آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
تعاون یا ممکنہ تصادم: ٹرمپ، شی ملاقات دو بڑی عالمی طاقتوں کے تعلقات کی سمت کا تعین کیسے کرے گی؟
بیجنگ کے تاریخی تیانانمن سکوائر کے اطراف سکیورٹی میں گذشتہ کئی دنوں سے غیر معمولی اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر اس مقام پر کسی خصوصی پریڈ یا بڑے پروگرام کے حوالے سے افواہیں بھی زیرِ گردش ہیں۔
تیانانمن سکوائر پر ہونے والی اس ممکنہ تقریب کی تیاریاں چین کی جانب سے گذشتہ کئی دنوں سے خاموشی سے جاری تھیں۔ تاہم اب ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ چین، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے استقبال کے تیار ہے۔
ٹرمپ کے تین روزہ دورہ چین کے دوران دو طرفہ مذاکرات، ایک عشائیہ اور ٹیمپل آف ہیون (شاہی عبادت گاہیں جہاں چینی شہنشاہ یا حکمران بہتر مستقبل کے لیے دعائیں کیا کرتے تھے) کا دورہ شامل ہو گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ دونوں ہی اس دورے کے مثبت نتائج کے خواہاں ہیں۔ دنیا کی دو بڑی طاقتوں کے سربراہان کے درمیان ہونے والی یہ ملاقات دنیا میں ہونے والی اہم ترین سفارتی ملاقاتوں میں شمار کی جا رہی ہے۔
کئی مہینوں تک امریکہ اور چین کے تعلقات ڈونلڈ ٹرمپ کی ترجیحات میں کہیں واضح مقام پر دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ اُن کی توجہ ایران کے ساتھ جاری جنگ، دنیا میں جاری دیگر تنازعوں اور امریکہ کے اندرونی معاملات پر مرکوز رہی ہے۔ تاہم اس ہفتے صورتحال تبدیل ہوتی نظر آ رہی ہے۔
عالمی تجارت کا مستقبل، تائیوان کے معاملے پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جدید ٹیکنالوجی میں مسابقت، یہ تمام امور اس ملاقات میں اہم ہوں گے۔
معاشی طور پر دیکھا جائے تو امریکہ کے ساتھ جاری تجارتی جنگ اور ایران میں تنازع، صدر شی جن پنگ کے لیے بھی مشکلات کا سبب بن سکتا ہے، مگر نظریاتی اور سیاسی اعتبار سے یہ ایک لحاظ سے اُن کے لیے فائدہ مند بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اور اس صورتحال کے باعث ٹرمپ سے ملاقات کے دوران وہ خود کو ایک مضبوط پوزیشن میں محسوس کریں گے۔
یہ دورہ آئندہ برسوں میں تعاون یا ممکنہ تصادم دونوں میں سے کسی ایک کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایران کے معاملے میں چین کا کردار
ایران میں جاری جنگ اب تیسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہے اور چین خاموشی سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بیجنگ نے پاکستان کے ساتھ مل کر امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں ثالث کی حیثیت اختیار کی ہے۔
مارچ میں بیجنگ اور اسلام آباد کے حکام نے ایک پانچ نکاتی منصوبہ پیش کیا تھا جس کا مقصد جنگ بندی کرانا اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا تھا۔ پسِ پردہ چینی حکام اپنے ایرانی ہم منصبوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش بھی کرتے رہے ہیں۔
اگرچہ چین مسلسل اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہا ہے تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اس جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے۔
