاں رہنے نہیں آئے تھے۔ یہ ان کی عارضی قیام گاہ تھی، انھیں پورے کشمیر کی آزادی کے بعد واپس جانا تھا۔‘
ماجد خان کا کہنا ہے مہاجر نشستوں کے خاتمے کے مطالبے سے ان کے ووٹر کا بہت مایوس ہیں۔ ان کے بقول ’یہ تقسیم کا بیانیہ پہلے نہیں تھا، نہ انھیں ریاست میں آباد کیا گیا اور اب ووٹ کا حق بھی لینے کی بات کی جا رہی ہے۔ اس سے ریاست اور مہاجرین کا رشتہ کٹ جائے گا۔‘
’مطالبہ آئینی اور قانونی ہے، جسے جذباتی بنا دیا گیا‘
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق چیف جسٹس منظور گیلانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مہاجر نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ سو فیصد آئینی، قانونی اور اخلاقی ہے، یہ ریاستی گورننس کا معاملہ ہے اور یہاں کے لوگوں کے لیے ہے۔‘
سابق چیف جسٹس کا کہنا کہ ’مہاجرین اس وقت پاکستان کے شہری ہیں۔ ان کی نسبت کشمیر سے ہے جس وجہ سے ان کے نمائندے اور ووٹر سب کشمیری کہلاتے ہیں۔‘ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’پاکستان بلاواسطہ طور پر اپنے لوگ یہاں مسلط کر رہا ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’دوسری جانب کشمیر کی انتظامی اختیارات صرف اس کی حدود کے اندر ہیں۔ ان لوگوں پر تو ریاستی حکومت کی رٹ بھی لاگو نہیں ہوتی۔‘
منظور گیلانی نے وضاحت کی کہ ’یہ مطالبہ نیا نہیں۔ تاہم اب الیکشن کے قریب اسے دوبارہ سامنے لانے سے صورتحال تبدیل ہوئی۔ اس کے لیے آئینی ترمیم کرنی ہے جو بالکل مشکل نہیں۔ ایک اجلاس بلا کر یہ کیا جا سکتا ہے۔‘
سابق چیف جسٹس منظور گیلانی نے کہا ’یہاں کی حکومت کا کشمیر کاز یا تحریکِ آزادیِ کشمیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ ذمہ داری تو پاکستان کی ہے۔ کراچی ایگریمنٹ کے مطابق یہ ذمہ داری اور اقوامِ متحدہ میں یہ مسئلہ زندہ رکھنا پاکستان کا کام ہے۔‘
وہ اس دعوے سے اتفاق کرتے ہیں کہ ماضی میں ان نشستوں کی وجہ سے کشمیر میں حکومتوں کو نقصان پہنچا۔
’میرے خیال میں اگر یہ نشستیں ختم ہوتی ہیں تو یہاں کی حکومت میں استحکام آئے گا۔ ان نشستوں کے خاتمے سے ریاست کشمیر کو کوئی خطرہ نہیں۔ اگر وہ (مہاجرین مقیم پاکستان) چاہیں تو کشمیر کی ریاست میں آ کر آباد ہوں۔ ان مہاجرین نے ریاست کے اندر زمینیں تک الاٹ کروا رکھیں ہیں۔ تو یہاں آ کر رہیں۔‘
منظور گیلانی کہتے ہیں کہ وہ خود بھی 1976 میں آئے ہوئے ایک مہاجر ہیں تاہم وہ نہ صرف پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بخوشی آباد ہوئے بلکہ انھیں کسی تعصب کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑا۔ اس کے بعد وہ یہاں کے چیف جسٹس تک بنے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر ہو یا انڈیا کا زیر انتظام اگر دونوں حصے کشمیر ہیں تو 1947 سے 1980 تک یہاں آنے کے بعد ہزاروں افراد ریاستِ کشمیر میں رہتے ہوئے بھی مہاجر کیوں ہیں؟
اس سوال کے جواب میں سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ایک قانون ہے جو کسی بد امنی کی وجہ سے علاقہ چھوڑ کر یہاں آباد ہوا وہ مہاجر ہے۔ جیسے میرے والد مہاجر تھے لیکن ان کی تو نسل در نسل اب تک مہاجر ہیں۔‘
انھوں نے تجویز کیا کہ ’ایک قانونی ترمیم سے یہ کیا جا سکتا ہے کہ نقل مکانی کرنے والوں کی صرف پہلی نسل کو مہاجر کہا جائے۔ ان کے بعد آنے والی نسلیں مہاجر نہیں بلکہ ریاست کی شہری ہوں۔‘
مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کے مطالبے اور اس پر ڈیڈ لاک کے بعد بار بار کشیدگی کی فضا پیدا ہونے کے بارے میں سابق چیف جسٹس منظور گیلانی کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک قانونی مسئلہ تھا جسے اخلاقی اور جذباتی مسئلہ بنا دیا گیا۔‘
