کیا واقعی زیادہ ٹماٹر کھانے سے گردے میں پتھری بن سکتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شنمُگ پریا سیلوا راج
- عہدہ, بی بی سی تمل
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
لوگوں میں عام طور پر ایسے تصورات پائے جاتے ہیں کہ ٹماٹر کھانے سے گردے کی پتھری بنتی ہے اور یہ بھی کہ کیلے کے تنے کا جوس پینے سے گردے کی پتھری تحلیل ہو جاتی ہے۔
انسانی جسم میں موجود دونوں گردے ریڑھ کی ہڈی کے دونوں جانب اور پیٹ کے پچھلے حصے میں ہوتے ہیں۔
اگرچہ گردے سائز میں چھوٹے ہوتے ہیں مگر یہ ہمارے جسم سے فضلہ اور فاسد مادے خارج کرنے والے ایک اہم نظام کے طور پر کام کرتے ہیں۔
جسم میں جمع ہونے والے فضلے اور زہریلے مادوں کو فلٹر کر کے پیشاب کے ذریعے ہمارے جسم سے خارج کرنا گردوں کا بنیادی کام ہے۔
اس رپورٹ میں ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ گردے میں پتھری کیوں بنتی ہے، اس کی علامات کیا ہیں، اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔ آخر میں طبی ماہرین سے یہ جاننے کی کوشش کریں گے ٹماٹر اور کیلے کے تنے کے جوس سے متعلق مفروضوں کی حقیقت کیا ہے۔
گردے میں پتھری کیوں بنتی ہے؟
جب پیشاب کے ذریعے ہمارے جسم سے خارج ہونے والے مادے، جیسا کہ کیلشیم آکسیلیٹ اور یورک ایسڈ نکل نہیں پاتے یا بڑھ جاتے ہیں تو وہ کرسٹل کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور آہستہ آہستہ آپس میں جڑ کر سخت پتھر جیسی ہیت اختیار کر لیتے ہیں۔
اور اسی کو گردے کی پتھری کہا جاتا ہے۔ شاذ و نادر انسانی گردوں میں امونیم میگنیشیم فاسفیٹ کی پتھریاں بھی دیکھی گئی ہیں۔
پتھری بننے کی بنیادی وجہ پیشاب میں معدنی مادوں کی مقدار میں اضافہ بھی ہو سکتی ہے اور جسم سے خارج ہونے والے پیشاب کی مقدار میں کمی بھی اس کی اہم وجہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گردوں کے امراض کے ماہر ڈاکٹر گوپال کرشنن کے مطابق جب پیشاب کی مقدار کم ہو جاتی ہے تو اس میں موجود معدنی مادوں کا ارتکاز بڑھ جاتا ہے، جس سے کرسٹل یا پتھری بننے کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں۔
امریکہ کے نیشنل سینٹر فار بائیوٹیکنالوجی انفارمیشن کے مطابق گردے کی پتھری گردوں کے نظام سے متعلق ایک بڑھتا ہوا مرض ہے جو دنیا کی تقریباً 12 فیصد آبادی کو متاثر کرتا ہے۔
یہ اس خطرے سے بھی منسلک ہے کہ علاج نہ کروایا جائے تو یہ گردوں کی کارکردگی کو مکمل طور پر ختم کر سکتی ہے۔
ادارے کے مطابق گردوں کے ’رینڈل پلاک‘ نامی حصے میں بننے والی ’کیلشیم آکسیلیٹ‘ کی پتھریاں سب سے زیادہ عام ہیں۔
(’رینڈل پلاک‘ سے مراد گردے میں کیلشیم نمکیات کا ایک چھوٹا سا ذخیرہ ہے، جو عموماً گردے کی پتھری بننے کے عمل سے وابستہ ہوتا ہے۔‘)

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گردے کی پتھری کی علامات
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
عام علامات میں پسلیوں کے اطراف اچانک شروع ہونے والا شدید درد، قے اور بخار شامل ہیں۔
تاہم ڈاکٹر گوپال کرشنن کا کہنا ہے کہ ’گردے کی پتھری کی علامات ایک شخص سے دوسرے شخص میں مختلف ہو سکتی ہیں اور بعض افراد میں کوئی علامت ظاہر ہوئے بغیر بھی پتھری بن سکتی ہے۔‘
این سی بی آئی کی سنہ 2018 کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق گردے کی پتھری کی علامات اس بات پر منحصر ہوتی ہیں کہ پتھری گردے، پیشاب کی نالی یا مثانے میں کہاں موجود ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس بیماری کی علامات میں شدید درد، پسلیوں کے اطراف درد، پیشاب میں خون آنا، پیشاب کی نالی میں رکاوٹ یا خرابی، پیشاب کی نالی کے انفیکشن، پیشاب خارج کرنے میں دشواری اور گردوں کی سوجن شامل ہیں۔
ڈاکٹر گوپال کرشنن کہتے ہیں کہ ’عام طور پر علامات کی شدت اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ پتھری کہاں موجود ہے، اس کی تعداد اور سائز کیا ہے اور آیا وہ حرکت کر سکتی ہے یا اپنی جگہ پر موجود ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’حرکت کرنے والی پتھری پیشاب کی نالی کی اندرونی سطح کو زخمی کر سکتی ہے، جس کی وجہ سے شدید درد ہوتا ہے۔ عموماً پانچ ملی میٹر سے کم سائز کی پتھریاں کے قدرتی طور پر خارج ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ اس سے بڑے سائز کی پتھریوں کا خود خارج ہو جانا کم ہی ہوتا ہے۔‘
