آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’میں ایک بھوت کے ساتھ رہتی ہوں‘: جاپان میں ’آسیب زدہ‘ سمجھے جانے والے گھروں کی مانگ کیوں بڑھ رہی ہے؟
- مصنف, مائیکل فٹزپیٹرک
- عہدہ, بزنس رپورٹر
- مقام, ٹوکیو
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
جب ریوا پہلی بار ٹوکیو میں اپنا کرائے کا اپارٹمنٹ دیکھنے کے لیے اندر داخل ہوئیں تو انھیں فوراً محسوس ہوا کہ یہ جگہ آسیب زدہ ہے۔
وہ کہتی ہیں، ’جب میں فلیٹ دیکھنے آئی تو وہاں ایک آدمی کھڑا مجھے گھور رہا تھا۔ چونکہ اسٹیٹ ایجنٹ اسے نہیں دیکھ سکتا تھا، اس لیے مجھے یقین ہو گیا کہ وہ کوئی بھوت ہے۔‘
جہاں زیادہ تر لوگ خوفزدہ ہو کر فوراً وہاں سے چلے جاتے، ریوا نے اس کے برعکس اسی فلیٹ میں رہنے کا فیصلہ کیا۔
ریوا، جو ایک آئیدول (نوجوان تفریحی فنکار) ہیں اور اپنا خاندانی نام ظاہر نہیں کرنا چاہتیں، کہتی ہیں کہ ’میں عام روایات کے خلاف چلنے والی شخصیت رکھتی ہوں، اس لیے میں نے سوچا کہ کیوں نہ اس گھورتے ہوئے بھوت سے دوستی کر لی جائے۔‘
چار سال گزر جانے کے باوجود وہ آج بھی اسی اپارٹمنٹ میں رہ رہی ہیں، اور ان کے بقول وہاں روزانہ کسی نہ کسی غیر معمولی سرگرمی کا سامنا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں مسلسل کسی کے چلنے پھرنے کی آہٹ سنائی دیتی ہیں، اور کبھی کبھار وہ بھوت کی آواز بھی سن سکتی ہیں۔
اگرچہ حالیہ برسوں میں جاپان میں ہالووین کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے، تاہم بہت سے جاپانی لوگ بھوت پریت اور روحوں کے وجود کو سال بھر سنجیدگی سے لیتے ہیں۔
جاپانی زبان میں ’یوریئی‘ ایک ایسی بے چین اور بھٹکتی ہوئی روح کو کہا جاتا ہے جس کے بارے میں یقین کیا جاتا ہے کہ وہ کسی پرتشدد یا المناک موت کے بعد دنیا میں رہ جاتی ہے۔ ان میں قتل کا شکار ہونے والے، خودکشی کرنے والے یا تنہائی میں وفات پانے والے افراد شامل ہوتے ہیں۔
عام عقیدہ یہ ہے کہ اگر ایسے شخص کی موت کسی گھر میں ہوئی ہو تو اس کی روح، یعنی یوریئی، وہ جگہ آسانی سے نہیں چھوڑتی۔ تاہم جو لوگ ان عقائد سے زیادہ متاثر نہیں ہوتے یا بھوتوں سے خوفزدہ نہیں ہوتے، ان کے لیے یہ کم قیمت پر رہائش حاصل کرنے کا موقع بن جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جاپان میں ایسی جائیدادوں کے لیے ایک الگ اصطلاح ’جیکو بکّین‘ استعمال ہوتی ہے، جس کا مطلب ہے ’داغدار‘ یا ’حادثاتی‘ جائیداد۔
سنہ 2021 میں جاری ہونے والے حکومتی رہنما اصولوں کے مطابق اسٹیٹ ایجنٹس پر لازم ہے کہ وہ خریداروں یا کرایہ داروں کو ایسی اموات کے بارے میں آگاہ کریں جو خودکشی، قتل، آتش زدگی یا اس صورت میں ہوئی ہوں جب لاش طویل عرصے تک دریافت نہ ہو سکی ہو۔
کرائے کی جائیداد کی صورت میں یہ معلومات تین سال تک ظاہر کرنا ضروری ہیں، جبکہ فروخت کے لیے پیش کی جانے والی جائیدادوں کے بارے میں یہ معلومات غیر معینہ مدت تک فراہم کی جانی چاہییں۔
اس کے برعکس برطانیہ میں قانونی طور پر یہ بتانا ضروری نہیں کہ کسی مکان میں کسی شخص کی موت واقع ہوئی تھی، جبکہ امریکہ میں یہ قوانین ریاست کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ مثال کے طور پر کیلیفورنیا میں گذشتہ تین سال کے دوران ہونے والی موت کی اطلاع دینا ضروری ہے، لیکن ایریزونا اور اوریگن میں ایسا کوئی قانونی تقاضا نہیں۔
ریوا کو پہلے ہی بتایا گیا تھا کہ ان کے اپارٹمنٹ میں ایک شخص نے خودکشی کی تھی۔
اسی وجہ سے انھیں ٹوکیو کے فیشن ایبل علاقے سیٹاگایا میں واقع اپنے 25 مربع میٹر کے ایک کمرے والے فلیٹ کے کرائے میں تقریباً 30 فیصد رعایت مل رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ ہر ماہ 45 ہزار ین (تقریباً 285 ڈالر) کرایہ ادا کرتی ہیں، حالانکہ اس فلیٹ کا معمول کا کرایہ تقریباً 62 ہزار ین بنتا ہے۔