’یہ آئینی اور قانونی مسئلہ ہے، یہ پاکستان میں بھی ووٹ ڈالتے ہیں، یہاں ملازمتوں کا 19 فیصد کوٹہ ان کے لیے مختص ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ اوپن میرٹ میں بھی ان کے لوگ آگے ہوتے ہیں کیونکہ انھیں بہتر تعلیمی سہولیات ملتی ہیں۔‘
نشستوں کے معاملے پر مذاکرات اور ڈیڈ لاک
یاد رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں آخری مرتبہ 29 ستمبر 2025 کو ریاست بھر میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی تھی اور احتجاج سے نمٹنے کی خاطر حکام نے کشمیر کے مختلف علاقوں میں لینڈ لائن، موبائل، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا مکمل طور پر بند کر دیا تھا۔
تاہم مذاکرات کے بعد ایک معاہدہ ہوا جس میں بیشتر مطالبات فوری طور پر تسلیم کرنے اور دیگر پر مشاورت کے ساتھ عملدرآمد کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ بھی طے پایا کہ معاہدے کے نکات پر عملدرآمد اور نگرانی کے لیے کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس میں حکومت پاکستان، حکومت کشمیر اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے دو، دو نمائندوں شامل ہوں گے اور یہ کمیٹی اس ضمن میں ملاقاتوں کے بعد پیش رفت سے آگاہ کرتی رہے گی۔
بعدازاں حکومت کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ نشستوں کا خاتمہ آئینی معاملہ ہے جسے صرف ریاستی اسمبلی حل کر سکتی ہے اور اس حوالے سے کشمیر حکومت اسمبلی میں بروقت کوئی قانون سازی نہ لا سکی۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن شوکت نواز میر کا بی بی سی بات کرتے ہوئے کہنا ہے کہ ’حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے مطابق ہم نے ثابت کرنا تھا کہ مسئلہِ کشمیر کے حل کے لیے جاری تحریک میں یہ نشستیں غیر ضروری ہیں اور حکومت کو ان کے ہونے کا جواز ثابت کرنا تھا۔‘
ان کا دعویٰ ہے کہ ’ہم نے تو اپنا کام کردیا لیکن حکومت نے جو کمیٹی بنائی اس نے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ہر 15 دن میں نہ میٹنگ کی نہ اس کہ نتائج شیئر ہو سکے۔‘
شوکت نواز میر کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم 12 کو کم کر کے صرف چھ نشستوں پر بھی سمجھوتہ کرتے ہیں تو ان نشتوں کے لیے مختص کوٹا ریاست کے نوجوانوں کے لیے ملازمت کا حق سلب کر جاتا ہے۔ جو ناقابلِ قبول ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ نشستوں کے خاتمے کے لیے حکومت کی جانب سے دی گئی تینوں تجاویز وہ پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں جن میں ریفرنڈم کروانا، عدالت میں اس کے خلاف ریفرنس دائر کرنا اور نشستوں کی تعداد کم کرنا شامل ہے۔
شوکت نواز میر کا کہنا تھا کہ ’اگر وجہ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا ہے تو ان (مہاجر نشستوں) کا اسمبلی میں ہونا ضروری نہیں۔ اگر مہاجر ہی لانے ہیں تو ریاست میں موجود کیمپوں میں سینکڑوں مہاجر موجود ہیں انھیں لائیں۔‘
شوکت نواز میر کا کہنا تھا کہ ’ان مطالبات کی تکمیل سے پہلے اگر حکومت کشمیر میں الیکشن کا انعقاد کرواتی ہے تو یہ وعدہ خلافی ہو گی۔‘
انھوں نے تجویز دی کہ ’ان 12 اراکین اسمبلی کے بجائے مسئلہِ کشمیر کے حل تک ریاست بھر کے تمام خطوں کی اسمبلی میں علامتی نشستیں مختص کی جائیں یا پھر 12 نشستوں کو اسمبلی سے ختم کرتے ہوئے کشمیر کونسل میں چار نشستیں پر نمائندگی رکھ دی جائے۔‘
وہ پرامید ہیں ان کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے جائیں گے۔
