ایف بی آئی کے ہزاروں سپیشل ایجنٹس کا حسّاس طبی ڈیٹا جو ہیکرز نے چوری کر لیا

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
- مصنف, جو ٹائڈی
- عہدہ, بی بی سی نامہ نگار برائے سائبر امور
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن (ایف بی آئی) کے ہزاروں خصوصی ایجنٹوں کا حساس طبی اور ذاتی ڈیٹا مبینہ طور پر ہیکرز کے ہاتھ لگ گیا ہے۔
ایف بی آئی کو ہیک کرنے والے سائبر مجرموں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس کے ہزاروں خصوصی ایجنٹوں کا انتہائی حساس طبی ڈیٹا موجود ہے۔
بی بی سی نیوز نے چوری شدہ ’فٹنس فار ورک‘ طبی معائنوں کے نمونے دیکھے ہیں، جن میں خون اور پیشاب کے ٹیسٹ نتائج جیسی معلومات اور ڈاکٹروں کے نوٹس شامل ہیں، جن میں ’شیل فش اور کیلے سے الرجی‘ جیسی کیفیتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
ریکارڈز میں ایجنٹوں کے مکمل نام اور پتے بھی شامل ہیں، ساتھ ہی طبی مسائل کے حوالے، جن میں ’پیشاب میں خون‘ اور ’ہائی کولیسٹرول‘ شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ہیک، جس کی ایف بی آئی تحقیقات کر رہی ہے، ایجنٹوں کو دھوکہ دہی، بلیک میلنگ اور ہدف بنا کر کیے گئے حملوں کا شکار بنا سکتا ہے، اور ساتھ ہی مجرموں کو قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کا روپ دھارنے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔
کیٹو نیٹ ورکس میں تھریٹ انٹیلی جنس کے نائب صدر، ایٹے مور نے کہا: ’اس فہرست میں ہزاروں ایجنٹوں کے طبی اور فٹنس ریکارڈز موجود ہیں۔
’پاس ورڈز چوری ہونے پر دوبارہ سیٹ کیے جا سکتے ہیں، لیکن طبی ریکارڈز نہیں، لہٰذا ایک بار یہ ڈیٹا منظرِ عام پر آ جائے تو ہمیشہ کے لیے رہتا ہے۔‘
ایف بی آئی نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔ تاہم بدھ کے روز اس نے تسلیم کیا کہ واقعہ پیش آیا ہے اور یہ بھی کہا کہ وہ اس کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سائبر مجرموں کے گروپ شائنی ہنٹرز کا دعویٰ ہے کہ اس نے پیر کے روز ایف بی آئی کے سسٹمز میں نقب لگائی، اور بعد میں اپنے ڈارک نیٹ سائٹ پر اس کی تفصیلات شائع کر دیں۔
گروپ نے مبینہ طور پر چوری شدہ ڈیٹا کے نمونے بھی نامہ نگاروں کے ساتھ شیئر کیے، ساتھ ہی ایک مطالبہ بھی کیا۔
غیر معمولی بات یہ ہے کہ ہیکرز کا مطالبہ رقم نہیں ہے، اس کے بجائے وہ مئی میں شائع ہونے والی ایف بی آئی کی ایک ایڈوائزری واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس نے انھیں ’ناراض‘ کیا۔
صحافیوں کے ساتھ شیئر کیے گئے نمونے بظاہر حقیقی معلوم ہوتے ہیں اور ان میں نام، پتے، فون نمبرز، بیج نمبرز، عہدوں اور شریک حیات سے متعلق معلومات شامل ہیں۔
یہ ریکارڈز بظاہر ہزاروں ایجنٹوں سے متعلق ہیں، جن میں ڈپٹی ڈائریکٹرز جیسے سینیئر عہدیدار بھی شامل ہیں۔
برطانیہ کے نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر کے سابق سربراہ پروفیسر کیاران مارٹن نے اس ہیک کو، اگر اس کی تصدیق ہو جاتی ہے، ’ڈیٹا خلاف ورزیوں کے حوالے سے انتہائی سنگین‘ قرار دیا ہے۔