دورہ چین پر روانگی سے قبل جب امریکی صدر سے پوچھا گیا کہ کیا ایران میں جنگ بندی کے لیے صدر شی کوئی مدد کر سکتے ہیں؟ اس کا جواب دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا اُن کے خیال میں اس معاملے میں شاید امریکہ کو چین کی ضرورت نہ ہو۔
چین کی معیشت پہلے ہی کمزور شرح نمو اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ اس کے علاوہ تیل کی قیمتوں میں اضافے نے ٹیکسٹائل اور پلاسٹک جیسی اشیا کی لاگت میں اضافہ کر دیا ہے۔ چین کے کچھ صنعتی شعبوں میں اخراجات میں 20 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔
چین کے پاس تیل کے وافر ذخائر موجود ہیں جبکہ قابلِ تجدید توانائی اور الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے میں اس کی برتری نے اسے عالمی ایندھن بحران کے بدترین اثرات سے کسی حد تک محفوظ رکھا ہوا ہے۔ تاہم جاری جنگ ایک سست رفتار چینی معیشت پر مزید دباؤ ڈال رہی ہے جو بڑی حد تک برآمدات پر انحصار کرتی ہے۔
اس کے باوجود، اگر چین امریکہ کی مدد کے لیے آگے بڑھتا ہے تو وہ یقیناً اس کے بدلے میں کچھ حاصل کرنے کا خواہاں ہو گا۔
گذشتہ ہفتے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا بیجنگ کا دورہ بظاہر اس بات کے اظہار کے لیے تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں چین کو کس حد تک اثر و رسوخ حاصل ہے۔
اس پیش رفت پر امریکہ گہری نظر رکھے ہوئے تھا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس حوالے سے کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ چینی قیادت انھیں (ایران کو) وہ بات بتائے گی جس کے بارے میں انھیں بتایا جانا ضروری ہے اور وہ یہ کہ آبنائے ہرمز میں آپ (ایران) کی سرگرمیاں آپ کو عالمی سطح پر تنہا کر رہی ہیں۔ اس معاملے میں آپ ہی قصوروار ہیں۔‘
امریکہ نے چین کو اس بات پر آمادہ کرنے کی بھی کوشش کی ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف نئی قرارداد میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالے، جس میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔ اس سے قبل روس ایک ایسی ہی قرارداد کو ویٹو کر چکا ہے۔
امریکہ اور چین کے تعلقات پر بین الاقوامی کرائسز گروپ کے سینیئر ریسرچ و ایڈووکیسی ایڈوائزر علی وین کا کہنا ہے کہ ’اگر ہم ایران کو مستقل بنیادوں پر مذاکرات کی میز پر واپس لانا چاہتے ہیں تو امریکہ کا خیال ہے کہ چین کو اس میں کوئی نہ کوئی کردار ضرور ادا کرنا ہو گا۔‘
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ چین کے قریبی تعلقات پر بظاہر زیادہ تشویش ظاہر نہیں کی۔ اگرچہ امریکہ نے حال ہی میں ایرانی تیل کی ترسیل میں ملوث ایک چینی ریفائنری پر پابندیاں عائد کی ہیں تاہم صدر ٹرمپ نے جاری تنازع کے دوران ایران کے لیے چین کی حمایت کو کم اہمیت دی ہے۔
انھوں نے ایک امریکی صحافی سے گفتگو میں کہا کہ ’حالات جیسے بھی ہیں، ویسے ہی ہیں، ٹھیک ہے؟ ہم بھی ان کے خلاف کچھ اقدامات کرتے ہیں۔‘
تائیوان کا مستقبل
تائیوان کے معاملے پر ٹرمپ انتظامیہ کے بیانات میں تضاد دیکھا جا رہا ہے۔
گذشتہ سال دسمبر میں امریکہ نے تائیوان کے ساتھ 11 ارب ڈالر مالیت کے اسلحہ معاہدے کا اعلان کیا جس پر چینی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کیا تھا۔ تاہم ٹرمپ نے تائیوان کے دفاع کے لیے امریکی عزم کو نسبتاً کم اہمیت دی ہے، جبکہ چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے۔
ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ’وہ (چین) اسے (تائیوان) کو اپنا حصہ سمجھتے ہیں اور یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ اس حوالے سے کیا فیصلہ کرتے ہیں۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’تائیوان امریکہ کی جانب سے دی جانے والی سکیورٹی ضمانتوں کے بدلے مناسب ادائیگی نہیں کرتا اور ’ہمیں کچھ نہیں دیتا۔‘
گذشتہ سال انھوں نے تائیوان پر 15 فیصد ٹیرف عائد کیا اور اس پر سیمی کنڈکٹر صنعت امریکہ سے چھیننے کا الزام بھی لگایا تھا۔
گذشتہ ہفتے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ ’تائیوان کا معاملہ اس دورے کے دوران زیرِ بحث آئے گا، تاہم کوشش ہو گی کہ یہ مسئلہ دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان کسی نئی کشیدگی کا سبب نہ بنے۔‘
ان کے بقول ’ہم نہیں چاہتے کہ تائیوان یا انڈو پیسیفک کے کسی بھی خطے میں کوئی غیر مستحکم کرنے والا واقعہ پیش آئے۔ میرا خیال ہے کہ یہ امریکہ اور چین دونوں کے مشترکہ مفاد میں ہے۔‘
چین نے بھی واضح اشارہ دیا ہے کہ ان مذاکرات میں تائیوان اس کی اولین ترجیح ہو گا۔ گذشتہ ہفتے وزیر خارجہ وانگ یی نے مارکو روبیو سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران کہا تھا کہ انھیں امید ہے کہ امریکہ اس معاملے پر ’درست فیصلے‘ کرے گا۔
حالیہ دنوں میں بیجنگ نے تائیوان کے گرد تقریباً روزانہ کی بنیاد پر جنگی طیارے اور بحری جہاز بھیج کر تائیوان پر فوجی دباؤ میں بھی اضافہ کیا ہے۔
کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ چینی حکام سنہ 1982 میں طے پانے والی تائیوان سے متعلق پالیسی کے الفاظ میں تبدیلی کی کوشش کر سکتے ہیں۔ امریکہ کی موجودہ پالیسی یہ ہے کہ وہ تائیوان کی آزادی کی حمایت نہیں کرتا تاہم سوال یہ ہے کہ کیا بیجنگ مزید سخت مؤقف اپنانے پر زور دے سکتا ہے؟ مثلاً یہ کہ ’امریکہ تائیوان کی آزادی کی مخالفت کرتا ہے؟‘
ایشیا سوسائٹی کے امریکہ چین تعلقات کے مرکز سے وابستہ سینیئر فیلو جان ڈیلیوری کے مطابق ’مجھے نہیں لگتا کہ صدر شی اس حد تک جانے پر آمادہ ہوں گے۔ یہاں تک کہ اگر ٹرمپ کوئی ایسا غیر معمولی بیان دے دیتے ہیں جو تائیوان کے معاملے پر پیچھے ہٹنے کا تاثر دے، تو بھی چینی قیادت اس پر زیادہ انحصار نہیں کرے گی کیونکہ ٹرمپ ایک ہفتے بعد ہی سوشل میڈیا پر اس مؤقف کو بدل بھی سکتے ہیں۔‘
اہم تجارتی مذاکرات
سنہ 2025 کے بیشتر حصے میں امریکہ اور چین ایک نئی تجارتی جنگ کے دہانے پر نظر آ رہے تھے، جو عالمی معیشت کی بنیادوں کو ہلا سکتی تھی۔
ٹرمپ نے امریکہ کے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار کے ساتھ تجارت پر متعدد بار محصولات (ٹیرف) میں اضافہ اور کمی کی، جو بعض اوقات 100 فیصد سے بھی زیادہ سطح تک پہنچ گئے۔
چین نے اس کے جواب میں امریکہ کو نایاب ارضیاتی معدنیات (ریئر ارتھ منرلز) کی برآمدات محدود کر دیں اور امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری کم کر دی، جس سے ان ریاستوں کے کسان متاثر ہوئے جہاں ٹرمپ کو ووٹ دیا گیا تھا۔
گذشتہ سال اکتوبر میں جنوبی کوریا میں ٹرمپ اور شی جن پنگ کی براہِ راست ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں نمایاں کمی آئی۔ اس کے علاوہ فروری میں امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے، جس نے صدر کے یکطرفہ طور پر ٹیرف عائد کرنے کے اختیارات محدود کیے، نے بھی تجارتی محاذ پر ٹرمپ کے غیر متوقع اقدامات کو کسی حد تک قابو میں رکھا۔
