عراق میں قبائلی سردار کے بیٹوں کی شادی جس کے لیے ایک ہزار سے زیادہ بھیڑیں، بکریاں اور اونٹ ذبح کیے گئے

،تصویر کا ذریعہX
گذشتہ چند روز سے جنوبی عراق کے صوبے ذی قار کے شہر ناصریہ کے صحرائی علاقے میں قبیلہ بدور کے سردار شیخ کے دو بیٹوں کی شادی کی تقریب کے حوالے سے کافی بحث ہو رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں وسیع میدان میں مویشیوں کو دیکھا جا سکتا ہے جبکہ بڑی بڑی دیگوں میں کھانا تیار کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ویڈیوز اور تصاویر میں بڑی تعداد میں تقریب میں شریک مہمانوں کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
تاہم توجہ کا مرکز صرف اس تقریب میں شامل شرکا کی تعداد نہیں بلکہ دعوت کا حجم تھا۔
تقریب کے لیے کھانا تیار کرنے والے قصابوں میں سے ایک کے مطابق دعوت کے لیے تقریباً 1600 بھیڑ بکریوں کے علاوہ 200 اونٹ بھی ذبح کیے گئے تھے۔
تاہم دیگر ذرائع ذرا مختلف اعداد و شمار بتاتے ہیں۔ ان کے مطابق 800 سے 1400 کے قریب بھیڑ بکریاں اور 100 سے 270 اونٹ ذبح کیے گئے، جبکہ کھانے میں ہرن بھی پیش کیا گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہFacebook
مختلف ذرائع سے سامنے آنے والے متضاد اعداد و شمار کے باعث دعوت کے لیے ذبح کیے گئے جانوروں کی حتمی تعداد کا تعین کرنا مشکل ہے، تاہم یہ یقینی ہے کہ اس موقع پر غیرمعمولی طور پر بڑی ضیافت کا اہتمام کیا گیا تھا۔
یہ تقریب قبیلہ البدور کے شیخ حیدر عابر فہد الشرشاب کے دو بیٹوں کی شادی کے موقع پر منعقد کی گئی تھی جس میں عراق کے مختلف علاقوں سے آنے والے مہمانوں اور قبائلی افراد نے شرکت کی۔
ان تصاویر اور ویڈیوز کے وائرل ہونے کے بعد اس تقریب کے حوالے سے سوشل میڈیا پر عراقی معاشرے میں لوگوں کی دل کھول کر خرچ کرنے کی عادت اور سماجی تقریبات پر ہونے والے اخراجات کی حد پر بحث ہو رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تقریب میں شریک عابر نامی ایک شخص نے شادی میں شامل حاضرین کی تعداد کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ یہ عراق میں ہونے والی سب سے بڑی ضیافت تھی۔

،تصویر کا ذریعہx
عراقیوں کی مہمان نوازی
بڑے پیمانے پر ہونے والی اس تقریب کے حامیوں کے مطابق اس دعوت کو محض ذبح کیے گئے جانوروں کی تعداد تک محدود کرنا ٹھیک نہیں اور یہ اس سماجی اور ثقافتی پس منظر نظرانداز کرنے کے مترادف ہے جس میں یہ شادی منعقد ہوئی۔
جنوبی عراق کے قبائلی علاقوں میں ہونے والی شادیاں عموماً صرف دلہا، دلہن اور ان کے خاندانوں تک محدود نہیں ہوتایں بلکہ اکثر یہ بڑی عوامی تقریبات کی شکل اختیار کر جاتی ہیں، جن میں بڑی تعداد میں مہمان شریک ہوتے ہیں۔ اسی طرح مویشی، تحائف اور دیگر نذرانے پیش کرنا خوشی کی تقریبات میں شمولیت کی روایات کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
اسی تناظر میں اس تقریب میں شریک ابو مریم کا کہنا تھا کہ یہ دعوت شریک مہمانوں اور مبارک باد دینے آنے والوں کے اعزاز میں منعقد کی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہx
سوشل میڈیا پر ایک صارف نے اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی تقریب کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’دنیا کو کھانے دو اور پیٹ بھر کر کھانے دو۔‘

،تصویر کا ذریعہX
ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں مہمانوں کی شرکت خود اس غیرمعمولی ضیافت کے حجم کا جواز فراہم کرتی ہے۔
’سخاوت نہیں بلکہ فضول خرچی ہے جو کہ ممنوع ہے‘
جہاں کئی لوگ اس دعوت کو عراقی مہمان نوازی کی علامت قرار دے رہے ہیں وہیں اس غیرمعمولی ضیافت کے حجم پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تنقید بھی کی گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ تقریب سخاوت کی حدود سے بڑھ کر فضول خرچی اور اخراجات میں مبالغے کی مثال بن گئی ہے۔
اسی تناظر میں ایک صارف کا کہنا ہے کہ ’یہ سخاوت نہیں بلکہ ایسی فضول خرچی ہے جو کہ ممنوع ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہX
اسی طرح ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ ’جو کچھ ہوا وہ فضول خرچی اور دکھاوا ہے۔‘
کچھ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ سخاوت کے اظہار کے لیے لازمی نہیں کہ اتنی بڑی رقم خرچ کی جائے، اور ان وسائل کا ایک حصہ ضرورت مندوں کی مدد یا ایسے منصوبوں پر صرف کیا جا سکتا تھا جن سے معاشرے کو فائدہ پہنچتا۔
عبد المنعم الاسود نامی ایک صارف لکھتے ہیں کہ ’اللہ ان کی خوشیاں قائم رکھے، لیکن ایسے مسلمان بھی ہیں جنھیں روٹی کی ضرورت ہے۔‘
سخاوت کا مطلب کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہX
شاید اس کہانی کی اہمیت اس بات میں چھپی ہے کہ ایک ہی لفظ، یعنی سخاوت، کی کئی تشریحات ہو سکتی ہیں۔
بی بی سی عربی کے مطابق جس سماجی پس منظر میں یہ شادی منعقد ہوئی، وہاں بڑی ضیافت خاندان اور قبیلے کی اپنے مہمانوں کی میزبانی کی صلاحیت کے اظہار کا ایک ذریعہ سمجھی جا سکتی ہے۔ اسی طرح یہ ایک ایسی تقریب بھی ہو سکتی ہے جس میں قبیلے اور برادری کے افراد مالی تعاون، مویشیوں اور تحائف کی صورت میں حصہ ڈالتے ہیں۔
عراقی ذرائع ابلاغ پر چلنے والی خبروں کے مطابق ایسی تقریبات میں ہزاروں افراد شریک ہو سکتے ہیں، جبکہ مویشیوں اور تحائف کی فراہمی ایک وسیع تر سماجی نظام کا حصہ ہوتی ہے اور ضروری نہیں کہ اس کا سارا بوجھ صرف میزبان خاندان ہی برداشت کرے۔
تاہم جب اس شادی کی تصاویر اور ویڈیوز انٹرنیٹ پر پھیلیں تو اس موضوع پر بحث چھڑ گئی، اور یہی معاملہ لوگوں کے درمیان اختلافِ رائے کا سبب بنا۔



















