آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
55 سال بعد ’ہنگور‘ کی واپسی: پاکستانی بحریہ کی نئی آبدوزوں میں خاص کیا ہے اور اُن کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
- مصنف, منزہ انوار
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 11 منٹ
پاکستان نیوی کی پہلی ہنگور کلاس آبدوز کراچی کی بندرگاہ پر پہنچ گئی ہے، مگر یہ محض ایک نئی آبدوز کی آمد نہیں بلکہ ایک ایسے نام کی واپسی بھی ہے جو پاکستان کی بحری تاریخ کا حصہ ہے۔
’ہنگور‘ سمندر کی ایک ایسی شارک کو کہا جاتا ہے جو خاموشی سے اپنے شکار کا تعاقب کرتی ہے، مناسب موقع کا انتظار کرتی ہے اور پھر اچانک وار کرتی ہے۔
سنہ 1971 میں پاکستان نیوی کی آبدوز ’ہنگور‘ اور انڈین جنگی جہاز ’آئی این ایس کھکری‘ کا سمندر میں ہونے والا آمنا سامنا ایک معروف قصہ ہے اور اب تقریباً 55 سال بعد اسی نام کی ایک ’نئی اور جدید‘ آبدوز پاکستان کے سب میرین بیڑے میں شامل ہوئی ہے۔
پاکستان اور چین کے دفاعی تعاون کے تحت تیار کی گئی ’پی این ایس ایم ہنگور‘، پاکستان نیوی کے مطابق جدید جنگی نظاموں، نئے سینسرز، ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن (اے آئی پی) ٹیکنالوجی اور بہتر سٹیلتھ خصوصیات سے لیس ہے۔
یہ آبدوز پاکستان کے سب سے بڑے بحری دفاعی منصوبوں میں سے ایک کا حصہ ہے، جس کے تحت آئندہ برسوں میں مجموعی طور پر آٹھ آبدوزیں پاکستان نیوی کے بیڑے میں شامل کی جائیں گی۔
لیکن سوال یہ ہے کہ ہنگور کلاس آبدوزوں میں ایسی کیا خاص بات ہے؟ پاکستان کو اس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اور کیا ان کی شمولیت بحرِہند میں طاقت کے توازن پر اثر ڈال سکتی ہے؟ بی بی سی اُردو نے اس حوالے سے اس شعبے کے ماہرین سے بات کی ہے۔
مگر اس سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ آبدوزیں دراصل کتنی قسم کی ہوتی ہیں؟
آبدوزوں کی اقسام
ماہرین کے مطابق آبدوزوں کو اُن کے پروپلشن نظام کی بنیاد پر تین بنیادی اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈیزل الیکٹرک آبدوزیں
یہ ڈیزل انجن اور بیٹریوں سے چلتی ہیں۔ یہ نسبتاً کم لاگت اور خاموش ہوتی ہیں، لیکن بیٹریاں چارج کرنے کے لیے انھیں وقتاً فوقتاً سطحِ آب کے قریب آنا یا سنورکل استعمال کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کے سراغ لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ پاکستان نیوی کی ابتدائی ڈیفنے کلاس اور اگوسٹا کلاس آبدوزیں اسی زمرے سے تعلق رکھتی تھیں۔
ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن (آے آئی پی) آبدوزیں
یہ جدید روایتی آبدوزیں ہیں جن میں ایسا نظام نصب ہوتا ہے جو انھیں طویل عرصے تک زیرِ آب رہنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ان آبدوزوں کو بیٹری چارج کرنے کے لیے بار بار سطحِ آب پر آنے کی ضرورت نہیں پڑتی، جس سے ان کے خفیہ رہنے اور دشمن کی نظروں سے اوجھل رہنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔
ہنگور کلاس اور اپ گریڈ شدہ اگوسٹا 90 بی آبدوزیں اسی قسم کی آبدوزوں کی مثال ہیں۔ ان کی خاموشی اور طویل مدت تک زیرِ آب رہنے کی صلاحیت انھیں ساحلی اور محدود سمندری علاقوں میں خاص طور پر مؤثر بناتی ہے۔
جوہری طاقت سے چلنے والی آبدوزیں
یہ ایک جوہری ری ایکٹر سے توانائی حاصل کرتی ہیں، جس کی بدولت یہ مہینوں تک بغیر سطح پر آئے زیرِ آب رہ سکتی ہیں اور طویل فاصلے تک کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کی رفتار، آپریشنل رینج اور برداشت روایتی آبدوزوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔
جوہری آبدوزیں عموماً دو بڑی اقسام میں تقسیم کی جاتی ہیں: حملہ آور آبدوزیں(ایس ایس این)، جو دشمن کے بحری جہازوں اور آبدوزوں کے خلاف استعمال ہوتی ہیں، اور بیلسٹک میزائل بردار آبدوزیں (ایس ایس بی این)، جو جوہری قوت کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہیں۔ امریکہ، روس، چین، برطانیہ، فرانس اور انڈیا ان ممالک میں شامل ہیں جن کے پاس جوہری آبدوزیں موجود ہیں۔
پاکستان نیوی میں آبدوزوں کا سفر کہاں سے شروع ہوا؟
ماہرین کے مطابق پاکستان نیوی کی آبدوز سروس کی بنیاد 1960 کی دہائی میں امریکہ سے حاصل کی گئی ٹینچ کلاس آبدوزوں سے پڑی۔
بعد ازاں فرانس سے ڈیفنے کلاس اور اگوسٹا کلاس آبدوزیں حاصل کی گئیں۔ وقت کے ساتھ پاکستان نے نہ صرف ان آبدوزوں کو چلانے کا تجربہ حاصل کیا بلکہ ان کی مرمت اور بعد ازاں مقامی تعمیر کی صلاحیت بھی پیدا کی۔
اگوسٹا پروگرام کے دوران ٹیکنالوجی کی منتقلی کے تحت دو آبدوزیں پاکستان میں تیار کی گئیں۔ پاکستان نیوی کے مطابق یہی تجربہ بعد میں ہنگور کلاس پروگرام کی بنیاد بنا۔
اس منصوبے کی بنیاد اپریل 2015 میں چینی صدر شی جن پنگ کے اسلام آباد کے سرکاری دورے کے دوران رکھی گئی۔
اپریل 2015 میں چینی صدر شی جن پنگ کے اسلام آباد کے سرکاری دورے کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان آٹھ ہنگور کلاس آبدوزوں کی تیاری کا معاہدہ ہوا۔ منصوبے کے تحت چار آبدوزیں ووہان، چین میں ووچانگ شپ بلڈنگ انڈسٹری گروپ میں جبکہ چار کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس میں ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ذریعے تیار کی جا رہی ہیں۔
ہنگور کلاس میں نیا کیا ہے؟
پاکستان نیوی کے مطابق ہنگور کلاس آبدوزیں جدید چینی ٹائپ 039 بی یوان کلاس (Type 039B Yuan-Class) ڈیزائن پر مبنی ہیں جنھیں پاکستان نیوی کی عملی ضروریات کے مطابق ڈھالا گیا ہے۔
ان میں آواز جذب کرنے والی تہیں، کم شور پیدا کرنے والی مشینری اور جدید صوتی نظام نصب ہیں، جو روایتی آبدوزوں کے مقابلے میں ان کی شناخت اور سراغ لگانے کے امکانات کو نمایاں طور پر کم کرتے ہیں۔
اِن آبدوزوں میں جدید ریڈار، سونار، الیکٹرانک سپورٹ میژرز اور اوپٹرونک سکوپس نصب ہیں جو سطحِ آب اور زیرِ آب دونوں ماحول میں بہتر نگرانی اور ہدف شناسی کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔ اس سے عملے کو اردگرد کی صورتحال کا بہتر اندازہ ہوتا ہے اور فیصلہ سازی میں مدد ملتی ہے۔
ہتھیاروں کے لحاظ سے ہنگور کلاس آبدوزیں ہیوی ویٹ ٹارپیڈوز اور اینٹی شپ کروز میزائل استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جس کے باعث یہ دشمن کے بحری جہازوں، آبدوزوں اور بعض صورتوں میں زمینی اہداف کو بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
پاکستان نیوی کے مطابق یہ بات اہم ہے کہ ہنگور کلاس آبدوزوں کا کردار محض ہتھیاروں کے استعمال تک محدود نہیں بلکہ وسیع تر سٹریٹجک مقصد کی تکمیل بھی ہے۔ یہ آبدوزیں بنیادی طور پر تین اہم فرائض انجام دیتی ہیں: سمندری راستوں کو دشمن کے لیے غیر محفوظ بنانا، دشمن کے جنگی جہازوں اور آبدوزوں کا سراغ لگا کر انھیں نشانہ بنانا، اور خفیہ معلومات اکٹھی کرنا۔ اسی وجہ سے آبدوز کو ایک خاموش مگر انتہائی اہم سٹریٹجک ہتھیار سمجھا جاتا ہے، نہ کہ صرف ایک روایتی جنگی پلیٹ فارم۔
