آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
واشنگٹن کا پہلی مرتبہ خلائی ہتھیار زمین کے مدار میں تعینات کرنے کا دعویٰ: امریکہ کے نئے ہتھیار کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
امریکہ نے تصدیق کی ہے کہ اس نے زمین کے مدار میں ایک خلائی ہتھیار تعینات کیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ واشنگٹن نے ایسی جارحانہ خلائی صلاحیت کے وجود کا باضابطہ اعتراف کیا ہے۔
امریکی فضائیہ کے سیکریٹری ٹرائے مینک نے کہا ہے کہ مدار میں موجود یہ ہتھیار امریکی افواج کو دشمن کی ممکنہ جارحانہ کارروائیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
پیر کے روز ایئر، سپیس اینڈ سائبر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرائے مینک کا کہنا تھا کہ امریکہ ’بدلتے ہوئے خطرات‘ سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم انھوں نے زمین کے مدار میں تعینات اس نئے ہتھیار کی صلاحیتوں یا اسے کب مدار میں تعینات کیا بھیجا گیا، اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
امریکی فوج کے اعلیٰ حکام ماضی میں بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ خلا میں اپنی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا موقف رہا ہے کہ روس اور چین مستقبل کے کسی ممکنہ تنازع میں امریکی سیٹلائٹس کو نشانہ بنانے اور ان کے کام میں خلل ڈالنے کی صلاحیتیں حاصل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ خلا میں قائم دفاعی نظام اور انٹرسپٹر میزائل اس کے مجوزہ ’گولڈن ڈوم‘ دفاعی منصوبے کا اہم حصہ ہیں، جس کا مقصد امریکہ کو میزائل حملوں اور فضائی خطرات سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
سنہ 1967 کے ایک بین الاقوامی معاہدے کے تحت مدار میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تعیناتی پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ اس کے بعد سے امریکہ، روس اور چین سمیت بڑی طاقتیں ایسے دیگر نظاموں پر کام کرتی رہی ہیں جو اس معاہدے کے دائرہ کار سے باہر ہیں، مثلاً حریف ممالک کے سیٹلائٹس کو نشانہ بنانے کی صلاحیت۔ یاد رہے کہ فوجی مواصلات، نگرانی اور نیویگیشن کے لیے سیٹلائٹس کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔
گذشتہ سال صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انتظامی حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں امریکی سپیس فورس کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ وہ صرف امریکی اثاثوں کا دفاع ہی نہیں کرے گی بلکہ ضرورت پڑنے پر اسے حملہ کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکے گا۔
سنہ 2019 میں قائم کی گئی امریکی سپیس فورس گذشتہ 70 برسوں میں امریکی فوج کی قائم ہونے والی پہلی شاخ ہے۔ اس کا مقصد خلا میں امریکی اثاثوں کا تحفظ ہے، جن میں مواصلات اور نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے سینکڑوں سیٹلائٹس شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی سپیس فورس کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ’خلائی کنٹرول میں وہ تمام عملی شعبے شامل ہیں جو خلا کے میدان میں مقابلہ کرنے اور کنٹرول حاصل کرنے کے لیے درکار ہوتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے روایتی اور غیر روایتی دونوں طرح کے ذرائع استعمال کیے جا سکتے ہیں تاکہ مخالف کی صلاحیتوں کو متاثر کیا جا سکے، ان میں خلل ڈالا جا سکے، انھیں کمزور کیا جا سکے یا ضرورت پڑنے پر تباہ بھی کیا جا سکے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ امریکی سپیس فورس کی یہ صلاحیتیں جنگی کمانڈز کی ہدایات کے تحت دفاعی اور جارحانہ دونوں مقاصد کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔
فروری کے اوائل میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ دو روسی سیٹلائٹس نے غالباً 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے کم از کم ایک درجن یورپی سیٹلائٹس کے مواصلاتی نظام میں مداخلت کی ہے۔
ایسی مداخلتوں کے ذریعے روسی انٹیلی جنس اداروں کو ان سیٹلائٹس سے منتقل ہونے والا حساس ڈیٹا پڑھنے یا ایک طرح سے ان کا کنٹرول حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
سنہ 2024 میں امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ روس نے ایک ایسا سیٹلائٹ مدار میں بھیجا ہے جس کے بارے میں اس کا خیال ہے کہ وہ دیگر سیٹلائٹس پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ روس نے اس معاملے پر عوامی سطح پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا۔
امریکی سپیس فورس کے مطابق چین اپنی فوج کو جدید بنانے کی حکمت عملی کے تحت خلائی صلاحیتیں حاصل کر رہا ہے، جبکہ روس ’خلا کو میدانِ جنگ کے طور پر لیتا ہے اور اس کا ماننا ہے کہ خلا میں برتری مستقبل کے تنازعات میں فیصلہ کن عنصر ثابت ہو گی۔‘
ٹرمپ کا 12 کھرب ڈالر کی لاگت کا ’گولڈن ڈوم‘ دفاعی نظام
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ ’گولڈن ڈوم‘ دفاعی نظام کی تعمیر، تعیناتی اور دو دہائیوں تک آپریشن پر تقریباً 12 کھرب ڈالر لاگت آئے گی۔ یہ تخمینہ غیرجانبدار کانگریشنل بجٹ آفس (سی بی او) کی طرف سے لگایا گیا ہے۔
یہ رقم اس ابتدائی تخمینے سے خاصی زیادہ ہے جس میں 175 ارب ڈالر مختص کیے گئے تھے۔ یہ اعتراض بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ امریکہ کو بیلسٹک اور کروز میزائلوں سے بچانے کے لیے تیار کیا جانے والا یہ نظام شاید مکمل طور پر کارآمد بھی ثابت نہ ہو۔
سی بی او کی رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ ’گولڈن ڈوم‘ روس یا چین کے مکمل پیمانے کے حملے کے سامنے کمزور پڑ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق صرف حصولی لاگت ہی 10 کھرب ڈالر سے زیادہ ہو گی جس میں انٹرسیپٹر پرتیں اور خلا میں قائم میزائل وارننگ اور ٹریکنگ نظام شامل ہوں گے۔
جنوری میں وائٹ ہاؤس واپسی کے چند روز بعد ہی ٹرمپ نے اس منصوبے کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد ’نئی نسل‘ کے فضائی خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔
انھوں نے گذشتہ سال کہا تھا کہ اس پروگرام کے لیے ابتدائی طور پر 25 ارب ڈالر درکار ہوں گے جبکہ مجموعی لاگت وقت کے ساتھ 175 ارب ڈالر تک پہنچے گی۔
ڈیموکریٹ سینیٹر جیف مرکلی، جنھوں نے اس تخمینے کی درخواست کی تھی، نے منگل کو کہا ’صدر کا نام نہاد گولڈن ڈوم دراصل دفاعی ٹھیکیداروں کے لیے ایک بڑا تحفہ ہے جس کی قیمت مکمل طور پر محنت کش امریکی ادا کریں گے۔‘
یہ خدشات پہلے ہی موجود تھے کہ آیا امریکہ اتنے وسیع رقبے کے لیے ایک جامع دفاعی نظام فراہم کر سکے گا یا نہیں۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ نظام ایسے جدید ہتھیاروں کا مقابلہ کرنے میں پیچھے رہ گئے ہیں جو ممکنہ حریف ممالک کے پاس موجود ہیں۔
سی بی او کے مطابق متوقع لاگت کے باوجود ’یہ نظام کسی ہم پلہ حریف کے مکمل حملے سے مغلوب ہو سکتا ہے۔‘