’میں زندہ ہوں اور آپ کے سامنے ہوں‘: کشمیر میں ’پاکستانی عسکریت پسند‘ کی ہلاکت سے متعلق انڈین دعوے اور محمد آصف کی میڈیا پر پیشی

،تصویر کا ذریعہScreengrab
انڈین فوج کی جانب سے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع بڈگام میں عسکریت پسند تنظیم لشکرِ طیبہ کے پاکستانی کمانڈر کی ہلاکت کے دعوے اور انڈین ذرائع ابلاغ کی جانب سے اس شخص سے منسوب شناختی دستاویز پیش کیے جانے کے معاملے میں جمعرات کو اس وقت ایک نیا موڑ آیا جب پاکستانی فوج کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ محمد آصف نامی جس شخص کی ہلاکت کے دعوے کیے جا رہے ہیں وہ پاکستانی فوج میں تو ہے لیکن زندہ ہے اور پھر انھوں نے اس شخص کو صحافیوں کے سامنے پیش بھی کر دیا۔
سرینگر میں تعینات انڈین فوج کی پندرہویں کور نے دعویٰ کیا تھا کہ منگل کی شب ایک فوجی کارروائی کے دوران ایک پاکستانی شہری کو ہلاک کیا گیا جو تین سال سے کشمیر میں کالعدم مسلح گروپ لشکر طیبہ کا کمانڈر تھا۔
انڈین فوج نے بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ مارے گئے عسکریت پسند کا نام محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ ہے۔
ان خبروں کے سامنے آنے کے بعد انڈین میڈیا نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے یہ بھی رپورٹ کیا کہ یہ شخص ماضی میں پاکستانی فوج کے ایلیٹ کمانڈو یونٹ سپیشل سروسز گروپ کا حوالدار تھا اور اسے کشمیر میں اپریل 2025 میں پہلگام اور مئی 2024 میں پونچھ میں انڈین فضائیہ کے قافلے پر حملے سمیت کئی بڑے اور ہلاکت خیز حملوں کا ماسٹر مائنڈ یا کمانڈر سمجھا جاتا تھا۔
انڈین فوج کا یہ بیان سامنے آنے کے بعد انڈین وزارت داخلہ اور پریس انفارمیشن بیورو کی جانب سے بھی اسی نوعیت کے مزید دعوے کیے گئے جبکہ ’اے این آئی‘ سمیت ملک کے بڑے میڈیا اداروں نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے اُن کے شناختی کارڈ کی تصاویر سمیت اُن کی سروس کی مبینہ معلومات بھی فراہم کیں۔

،تصویر کا ذریعہANI
جمعرات کی شام پریس کانفرنس میں پہلے تو افواجِ پاکستان کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے انڈین الزامات کو پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے اسے ایک فالس فلیگ آپریشن قرار دیا۔
پریس کانفرنس کے دوران اُن کی جانب سے انڈین فوج، سرکاری اداروں اور میڈیا پر محمد آصف کے حوالے سے نشر کی جانی والی اطلاعات اور مبینہ ثبوتوں کو دکھایا گیا اور پھر انھوں نے ایک شخص کو سٹیج پر آنے اور میڈیا سے بات کرنے کی درخواست کی۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ وہی شخص ہیں جنھیں ابتدا میں محمد آصف اور پھر آصف فوجی عرف ہاشم موسیٰ قرار دیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اس شخص نے بتایا کہ ’میرا نام محمد آصف ہے۔ میں ضلع اٹک کی تحصیل پنڈی گھیپ کا رہنے والا ہوں۔‘
یاد رہے کہ ’اے این آئی‘ سمیت انڈین میڈیا میں سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے مبینہ عسکریت پسند کا جو شناختی کارڈ نشر کیا گیا تھا اس میں ’محمد آصف‘ کا مستقبل پتہ ضلع اٹک (پنڈی گھیپ) ہی درج ہے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے میڈیا کے سامنے پیش کیے گئے شخص نے بتایا کہ وہ سنہ 2000 میں فوج میں بھرتی ہوئے تھے اور بعدازاں انھوں نے ایس ایس جی میں شمولیت اختیار کی جہاں سے وہ سنہ 2023 میں ریٹائر ہوئے۔ اُن کے مطابق ’اس کے بعد تین سال تک میں پرائیوٹ سکیورٹی کمپنی میں نوکری کرتا ہے اور اب اپنے گھر والوں کے ساتھ اٹک میں رہتا ہوں۔ یہ گھناؤنا اور گھٹیا الزام ہے جو انڈیا نے لگایا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’انڈیا سے یہ خبریں سامنے آنے کے بعد میرے جاننے والوں نے مجھے کالز کرنا شروع کیں اور بتایا کہ آپ کو کشمیر میں شہید کر دیا گیا ہے۔ اس کے بعد مجھے انڈیا کے نمبروں سے بھی فون آنے لگے جن کو میں نے بلاک کیا۔‘
’میں نے یہ بات اپنے یونٹ کو بتائی اور اس کے بعد آئی ایس پی آر نے مجھ سے رابطہ کیا۔ میں بتانا چاہتا ہوں کہ میں زندہ ہوں ابھی اور آپ کے سامنے ہوں۔‘
یہ تفصیلات بتانے کے بعد آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے الزام عائد کیا کہ انڈیا پاکستان میں شدت پسندی کے لیے مختلف تنظیموں کی سرپرستی کرتا ہے اور پاکستان کے خلاف فالس فلیگ آپریشنز میں ملوث ہے۔