اس کے باوجود بیجنگ میں ہونے والی اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان متعدد اہم امور زیرِ بحث آئیں گے۔
امریکی صدر چین پر زور دیں گے کہ وہ امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری میں اضافہ کرے، جبکہ چین امریکہ پر دباؤ ڈالے گا کہ وہ حال ہی میں شروع کی گئی اس تجارتی تحقیقات کو ختم کرے جس میں غیر منصفانہ کاروباری طریقوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور جو ٹرمپ کو چینی مصنوعات پر دوبارہ زیادہ ٹیرف عائد کرنے کا اختیار دے سکتی ہے۔
امریکی فریق کے لیے یہ معاملہ خاصا پیچیدہ ثابت ہو سکتا ہے۔
واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک بروکنگز انسٹیٹیوٹ کے دفاع و حکمتِ عملی کے ماہر مائیکل اوہنلن کے مطابق ’چین کی وسیع اور بگاڑ پیدا کرنے والی تجارتی پالیسیوں کے پیشِ نظر امریکہ کے لیے ان تمام غیر منصفانہ تجارتی سرگرمیوں کی تحقیقات ترک کرنا آسان نہیں ہو گا۔‘
ادھر خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے اس دورے میں شرکت کے لیے این ویڈیا، ایپل، ایکسن، بوئنگ اور دیگر بڑی کمپنیوں کے سربراہان کو بھی مدعو کیا ہے۔
اگرچہ چین اب ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے مقابلے میں امریکہ پر تجارت کے لیے کم انحصار کرتا ہے تاہم صدر شی جن پنگ اس بات کے خواہاں ہوں گے کہ یہ ملاقات کامیاب رہے کیونکہ چین کو عالمی معیشت میں استحکام کی اشد ضرورت ہے۔
چین اس وقت 120 سے زائد ممالک کا بڑا تجارتی شراکت دار بن چکا ہے لیکن اس کے باوجود شی جن پنگ کو اس ملاقات کے دوران حد سے زیادہ خوداعتماد نظر آنے سے گریز کرنا ہو گا۔
بروکنگز انسٹیٹیوٹ میں جان ایل تھارنٹن چائنا سینٹر کے ڈائریکٹر ریان ہاس کے مطابق ’اگر دورہ خوشگوار انداز میں مکمل ہوتا ہے اور ٹرمپ یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ احترام کی فضا کو برقرار رکھا گیا ہے تو دونوں ممالک کے تعلقات میں موجود نازک توازن برقرار رہے گا۔ لیکن اگر ٹرمپ کو نظرانداز کیے جانے کا احساس ہوا تو وہ اپنی پالیسی بدل سکتے ہیں۔‘
مصنوعی ذہانت کا مستقبل
چین مستقبل کی ٹیکنالوجی میں برتری حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہے اور مصنوعی ذہانت یعنی ’اے آئی‘ اور انسان نما روبوٹس کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ یہ وہ شعبے ہیں جنھیں شی جن پنگ ’نئی پیداواری قوتیں‘ قرار دیتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ یہ چین کی معیشت کو آگے بڑھائیں گے۔
تاہم امریکہ کے کئی پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ چینی حکومت کی سرکاری حکمتِ عملی میں امریکی ٹیکنالوجی کو حاصل کرنا یا بعض صورتوں میں اسے چوری کرنا بھی شامل ہے تاکہ اپنی مقامی صنعتوں کو فروغ دیا جا سکے۔
اسی خدشے کے باعث جدید مائیکرو پروسیسرز کی برآمدات پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، باوجود اس کے کہ امریکی کمپنیوں نے ان پابندیوں پر خدشات کا اظہار اور اعتراض کیا ہے۔