اس کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن (اے آئی پی) نظام ہے۔ عام ڈیزل الیکٹرک آبدوزوں کو بیٹریاں چارج کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً سطحِ آب کے قریب آنا پڑتا ہے، جبکہ اے آئی پی آبدوزیں زیادہ عرصے تک زیرِ آب رہ سکتی ہیں۔ اس سے یہ آبدوز طویل مدت تک خاموشی سے اپنے مشن انجام دے سکتی ہے اور دشمن کے لیے اس کا سراغ لگانا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
لیکن اصل طاقت صرف اے آئی پی یا خاموشی نہیں بلکہ دونوں کا امتزاج ہے۔ یعنی ہنگور کلاس آبدوز دشمن کی نظروں سے دور رہتے ہوئے زیادہ دیر تک سمندر میں موجود رہ سکتی ہے۔ یہی ’سٹیلتھ اور برداشت‘ اسے عملی طور پر زیادہ مؤثر بناتا ہے کیونکہ یہ مسلسل حرکت بھی کر سکتی ہے اور پکڑی بھی نہیں جاتی۔
’سب سے بڑا فرق ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن سسٹم ہے جس کی وجہ سے آبدوز زیادہ دیر تک چھپی رہ سکتی ہے‘
پاکستان نیوی کے وائس ایڈمرل احمد تسنیم (ریٹائرڈ) ملک کی پہلی آبدوز ’غازی‘ کے سیکنڈ ان کمانڈ رہے۔
انھوں نے 1971 کی انڈیا پاکستان جنگ کے دوران ہنگور کی کمان کی تھی۔
بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ سب سے بڑا فرق ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن سسٹم ہے جس کی وجہ سے آبدوز زیادہ دیر تک چھپی رہ سکتی ہے اور یہی اصل برتری ہے۔
وائس ایڈمرل احمد تسنیم (ریٹائرڈ) کے مطابق ان کے زمانے میں آبدوزوں کو بیٹریاں چارج کرنے کے لیے بار بار سطح آب کے قریب آنا پڑتا تھا جبکہ نئی ہنگور کلاس آبدوزوں کو اس کی ضرورت بہت کم پیش آتی ہے۔ اس لیے یہ زیادہ خفیہ رہتی ہے اور یہ بڑا فائدہ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں کی رینج بھی بڑھ چکی ہے۔ ’پہلے ہم ٹارپیڈوز اور بعد میں ہارپون میزائل استعمال کرتے تھے۔ اب زیادہ جدید اور زیادہ رینج والے ہتھیار ہیں۔ وارہیڈز بھی مختلف ہیں۔ سینسرز بھی بہتر ہیں۔ شور بھی کم ہے۔ اور مجموعی طور پر یہ ایک کہیں زیادہ بہتر اور مؤثر آبدوز ہے۔‘
کموڈور سید محمد عبیداللہ (ریٹائرڈ) 36 سال تک پاکستان نیوی سے وابستہ رہے ہیں۔
بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے اے آئی پی سسٹم کے متعلق وہ بتاتے ہیں کہ ’یہ ہماری موجودہ اور نئی آبدوزوں میں آپریشنل صلاحیت کو بہت بڑھا دے گا۔‘
ان کے مطابق پاکستان نیوی کی کچھ آبدوزوں میں پہلے ہی اے آئی پی موجود ہے۔
آٹھ نئی آبدوزوں کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
نئی آبدوزوں کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ احمد تسنیم اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’بنیادی طور پر یہ نئی آبدوزیں پرانی کا متبادل ہیں۔‘
ان کے مطابق پرانی آبدوزیں تقریباً 35 سال کی عمر رکھتی ہیں اور 1960 اور 1970 کی دہائی میں حاصل کی گئی آبدوزیں اپنی آپریشنل عمر مکمل کر چکی تھیں، لہذا انھیں تبدیل کرنا ناگزیر تھا کیونکہ کوئی بھی آبدوز 55 سال نہیں چلتی۔
ان کا کہنا ہے کہ ’یہ صرف ریپلیسمنٹ ہے، کسی سے مقابلہ نہیں۔‘
اس حوالے سے کموڈور سید محمد عبیداللہ (ریٹائرڈ) کا کہنا ہے کہ ’دنیا بھر کی بحری افواج خود کو مسلسل اپڈیٹ رکھتی ہے تاکہ مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ پاکستان نیوی پورے خطے میں ایران، خلیج، جی سی سی، سری لنکا، انڈیا وغیرہ سب سے پرانی آبدوز آپریٹر ہے۔
’ہم بنیادی طور پر ڈیزل الیکٹرک آبدوزیں چلاتے رہے، پہلے ڈیفنے کلاس، پھر اگوسٹا کلاس۔ اب ہمیں جدید ترین ٹیکنالوجی کی ضرورت تھی تاکہ مستقبل کے خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اسی لیے یہ قدم لیا گیا۔ ہر نیوی بہتر اور جدید آلات چاہتی ہے۔‘