’فِشنگ، جعل سازی، شناختی فراڈ‘

،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ڈیٹا میں ایسے ایجنٹوں سے متعلق معلومات بھی موجود ہیں جو روس، چین اور منشیات فروش کارٹیلز سے متعلق تحقیقات میں شامل تھے۔
میڈیا کی رپورٹنگ سے اشارہ ملتا ہے کہ ایف بی آئی کے ایک نسبتاً کم معروف ہیکنگ یونٹ کی تفصیلات بھی ممکنہ طور پر افشا ہو گئی ہیں۔
ابتدائی طور پر خیال کیا گیا تھا کہ اس ڈیٹا لیک سے ایف بی آئی کے 38 ہزار موجودہ ملازمین متاثر ہوئے ہیں، لیکن اب ہیکرز کا دعویٰ ہے کہ یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
گروپ کا کہنا ہے کہ اس نے ڈیٹا چوری کے پیمانے کا کم اندازہ لگایا تھا اور اب اس کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس ایف بی آئی کے تقریباً 60 ہزار موجودہ اور سابق ملازمین کی حساس معلومات موجود ہیں۔
سائبر سمارٹ کے چیف ایگزیکٹو اور شریک بانی جیمی اختر نے کہا کہ ہیکرز کے دعوؤں کو احتیاط سے دیکھنا چاہیے، تاہم یہ ڈیٹا لیک انتہائی تشویش ناک دکھائی دیتی ہے۔
انھوں نے کہا: ’اس قسم کا ڈیٹا نہایت قائل کرنے والی فِشنگ، جعل سازی، شناختی فراڈ، بلیک میلنگ یا حتیٰ کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو ہدف بنانے والی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے اس کے ممکنہ اثرات خاص طور پر سنگین ہو جاتے ہیں۔‘
میسجنگ سروس ٹیلیگرام کے ذریعے انگریزی میں صحافیوں سے رابطہ کرنے والے ہیکرز کا کہنا ہے کہ اگر ایف بی آئی نے ان کے مطالبات پورے نہ کیے تو وہ پانچ دن میں مکمل ڈیٹا شائع کر دیں گے۔
شائنی ہنٹرز ایک بین الاقوامی ہیکنگ گروپ ہے جو 2019 سے سرگرم ہے اور اسے متعدد نمایاں سائبر حملوں سے منسلک کیا گیا ہے، جن میں راک سٹار گیمز اور تعلیمی پلیٹ فارم کینوس کو متاثر کرنے والے واقعات شامل ہیں۔
گروپ کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایف بی آئی کے زیر استعمال اوریکل کلاؤڈ سٹوریج سسٹم میں موجود ایک کمزوری کا فائدہ اٹھایا، جس کے ذریعے اسے متعدد پلیٹ فارمز تک رسائی حاصل ہوئی، جن میں ایف بی آئی جابز، ایف بی آئی بیئسٹ، جو ملازمین اور درخواست دہندگان کے پس منظر کی جانچ کرتا ہے، ایف بی آئی میڈلنک، جو طبی ریکارڈ محفوظ کرتا ہے، اور ایف بی آئی بِکس، جس میں تفتیشی معلومات موجود ہیں، شامل ہیں۔
ایکس پر جاری ایک بیان میں ایف بی آئی نے کہا کہ وہ اب بھی یہ تعیّن کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا ہیکرز نے براہ راست اس کے سسٹمز میں نقب لگائی یا کسی تیسرے فریق کے ذریعے در اندازی کی۔
بیان میں کہا گیا: ’ہم اس معاملے کی بھرپور انداز میں تحقیقات کر رہے ہیں اور ایف بی آئی جابز ڈاٹ جی او وی سے وابستہ تیسرے فریق کی کمپنیوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں تاکہ ممکنہ خطرات کو کم کیا جا سکے۔‘




















