آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’لوگوں کے پیغامات پڑھ کر مجھے افسوس ہوا‘: فرحان سعید کے لیے انس جیسے ’کمزور مرد‘ کا کردار نبھانا مشکل کیوں تھا؟
- مصنف, براق شبیر
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
پاکستانی اداکار اور گلوکار فرحان سعید ان دنوں ڈرامہ سیریل ’بس تیرا ساتھ ہو‘ میں انس نامی ایک ایسے کردار میں نظر آ رہے ہیں جو روایتی پاکستانی ڈراموں کے مرد کرداروں سے مختلف سمجھا جا رہا ہے۔
ڈرامے میں انس ایک ایسا نوجوان ہے جو بچپن سے اپنے تایا اور تائی کے ناروا سلوک کا سامنا کرتا رہا ہے۔ بعض ناظرین نے سوشل میڈیا پر اس کردار کا موازنہ ’سنڈریلا‘ سے بھی کیا ہے۔
بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے فرحان سعید کا کہنا تھا کہ معاشرے میں مردوں اور خواتین سے مختلف توقعات وابستہ کی جاتی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’اگر کسی عورت کے کردار کو مضبوط دکھایا جائے یا وہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھائے تو لوگ اسے سراہتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی مرد کمزور، خاموش یا دباؤ کا شکار دکھایا جائے تو ناظرین سوال کرتے ہیں کہ وہ بول کیوں نہیں رہا۔‘
ان کے بقول ’اگر یہی کہانی کسی عورت کی ہو تو لوگ اسے وقت دینے کے لیے تیار ہوتے ہیں، لیکن مرد کے معاملے میں ردعمل مختلف ہوتا ہے۔‘
فرحان سعید موسیقی کے میدان میں بینڈ جل کے رکن کے طور پر شہرت حاصل کر چکے ہیں، جبکہ 2014 کے بعد انھوں نے ڈراموں میں بھی باقاعدگی سے کام شروع کیا۔ ’سنو چندا‘ اور ’میرے ہمسفر‘ جیسے مقبول ڈراموں کے بعد وہ اس وقت ’بس تیرا ساتھ ہو‘ میں اداکاری کر رہے ہیں، جس میں ان کے ہمراہ اداکارہ ثنا جاوید بھی شامل ہیں۔
’مردوں کی ذہنی صحت پر بھی بات ہونی چاہیے‘
ڈرامے کی حالیہ اقساط میں انس کے ماضی اور بچپن کے صدمات کو نمایاں انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ایک مؤثر منظر میں انس کو اپنے بچپن کے وجود سے مکالمہ کرتے دکھایا گیا، جسے ناظرین نے خاصی پذیرائی دی۔
فرحان سعید کا کہنا ہے کہ ہمارے معاشرے میں مردوں کی ذہنی صحت اور جذباتی مسائل پر اب بھی کھل کر بات نہیں کی جاتی۔ ان کے مطابق ’مرد کو درد نہیں ہوتا‘ اور ’مرد روتے نہیں ہیں‘ جیسے تصورات بھی اتنے ہی سنجیدہ غور و فکر کے متقاضی ہیں جتنا خواتین کے حقوق اور ان کے خلاف ہونے والے مظالم کا موضوع۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ ہر مرد طاقتور یا ظالم نہیں ہوتا، بلکہ بہت سے مرد بھی سماجی دباؤ، استحصال اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔
ڈرامے کے بعض ناظرین نے سوال اٹھایا کہ انس اپنے تایا اور تائی کے سامنے مزاحمت کیوں نہیں کرتا یا بعض مواقع پر وہ اپنی بیوی کا بھرپور ساتھ کیوں نہیں دیتے۔
اس پر فرحان سعید نے وضاحت کی کہ جن لوگوں نے کسی فرد کو بچپن سے خوف، دباؤ یا ظلم کے ماحول میں رکھا ہو، ان کے سامنے کھڑے ہونا آسان نہیں ہوتا، خصوصاً جب وہی افراد خاندان کا حصہ بھی ہوں۔
ان کے بقول، بچپن کے صدمات انسان کی شخصیت اور فیصلوں پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں، اور یہی پہلو انس کے کردار میں دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔
’یہ کردار میرے مزاج سے بہت مختلف تھا‘
فرحان سعید نے بتایا کہ جب انھیں انس کا کردار پیش کیا گیا تو اسے قبول کرنے کا فیصلہ فوری نہیں تھا، بلکہ انھوں نے اس پر کافی غور کیا۔
ان کے بقول، ’انس کا کردار میری شخصیت سے بالکل مختلف تھا، اور ٹی وی ڈراموں میں بھی اس نوعیت کے کردار کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں، اسی لیے ابتدا میں مجھے کچھ ہچکچاہٹ محسوس ہوئی۔‘