چین کی جانب سے مقبول سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک کی ملکیت اور آپریشن سے متعلق پیچیدہ مسئلے کا کامیاب حل امریکہ اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی کشیدگی میں ایک مثبت پیش رفت ثابت ہوا، جہاں عموماً الزامات اور شکوک و شبہات کا ماحول غالب رہتا ہے۔
اسی نوعیت کی کشیدگی مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے میدان میں بھی دیکھی جا رہی ہے جو جدید دور کی شاید سب سے اہم ٹیکنالوجی بن چکی ہے۔ اس معاملے کو اس وقت مزید مسائل کا سامنا ہے جب امریکہ کی جانب سے الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ ڈیپ سیک جیسی چینی کمپنیاں امریکی اے آئی ٹیکنالوجی چوری کر رہی ہیں۔
بروکنگز انسٹیٹیوٹ کے جان ایل تھارنٹن چائنا سینٹر سے وابستہ ینگ یی ما کا کہنا ہے کہ ’مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک سرد جنگ کے ابتدائی آثار ظاہر ہو رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے چین پر امریکی اے آئی ماڈلز کی 'صنعتی پیمانے پر' چوری کا الزام عائد کیا ہے جبکہ اطلاعات کے مطابق بیجنگ نے میٹا کو سنگاپور میں قائم چینی نژاد اے آئی سٹارٹ اپ ’مینس‘ کے حصول سے روکنے کی کوشش کی ہے۔
اصل مقابلہ اس بات پر نہیں کہ کون کس کا ماڈل نقل کرتا ہے، بلکہ اس بات پر ہے کہ اگلی نسل کی جدید اے آئی تیار کرنے کی صلاحیت رکھنے والی باصلاحیت افرادی قوت کس کے پاس ہے۔‘
ادھر چین کے جدید روبوٹس اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ بھی کر رہے ہیں۔ یہ روبوٹس نہ صرف کنگ فو طرز کے رقص کر سکتے ہیں بلکہ بیجنگ میں ہونے والی میراتھن میں انسانوں سے زیادہ تیز دوڑنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
اگرچہ چینی کمپنیاں ان روبوٹس کے جسمانی ڈھانچے تیار کرنے میں مہارت حاصل کر چکی ہیں تاہم ان میں سے بہت سی اب بھی اپنی نئی تخلیقات کے ’دماغ‘ یعنی پروگرامنگ کو بہتر بنانے پر کام کر رہی ہیں۔ بہترین روبوٹس تیار کرنے کے لیے چینی کمپنیوں کو جدید کمپیوٹر چپس درکار ہیں اور یہ چپس امریکہ سے حاصل ہوتی ہیں۔
یہیں پر بیجنگ کو نایاب ارضیاتی معدنیات یعنی ’ریئر ارتھ‘ کے حوالے سے اپنی اہمیت استعمال کرنے کا موقع مل سکتا ہے جو ایک ایسا شعبہ ہے جس میں ٹرمپ واضح طور پر دلچسپی رکھتے ہیں۔
چین دنیا کے تقریباً 90 فیصد ریئر ارتھ معدنیات کو پراسیس کرتا ہے جو سمارٹ فونز سے لے کر ونڈ فارمز اور جیٹ انجنز تک جدید ٹیکنالوجی کی تیاری کے لیے نہایت ضروری ہیں۔
چنانچہ اس حوالے سے کسی ممکنہ معاہدے کی گنجائش موجود ہے۔ امریکہ کو چینی ریئر ارتھ معدنیات حاصل ہو سکتی ہیں جبکہ اس کے بدلے چین کو جدید چپس فراہم کی جا سکتی ہیں۔ یوں یہ معاملہ کسی حد تک چین کے اپنے ’آبنائے ہرمز‘ کی طرح ہے جہاں وہ کسی بھی وقت سپلائی روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دوطرفہ پالیسی معاملات کی وسعت کے باوجود صدر ٹرمپ کا یہ دورہ انتہائی مصروف اور مختصر ہو گا، جس کے تحت جمعرات اور جمعہ کو مختلف ملاقاتوں اور تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔
ممکن ہے کہ دونوں رہنماؤں کے پاس معاہدوں کے لیے مثبت انداز میں آگے بڑھنے کے لیے زیادہ وقت نہ ہو، تاہم یہ مختصر ملاقات بھی آنے والے برسوں میں دونوں ’سپر پاورز‘ کے درمیان مذاکرات اور تعلقات کی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