آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, عمان کے ساتھ ’مثبت مذاکرات‘ کے باوجود آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کی امریکہ کے سامنے چھ شرائط

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے مطابق ان شرائط میں پابندیوں میں نرمی، جنگی نقصانات کا معاوضہ ادا کرنا، ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کا فوری خاتمہ، ایران کے خلاف دھمکیاں بند کرنا اور ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی شامل ہیں۔

خلاصہ

  • امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام کو'تباہ' کر دیا ہے: امریکی نائب صدر کا دعویٰ
  • آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھولی جائے گی جب تک امریکہ تہران کے چھ مطالبات تسلیم نہیں کر لیتا: ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری کا بیان
  • مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ایران یا کسی اور ملک کے خلاف نہیں: ترک وزیرِ خارجہ
  • آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ضلع ہنگو میں انٹیلیجنس کی بنیاد پر کیے گئے ایک آپریشن میں کالعدم شدت پسند تنظیم سے تعلق رکھنے والے سات مبینہ شدت پسند ہلاک کر دیے گئے ہیں جبکہ اس کارروائی کے دوران فوج کے کیپٹن حمزہ اکرم ہلاک ہو گئے۔
  • ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا، تاہم جنگ کے بجائے بات چیت سے بھی اپنے حقوق حاصل کر سکتے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. جازان میں آرامکو کی ریفائنری کی ایک تنصیب میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا

    سعودی عرب کی وزارتِ توانائی کا کہنا ہے کہ جازان میں آرامکو ریفائنری سے منسلک ایک تنصیب میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔

    وزارت کے مطابق، یہ آگ اتوار کی صبح سویرے لگی تھی جسے آرامکو کے انڈسٹریل سکیورٹی فائر ڈیپارٹمنٹ نے بجھا دیا۔ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی شخص زخمی ہوا۔ حکام واقعے کی تحقیقات مکمل کر رہے ہیں، جبکہ آگ لگنے کی وجہ تاحال ظاہر نہیں کی گئی۔

    علاقائی کشیدگی میں اضافے کے دوران حالیہ ہفتوں میں جازان میں واقع آرامکو کی تنصیبات حملوں کی زد میں رہی ہیں۔ رائٹرز نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ جولائی میں حوثی گروپ نے جازان اور ینبع میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔

  2. ’ایران کی شرائط سے فوری معاہدے کی امیدیں ماند پڑ گئی ہیں‘, سبیسٹین ایشر، بی بی سی کے بین الاقوامی نامہ نگار

    محمد باقر ذوالقدر کی جانب سے پیش کی گئی شرائط دراصل انھی شرائط کی تکرار ہیں جو جون میں ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے فریم ورک معاہدے میں شامل تھیں۔ تاہم اب ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری نے انھیں آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی اور معمول کے مطابق کھولے جانے کے لیے پیشگی شرط کے طور پر پیش کیا ہے۔

    ان شرائط میں پابندیوں میں نرمی، جنگی نقصانات کا معاوضہ ادا کرنا، اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کا فوری خاتمہ شامل ہیں۔ اگر ان بیانات کو ایران کے حتمی مؤقف کی عکاسی سمجھا جائے تو یہ اس امید کو مزید کمزور کر سکتے ہیں جسے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے ساتھ جلد معاہدہ ہونے کے حوالے سے ابھارا تھا۔

    دوسری جانب ایران اور عمان اب بھی آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کے لیے ایک نئے راستے پر مذاکرات کر رہے ہیں، جس کا انتظام اور مالیاتی نگرانی دونوں ممالک مشترکہ طور پر کریں گے اور اس کے استعمال پر فیس بھی وصول کی جائے گی۔

    اگر ایسا معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو یہ وسیع تر تنازع کے مکمل حل کی جانب صرف ایک جزوی پیش رفت ہوگی، لیکن ممکن ہے کہ یہ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے اس تنازع یا جنگ سے نکلنے کا ایک قابل قبول راستہ فراہم کر دے۔

  3. باقر ذوالقدر: ’تہران کے چھ مطالبات تسلیم کیے جانے تک آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی‘

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھولی جائے گی جب تک امریکہ تہران کے چھ مطالبات تسلیم نہیں کر لیتا۔

    ان مطالبات میں پابندیوں میں نرمی، جنگی نقصانات کا معاوضہ ادا کرنا، ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کا فوری خاتمہ، ایران کے خلاف دھمکیاں بند کرنا اور ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی شامل ہیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ذوالقدر کے بیانات بڑی حد تک تہران کے پہلے سے موجود مطالبات کی تکرار ہیں، تاہم وہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے جاری مذاکرات میں ایران کے مؤقف میں مزید سختی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

    یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور عمان نے حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کے لیے نئے انتظامات پر ہونے والے مذاکرات کو ’مثبت اور تعمیری‘ قرار دیا ہے۔

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی کہا ہے کہ عمان کے ساتھ مذاکرات اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں، تاہم اُنھوں نے زور دیا کہ کسی معاہدے تک پہنچ جانا آبنائے ہرمز کے فوری طور پر کھل جانے کا مطلب نہیں ہوگا اور اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا ’دیگر شرائط‘ سے مشروط ہے۔

    ایک روز قبل امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے رپورٹر باراک راوِد نے ایک ثالث ملک کے سفارت کار کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ ایرانی مذاکرات کار عمان اور امریکہ کے ساتھ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی آخری منظوری کے منتظر ہیں۔

    اس سفارت کار کے مطابق، توقع کی جا رہی تھی کہ یہ منظوری ’جلد‘ مل جائے گی۔

    رائٹرز نے بھی ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور واشنگٹن کو توقع ہے کہ جلد ایک معاہدہ طے پا جائے گا۔

    اس عہدیدار کے مطابق امریکہ ایسے معاہدے کے اعلان کے بعد ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کر دے گا۔

    محمد باقر ذوالقدر کے حالیہ بیانات اس لیے بھی اہم سمجھے جا رہے ہیں کہ وہ اسی ادارے کے سیکریٹری ہیں جس کے بارے میں رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ معاہدے سے متعلق تہران کا حتمی فیصلہ اسی کے ذریعے کیا جائے گا۔

    دوسری جانب محمد باقر ذوالقدر کے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے امکانات کے بارے میں بھی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق، اُنھوں نے اپنا استعفیٰ پیش کر دیا ہے، تاہم ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے ان سے اپنی ذمہ داریاں جاری رکھنے کی درخواست کی ہے۔

  4. امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام کو’تباہ‘ کر دیا ہے: امریکی نائب صدر کا دعویٰ

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام کو ’تباہ‘ کر دیا ہے اور اس کی روایتی عسکری صلاحیتوں کو بھی ختم کر دیا ہے۔

    سنیچر کو فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ امریکہ نے ایران کی غیر روایتی عسکری صلاحیت بھی شدید کم کر دی ہے۔

    نائب امریکی صدر کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا ایران ایسی طویل مدتی تبدیلیاں کرنے کے لیے تیار ہے جن کے نتیجے میں امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر ہو سکیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ اگر ایران ایسی تبدیلیاں کرنے پر آمادہ نہیں ہوا تو امریکہ دباؤ ڈالنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

    وینس نے یہ بھی کہا کہ امریکی حکومت مشرقِ وسطیٰ میں تیل اور گیس کی پیداوار بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ توانائی کی فراہمی میں اضافے کے ذریعے امریکیوں کے لیے ایندھن اور توانائی کی لاگت کو کم کیا جا سکے۔

  5. مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ایران یا کسی اور ملک کے خلاف نہیں: ترک وزیرِ خارجہ

    ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان کا کہنا ہے کہ ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پایا جانے والا باہمی دفاعی معاہدہ تکنیکی طور پر نیٹو معاہدے کی شق 5 سے مشابہت رکھتا ہے جس کے تحت کسی ایک رکن پر حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق سنیچر کے روز ہاکان فیدان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ ایران یا کسی اور ملک کے خلاف نہیں بلکہ اس کا مقصد تینوں رکن ممالک کی سلامتی کے لیے ایک عمومی عزم پیدا کرنا ہے۔

    ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر کسی ایک رکن ملک پر حملہ ہوتا ہے تو تینوں ممالک باہمی مشاورت کے ذریعے یہ طے کریں گے کہ کتنی، کس نوعیت کی اور کس شکل میں مدد درکار ہے، اور جب تک کسی رکن ملک کو حملے کا نشانہ نہ بنایا جائے کسی ملک کو خطرہ تصور نہیں کیا جائے گا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ترک صدر رجب طیب اردوغان اس معاہدے کو خطے کے دیگر ممالک تک وسعت دینا چاہتے ہیں اور بعض تکنیکی معاملات حل ہونے کے بعد مصر بھی اس میں شامل ہو سکتا ہے۔

