ہالی وڈ اداکارہ زینڈییا ٹک ٹاکر زینب کا لباس دیکھ کر دنگ: ’اُنھوں نے مجھے دیکھا، اُن کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں اور میری بھی‘

    • مصنف, نور نانجی
    • عہدہ, نمائندہ برائے ثقافت
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

’میں یہ زپ نہیں کر سکتی! امّی؟‘

یہ 29 سالہ زینب جیوا تھیں جو ’گیٹ ریڈی وِد می‘ ٹک ٹاک ویڈیو ریکارڈ کرتے ہوئے ایک لباس میں خود کو سمانے کے لیے مدد کے لیے آواز دے رہی تھیں۔

یہ ایک ایسا منظر ہے جس سے گھر میں رہنے والے بہت سے 20 کی دہائی کے نوجوان خود کو جوڑ سکتے ہیں۔

فرق یہ ہے کہ زینب موسمِ گرما کی بڑی بلاک بسٹر فلموں میں سے ایک دا اوڈیسی کے حالیہ لندن پریمیئر میں جا رہی تھیں۔

وہ وہاں بطور مہمان مدعو تھیں اور اُن کا کہنا ہے کہ اُن کے خصوصی طور پر تیار کیے گئے لباس نے ہالی وڈ کی سپر سٹار زینڈییا کی توجہ حاصل کر لی۔ یہ ایک نمایاں سنہری گاؤن جس کے ساتھ ہُڈ بھی تھا۔

زینب مجھے بتاتی ہیں: ’وہ (زینڈییا) بس میرے پاس سے گزریں اور اُنھوں نے مجھے وہاں دیکھا۔ اُن کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں، اور میری بھی۔‘

’ہم تقریباً ایک منٹ تک ایک دوسرے کو دیکھتے رہے، پھر اُنھوں نے کہا: اوہ مائی گاڈ، حیرت انگیز، حیرت انگیز، اور پھر وہ آگے بڑھ گئیں۔‘

زینب کہتی ہیں کہ ’مجھے ابھی بھی یقین نہیں آ رہا ہے کہ اُنھوں نے میرے لباس کو نوٹس کیا۔ یہ میرے لیے ناقابلِ یقین تھا۔‘

اس ملاقات کی ویڈیو وائرل ہو گئی اور اسے ٹک ٹاک پر 19 ملین ویوز ملے۔

اُن کا فون مسلسل بجتا رہا۔

جہاں زینڈییا ریڈ کارپٹ پر ہائی فیشن ’میتھڈ ڈریسنگ‘ کے ذریعے چھائی ہوئی ہیں جس میں ستارے اپنی فلم کے موضوعات کے مطابق لباس پہنتے ہیں، وہیں زینب شاید یہ ثابت کر رہی ہیں کہ اُن جیسے آزاد تخلیق کار بھی ہالی وڈ کا بھرپور مقابلہ کر سکتے ہیں۔

زینب مسلمان ہیں اور حجاب پہنتی ہیں۔ پریمیئرز میں اکثر وہ بال ڈھانپنے والی چند افراد میں شامل ہوتی ہیں، لیکن اُن کا کہنا ہے کہ شائستہ لباس کو اپنے انداز میں شامل کرنے کے طریقے تلاش کرنا ہی اس سارے عمل کا دلچسپ حصہ ہے۔

’اگرچہ آپ مکمل طور پر ڈھکے ہوئے ہوں، پھر بھی آپ تھیم کے مطابق نظر آنے کا کوئی نہ کوئی طریقہ نکال سکتے ہیں۔‘

اس ہفتے بی بی سی براڈکاسٹنگ ہاؤس میں ہمارے انٹرویو کے لیے آتے وقت اُن کا انداز نہایت نفیس تھا: زیتونی رنگ کی قمیص، ٹائی اور بروچز کے ساتھ۔

وہ کہتی ہیں: ’میں نے آج خاص محنت کی ہے۔‘ وہ خود کو فیشن کی دیوانی قرار دیتی ہیں۔

جب میں اُن سے پوچھتی ہوں کہ اُن کا شوق کب شروع ہوا تو وہ جواب دیتی ہیں: ’پیدائش سے پہلے ہی۔‘

فلم اُن کی دوسری محبت ہے، لیکن ابتدا میں اُنھوں نے اسے محض مشغلے کے طور پر رکھا۔

اس کے باوجود وہ اپنی پسندیدہ فلموں اور اُن سے متاثر لباسوں کے بارے میں تفریحاً سوشل میڈیا پر ویڈیوز پوسٹ کرتی رہیں۔

جلد ہی بڑے سٹوڈیوز کی توجہ اُن کی جانب مبذول ہونے لگی۔ سب سے پہلے ڈزنی نے انھیں سیریز مون نائٹ کے لیے انھیں ستاروں کا انٹرویو کرنے کا موقع ملا۔

وہ کہتی ہیں: ’مجھے لگا یہ کوئی دھوکہ ہے۔‘

’میں وہ ویڈیو دوبارہ نہیں دیکھ سکتی۔ میں بالکل بھی اچھی نہیں تھی۔‘

آج زینب ایک کل وقتی تخلیق کار اور پریزنٹر ہیں، جو ڈینزل واشنگٹن، پال میسکل، ٹام ہڈلسٹن اور خود زینڈییا جیسے بڑے ستاروں کے انٹرویوز کرتی ہیں۔

