آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مکہ معاہدے میں بنگلہ دیش کی شمولیت پر ڈھاکہ میں کیا بحث ہو رہی ہے اور پاکستان کا کیا موقف ہے؟
رواں ماہ کے آغاز میں سعودی عرب کے شہر مکہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ طے پائے جانے کے بعد سے اس میں دیگر مسلم ممالک کی شمولیت کے حوالے سے خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔
اسی تناظر میں بنگلہ دیش کے اس اتحاد میں شمولیت کے حوالے سے خبروں نے اس وقت مزید زور پکڑا جب بنگلہ دیش کے وزیرِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ اگر ڈھاکہ کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو شمولیت کی دعوت دی گئی تو وہ اسے ’مثبت‘ انداز‘ میں دیکھے گا۔
دوسری جانب پاکستان کا کہنا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کی کسی بھی باضابطہ درخواست پر ریاض اور انقرہ کے ساتھ مشاورت کے بعد غور کیا جائے گا۔
’یہ مسلم خاندان کا اندرونی معاملہ ہے، اس بارے میں کسی اور کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں‘
جمعرات کے روز بنگلہ دیش کے وزیرِ خارجہ خلیل الرحمٰن سے پارلیمان میں سوال کیا گیا کہ اگر ڈھاکہ مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہوتا ہے تو اس سے ملک کو کیا فائدہ ہو گا۔
اس سوال کے جواب میں خلیل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ’یہ معاہدہ تین ممالک کے درمیان طے پایا ہے۔ ہم اسے مثبت نظر سے دیکھتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ فی الحال اس معاہدے میں شامل ہونے یا نہ ہونے کا سوال پیدا نہیں ہوتا کیونکہ اس کا انحصار معاہدے کے رکن ممالک کی خواہش پر ہے۔ ’اگر وہ اس معاہدے میں بنگلہ دیش کو شامل کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں تو ہم یقیناً اسے مثبت انداز میں دیکھیں گے۔‘
خلیل الرحمٰن نے کہا کہ اس مرحلے پر معاہدے کے فوائد اور نقصانات پر بحث کرنا ضروری نہیں لیکن ضرورت پڑنے پر حکومت اس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔
وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ’ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر یہ معاہدہ آگے بڑھتا ہے تو یہ دنیا بھر کی مسلم برادری کی سلامتی کے لیے ایک قدم ہوگا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’یہ ہمارا خاندان ہے، مسلم خاندان۔ یہ مسلم خاندان کا اندرونی معاملہ ہے۔ اس کے بارے میں کسی اور کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔‘
اس سے قبل رواں ہفتے بنگلہ دیش کے وزیر مملکت برائے خارجہ ہمایوں کبیر نے کہا تھا کہ بنگلہ دیش مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
وزارتِ خارجہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کے حوالے سے ردِعمل دیتے ہوئے ہمایوں کبیر کا کہنا تھا کہ ’ہم نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ بنگلہ دیش کے عوام کا مکہ کے ساتھ جذباتی تعلق ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں اسلامی ممالک کے درمیان کوئی سکیورٹی معاہدہ موجود ہے تو اس میں شامل ہونے کی خواہش کوئی غیر معمولی بات نہیں ہوگی۔
’دیکھیے آگے کیا ہوتا ہے۔ ہم اس معاملے کو مثبت انداز میں دیکھ رہے ہیں۔‘
پاکستانی دفترِ خارجہ کا کیا کہنا ہے؟
جمعرات کے روز اسلام آباد میں وزارتِ خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہرا اندرابی سے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں دیگر ممالک کی شمولیت کے متعلق سوال کیا گیا کہ بنگلہ دیش کے وزیرمملکت برائے خارجہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے جبکہ اس سے قبل ایران اور شام نے بھی اس معاملے میں دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ایک دفاعی فریم ورک ہے جس کا مقصد امن کا تحفظ اور خطے میں استحکام کو فروغ دینا ہے۔
طاہر اندرابی کے مطابق ’مکہ دفاعی معاہدہ ایک ارتقا پذیر سکیورٹی ڈھانچہ ہے اور یہ ان تمام ممالک کے لیے کھلا ہے جو اجتماعی ذمہ داریوں اور مشترکہ سکیورٹی مفادات کے حوالے سے اس کے عزم میں شریک ہوں۔‘
’اس میں شمولیت کی کسی بھی باضابطہ درخواست پر ریاض اور انقرہ میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ مشاورت کے بعد غور کیا جائے گا۔‘
تاہم ان کا کہنا تھا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کو عملی شکل دینے کا عمل ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔
ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کی مکہ معاہدے میں شمولیت کے متعلق کیا رائے پائی جاتی ہے؟
بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی کے امیر ڈاکتر شفیق الرحمٰن کا کہنا ہے کہ مکہ معاہدے میں شامل ہونے کا فیصلہ بنگلہ دیش کا داخلی معاملہ ہے۔
’اگر بنگلہ دیش ملک اور اپنے عوام کی ضروریات اور مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی فیصلہ کرتا ہے تو اس کی وجہ سے کسی اور کو پریشان یا مضطرب نہیں ہونا چاہیے۔‘
تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بنگلہ دیش کی اس دفاعی اتحاد میں شمولیت سے ڈھاکہ کو عسکری اور معاشی شعبوں میں فوائد تو حاصل ہو سکتے ہیں لیکن اس سے جنوبی ایشیا میں سیاسی کشیدگی بڑھنے کا بھی خطرہ ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کے ماہر پروفیسر صاحب انعام خان نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ اگر بنگلہ دیش اس دفاعی اتحاد میں شامل ہوتا ہے تو اس سے اسے عسکری اور معاشی شعبوں میں فوائد حاصل ہو سکتا ہے۔
صاحب انعام خان کے مطابق بنگلہ دیش کے پاس دفاعی صلاحیتیں محدود ہیں۔ ان کے بقول سعودی عرب معاشی طاقت رکھتا ہے، جبکہ ترکی اور پاکستان عسکری قوت اور حکمتِ عملی کے حوالے سے اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ ’اس لیے اگر یہ تینوں ممالک مل کر کام کریں تو بنگلہ دیش کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کے لیے ایک اور اہم مسئلہ روہنگیا مسلمانوں کا ہے۔ 'بنگلہ دیش روہنگیا مسئلے کے حل کا خواہاں ہے اور اس کا خیال ہے کہ پاکستان، ترکی اور چین اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔'
اگرچہ اس اتحاد میں شمولیت کے ممکنہ فوائد موجود ہیں، لیکن تجزیہ کار اس سے جڑے خطرات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔
تجزیہ کار الطاف پرویز کا کہنا ہے کہ اگر بنگلہ دیش اس اتحاد میں شامل ہوتا ہے تو اس سے انڈیا کی تشویش میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کے نزدیک یہ بنگلہ دیش کے لیے ایک ممکنہ خطرے کا پہلو بھی ہے۔
الطاف پرویز نے بی بی سی بنگلہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس سے انڈیا خود کو غیر محفوظ محسوس کر سکتا ہے اور اس کا فوری ردِعمل سامنے آ سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے اس کے بعد انڈیا اور اسرائیل کی قربت میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ اسرائیل بھی اس معاملے میں انڈیا کے ساتھ تعاون میں دلچسپی لے سکتا ہے۔
پروزی ملک کے مطابق اس سے جنوبی ایشیا میں عسکری کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’یہ کشیدگی جنوبی ایشیا میں پراکسی جنگوں اور پراکسی گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ اس تناظر میں بنگلہ دیش کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔‘
’اگر بنگلہ دیش اس معاہدے کی طرف جاتا ہے تو اسے ایک قسم کے خطرات کا سامنا ہوگا، اور اگر وہ اس سے دور رہتا ہے تو دوسری نوعیت کے خطرات موجود رہیں گے۔‘
’یہ مشرق میں پاکستان کے سٹریٹیجک اثر و رسوخ میں ایک اہم توسیع ہوگی‘
انڈین صحافی اور مصنف غزالہ وہاب ایکس پر لکھتی ہیں کہ ’اگر بنگلہ دیش مکہ معاہدے میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ اس اجتماعی سکیورٹی فریم ورک میں جو کہ اب تک بنیادی طور پر مغربی ایشیا تک محدود تھا، جنوبی ایشیا کا ایک نیا پہلو شامل کر دے گا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’بنگلہ دیش کی شمولیت کے بغیر مکہ معاہدے کو مغربی ایشیا سے امریکی فوجیوں کے ممکنہ انخلا کی پیش بندی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ خلیجی ممالک پاکستان کی موجودگی اور بالواسطہ طور پر چین کے اثر و رسوخ سے تحفظ کا احساس حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔‘
ان کے مطابق تاہم بنگلہ دیش کی شمولیت سے صورتحال یکسر طور پر بدل جائے گی۔
غزالہ وہاب کہتی ہیں کہ اس سے انڈیا کے شمال مشرقی خطے کی کمزوریوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کے ساتھ کسی تنازع یا جنگ کی صورت میں انڈیا کے لیے بنگلہ دیش کی سرحد پر محض بارڈر سکیورٹی فورس تعینات کرنا کافی نہیں ہو گا بلکہ اسے مزید اضافی فوجی دستے بھی لگانے پڑیں گے۔‘
’اس طرح انڈیا کو بیک وقت تین سرحدی محاذوں پر ممکنہ خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘
پاکستانی صحافی اور تجریہ کار رضا رومی کہتے ہیں کہ ’اگر بنگلہ دیش اس معاہدے میں شامل ہو جاتا ہے تو مکہ معاہدہ تین ممالک کے درمیان دفاعی انتظام سے بڑھ کر ایک وسیع تر مسلم سکیورٹی ڈھانچے کی بنیاد بن سکتا ہے۔‘
وہ ایکس پر اپنے اکاؤنٹ پر لکھتے ہیں کہ ’یہ مشرق میں پاکستان کے سٹریٹیجک اثر و رسوخ میں ایک اہم توسیع ہوگی، جس کے انڈیا اور خطے میں طاقت کے توازن پر واضح اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔‘
سابق سفارتکار ظفر ہلالی لکھتے ہیں کہ ’اس بات کا قوی امکان ہے کہ بنگلہ دیش اور ایران مکہ معاہدے میں شامل ہو جائیں گے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم ہدف غالباً یہ ہوگا کہ مکہ معاہدے کو وسعت دے کر خطے کے زیادہ سے زیادہ ممالک کو اس میں شامل کیا جائے۔
'ایسے اتحاد کی مخالفت غالباً صرف انڈیا اور اسرائیل کریں گے، اور یقیناً اسرائیل کے ایک پرانے اتحادی، متحدہ عرب امارات بھی اس کی مخالفت کر سکتے ہیں۔'