دوسری جانب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ’مذاکرات میں بہت حد تک پیش رفت ہو رہی تھی لیکن پھر بدقسمتی سے یہ تنازعے کا شکار ہو گئے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ برسوں میں مکمل کیے گئے عمل کو ’یکدم تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔‘ اُن کے مطابق ’تمام سیاسی جماعتیں اس حد تک سمجھوتے کے لیے تیار تھیں کہ اِن نشستوں کی تعداد کم کر کے پانچ یا چھ کر دی جائے۔‘
وزیر اعظم نے کہا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے دیگر تمام مطالبات پر یا تو عمل ہو چکا ہے یا پیش رفت جاری ہے، تاہم صرف ان 12 نشستوں کا مسئلہ ڈیڈ لاک کی وجہ بن رہا ہے۔
حکومت نے معاہدے کے مطابق ایکشن کمیٹی سے طے شدہ اجلاس کیوں نہیں کیے؟ اس پر وزیراعظم کا کہنا تھا ’دو کمیٹیاں تھیں ایک جو دیگر مطالبات پر بات کر رہی تھی اس کے اجلاس باقاعدگی سے ہوئے اور مسئلے حل بھی ہوئے تاہم ایک کمیٹی ان مہاجر نشستوں کے حوالے سے تھی، اس کی ملاقاتوں میں تعطل آیا کیونکہ وفاقی نمائندوں کی جانب سے وقت نہیں ملا یا کبھی یہاں حکومتی مصروفیات رہیں۔ لیکن بہرحال حکومت سنجیدہ تھی کہ یہ سب انتشار کے بغیر حل ہو جائے۔‘
انھوں نے کہا کہ حکومت بات چیت کے ذریعے معاملات سلجھانا چاہتی ہے اور اسی لیے ’9 جون کو ہونے والے احتجاج کو معطل کر کے مزید ایک ہفتہ دینے کی درخواست اسی لیے کی گئی تھی کہ کشمیر میں ریاستی الیکشن سے پہلے یہ معاملہ حل ہو جاتا، اس وقت تمام جماعتیں ایک پیج پر تھیں۔‘
امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اب بھی کوشش ہوگی کہ مظاہرین پر طاقت کا استعمال نہ ہو۔‘
کیا پیپلز پارٹی کی حکومت سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے؟
ماجد خان مہاجرین کی پشاور کی نشست پر رکن اسمبلی منتخب ہوتے رہے ہیں۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پیپلز پارٹی کی ہے۔ یہ پاوور کی گیم ہے ۔ ایکشن کمیٹی کا ایک موقف ہے جس کا فائدہ سیاسی جماعتیں اٹھا رہی ہے۔ اور اس صورتحال کو بگاڑنے کی سو فیصد ذمہ داری سیاسی جماعتوں کی ہے۔ کیونکہ انھوں نے اپنے سیاسی مفادات دیکھے۔‘
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھو، جن کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے، کا کہنا ہے یہ الزام غلط ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہاں، اتنا ضرور ہے کہ پیپلز پارٹی نے مسئلے کے حل کے لیے نرم رویہ رکھا اور وہ 12 نشستوں کو نصف یعنی چھ کرنے پر تیار تھی اور اسی حوالے سے بات چیت آگے بھی بڑھ رہی تھی۔‘
انھوں نے کہا ایکشن کمیٹی کے اس مطالبے کی کسی حد تک حمایت کی وجہ سیاسی مفاد نہیں بلکہ ریاست کو کشیدگی سے بچانا تھا۔
جعلی ووٹوں پر الیکشن کمیشن کا موقف
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حالیہ الیکشن کمشنر غلام مصطفیٰ مغل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ مہاجرین مقیم پاکستان کی فہرستوں میں جعلی ووٹوں کی شکایات موجود ہیں۔
مصطفیٰ مغل پہلے بھی 2016 کے انتخابات میں الیکن کمشنر رہے ہیں اور ان کا کہنا تھا ایسا صرف اب کی بار ہی نہیں ہو رہا بلکہ متعدد انتخابات میں ایسی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 'ووٹرز لسٹوں کے لیے ان افراد کے پاس ان کا سٹیٹ سبجیکٹ دیکھا جاتا ہے۔ اگر کسی کے پاس یہ سٹیٹ سبجیکٹ ہے تو وہ یہاں کے ووٹر ہو گے۔ ان کے بچے بھی دادا یا والد کی یہ دستاویز دکھا کر اپنا سٹیٹ سبجیکٹ بنا سکتے ہیں یا اس سے ووٹر لسٹوں میں اپنے نام درج کروا سکتے ہیں۔'
انھوں نے بتایا کہ 'الیکشن سے قبل ایک کمیٹی بنائی جاتی ہے تاکہ ووٹر لسٹوں کی تصدیق کی جائے۔ کمیٹی ووٹوں کی جانچ کر کے کسی پر اعتراض کر سکتی ہے اس کے بعد تحقیقات کے بعد اگر کسی پر کمیٹی شواہد کی رو سے تصدیق کر دیں تو اس کا نام شامل ہو جاتا ہے۔'
انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس مرتبہ کمپیوٹرائزڈ فہرستیں آ چکی ہیں جن کے شفاف اور درست ہونے کا ادارے کو پورا یقین ہے۔
انھوں نے کہا 'اس مرتبہ بھی شکایات ملی ہیں لیکن اگر کہا جائے تو یہ لگ بھگ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جن ووٹوں کے خلاف شکایات ہیں وہ پچھلے دو سے تین انتخابات میں شامل تھے ان کے اخراج کا عمل بہت طویل ہے۔ تاہم شکایات آنا ایک اچھا عمل ہے اس کا مطلب ہے کہ ووٹر اپنے ووٹ کی اہمیت سمجھتا ہے اور انھوں نے جانچ کی ہے۔ ہم نے ایسے کئی شکایات کی جانچ کر کے درستگی بھی کی ہے۔'
ان کے بقول 2016 میں جب وہ الیکشنر کمشنر تھے تو تمام ریاست اور مہاجرین نشستوں پر الیکشن اچھے رہے۔
مہاجرین کی نشستوں پر دھاندلی اور حکومت سازی پر اثر انداز ہونے کے الزامات کو الیکشن کمشنر غلام مصطفیٰ مغل بھی تسلم کرتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ 'پاکستان میں موجود حلقوں میں ہونے والے انتخابات پر وہاں کے لوگ یقیناً اثر انداز ہوتے ہیں کیونکہ ان ووٹرز کو پاکستان کے انتخابات میں بھی ووٹ دینے کا حق حاصل ہے۔ وہ پاکستان کے نمائندوں کو بھی منتخب کرتے ہیں اس لیے وہ جواباً وہ کشمیر میں اپنی پسند کے لوگوں کو منتخب کرنے کے لیے الیکشن کو متاثر کرتے ہیں۔'
انھوں نے بتایا کہ 'جب ایسی شکایات آتی ہیں تو ہم کوشش کرتے ہیں کہ ان حلقوں میں فوج اور رینجرز تعینات کی جائے تاکہ ان کی سکیورٹی میں انتخاب شفاف ہوں۔'
پاکستان کے علاقوں میں مقامی عملے کی نگرانی میں ہونے والی مبینہ دھاندلی سے بچنے کے لیے کشمیر سے انتخابی عملہ بھجوانے کی تجویز پر الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ 'یہ عمل بہت زیادہ مہنگا پڑتا ہے۔ عملے کی اتنے دور تعیناتی اور اس پر آنے والی لاگت اضافی بوجھ بن جاتا ہے۔ تاہم یہاں سے نگرانی کے لیے ایک آدھ شخص بھوانے پر غور کیا جا سکتا۔ لیکن چونکہ حلقے بہت پھیلے ہوئے ہیں اس لیے ایک شخص کہاں کہاں جا کر دیکھے گا اس لیے فوج کی نگرانی میں اس عمل کو بہت حد تک مداخلت سے پاک بنایا جا سکتا ہے۔ '
ماضی میں انتخابات میں دھاندلی یا جعلی قرار دینے پر ان کا کہنا تھا کہ 'بطور الیکشن کمیشن مجھے الیکشن کو نوٹیفائی کرنا ہوتا ہے میں تو انھیں جعلی ہر گز نہیں کہہ سکتا۔ اور جنھیں شکایات ہوتی ہیں اس کا طریقہ کار ہے ، شکایت لے کر الیکشن ٹریبیونل میں جائیں، عدالت کا رخ کریں۔ لیکن عموما ہارنے والے مخالفین پر دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہیں۔ یہ عمومی رویہ ہے۔'
موجودہ صورتحال پر ان کا کہنا تھا کہ 'ہم نے تیاری کر رکھی ہے۔ آئین کی رو سے چار اگست کو نئی حکومت نے حلف اٹھانا ہے۔ ہاں اگر آئین ہی نہ رہے، کوئی ایسی صورتحال بن جائے تو الگ بات ہے۔ جولائی میں انتخابات ہونے ہی ہیں۔'
انھوں نے انتخابات کے انعقاد حوالے سے کسی قسم کے دباؤ کو مسترد کیا۔ 'انھوں نے کہا فی الحال ایسا کچھ نہیں تاہم اگر صورتحال قابو سے باہر ہوتی ہے یا ایسی ایمرجنسی نافذ ہوتی ہے تو پھر الیکشن تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں۔'
الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ 'اس وقت سیاسی مسائل ہیں۔ ایکشن کمیٹی کے بھی مطالبات ہیں۔ اس صورتحال میں یہ الیکشن ماضی کے مقابلے دوگنا مشکل ہیں۔ لوگوں میں سیاسی شعور بھی ہے۔ اگر کسی کا ووٹ درج نہ ہوا تو نہ ہی ووٹرز نہ نمائندے چھوڑیں گے۔'
الیکشن کے لیے سکیورٹی کے انتظامات پر ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کے لیے فوج اور رینجرز کی مدد طلب کر لی جائے گی۔ تاکہ جعلی ووٹ کاسٹ نہ ہوں اور نہ ہیں پولنگ سیشن پر گروہ بندی ہو۔