انھوں نے کہا کہ انڈیا ’دنیا میں دہشت گردی پھیلانے والا سب سے بڑا ملک‘ ہے اور وہ اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے مختلف حربے استعمال کرتا ہے اور محمد آصف سے متعلق حالیہ واقعہ اسی کی ایک کڑی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’انڈیا کی حکومت اپنے میڈیا اور عوام کو ایسی کہانیاں سُناتی ہے جن میں ’ایکشن ہونا چاہیے، مزہ ہونا چاہیے‘ اور پھر انہی بیانیوں کو اپنے زیرِ اثر میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچایا جاتا ہے۔‘
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر ’دنیا کی سب سے بڑی جیل‘ بن چکا ہے۔ بریفنگ کے دوران انھوں نے انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی تقاریر اور انڈین میڈیا کے مختلف پروگراموں کے کلپس بھی پیش کیے۔
ان کے بقول انڈین فوج کا ایجنڈا ہندوتوا نظریے سے متاثر ہے اور اس کا مقصد اپنے سیاسی حکمرانوں کو خوش کرنا بن گیا ہے۔
انھوں نے مزید الزام لگایا کہ انڈیا دہشت گردی کو مسائل کے حل کا ذریعہ سمجھتا ہے اور یہ یقین رکھتا ہے کہ جھوٹے بیانیے گھڑ کر مختلف مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہANI
انڈین سرکاری اداروں اور میڈیا نے کیا دعوے کیے تھے؟
انڈین فوج کے سرینگر میں قائم چنار کور اور جموں کشمیر پولیس کے حکام کے مطابق محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کو مارنے کی کارروائی ضلع بڈگام کے مشہور سیاحتی مقام یوس مرگ کے قریب ’کوراگ‘ اور ’پال میدان‘ کے گھنے جنگلاتی علاقوں میں کی گئی۔
انڈین سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ خفیہ اداروں کی جانب سے اس علاقے میں انتہائی تربیت یافتہ عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں، جس کے بعد منگل کی رات فوج، کشمیر پولیس اور نیم فوجی دستوں نے مشترکہ طور پر ایک وسیع ’کارڈن اینڈ سرچ آپریشن‘ شروع کیا جسے ’آپریشن کوراگ‘ کا نام دیا گیا۔
حکام کی جانب سے مزید بتایا گیا کہ بُدھ کی علی الصبح دورانِ تلاشی سکیورٹی فورسز کو جنگل میں مشتبہ نقل و حرکت نظر آئی جس کے بعد عسکریت پسندوں نے جدید ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد ایک عسکریت پسند کو ہلاک کر دیا گیا، جس کی لاش کے ساتھ ساتھ بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیا گیا اور بعد ازاں سکیورٹی ایجنسیوں نے لاش کی شناخت لشکرِ طیبہ کے انتہائی مطلوب کمانڈر ہاشم موسیٰ کے طور پر کی۔
ہاشم موسیٰ کے پس منظر کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ انھوں نے پاکستان آرمی کے ایس ایس جی گروپ میں بحیثیت حوالدار خدمات سرانجام دیں اور وہ گوریلا جنگ، چھپ کر وار کرنے اور طویل عرصے تک کٹھن حالات میں زندہ رہنے کی فوجی تربیت حاصل کر چکے تھے۔
ان کے بارے میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ سنہ 2023 میں مبینہ طور پر پاکستان فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے لشکرِ طیبہ میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور ستمبر 2023 کے آس پاس وہ لائن آف کنٹرول عبور کر کے کشمیر میں داخل ہوئے تھے۔
انڈین حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ ہاشم موسیٰ جموں و کشمیر میں حالیہ برسوں کے دوران ہونے والے متعدد ہائی پروفائل حملوں کے اصل منصوبہ ساز اور کمانڈر تھے، انھیں اپریل 2025 میں پہلگام حملے کا بنیادی ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا۔ اس کے علاوہ دعویٰ کیا گیا کہ وہ مئی 2024 میں ضلع پونچھ میں انڈین فضائیہ کے ایک قافلے، دسمبر 2023 کے ڈیرا کی گلی حملے، اکتوبر 2024 کے گلمرگ، گگن گیر حملوں اور سونامرگ ٹنل کے پاس مزدوروں پر ہونے والی فائرنگ کے واقعات میں بھی مطلوب تھے۔
کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس اور فوج کے اعلیٰ حکام کا کہنا تھا کہ ہاشم موسیٰ کی ہلاکت پیر پنچال اور وادیِ کشمیر میں سرگرم لشکرِ طیبہ کے نیٹ ورک کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
حکام نے اس مبینہ ہلاکت کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ پہلگام حملے کے ماڈیول میں شامل تمام چار اہم عسکریت پسند (جن میں جنید رمضان، طلحہ، اور سلیمان شاہ شامل تھے) اب مختلف مقابلوں میں مارے جا چکے ہیں۔




