ڈاکٹر گوپال کرشن کے مطابق ’اپریل، مئی اور جون کے مہینوں میں یہ مسئلہ زیادہ دیکھا جاتا ہے، کیونکہ درجہ حرارت بڑھنے پر پسینے کے ذریعے جسم میں پانی کی کمی بڑھ جاتی ہے اور جو لوگ زیادہ پانی نہیں پیتے، اُن میں گردے کی پتھری بننے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔‘
علاج کیسے ممکن ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈاکٹر گوپال کرشنن کے مطابق گردوں میں موجود ایسی چھوٹی پتھریاں جو درد کا باعث نہ ہوں، ان کے لیے فوری علاج ضروری نہیں ہوتا۔
ان کا کہنا ہے کہ زیادہ پانی پینا اور اپنے مرض پر نظر رکھنا کافی ہو سکتا ہے۔
تاہم درد پیدا کرنے والی بڑی پتھریوں کے لیے درج ذیل علاج کے طریقے استعمال کیے جاتے ہیں:
شاک ویو لیتھوٹرپسی یعنی جھٹکے کی لہروں کے ذریعے پتھری توڑنے کا طریقہ۔
لیزر سے علاج یعنی اینڈوسکوپی کے ذریعے پیشاب کی نالی میں پھنسی ہوئی پتھری تک براہ راست پہنچ کر لیزر سے اسے توڑنے کا طریقہ۔
سٹینٹ لگانا یعنی اگر انفیکشن موجود ہو تو پہلے جمع شدہ پیشاب کو خارج کرنے کے لیے ایک چھوٹی نالی لگائی جاتی ہے اور انفیکشن کا علاج کرنے کے بعد ہی پتھری نکالی جاتی ہے۔
پرکیوٹینیئس نیفرولیتھوٹومی یعنی بڑی پتھریوں کے لیے کمر کے حصے سے ایک چھوٹا راستہ بنا کر براہ راست گردے تک پہنچنا اور پتھری نکالنا۔ یہ کوئی بڑی سرجری نہیں ہوتی۔
گردے کی پتھری سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
ڈاکٹر گوپال کرشنن کا کہنا ہے کہ جن افراد کو ایک بار گردے کی پتھری ہو چکی ہو ان میں دوبارہ اس کے ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے اس لیے انھیں طرزِ زندگی میں تبدیلیاں اپنانا چاہییں۔
زیادہ پانی پینا:
اتنا پانی پینا چاہیے کہ روزانہ کم از کم 2.5 سے 3 لیٹر پیشاب خارج ہو۔ یہ مقدار موسم اور فرد کے کام کے ماحول کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔
نمک کا استعمال کم کرنا:
زیادہ سوڈیم کا استعمال پتھری بننے کے خطرے کو بڑھاتا ہے۔
حیوانی پروٹین کم کرنا:
جگر، دماغ اور دیگر اندرونی اعضا میں آکسیلیٹ اور یورک ایسڈ زیادہ ہوتے ہیں، اس لیے حیوانی غذا سے پرہیز کرنا چاہیے۔ (حیوانی پروٹین یا حیوانی غذا سے مرادوہ پروٹین جو جانوروں سے حاصل ہونے والی غذاؤں میں پایا جاتا ہے، مثلاً گوشت، مرغی، مچھلی، انڈے اور دودھ یا دودھ سے بنی اشیا۔)
وزن کو قابو میں رکھنا:
زیادہ جسمانی وزن کا تعلق پتھری کے بڑھتے ہوئے خطرے سے ہے۔
میٹھے مشروبات سے پرہیز:
ان میں موجود فروکٹوز یورک ایسڈ کی مقدار بڑھا سکتا ہے۔
آکسیلیٹ سے بھرپور غذاؤں کا محدود استعمال:
کچھ اقسام کی سبز پتوں والی سبزیوں اور خشک میوہ جات میں آکسیلیٹ زیادہ ہوتا ہے اس لیے انھیں اعتدال کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔
کچھ خاندانوں میں موروثی میٹابولک خرابیوں کی وجہ سے بھی گردے کی پتھری ہو سکتی ہے اس لیے تفصیلی طبی معائنوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
کیا ٹماٹر کھانے سے گردے کی پتھری بنتی ہے اور کیا کیلے کے تنے کا رس پتھری بننے سے روکتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈاکٹر گوپال کرشنن کے مطابق یہ ایک عام مگر غلط تصور ہے کہ ٹماٹر کھانے سے گردے کی پتھری بنتی ہے۔
اُن کا کہنا ہے کہ ہر چیز کا استعمال اعتدال کے ساتھ کرنا چاہیے اور یہ کہ ٹماٹر میں آکسیلیٹ (Oxalate) کی مقدار اِتنی زیادہ نہیں ہوتی کہ گردے کی پتھری بننے کا سبب بن سکے۔
ڈاکٹر گوپال کرشنن کا کہنا ہے کہ اس دعوے میں بھی کوئی حقیقت نہیں ہے کہ کیلے کے تنے کے رس کا استعمال گردے کی پتھری کے اخراج کا باعث بن سکتا ہے۔
ان کے مطابق اس بات کا کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں کہ کیلے کے تنے کا رس پینے سے پتھری بننے سے روکی جا سکتی ہے یا پہلے سے موجود پتھری آسانی سے خارج ہو جاتی ہے۔
ڈاکٹر گوپال کرشنن کا مزید کہنا ہے کہ ’سرجری کے ذریعے یا قدرتی طور پر خارج ہونے والی پتھری کو محفوظ رکھ کر اس کے کیمیائی اجزا کا تجزیہ کیا جا سکتا ہے، جس سے یہ زیادہ درست طور پر طے کیا جا سکتا ہے کہ متعلقہ شخص کو کن غذاؤں سے پرہیز کرنا چاہیے اور طرزِ زندگی میں کون سی تبدیلیاں اختیار کرنی چاہییں۔‘



















