سکردو میں میاں بیوی اور دو کمسن بچوں کا قتل: ’کمرے کا دروازہ کھولا کو تو اندر کا منظر انتہائی ہولناک تھا‘

،تصویر کا ذریعہMuhammad Aslam
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
انتباہ: اس رپورٹ میں جرم اور قتل کی تفصیلات شامل ہیں جو قارئین کے لیے تکلیف کا باعث ہو سکتی ہیں۔
پاکستان کے زیر انتظام خطے گلگت بلتستان کے ضلع سکردو کی پولیس نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ چھ سال قبل کورٹ میرج کرنے والے میاں، بیوی اور اُن کے دو بچوں کمسن بچوں کا بے دردی سے کیا گیا قتل مبینہ غیرت کے نام پر ہوا ہے۔
سکردو پولیس کے مطابق محمد اسلم، اُن کی اہلیہ ہانیہ اسلم اور اُن کے دو بچوں، چار سالہ مہدی اور دو سالہ زہرا، کو تیز دھار آلے کی مدد سے گلے کاٹ کر قتل کیا گیا اور ملزمان جاتے ہوئے کمرے میں رکھی ہوئی ایک ڈش پر مبینہ طور پر مارے جانے والے افراد کے خون سے کچھ الفاظ بھی تحریر کر کے گئے۔
29 اکتوبر کی شب پیش آئے چار افراد کے قتل کے اس واقعے کے بعد سکردو میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے ہیں، جبکہ متعلقہ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔
چار افراد کے قتل کا مقدمہ محمد اسلم کے بھائی خادم حسین کی درخواست پر ماری جانے والی خاتون ہانیہ اسلم کے بھائیوں، والد اور ماموں کے خلاف متعدد دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔
سکردو پولیس کی ابتدائی تفتیش میں یہ شبہ ظاہر کیا ہے کہ ملزمان کا تعلق خیبر پختونخوا کے علاقے پاڑاچنار اور کراچی سے ہے اور یہ کہ اُن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ایف آئی آر میں خادم حسین نے بتایا کہ ’میرے بھائی اسلم نے پانچ، چھ برس قتل ہانیہ سے کورٹ میرج کی تھی اور اُن کے دو بچے تھے۔ اسلم ایک پیزا شاپ میں ملازمت کرتا تھا۔‘
مدعی مقدمہ کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ ’کورٹ میرج کی وجہ سے ہانیہ کے بھائیوں، والد اور ماموں کی جانب سے ماضی میں بھی سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتی تھیں۔ جس کا ذکر اسلم نے متعدد مرتبہ میرے سامنے کیا تھا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ہانیہ کے گھر والوں نے ماضی میں بھی اسلم کے خلاف کراچی میں مقدمہ درج کروایا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق خادم حسین نے بتایا کہ 30 اکتوبر کی صبح انھیں اُن کے بھائی کے ایک پڑوسی سے اطلاع ملی کہ اسلم اور اس کی پوری فیملی کو بے دردی سے چھریوں کی مدد سے ذبح کیا گیا ہے اور گھر میں ہر طرف اُن کی خون میں لت پت لاشیں پڑی ہوئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہMuhammad Aslam
’کمرے کا دروازہ کھولا تو اندر کا منظر انتہائی ہولناک تھا‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اختر علی خان، سکردو میں قتل ہونے والے محمد اسلم کے قریبی کزن ہیں۔ اور ایف آئی آر کے مطابق انھوں نے سب سے پہلے اس واقعے کی اطلاع پولیس اور اسلم کے گھر والوں کو پہنچائی تھی۔
اختر علی خان کے مطابق 29 اکتوبر کی شام اُن کی ہانیہ اسلم سے اپنے گھر میں ملاقات ہوئی تھی اور اُس وقت انھیں ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ اگلی صبح وہی سب سے پہلے شخص ہوں گے جو ہانیہ کی پوری فیملی کی لاشیں دریافت کریں گے۔
اختر علی کے مطابق انھوں نے ہانیہ اسلم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اگلی صبح (جمعہ کو) اُن کی دو سالہ بیمار بیٹی زہرا کو ہسپتال لے کر جائیں گے۔ اختر کے مطابق چونکہ اسلم پیزا شاپ پر کام کرتے تھے اس لیے کام سے اُن کی واپسی عموماً رات کو ایک، دو بجے ہوتی تھی۔
اختر علی کے مطابق وعدے کے مطابق انھوں نے جمعہ کی صبح آٹھ بجے کے لگ بھگ بچی کو ہسپتال لے جانے کے لیے فون کیا تو دوسری جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
اختر علی کے مطابق انھوں نے کئی مرتبہ فون کیا مگر رابطہ نہ ہونے پر سوچا کہ چونکہ اسلم رات کو دیر سے گھر آتا ہے اس لیے شاید وہ سو رہا ہو گا، چنانچہ انھوں نے خود اُن کے گھر جانے کا فیصلہ کیا۔