    ہاکان فیدان کے مطابق معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات ڈھائی سال سے زیادہ عرصے سے جاری ہیں۔ نیٹو کی طرز پر ایک وزارتی کمیٹی قائم کی جائے گی، جبکہ اتحاد کا جنرل سیکریٹریٹ سعودی عرب میں قائم ہو گا۔

    یاد رہے کہ جنعمہ کے روز پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت ان تینوں ممالک میں سے ’کسی ایک ملک پر مسلح حملہ، سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔‘

  6. پاکستان میں گڈز ٹرانسپورٹ کی ملک گیر ہڑتال، وفاقی حکومت نے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنا دی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان کی وفاقی حکومت نے گڈز ٹرانسپورٹرز کی ملک گیر ہڑتال روکنے اور ان کے مطالبات کے حل کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے۔

    گڈز ٹرانسپورٹرز کی جانب سے سنیچر کے روز سے ہڑتال شروع کی گئی اور مال بردار گاڑیوں کو کھڑا کر دیا گیا ہے۔

    وزارتِ مواصلات کے مطابق وزیرِاعظم آفس کی ہدایت پر قائم کی گئی کمیٹی ٹرانسپورٹرز کی نمائندہ تنظیم آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن سے مذاکرات کرے گی۔

    اس کمیٹی کی سربراہی وفاقی وزیرِ مواصلات کریں گے جبکہ وزیرِ پیٹرولیم بھی اس کے رکن ہوں گے۔ اس کے علاوہ وزارتِ مواصلات اور وزارتِ پیٹرولیم کے سیکریٹریز، نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو افسر، نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے انسپکٹر جنرل، تمام صوبائی وزرائے ٹرانسپورٹ اور صوبائی محکمہ ہائے ٹرانسپورٹ کے سیکریٹریز بھی کمیٹی میں شامل ہیں۔

    دوسری جانب آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ملک بھر میں غیر معینہ مدت کے لیے پُرامن ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ وفاقی حکومت اور پنجاب اور سندھ کی صوبائی حکومتوں کے ساتھ مذاکرات کیے گئے جبکہ وفاقی وزیرِ مواصلات عبدالعلیم خان سے بھی ملاقات ہوئی، تاہم ان کے بقول حکومتیں ٹرانسپورٹرز کے مطالبات کے حوالے سے سنجیدہ نہیں۔

    ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ آج سے ملک بھر میں مال بردار گاڑیاں کھڑی کی جا رہی ہیں اور اب کوئی نئی گاڑی سامان لے کر روانہ نہیں ہو گی۔

    ان کے مطابق پہلے سے سامان سے لدی گاڑیوں کو 48 گھنٹے کی مہلت دی گئی ہے تاکہ وہ اپنا سامان اتار سکیں۔

    ٹرانسپورٹرز کا مطالبہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر رد و بدل کا نظام ختم کر کے قیمتوں کا تعین ماہانہ بنیاد پر کیا جائے۔

    ان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو واپس لیا جائے۔

    ملک شہزاد اعوان نے ٹول ٹیکس میں کیے گئے اضافے کو بھی واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹول ٹیکس کی شرح 30 جون 2024 کی سطح پر بحال کی جائے۔

    ان کے مطابق اگلے ایک سال تک ٹول ٹیکس میں کسی قسم کا اضافہ قابلِ قبول نہیں ہو گا اور اس عرصے کے دوران نئے ٹول پلازے بھی تعمیر نہیں کیے جانے چاہییں۔

    ملک شہزاد اعوان نے دعویٰ کیا کہ دسمبر 2025 میں ہونے والی ملک گیر ہڑتال کے دوران حکومت نے ٹرانسپورٹرز سے جو وعدے کیے تھے، وہ اب تک پورے نہیں کیے گئے۔

  7. آبنائے ہرمز کے انتظام کے حوالے سے ایران کے ساتھ مذاکرات ’مثبت اور تعمیری‘ رہے: عمان

    عمان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں آبنائے ہرمز کے انتظام کے حوالے سے ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات ’مثبت اور تعمیری‘ رہے ہیں۔

    عمان نے اس راستے سے گزرنے والے بحری جہازوں پر بار بار ہونے والے حملوں کے بارے میں بھی خبردار کیا ہے۔

    سنیچر کے روز جاری ہونے والے بیان میں عمان کی وزارتِ خارجہ نے ’آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر مسلسل حملوں‘ کی مذمت کی، تاہم اس بیان میں ایران کا نام نہیں لیا گیا۔

    وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ’آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے طریقہ کار سے متعلق جاری مذاکرات مثبت اور تعمیری ماحول میں ہو رہے ہیں۔‘