اگرچہ قتل یا خودکشی جیسے واقعات سے منسلک گھروں کو دنیا کے کسی بھی حصے میں فروخت یا کرائے پر دینا نسبتاً مشکل ہو سکتا ہے، مگر ٹوکیو میں کام کرنے والے اسٹیٹ ایجنٹ ایرک اوسکیمپ کے مطابق جاپان میں لوگ اس معاملے میں خاص طور پر حساس اور توہم پرست سمجھے جاتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’قبرستان کے قریب واقع اپارٹمنٹ بھی کرائے پر چڑھانا مشکل ہوتا ہے، خاص طور پر اگر باورچی خانے کی کھڑکی سے قبریں نظر آتی ہوں۔‘ ان کے مطابق سب سے مشکل صورتحال وہ ہوتی ہے جب کسی اپارٹمنٹ میں خودکشی ہوئی ہو۔
’اگر کسی نے عمارت کی چھت سے چھلانگ لگا کر جان دی ہو تو بھی بہت سے کرایہ دار وہاں رہنا پسند نہیں کرتے۔ اسی طرح سنگین جرائم یا تنہائی میں ہونے والی اموات بھی جائیداد کی کشش کم کر دیتی ہیں۔‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ مغربی ممالک میں کسی شخص کے اکیلے مر جانے کو عموماً گھر کی قیمت پر اثر انداز ہونے والا عنصر نہیں سمجھا جاتا، لیکن جاپان میں یہی وجہ بعض اوقات جائیداد کی قیمت نمایاں طور پر کم کر دیتی ہے۔ جاپان کے جنوب مغربی علاقے کاگوشیما میں رہنے والی ڈیان ٹنچر نے بھی ایک ایسا ہی تین بیڈروم کا گھر تقریباً آدھی قیمت پر خریدا، کیونکہ وہاں پہلے ایک شخص تنہائی میں وفات پا گیا تھا۔
’اگر کوئی بھوت ہے تو میں اس کی شکر گزار ہوں‘
79 سالہ امریکی ڈیان ٹنچر تقریباً چار دہائیوں سے جاپان میں مقیم ہیں اور بطور ٹور گائیڈ کام کرتی رہی ہیں۔
ان کے مطابق اسٹیٹ ایجنٹ نے خریداری کے وقت واضح طور پر بتایا تھا کہ گھر کی کم قیمت کی وجہ یہ ہے کہ یہاں ایک معمر خاتون تنہا وفات پا گئی تھیں، جس کے بعد یہ جائیداد مقامی تصور کے مطابق ’داغدار‘ سمجھی جانے لگی۔
ٹنچر نے یہ گھر دو کروڑ ین میں خریدا، جبکہ اسی علاقے میں اسی طرح کے مکانات عام طور پر ساڑھے چار کروڑ ین تک میں فروخت ہوتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں، ’میں بھوتوں پر یقین نہیں رکھتی، لیکن مجھے معلوم ہے کہ جاپانی لوگ اس معاملے میں کافی توہم پرست ہیں۔‘ وہ ہنستے ہوئے مزید کہتی ہیں، ’اگر واقعی کوئی بھوت ہے تو میں ہر روز اس کی شکر گزار ہوں، کیونکہ اسی کی بدولت مجھے اتنا خوبصورت اور نسبتاً کم قیمت گھر مل سکا ہے۔‘
ٹنچر کی کہانی اس رجحان کی ایک دلچسپ مثال ہے کہ جاپان میں بعض لوگ بھوتوں یا نام نہاد ’داغدار‘ جائیدادوں سے گریز کرتے ہیں، جبکہ دوسرے خریدار اسی وجہ سے کم قیمت پر بہتر گھر حاصل کرنے کا موقع سمجھتے ہیں۔
گھر کے بارے میں معلومات تلاش کرتے ہوئے ڈیان ٹنچر کو یہ جائیداد اوشیما لینڈ نامی ویب سائٹ پر ملی، جو جاپان بھر میں موجود جیکو بُکّین (داغ دار یا حادثاتی جائیدادوں) کی فہرست شائع کرتی ہے اور ان سے وابستہ واقعات کی تفصیلات بھی فراہم کرتی ہے۔
اس ویب سائٹ کا آغاز 2005 میں ٹوکیو میں ہوا تھا، جسے بعد ازاں 2011 میں پورے جاپان اور پھر بین الاقوامی سطح تک وسعت دی گئی۔ یہ ایک عوامی تعاون پر مبنی پلیٹ فارم ہے، جہاں عام لوگ خود ایسی جائیدادوں اور ان سے متعلق واقعات کا اندراج کرتے ہیں۔
اوشیما لینڈ کے بانی تیرو اوشیما کے مطابق ماضی میں ایسی جائیدادیں جاپان میں زیادہ پسند نہیں کی جاتی تھیں اور زیادہ تر لوگ ان سے گریز کرتے تھے۔
تاہم حالیہ برسوں میں گھروں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مہنگائی کے باعث رویوں میں تبدیلی آئی ہے۔ سنہ 2025 میں کیے گئے ایک سروے سے معلوم ہوا کہ جاپان میں نصف سے زیادہ افراد قیمت میں خاطر خواہ رعایت ملنے کی صورت میں جیکو بُکّین جائیداد کرائے پر لینے کے لیے تیار ہیں۔
دوسری جانب ٹوکیو کے علاقے سیٹاگایا میں رہنے والی ریوا کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مبینہ ’بھوت زدہ‘ فلیٹ میں مطمئن ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میرا ماننا ہے کہ بھوت بھی کبھی زندہ انسان تھے، اس لیے وہ ہمارے احترام کے مستحق ہیں۔‘ ریوا کے نزدیک ایسے تجربات خوف کا باعث بننے کے بجائے اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ مرنے والوں کے ساتھ بھی احترام اور ہمدردی کا رویہ اختیار کیا جانا چاہیے۔