اختر کا کہنا ہے کہ وہ اسلم کے پڑوسی ہیں اور اُن کے گھر کے درمیان محض دو سو میٹر کا فاصلہ ہے۔
اختر بتاتے ہیں کہ وہ جب اسلم کے گھر پہنچے تو غیرمعمولی طور پر اُن کے گھر کا مرکزی گیٹ کھلا ہوا تھا اور گھر میں داخل ہوتے ہی انھیں کار پورچ میں خون دکھائی دیا۔
اختر علی نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ خون صرف ایک جگہ نہیں تھا بلکہ اس کی ایک لکیر گھر کے اندر کمروں کی طرف جا رہی تھی، جیسے کسی زخمی یا مردہ شخص کو گھسیٹ کر اندر لے جایا گیا ہو۔
اُن کے مطابق، ابتدا میں انھوں نے پورچ میں ہی کھڑے ہو کر ہانیہ اور اسلم کو آوازیں دیں، لیکن اندر سے کوئی جواب نہیں آیا۔ انھوں نے کہا کہ خون کی لکیر ایک کمرے کی طرف جا رہی تھی اور جب انھوں نے کمرے کا دروازہ کھولا کو تو اندر کا منظر انتہائی ہولناک تھا۔
ان کے مطابق اسلم فرش پر مردہ حالت میں پڑے تھے جبکہ ہانیہ بستر پر اسی حالت میں تھیں جبکہ ان کے دونوں کم عمر بچے بھی اپنے بستروں پر مردہ پڑے تھے۔
اختر علی خان کا کہنا تھا کہ ’میں نے فوری طور پر اس واقعہ کی اطلاع ریسیکو، پولیس اور اسلم کے بھائیوں کو دی تھی۔ اس کے بعد میں خود ہی ہوش کھو بیٹھا اور کئی گھنٹوں تک مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میں کیا کروں اور کیا نہ کروں۔‘

،تصویر کا ذریعہMuhammad Aslam
’یہ مبینہ غیرت کے نام پر قتل کا ہولناک واقعہ ہے‘
سکردو پولیس کے ڈی ایس پی صلاح الدین نے بی بی سی نیوز اُردو کو بتایا کہ غیرت کے نام پر قتل کا یہ واقعہ گلگت بلتستان کی تاریخ کے ہولناک ترین واقعات میں سے ایک ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں طویل عرصے تک پولیس سروس کے دوران انھوں نے اس سے زیادہ ہولناک واقعہ نہیں دیکھا، جس میں کم عمر بچوں کو بھی اس بے رحمی سے قتل کیا گیا ہو۔
ڈی ایس پی صلاح الدین کے مطابق بظاہر یہ غیرت کے نام پر قتل کا واقعہ ہے اور اس سلسلے میں مقدمے میں نامزد ہانیہ اسلم کے بھائیوں، والد اور ماموں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور پولیس ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔
ڈی ایس پی سکردو کے مطابق تمام افراد کی موت گلے پر چھریاں یا تیز دھار آلہ پھرنے کے سبب ہوئی ہیں جبکہ اسلم اور اُن کی اہلیہ کے جسموں پر زخموں کے نشانات بھی ہیں۔
صلاح الدین کے مطابق زمینی اور واقعاتی شواہد دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ قاتل اسلم کے گھر پہنچنے سے قبل گھر میں گھسے، پہلے ہانیہ اور اُن کے بچوں کو بیدردی سے قتل کیا گیا اور اس کے بعد اسلم کی آمد کا انتظار کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس واردات کے بعد ممکنہ طور پر انھوں نے اسلم کا انتظار کیا اور جب وہ گھر میں داخل ہوئے تو اُن پر کسی تیز دھار آلے سے حملہ کیا گیا اور زخمی حالت میں انھیں گھسیٹ کر اسی کمرے میں لایا گیا جہاں ہانیہ اور ان کے بچے تھے، کیونکہ پورچ سے لے کر کمرے تک خون کی ایک لکیر موجود تھی۔
محمد اقبال ایڈووکیٹ سکردو میں پریکٹس کرتے ہیں ا ور وہ محمد اسلم کے بچپن کے دوست اور اس کیس میں اُن کے وکیل بھی ہیں۔
محمد اقبال ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ اسلم کراچی میں کورٹ میرج کے بعد ہانیہ کو لے کر سکردو آ گیا تھا۔ ’اسلم نے مجھے کئی مرتبہ کہا تھا کہ وہ اب کراچی نہیں جا سکتا ہے کیونکہ اس کو کراچی میں خطرہ ہے، اور اسی لیے وہ شادی کے بعد سے سکردو ہی میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ رکا ہوا تھا۔‘
محمد اقبال ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ دونوں میاں بیوی میں بہت پیار اور محبت تھی۔
’اسلم جب کورٹ میرج کے بعد ہانیہ کو لے کر سکردو آیا تھا، تو اُس وقت ہانیہ کے والدین نے اسلم کے خلاف مقدمہ درج کروایا تھا، تاہم ہانیہ نے سکردو کی عدالت میں پیش ہو کر بیان دیا تھا کہ انھوں نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے۔‘




