    عمان کی وزارتِ خارجہ نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں جو مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کو خطرے میں ڈال سکتا ہو۔

  8. لامرد پر پھینکے گئے بموں میں فاسفورس استعمال کیا گیا تھا: ایرانی وزیرِ صحت کا دعویٰ

    ایران کی وزارتِ صحت کے تحقیقاتی شعبے کے نائب سربراہ کا کہنا ہے کہ صوبہ فارس کے شہر لامرد پر بمباری کے حوالے سے ایسے شواہد ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ پھینکے گئے بموں میں فاسفورس استعمال کیا گیا تھا۔

    شاہین آخوندزادہ کا کہنا ہے کہ ایرانی وزارتِ صحت نے اس بمباری کے متعلق تحقیقات کی ہیں اور امید ہے کہ ان کے نتائج بین الاقوامی فورمز پر شائع کیے جائیں گے۔

    انھوں نے زور دے کر کہا کہ لامرد پر حملے میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔

    وزارتِ صحت کے عہدیدار کے مطابق بموں میں فاسفورس شامل ہونے کے باعث ’زخم دائمی نوعیت اختیار کر سکتے ہیں اور انھیں بھرنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔‘

    ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے پہلے روز، لامرد کے علاقے ایثار میں کئی رہائشی عمارتوں کے علاوہ شہر کے شہید نعیمی سپورٹس ہال کو بھی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ لامرد کے گورنر کے مطابق حملے کے وقت سپورٹس ہال میں طلبہ کا ایک گروپ مشق کر رہا تھا۔

    سرکاری رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں 21 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں بچے اور خواتین بھی شامل تھیں۔

  9. تیل کی برآمدات میں سہولت کے لیے ایران سے مذاکرات جاری ہیں: عراقی وزیرِ تیل

    عراق کے وزیرِ تیل کا کہنا ہے کہ ان کا ملک تیل کی برآمدات کے لیے ایک طریقۂ کار پر تہران کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔

    تاہم عراقی وزیر باسم محمد نے اس طریقۂ کار کی تفصیلات بیان نہیں کیں، جن میں مجوزہ راستہ، برآمدات کی ممکنہ مقدار اور اس کا متوقع وقت شامل ہیں۔

    انھوں نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ عراق اس وقت یومیہ تقریباً 27 لاکھ بیرل تیل پیدا کر رہا ہے، جس میں سے لگ بھگ نصف برآمد کیا جاتا ہے۔

    عراقی وزیرِ تیل نے مزید کہا کہ اس ماہ عراقی تیل کی برآمدات کی حد یومیہ 15 لاکھ سے 17 لاکھ 50 ہزار بیرل کے درمیان ہے۔

  10. ایران نے آبنائے ہرمز میں ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی کے ٹینکر پر میزائل حملہ کیا ہے: متحدہ عرب امارات کا دعویٰ

    متحدہ عرب امارات نے سنیچر کے روز دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک اماراتی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا ہے۔

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی کے ایک ٹینکر پر ایرانی میزائل حملے کی مذمت کی ہے۔

    بیان کے مطابق اس حملے میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

    جمعہ کے روز ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی نے کہا تھا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے اس کے 15 جہازوں کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جن میں سے تین حملے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران ہوئے۔

  11. ہم عمان کے ساتھ معاہدے کے قریب ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آبنائے ہرمز کھل جائے گی: ایرانی وزیرِ خارجہ

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ عمان کے ساتھ مذاکرات حتمی مراحل میں ہیں، لیکن مسقط کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کا یہ مطلب نہیں کہ آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا۔

    عباس عراقچی نے صحافیوں کو بتایا: ’آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ٹریفک کے راستے کے تعین اور اس کے قانونی طریقہ کار و انتظام کے حوالے سے عمان کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور ہم معاہدے کے بہت قریب ہیں۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کا کھلنا دیگر شرائط سے مشروط ہے، جن میں امریکہ کی جانب سے ’اسلام آباد مفاہمت نامے‘ کی خلاف ورزیوں کے ازالے (ہرجانے کی ادائیگی) کا معاملہ بھی شامل ہے۔

    عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے ٹریفک کے راستے پر اتفاق رائے کے معاملے میں ’تکنیکی اور قانونی پیچیدگیوں‘ کے باعث، ایران اور عمان فی الحال ایک ایسے عارضی راستے پر اتفاق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جسے بعد میں ’مرکزی راستے کی بنیاد‘ سمجھا جائے گا۔

