آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
گرل فرینڈ کو دیے گئے کروڑوں روپے کے تحائف کی واپسی کا دعویٰ مسترد، عدالتی فیصلے میں محبت، نفرت اور جہنم کا تذکرہ
- مصنف, کیلی اینجی
- عہدہ, بی بی سی ، سنگاپور
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
سنگاپور کے ایک شخص کو اپنی سابق گرل فرینڈ پر خرچ کی گئی لاکھوں ڈالر کی رقم واپس لینے کے لیے دائر مقدمے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
سنگاپور کی ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ چندر اگروال نامی شخص نے اپنی گرل فرینڈ فیلیشا لی پر 369,200 امریکی ڈالر (تقریباً ساڑھے دس کروڑ پاکستانی روپے) اپنی مرضی سے خرچ کیے تھے، اِس لیے اب وہ اس رقم کو واپس لینے کے حقدار نہیں ہیں۔
سینیئر جج لی سیو کن نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ رومانوی تعلق قائم ہونے سے پہلے ہی چندر اگروال، فیلیشیا لی نامی خاتون کو مسلسل مہنگے تحائف دیتے رہے تھے اور یہ سلسلہ بعد میں بھی جاری رہا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چندر اگروال اس پورے معاملے کے دوران بارہا یہ تاثر بھی دیتے رہے کہ وہ ان تحائف یا ان پر اٹھنے والے اخراجات کی واپسی کی توقع نہیں رکھتے تھے۔
دوران سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ ایک لاجسٹکس کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو افسر کے طور پر کام کرنے والے چندر اگروال کی سابق ایئر ہوسٹس (فضائی میزبان) فیلیشیا لی سے پہلی ملاقات سنہ 2019 میں ایک پرواز کے دوران ہوئی تھی۔
یہ دونوں ستمبر 2022 سے دسمبر 2023 تک رومانوی تعلق میں رہے۔
بعد میں اُن کے تعلقات اُس وقت خراب ہوئے جب چندر اگروال کو شبہ ہوا کہ فیلیشا لی کسی اور کے ساتھ بھی تعلق میں ہیں۔
مارچ 2024 میں دائر کیے گئے مقدمے میں چندر اگروال نے مؤقف اختیار کیا کہ فلیشیا لی نے اُن کے ساتھ تعلق کے دوران مختلف مواقع پر اُن سے رقم بطور قرض بھی لی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عدالت کو اُن کی جانب سے فراہم کردہ قرض کی تفصیل کے مطابق اِن رقوم میں کریڈٹ کارڈ کے اخراجات کے لیے دو لاکھ چھ ہزار سنگاپوری ڈالر، بیرون ملک سفر کے لیے ایک لاکھ 29 ہزار سنگاپوری ڈالر، اپارٹمنٹ کی مد میں 17 ہزار سنگاپوری ڈالر اور لائف انشورنس کے پریمیئم کی ادائیگی کے لیے 20 ہزار سنگاپوری ڈالر شامل تھے۔
دوسری جانب فیلیشیا لی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ یہ تمام رقم قرض نہیں بلکہ محبت اور تعلق کے اظہار کے طور پر دیے گئے تحائف تھے۔
فیلیشیا لی کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے جج نے حکمنامے میں لکھا کہ چندر اگروال کے مقدمے میں قابل قبول دستاویزی شواہد موجود نہیں ہیں۔
فیصلے میں لکھا گیا کہ ’مثال کے طور پر، وہ اس بات کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے کہ فیلیشیا لی نے اِن قرضوں کی وصولی کے طور پر اُن کے ساتھ کوئی معاہدہ یا ثبوت داخل کیا، یعنی وہ شواہد جو ظاہر کر سکیں کہ ان قرضوں کے حصول کی درخواست فیلیشیا لی نے کی تھی۔‘
جج نے کہا کہ ’میرے سامنے موجود شواہد واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ مدعی (چندر اگروال)، جو مدعا علیہ (فیلیشیا لی) سے شدید متاثر تھے، اور اپنے تعلق کے دوران انھوں نے مہنگے تحائف اور نوازشات کی بھرمار کی۔‘
جج کے مطابق ’بدقسمتی سے، جب اُن کا تعلق ناخوشگوار انداز میں ختم ہوا تو چندر اگروال برہم ہو گئے اور انھوں نے اپنی گرل فرینڈ سے کسی نہ کسی قیمت کی وصولی کی ٹھان لی۔‘
جج نے تحریر کیا کہ ’چندر اگروال واضح طور پر ایک خوشحال شخص ہیں، جن کے ذوق و شوق مہنگے تھے جبکہ فیلیشیا لی اُس کلاس سے تعلق نہیں رکھتی تھیں۔‘
فیصلے کے مطابق ’متعدد ٹیکسٹ میسیجزمیں فیلیشیا لی نے اُس وقت حیرت کا اظہار کیا جب اگروال نے اُن کے لیے مہنگے تحائف تجویز کیے اور بعض مواقع پر فیلیشیا لی نے انھیں قبول کرنے میں ہچکچاہٹ بھی ظاہر کی۔‘
اپنے تحریری فیصلے کے اختتام پر جج نے انگریز ڈرامہ نگار ولیم کانگریو کا حوالہ دیا، جنھوں نے اپنے ڈرامے ’دا مورننگ برائیڈ‘ میں لکھا تھا کہ ’آسمان میں بھی کہیں ایسی کوئی غضبناکی نہیں جیسی محبت کے نفرت میں بدل جانے پر ہوتی ہے اور نہ جہنم میں ایسی کوئی شدت ہے جیسی ایک ٹھکرائی ہوئی عورت میں ہوتی ہے۔‘
جج نے یہ ڈائیلاگ تحریر کرنے کے بعد لکھا کہ ’یہ مقدمہ ظاہر کرتا ہے کہ ایسے جذبات صرف ایک ہی جنس تک محدود نہیں ہیں۔‘
یاد رہے کہ سنہ 2023 کے اوائل میں سنگاپور سے ہی تعلق رکھنے والے ایک شہری کوشگن نے نورا تان نامی ایک خاتون کے خلاف اسی نوعیت کے دو مقدمے دائر کیے تھے، نورا نے کوشگن کی رومانوی پیش قدمی کی کوششوں کو ٹھکرا دیا تھا۔
اِن مقدمات میں کوشگن کی جانب سے مجموعی طور پر 30 لاکھ سنگاپوری ڈالر سے زیادہ کے تحائف واپس لینے دعوے کیے گئے تھے۔
تاہم سنگاپور کی عدالت نے ان مقدمات کو بھی خارج کر دیا تھا۔