وہ ریڈ کارپٹ پر موجود کئی ڈیجیٹل مواد تخلیق کاروں میں سے ایک ہیں۔ دیگر ناموں میں کی املیا ڈیمولڈنبرگ، ریس فیلڈمین اور سوشل میڈیا شخصیت جیک شین شامل ہیں۔

یہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔

کبھی کبھی زینب کو پریمیئر کی دعوت ایک رات پہلے ملتی ہے جس کا مطلب تقریب کے لیے روانگی سے پہلے اپنے لباس کی تیاری کے لیے انتہائی تیز رفتاری سے کام کرنا اور اکثر عوامی ٹرانسپورٹ سے سفر کرنا ہوتا ہے۔

وہ مختلف ڈیزائنرز اور برینڈز کے ساتھ کام کرتی ہیں، لیکن کہتی ہیں کہ اخراجات کم رکھنے کے لیے وہ چیزوں کو زیادہ سے زیادہ دوبارہ استعمال بھی کرتی ہیں۔

اُن کے لباس جان بوجھ کر نمایاں اور جرات مندانہ ہوتے ہیں تاکہ وہ ستاروں کے ساتھ ’بات چیت کا آغاز‘ کر سکیں۔

ہاؤس آف ڈریگن کے دوسرے سیزن کے لیے اُنھوں نے ایک طالب علم ڈیزائنر کا تیار کردہ سرخ گاؤن پہنا جس پر حجاب پہنے تین چہرے نمایاں تھے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں تھوڑی اوور دی ٹاپ ہوں، لیکن میں جو بھی کرتی ہوں اس میں ثقافت کا عنصر شامل کرنا پسند کرتی ہوں۔‘

سپائیڈر مین سیریز کی نئی فلم کے لیے اُنھوں نے مکڑی کے جال نما مہندی کے ڈیزائن کے ذریعے اپنے انداز کو منفرد بنایا۔

گلیڈیئیٹر ٹو کے لیے اُنھوں نے سنہری زرہ پہنی۔

وہ تسلیم کرتی ہیں کہ کبھی کبھی اُنھیں فکر رہی ہے کہ شائستہ لباس پہننے سے شاید اس صنعت میں کامیابی حاصل کرنا زیادہ مشکل ہو جائے، لیکن وہ اس میں لطف بھی محسوس کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں اس حقیقت کے ساتھ کام کرتے ہوئے لطف اندوز ہوتی ہوں کہ میں اپنے بال یا اپنے بازو ڈھانپتی ہوں۔‘

لیکن جہاں زینب اپنا زیادہ تر وقت ہالی وڈ کی بڑی شخصیات کے ساتھ گزارتی ہیں، وہیں شمال مغربی لندن کے علاقے ہیرو میں اُن کی گھریلو زندگی بالکل مختلف ہے۔

وہ ہنستے ہوئے کہتی ہیں کہ ’اوہ میرے خدا، میرا گھر تو افراتفری کا شکار رہتا ہے۔‘

گھر میں سامان رکھنے کی جگہ محدود ہے اور اُن کے لباس اکثر ’کہیں نہ کہیں ٹھونس دیے جاتے ہیں۔‘

اُن کے پاس ایک بلی ہے، بہن بھائی ہیں جو اکثر آتے جاتے رہتے ہیں اور والدین ہیں جنھیں اکثر لباس سے متعلق ہنگامی صورتحال میں مدد کے لیے بلایا جاتا ہے۔

اگرچہ یہ وہ پیشہ ورانہ راستہ نہیں تھا جس کی اُن کے والدین نے اپنی بیٹی کے لیے توقع کی تھی، زینب کہتی ہیں کہ اب وہ ’بے حد معاون‘ ہیں۔

ٹک ٹاک پر چھ لاکھ 60 ہزار اور انسٹاگرام پر تقریباً چار لاکھ فالوورز کے ساتھ، وہ اس شعبے میں ایک اہم کانٹیٹ کریئیٹر بنتی جا رہی ہیں۔

تاہم انھیں تنقید کا بھی سامنا ہے، جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو دعویٰ کرتے ہیں کہ اُن کے لباس کافی حد تک شائستہ نہیں ہوتے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اس صنعت میں تنقید ہمیشہ موجود رہتی ہے۔‘

لیکن وہ مزید کہتی ہیں کہ ’ہر منفی تبصرے کے مقابلے میں بے شمار مثبت تبصرے بھی ہوتے ہیں۔‘

’اگر میں یہ کام دوسروں کو متاثر کرنے، تفریح فراہم کرنے یا انھیں کچھ سکھانے کے لیے کر رہی ہوں اور اگر یہ اب بھی ہو رہا ہے تو پھر باقی باتوں کی مجھے واقعی پرواہ نہیں۔‘

فی الحال زینب بلاک بسٹر فلموں کے ایک سلسلے سے لطف اندوز ہو رہی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’فلموں کے لیے یہ موسمِ گرما اچھا محسوس ہوا ہے۔ میرے خیال میں یہ بہت پُرجوش ہے۔‘

وہ مزید کہتی ہیں کہ ’مجھے فلم اور ٹی وی بہت پسند ہیں۔ میرے خیال میں یہ کمیونٹی بنانے کا ایک بہت دلچسپ طریقہ ہے۔‘

’آخرکار میں صرف ایک مداح ہوں۔ دن کے اختتام پر میں صرف ایک مداح ہوں۔‘