    اس سے قبل، پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز صرف اسی صورت میں کھولی جائے گی جب امریکہ ایران کی تمام شرائط تسلیم کر لے گا۔

  12. آبنائے ہرمز اُسی وقت کھلے گی جب امریکہ ایران کی تمام شرائط تسلیم کر لے گا: پاسدارانِ انقلاب

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اسی وقت کھلے گی جب امریکہ ایران کی تمام شرائط تسلیم کر لے گا۔

    اگرچہ اطلاعات کے مطابق ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے معاملے پر کسی مفاہمت کے قریب ہیں اور امریکی حکام اس آبی گزرگاہ کے جلد کھلنے کا کہہ رہے ہیں، تاہم پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز کا کھلنا مسقط کے ساتھ ہونے والے مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔

    حسین محبی نے نامہ نگاروں کو بتایا: ’ہمارے لیے آبنائے ہرمز محض ایک تجارتی آبی گزرگاہ نہیں بلکہ طاقت اور قوت کا وہ ذریعہ ہے جو جغرافیائی اعتبار سے اسلامی جمہوریہ کے اختیار میں ہے اور دشمن اس آبنائے کو کھلوانے کے لیے ایران کی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور ہے۔‘

    اُنھوں نے مذاکرات میں کسی بھی قسم کی مداخلت کے خلاف بھی خبردار کیا اور نشاندہی کی کہ عمان کے ساتھ مذاکرات تکمیل کے مراحل میں ہیں۔

    اس سے قبل امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے نامہ نگار باراک راویڈ نے ایک ثالث ملک کے سفارت کار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا تھا کہ ایرانی مذاکرات کار عمان اور امریکہ کے ساتھ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے اپنے ملک کی ’سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل‘ کی منظوری کے منتظر ہیں۔

  13. مسلم لیگ ن پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں دو تہائی اکثریت سے حکومت بنائے گی: رانا ثنا اللہ کا دعویٰ

    وزیرِ اعظم پاکستان کے مشیر رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلم لیگ ن پاکستان کے زیرِِ انتظام کشمیر میں دو تہائی اکثریت سے حکومت بنائے گی۔

    سنیچر کو باغ میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے زیرِِ انتظام کشمیر میں دو تہائی اکثریت کے لیے مسلم لیگ ن صرف چھ نشستیں دُور ہے۔

    رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ کشمیر میں حکومت بنانے کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ بات چیت کی جائے گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’ایکشن کمیٹی میں 99 فیصد لوگ نہ صرف محب وطن کشمیری بلکہ محب وطن پاکستانی بھی ہیں۔‘

    رانا ثنا اللہ کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایک آدھ فیصد لوگ جن کا ایجنڈا کچھ اور ہے، ہم سب مل کر انھیں شکست دیں گے۔

    رانا ثنا اللہ نے بلاول بھٹو کا نام لیے بغیر کہا کہ جو اُلٹی گنتی گننا چاہتے ہیں، ان کی گنتی بھی سیدھی ہو جائے گی اور وہ خود بھی سیدھے ہو جائیں گے۔

    خیال رہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے انتخابات کے تیسرے مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن کے صرف چار حلقوں میں پولنگ ہو گی۔

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر نے جمعے کو بی بی سی کو بتایا تھا کہ راولاکوٹ اور پلندری کے سات حلقوں میں انتخابات ملتوی کر دیے گئے ہیں، جبکہ چار حلقوں میں پولنگ اپنے شیڈول کے مطابق 10 اگست کو منعقد ہو گی۔

    چیف الیکشن کمشنر کے مطابق ملتوی کیے جانے والے حلقوں سے متعلق حتمی فیصلہ مختلف درخواستوں اور زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا۔

    واضح رہے کہ ضلع باغ کے تین اور ضلع حویلی کے ایک حلقے میں انتخابی مقابلہ خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے، جہاں ایک موجودہ وزیراعظم اور دو سابق وزرائے اعظم میدان میں ہیں۔

  14. یوکرین: دارالحکومت کیئو کے قریب روسی حملوں میں کم از کم تین افراد ہلاک

    یوکرین کے دارالحکومت کیئو کے قریب رات بھر ہونے والے روسی حملوں میں ایک بچے سمیت کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں، یہ بات ایک مقامی عہدیدار نے بتائی۔

