آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹی شرٹ نما کُرتا، کُرتے پر اشتہار: نیو یارک کے مسلمان میئر کا عید پر پہنا گیا لباس زیر بحث
امریکی ریاست نیو یارک کے میئر زہران ممدانی نے گذشتہ روز اپنے شہر کی مسلمان برادری کے ہمراہ عید کی نماز ادا کی۔ عید کے موقع پر انھوں نے جو لباس پہن رکھا تھا، اس پر روایتی میڈیا سے لے کر سوشل میڈیا تک بات کی جا رہی ہے۔
تصاویر اور ویڈیوز فراہم کرنے والی ویب سائٹ گیٹی امیجز نے زہران ممدانی کے عید کے اجتماع میں شریک ہونے، نماز ادا کرنے اور لوگوں سے ملنے کی تصاویر شائع کیں۔
قریب سے لی گئی تصاویر دیکھیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے زہران ممدانی کوئی ٹی شرٹ پہن کر ہی عید کی نماز پڑھنے چلے گئے۔ لیکن پھر دور سے لی گئی تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تو گھٹنوں تک آنے والا کُرتا یا اسی طرز کی کوئی قیمض تھی اور نیچے زہران ممدانی نے پینٹ پہن رکھی تھی۔
لیکن وہ کوئی عام کُرتا نہیں تھا، روایت کے بیان سے لے کر کھیل کے میدان اور آسمان پر اڑان تک، اس میں ایک جہان نظر آتا تھا۔
سوشل میڈیا پر عید کے پیغام میں میئر نیو یارک نے لکھا: ’مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں نیو یارک شہر کا پہلا مسلمان میئر ہوں۔۔۔ ہم سب مل کر اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ نیو یارک کا ہر شہری اپنی خوراک، رہائش اور بچوں کی دیکھ بھال کے اخراجات برداشت کر سکے۔‘
انھوں نے لکھا: ’ہماری یکجہتی ہی ہماری طاقت ہے۔‘
تاہم یہ یکجہتی زہران ممدانی کے لباس پر موجود علامتوں میں ہرگز نہ تھی۔
زہران ممدانی کے کُرتے پر ایک فضائی کمپنی، ایک فٹ بال کلب، اور جوتے بنانے والی ایک کمپنی کی علامتیں موجود تھیں۔ اور جو تنوع ان علامتوں میں تھا وہی ان سے وابستہ جغرافیے میں بھی تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کُرتے کے درمیان میں بڑا بڑا لکھا تھا ’ایمیریٹس، فلائی بیٹر۔‘ یہ تو ہے دبئی کی فضائی کمپنی ایمیریٹس کا سلوگن یا تشہیری جملہ۔
کُرتے کے دائیں جانب جوتے بنانے والی کمپنی ایڈیڈاس کا لوگو تھا۔ یہ جرمنی کی کمپنی ہے اور کھیل کے لیے جوتے اور دیگر مصنوعات بناتی ہے۔ جبکہ کُرتے کے بائیں جانب انگلینڈ کے آرسنل فٹبال کلب کا لوگو تھا۔
جبکہ دائیں بازو پر مشرقی افریقہ کے ملک روانڈا کا دورہ کرنے کا پیغام درج تھا۔
عید کے اس اجتماع میں زہران ممدانی کا لباس منفرد اس وجہ سے بھی تھا کہ وہاں موجود دیگر افراد نے عربی طرز کا وہ لباس پہن رکھا تھا جو عموماً ٹخنوں تک آتا ہے۔
میئر نیو یارک کے لباس پر سوشل میڈیا پر طرح طرح کے تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ کسی کی پسندیدہ ٹیم آرسنل سے ہاری ہے تو اسے اپنا دکھ یاد آ گیا ہے، کسی کو اپنی من بھاتی فٹ بال ٹیم کی نمائندگی نہ ہونے پر اعتراض ہے اور کوئی اس بات پر ناراض ہے کہ نیو یارک کے میئر نے اپنے شہر کی کوئی علامت کو لباس کا حصہ کیوں نہ بنایا۔
زہران ممدانی کے ہمراہ امریکی رکن کانگریس الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز (اے او سی) بھی تھیں۔ تصاویر میں تو دکھائی دیتا ہے کہ لوگ ان دونوں کے ساتھ سیلفیاں بنا رہے ہیں، تاہم سوشل میڈیا پر صارفین یہ اعتراض کرتے نظر آئے کہ اے او سی نے ڈوپٹہ کیوں پہن رکھا ہے۔
ایمول جی نامی ایک صارف غالباً یہ چاہتے تھے کہ زہران ممدانی اپنے شہر کی باسکٹ بال ٹیم ’نیو یارک نکس‘ کا لباس پہنتے۔
تو انھوں نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر تصویر شیئر کی جس میں ایک شخص نے نیلے رنگ کا جو کرتا پہن رکھا ہے، اس پر نیو یارک 11 لکھا ہے اور کرتے پر ’نیو یارک نکس‘ کا لوگو بھی بنا ہے۔
شہر کے میئر کو ٹیگ کر کے ایمول جی نے لکھا ’آپ نے غلط لباس پہن رکھا ہے۔‘
ایک اور صارف نے بھی نیو یارک نکس کے لوگو کی طرز پر عید مبارک لکھا اور فٹ بال پر عید کی مناسبت سے چاند تارا بھی بنا ڈالا۔
سوشل میڈیا کے ایک صارف شاید فٹ بال ٹیم مانچسٹر یونائیٹڈ کے فین تھے۔ انھوں نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے زہران ممدانی کو اپنی پسندیدہ ٹیم کا لباس پہنا ڈالا۔
کچھ صارفین نے یہاں بھی اپنی تشہیر کا موقع تلاش کیا۔ سپورٹس میڈیا پلیٹ فارم ایسینشیئلی سپورٹس نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے زہران ممدانی کی تصویر میں ترمیم کی، اور شرٹ میں آرسنل اور نیو یارک نکس کا امتزاج دکھایا۔
زہران ممدانی گذشتہ برس نیو یارک کے میئر منتخب ہوئے تھے۔ انھوں نے شہر کے پہلے مسلمان میئر بننے کے ساتھ ساتھ ایک صدی میں کم عمر ترین میئر بن کر تاریخ رقم کی تھی۔
ان کا پورا نام زہران کوامے ممدانی ہے۔ وہ 1991 میں یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں پیدا ہوئے۔
ان کے والد محمود ممدانی ایک انڈیا یوگنڈا نژاد سیاست کے ماہر پروفیسر ہیں جبکہ ان کی والدہ میرا نائر بالی وڈ اور ہالی وڈ میں فلمساز ہیں۔ انھوں نے مون سون ویڈنگ اور دی نیم سیک جیسی اہم فلمیں بنائی ہیں۔
زہران اپنی خاندان کے ساتھ جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن میں بھی رہے ہیں لیکن جب وہ سات سال کے تھے تو خاندان کے ساتھ نیو یارک آ گئے۔
انھوں نے نیویارک کے علاقے برونکس میں پرورش پائی جو کہ ایک ملازت پیشہ آبادی کا علاقہ ہے اور ثقافتی تنوع سے بھرپور ہے۔ انھوں نے ’افریکانا سٹڈیز‘ میں گریجویشن کیا ہے اور فلسطینیوں کے حقوق کے لیے سرگرم رہے ہیں۔