وائس ایڈمرل احمد تسنیم (ریٹائرڈ) کہتے ہیں کہ ’انڈین آبدوزیں بھی ہمارے لیے چیلنج ہیں۔ ان کے پاس نیوکلیئر آبدوزیں بھی ہیں جو تیز ہیں لیکن زیادہ شور کرتی ہیں۔ ان کے پاس اچھے ہتھیار ہیں لیکن ان کے مسائل بھی ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کے بھی مسائل ہیں مگر ہماری موٹیویشن اور تجربہ بہت مضبوط ہے۔‘
کموڈور سید محمد عبیداللہ (ریٹائرڈ) بتاتے ہیں کہ اگرچہ انڈیا کے پاس 20 آبدوزیں ہیں لیکن ان کے پاس اے آئی نظام نہیں ہے۔
یہ آبدوزیں کتنی اہم ہیں؟
بحرِ ہند میں چین، انڈیا اور دیگر علاقائی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی بحری سرگرمیوں کے باعث آبدوزوں کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔
پاکستان نیوی کے سابق افسران اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پاکستان کی بحری حکمت عملی بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کی ہے اور اس کا مقصد کسی علاقے پر قبضہ کرنا نہیں، بلکہ دشمن کو حملے سے باز رکھنا ہے۔
کموڈور سید محمد عبیداللہ (ریٹائرڈ) اسے ’ایریا ڈینائل‘ کی حکمت عملی قرار دیتے ہیں، یعنی ہم دشمن کو اس حد تک آنے سے روکنا چاہتے ہیں جہاں وہ خطرہ بن سکے۔
’اگر دشمن قریب نہ آ سکے تو وہ خطرہ نہیں بن سکتا اور یہی ہماری حکمت عملی ہے۔‘
تاہم دفاعی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ آٹھ نئی اے آئی پی آبدوزوں کی شمولیت پاکستان کی زیرِ آب جنگی صلاحیت، خفیہ کارروائیوں اور سمندری مواصلاتی راستوں کے دفاع میں نمایاں اضافہ کرے گی۔
پاکستان چین دفاعی تعاون: ’ہنگور پروجیکٹ صرف آبدوزوں کی خریداری تک محدود نہیں‘
ایک سابق فوجی کے طور پر وائس ایڈمرل احمد تسنیم (ریٹائرڈ) کا کہنا ہے کہ ’ہمیں ایسے ملک کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے جو مشکل وقت میں ہمیں چھوڑے نہیں۔ چین ہمارا قابل اعتماد دوست ہے۔ ماضی میں ہمیں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا، اس لیے سپیئر پارٹس اور لاجسٹکس میں چین پر انحصار اہم ہے۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ غازی 1964 میں آئی اور 1965 کی جنگ میں اس پر پابندیاں اور اسلحہ جاتی بندش (ایمبارگو) لگا دی گئی تھی۔ ’تو ایسی آبدوز کا کیا فائدہ جس کے سپیئر پارٹس پر پابندی ہو؟ اس سے سبق ملتا ہے کہ قابل اعتماد پارٹنر ضروری ہے۔‘
وائس ایڈمرل احمد تسنیم (ریٹائرڈ) کے مطابق کہ انھیں غازی کو کیپ آف گُڈ ہوپ کے راستے ترکی لے جانا پڑا تاکہ اس کی ریفٹ کروائی جا سکے کیونکہ جنگ کے بعد اسے کچھ مرمت کی ضرورت تھی اور ہمیں پورا لمبا راستہ اختیار کرنا پڑا۔ سویز نہر بند تھی، اس لیے ہمیں کیپ کے گرد گھوم کر ترکی جانا پڑا۔
پاکستان نیوی کے مطابق ہنگور پروجیکٹ صرف آبدوزوں کی خریداری تک محدود نہیں ہے۔
چار آبدوزوں کی کراچی میں تیاری، پاکستان کے لیے ٹیکنالوجی کی منتقلی، انجینیئرنگ مہارت اور مقامی آبدوز سازی کی صلاحیت پیدا کرنے کا بھی ذریعہ بن رہی ہے۔
پاکستان نیوی کے مطابق اس پروگرام کے تحت ڈیزائن، تیاری، ہتھیاروں کے انضمام، معیار کی یقین دہانی اور انجینیئرز کی تربیت جیسے شعبوں میں مہارت منتقل کی جا رہی ہے۔
اسی لیے ہنگور کلاس کو صرف ایک نئی آبدوز نہیں بلکہ پاکستان کی بحری صنعت کے لیے ایک طویل المدتی سرمایہ کاری بھی سمجھا جا رہا ہے۔
نصف صدی پہلے ہنگور ایک جنگی کارنامے کی علامت بنی تھی۔ آج اسی نام کی نئی آبدوز پاکستان کے بحری بیڑے میں شامل ہو رہی ہے۔ فرق یہ ہے کہ یہ محض ایک آبدوز نہیں بلکہ ایک پروجیکٹ، نئی ٹیکنالوجی اور مستقبل کی بحری حکمت عملی کے متعلق ہے۔