    سنیچر کی صبح سویرے دارالحکومت کے مشرق میں میزائل گرے، اور عینی شاہدین نے طاقتور دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب چند روز قبل پورے یوکرین میں ہونے والے حملوں میں 21 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    علاقائی فوجی انتظامیہ کے سربراہ تیمور تکاچینکو نے کہا کہ بیلسٹک میزائل حملوں میں تین افراد ہلاک اور مزید تین زخمی ہوئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گرنے والے ملبے سے رہائشی عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا، جبکہ ایک الگ عمارت میں آگ بھی لگ گئی۔

    کیئو کے میئر ویتالی کلچکو نے ٹیلیگرام پر لکھا کہ ہنگامی امدادی ٹیمیں شہر میں ایک عمارت اور ایندھن کے ٹینک میں لگی آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔

    یوکرین کی سرکاری ہنگامی سروس ڈی ایس این ایس نے تصاویر جاری کیں جن میں کیئو میں گیراج، ایک کاروباری مقام اور ایک عمارت کو آگ کی لپیٹ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ سروس نے کہا ’متاثرین کی تعداد کا تعین کیا جا رہا ہے۔‘

    صدر وولودیمیر زیلنسکی اپنے پہلے دورے پر سربیا کے دارالحکومت بلغراد پہنچ گئے ہیں۔ وہ سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچیچ سے ملاقات کریں گے، جس میں اقتصادی تعلقات، سکیورٹی کے مسائل اور یورپی یونین کے ساتھ تعلقات پر بات ہوگی۔

    سربیا یورپی یونین میں شامل ہونے کی کوشش کر رہا ہے اور اس نے یوکرین کو امداد فراہم کی ہے، جبکہ جنگ کے بعد ملک کی تعمیرِ نو میں مدد کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

    ہفتے کے آغاز میں زیلنسکی نے کہا تھا کہ شراکت دار ممالک کی جانب سے اینٹی بیلسٹک نظاموں کی فراہمی میں تاخیر ’خوفناک جانی نقصان اور تباہی‘ کا سبب بن رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زیادہ مضبوط دفاعی صلاحیت حالیہ مہلک حملوں میں ’جانیں بچا سکتی تھی‘۔

    بعد میں صدر نے کہا کہ اتحادی ممالک کی جانب سے دفاعی میزائلوں کی فراہمی میں اس سال ’نمایاں کمی‘ آئی ہے۔

    یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب یوکرین نے روس کے اندر دو آئل ریفائنریوں اور بحیرہ اسود میں ماسکو سے منسلک جہازوں کو نشانہ بنایا۔ زیلنسکی کے مطابق اس کا مقصد تیل سے حاصل ہونے والی ان آمدنیوں کو محدود کرنا تھا جنہیں روس یوکرین میں جنگ کی ’مالی معاونت‘ کے لیے استعمال کرتا ہے۔

    حالیہ ثالثی مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث دونوں فریقوں کے درمیان حملوں میں مزید شدت آ گئی ہے۔

  15. پاکستان میں ہفتہ وار مہنگائی میں 9.29 فیصد اضافہ، ملک میں خوردنی تیل، گھی، دودھ کی بڑی تعداد معیار سے کم پائی گئی: حکام, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی شرح میں 9.29 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بڑی وجہ خوردنی تیل، گھی اور گندم کے آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہے جبکہ گزشتہ ہفتے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث نقل و حمل کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوا۔

    پاکستان بیورو آف شماریات (پی بی ایس) کے مطابق حساس قیمتوں کے اشاریے (ایس پی آئی) سے پیمائش کی جانے والی ہفتہ وار مہنگائی میں گزشتہ سال کے اسی ہفتے کے مقابلے میں 9.29 فیصد اضافہ ہوا۔

    ہفتہ وار بنیادوں پر بھی قیمتوں کے اشاریے میں 0.28 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    دریں اثنا وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی نے نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کے اجلاس میں پیک شدہ خوردنی تیل، گھی اور دودھ کی مصنوعات کے معیار سے متعلق رپورٹ پیش کی ہے۔

    وزارت منصوبہ بندی کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) نے پیک شدہ خوردنی تیل، گھی اور دودھ کی مصنوعات کے مجموعی طور پر 491 نمونے جمع کرکے ان کا تجزیہ کیا۔

    پاکستان سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے) کو موصول ہونے والی مجموعی رپورٹ کے مطابق 315 نمونے مقررہ قومی معیار پر پورے اترے، جبکہ 176 نمونے مطلوبہ معیار پر پورے نہیں اتر سکے۔