انھوں نے کہا کہ اس کردار کو نبھانا جذباتی اعتبار سے بھی ایک مشکل تجربہ تھا۔ ’ڈرامے میں میرے کردار کے ساتھ مسلسل ناانصافیاں ہوتی رہتی تھیں، اور بعض اوقات اس کا اثر میری اپنی ذہنی کیفیت پر بھی پڑتا تھا۔‘
فرحان سعید کے مطابق ڈرامے کی نشریات کے بعد انہیں ناظرین کی جانب سے بے شمار پیغامات موصول ہوئے۔ کچھ خواتین نے اپنے والد یا شوہر سے متعلق ذاتی تجربات شیئر کیے، جبکہ کئی مردوں نے اپنی زندگی میں پیش آنے والی مشکلات اور جذباتی مسائل کے بارے میں لکھا۔
انھوں نے کہا، ’شاید یہ پہلا کردار تھا جس کے حوالے سے لوگوں کے پیغامات پڑھ کر مجھے خوشی کے بجائے افسوس محسوس ہوا، کیونکہ بہت سے افراد نے بتایا کہ انس کی کہانی دراصل ان کی اپنی زندگی کی عکاسی کرتی ہے۔‘
فرحان کے مطابق ان ردِعمل نے انھیں یہ احساس دلایا کہ معاشرے میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو خاموشی سے جذباتی اور نفسیاتی دباؤ کا سامنا کرتے ہیں، مگر ان کے مسائل اور احساسات اکثر توجہ کا مرکز نہیں بن پاتے۔
’اب لوگ ارسل کو گاتا دیکھنے آتے ہیں‘
اداکاری کے ساتھ ساتھ فرحان سعید موسیقی کے میدان میں بھی بھرپور سرگرم ہیں اور حالیہ برسوں کے دوران مختلف ممالک میں اپنے کنسرٹس کے ذریعے مداحوں سے رابطے میں رہے ہیں۔
فرحان سعید کا کہنا ہے کہ ڈراموں میں مقبولیت حاصل کرنے کے بعد ان کے کنسرٹس کے سامعین میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ ان کے مطابق نہ صرف شائقین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ناظرین کا دائرہ بھی وسیع ہوا ہے۔
انھوں نے کہا، ’پہلے جو لوگ شاید ’سجنی‘ سننے نہیں آتے تھے، اب وہ ’سنو چندا‘ کے ارسل کو سٹیج پر گاتا دیکھنے آتے ہیں۔‘
فرحان سعید نے ہنستے ہوئے بتایا کہ بعض لوگ محض انھیں دیکھنے کنسرٹ میں آتے ہیں اور بعد میں یہ جان کر حیران رہ جاتے ہیں کہ وہ گلوکاری بھی کرتے ہیں۔ ان کے بقول، ’شاید بہت سے لوگوں کو معلوم نہیں ہوتا کہ میں اداکاری میں آنے سے پہلے ایک گلوکار تھا۔‘
اپنی سالگرہ، 14 ستمبر، کے موقع پر فرحان سعید نے اپنا نیا گانا ’پھل گلاب دا‘ بھی ریلیز کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ آنے والے مہینوں میں مزید موسیقی شائقین کے سامنے پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس حوالے سے کئی نئے منصوبوں پر کام جاری ہے۔
’عروہ کے کام پر مجھے فخر ہے‘
فرحان سعید کی اہلیہ اور اداکارہ عروہ حسین اس وقت ڈرامہ ’آپ کی عزت‘ میں دکھائی دے رہی ہیں۔
فرحان کا کہنا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے کام کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
’اگر ہمیں ایک دوسرے کا کام اچھا لگتا ہے تو ہم کھل کر تعریف کرتے ہیں۔ آج کل میں عروہ کے کام کی تعریف کر رہا ہوں۔‘
عروہ کے کردار ’بینا‘ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگرچہ گھر میں انھوں نے عروہ کو اس کردار کی طرح نہیں دیکھا، تاہم وہ ان اقدار سے اتفاق کرتی ہیں جن کی نمائندگی یہ کردار کرتا ہے۔
’ٹاکسِک مرد کا کردار نہیں کروں گا‘
فرحان سعید کا کہنا ہے کہ وہ متعدد ایسے کردار مسترد کر چکے ہیں جنھیں وہ ’ٹاکسک‘ سمجھتے ہیں۔
انھوں نے کہا، ’میں ایسے شوہر یا بوائے فرینڈ کا کردار نہیں کرنا چاہتا جو عورت پر ظلم کرے اور پھر چند قسطوں بعد ہیرو بن جائے۔‘
ان کے مطابق منفی کردار ادا کرنے میں انھیں اعتراض نہیں، لیکن ایسی صورت میں کردار کو اپنے اعمال کے نتائج کا سامنا کرنا چاہیے۔
فرحان سعید کا کہنا تھا کہ پاکستانی ٹی وی ڈرامے معاشرے پر اثر انداز ہوتے ہیں، اس لیے اداکاروں کو بھی یہ سوچنا چاہیے کہ وہ کن کرداروں کا انتخاب کرتے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ایک ہی طرح کے کردار بار بار نہ کریں۔ ان کا اگلا ڈرامہ جیو ٹی وی پر نشر ہوگا جس میں وہ ایک مختلف کردار میں نظر آئیں گے، اگرچہ اس نوعیت کا کردار ناظرین پہلے بھی دیکھ چکے ہیں۔