    رپورٹ کے مطابق تقریباً 36 فیصد نمونے مقررہ معیار کے مطابق نہیں تھے۔

    اعداد و شمار کے مطابق بناسپتی گھی کے 204 نمونوں میں سے 98 معیار پر پورے نہیں اترے۔ اسی طرح بلینڈڈ کوکنگ آئل کے 146 میں سے 40، پیک شدہ مائع دودھ کے 104 میں سے 26 اور ملک پاؤڈر کے 18 میں سے آٹھ نمونے مطلوبہ معیار کے مطابق نہیں تھے۔

    ریفائنڈ پام آئل کے چار نمونوں میں سے تین جبکہ ریفائنڈ کینولا آئل کے 13 میں سے ایک نمونہ بھی مقررہ معیار پر پورا نہیں اترا۔

    کھلے خوردنی تیل، گھی اور دودھ کا ملک گیر سروے

    منصوبہ بندی و ترقی کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے نوجوان پاکستانیوں میں دل کے امراض اور دیگر غیر متعدی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر ملک بھر میں کھلے خوردنی تیل، گھی اور دودھ کے معیار کا سروے کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    اس سروے کا مقصد کھلے عام فروخت ہونے والی ان اشیائے خورونوش کے معیار کا جائزہ لینا اور یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا وہ مقررہ معیار پر پورا اترتی ہیں یا نہیں۔

  16. ہنگو میں سکیورٹی آپریشن کے دوران پاکستانی فوج کے ایک کیپٹن اور سات شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر

    پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ ضلع ہنگو میں انٹیلیجنس کی بنیاد پر کیے گئے ایک آپریشن میں سات مبینہ شدت پسند ہلاک کر دیے گئے ہیں جبکہ اس کارروائی کے دوران 27 سالہ کیپٹن حمزہ اکرم ہلاک ہو گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سات اگست 2026 کو سکیورٹی فورسز نے ہنگو میں شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائی کی۔

    فوج کے بیان کے مطابق ’سکیورٹی آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا جس کے بعد مبینہ شدت پسند ایک مسجد میں چلے گئے۔‘

    بیان کے مطابق ’بعد میں ہونے والے فائرنگ کے تبادلے میں سات شدت پسند ہلاک ہوئے۔‘

    آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ اس کارروائی کے دوران 27 سالہ کیپٹن حمزہ اکرم بھی ہلاک ہو گئے۔

    فوج کے مطابق کیپٹن حمزہ اکرم ضلع نارووال کے رہائشی تھے اور آپریشن کے دوران اپنے دستے کی قیادت کر رہے تھے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ہلاک افراد کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ فوج کے مطابق یہ افراد سکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں کے خلاف مختلف کارروائیوں میں ملوث تھے۔

    آئی ایس پی آر کا مزید کہنا ہے کہ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ وہاں موجود دیگر مبینہ شدت پسندوں کا سراغ لگایا جا سکے۔

  17. یمن کے صوبے مارب میں حوثی حملے، کم از کم 10 افراد ہلاک

    یمن کے تیل سے مالا مال صوبے مارب میں حوثی باغیوں کے حملوں میں اضافے کے بعد کم از کم 10 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ایک یمنی فوجی زرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حوثیوں کے تازہ حملوں میں سرکاری فورسز کے آٹھ اہلکار ہلاک اور 12 زخمی ہوئے۔

    سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے وزیر صحت کے مطابق مارب شہر میں رہائشی علاقوں اور پناہ گزینوں کے کیمپوں پر گولہ باری کے نتیجے میں دو شہری ہلاک اور 14 زخمی ہوئے ہیں۔

    حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے صوبہ مارب میں سرکاری فوج کے ایک کیمپ کو نشانہ بنایا ہے۔

    یہ حملے اس واقعے کے ایک روز بعد ہوئے ہیں جب مارب میں حوثیوں کے میزائل حملوں میں سرکاری فورسز کے کم از کم 58 اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

    ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے درمیان 2022 میں ہونے والی جنگ بندی گزشتہ ماہ ختم ہو گئی تھی۔

    یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈ برگ نے خبردار کیا ہے کہ ملک کو اپریل 2022 میں جنگ بندی کے بعد کے کسی بھی وقت کے مقابلے میں اب دوبارہ بڑے پیمانے پر جنگ شروع ہونے کا زیادہ خطرہ ہے۔

  18. جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں کمی: اقوام متحدہ

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دو روز تک اسرائیلی حملوں میں اضافے کے بعد جمعے کو جنوبی لبنان میں فوجی سرگرمیاں کم ہو گئی ہیں۔

    اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے اپنے بیان میں کہا کہ لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فوج (یونیفل) نے اس سے قبل جمعرات کو اسرائیلی فوج کی جانب سے داغے گئے 129 میزائل ریکارڈ کیے جو جون کے آخر کے بعد ایک دن میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔

    ان کے مطابق زیادہ تر حملے المنصوری کے علاقے میں ہوئے تھے اور یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب اس ہفتے ایک واقعے میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور کئی زخمی ہوئے تھے۔

    یونیفل نے کہا کہ رات کے وقت مزید فائرنگ ریکارڈ کی گئی، تاہم دن میں کئی گھنٹوں تک کوئی حملہ نہیں دیکھا گیا۔ فرحان حق نے اسے ’فوجی سرگرمیوں میں نمایاں کمی‘ قرار دیا۔

    یونیفل نے اسرائیل پر لبنانی فضائی حدود کی خلاف ورزیوں کا الزام بھی عائد کیا۔

  19. امریکہ نے دبئی میں قائم کرپٹو کرنسی ایکسچینج شیلبِٹ پر بھی پابندیاں عائد کر دیں

    امریکی محکمہ خزانہ نے دبئی میں قائم کرپٹو کرنسی پلیٹ فارم شیلبِٹ سمیت کئی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

    امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق شیلبِٹ نے ایرانی حکومت سے منسلک اداروں کے لیے کرپٹو کرنسی کی صورت میں لاکھوں ڈالر منتقل کیے۔

    تاہم شیلبِٹ نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس نے جنوری 2026 میں اپنی سرگرمیاں بند کر دی تھیں۔

    یہ اقدام 31 جولائی کو شائع ہونے والی روئٹرز کی ایک تحقیق کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس تحقیق میں دبئی میں قائم ایکسچینج شیلبِٹ کو ایک ایسے نیٹ ورک کا اہم حصہ قرار دیا گیا تھا جس کے ذریعے مبینہ طور پر ایران پر عائد پابندیوں سے بچنے کے لیے چار ارب ڈالر منتقل کیے گئے۔

    روئٹرز کے مطابق شیلبِٹ نے ایران کے مرکزی بینک کے لیے کرپٹو کرنسی منتقل کی۔

    تحقیق میں یہ بھی کہا گیا کہ اس کا تعلق ایک بڑے غیر قانونی آن لائن جوئے کے نیٹ ورک سے تھا اور اس نے ایسے کرپٹو کوائن استعمال کیے جنھیں اسرائیلی حکومت پاسداران انقلاب سے منسلک سمجھتی ہے۔

    امریکہ اس سے پہلے دو جون کو ایران کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینج نوبی ٹیکس پر بھی پابندیاں عائد کر چکا ہے۔

    دوسری جانب شیلبِٹ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے جان بوجھ کر منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت، غیر قانونی جوا، پابندیوں سے بچنے کی کوششوں یا کسی پابندی زدہ ادارے، فوجی تنظیم یا سرکاری ادارے کی جانب سے کام نہیں کیا۔

    کمپنی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس نے جنوری 2026 میں اپنی سرگرمیاں بند کر دی تھیں۔

  20. ’جنگ کے بجائے مذاکرات سے حقوق حاصل کرنا چاہتے ہیں: ایرانی صدر مسعود پزشکیان

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے ایک خطاب میں واضح کیا ہے کہ ایران اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا، تاہم جنگ کے بجائے بات چیت سے بھی اپنے حقوق حاصل کر سکتے ہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق اپنی حلف برداری کے دو سال مکمل ہونے پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’جب ہم بات چیت سے اپنے حقوق حاصل کر سکتے ہیں تو ہم کیوں لڑیں؟‘

    انھوں نے کہا کہ ایران اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا تاہم ان کے بقول اسرائیل چاہتا ہے کہ جنگ کا سلسلہ جاری رہے تاکہ ایران پر دباؤ ڈال کر اسے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جا سکے۔

    مسعود پزشکیان نے کہا کہ مذاکرات کے ذریعے ایران لبنان میں جنگ روکنے، ناکہ بندی ختم کروانے اور بعض پابندیوں میں نرمی کروانے میں کامیاب رہا ہے۔

    اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں انھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف سے ایران کی مذاکراتی ٹیم میں شامل ہونے کی درخواست کی گئی تھی جسے انھوں نے قبول کر لیا تھا۔

    صدر پزشکیان کے مطابق عدلیہ، پارلیمنٹ، مسلح افواج اور دیگر اداروں کے نمائندے بھی اس ٹیم کا حصہ ہیں تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ ’ہم سب اس معاملے میں ایک ساتھ ہیں۔