آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’ایسا لگا جیسے میں سڑک پر برہنہ چل رہی ہوں‘: ہانگ کانگ یونیورسٹی میں ڈیپ فیک پورن کے متاثرین کو انصاف کی تلاش
- مصنف, جیمنی چینگ اور ایبل یو
- عہدہ, بی بی سی نیوز چائنیز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 10 منٹ
ہانگ کانگ یونیورسٹی میں شعبہ قانون میں فائنل ایئر کی طالبہ سیو کوانگ (فرضی نام) کو جب معلوم ہوا کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال کر کے ان کے چہرے کے ساتھ فحش تصاویر بنائی گئی ہیں تو انھیں اس بات پر پہلے تو یقین نہیں آیا اور بعد میں یہ غیریقینی کی کیفیت خوف میں بدل گئی۔
ان میں من گھڑت بکنی شاٹس سے لے کر پورے جسم کی عریاں اور واضح جنسی مناظر کی تصاویر شامل تھیں۔ انہیں معلوم تھا کہ یہ تصاویر اصلی نہیں لیکن ان کا اثر ویسا ہی تھا: ’ایسے جیسے لوگ میرا اصل جسم دیکھ رہے ہوں، جیسے برہنہ ہو کر سڑک پر چلنا۔‘
سیو کوانگ کم از کم ان 17 طالبات میں سے ایک تھیں جن کی سوشل میڈیا پر موجود تصاویر کا استعمال کر کے ان کے ایک ہم جماعت طالب علم نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے فحش تصاویر بناَئی تھیں۔ اس طالب علم کو ہم ’ایکس‘ کے نام سے مخاطب کریں گے۔
ان خواتین نے اس تکلیف دہ صورتحال، جسے ’این فولڈر‘ واقعہ کہا جاتا ہے، کو اپنے وقار، خود مختاری اور احساسِ تحفظ کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا، ایک ایسا معاملہ جس نے ہانگ کانگ کے قوانین میں ایک واضح خلا کو بےنقاب کیا۔
ایکس نے یونیورسٹی کے عملے کے سامنے تسلیم کیا تھا کہ یہ تصاویر انھوں نے ہی بنائی ہیں لیکن اس کے باوجود انھیں اب تک محدود نتائج کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ان پر کوئی قانونی الزامات عائد نہیں کیے گئے ہیں۔ اس کے برعکس متاثرین خود کو ایک قانونی اور ادارہ جاتی مشکل میں پاتے ہیں۔
متعدد فولڈرز
ان خواتین کا کہنا ہے کہ انھیں پہلی بار ان کی تصاویر کے اس طرح استعمال کی اطلاع ایک اور طالبہ نے دی جو اس وقت ایکس کے ساتھ تعلق میں تھیں۔
بی بی سی نیوز چائینز نے اس خاتون سے رابطہ کیا اور انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ انھیں یہ تصاویر ایکس کے لیپ ٹاپ میں ان فولڈرز میں ملی تھیں جن پر خواتین کے ناموں کے لیبل موجود تھے، ان میں سے کچھ خواتین کو وہ بطور ہانگ کانگ یونیورسٹی کے شعبہ قانون کی طالبات کے طور پر جانتی تھی۔ ان میں ایمیلی، سیو کوانگ اور زے وئی شامل تھیں۔
دیگر متاثرین میں ایکس کے ماضی سے تعلق رکھنے والی خواتین اور لڑکیاں، جیسے کہ ایک سابقہ استاد، ایک ہم جماعت کی گرل فرینڈ اور بچپن کی ایک کلاس فیلو شامل تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
زندگی پر پڑنے والے اثرات
ایمیلی اس واقعے سے پہلے ایکس کی دوست تھیں اور انھوں نے اس کے ساتھ گروپ پراجیکٹس پر کام کیا تھا اور وہ باہر بھی ساتھ جاتے تھے۔ اس واقعے کے منظر عام پر آنے کے بعد انھیں محسوس ہوا کہ انھیں دھوکہ دیا گیا اور ان کی بے حرمتی کی گئی۔ انھوں نے اس عمل کو بغیر رضامندی برہنہ کرنے کی ایک شکل قرار دیا، جہاں ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ان کے جسم پر کنٹرول حاصل کیا گیا۔
ان تین خواتین نے اس واقعے سے متعلق اپنے تعلیمی ادارے کو آگاہ کیا اور ان کلاسز میں بیٹھنے کی اجازت مانگی جن میں ایکس نہ ہوں، لیکن تعلیمی ادارے نے کوئی کارروائی نہیں کی جس کا مطلب یہ تھا کہ ایمیلی ایکس کا سامنا کرنے پر مجبور تھیں: ’جب بھی وہ پاس سے گزرتا تھا، میں چاہتی تھی کہ میں غائب ہو جاؤں۔‘
ایک موقع پر وہ ایمیلی کے برابر میں بھی بیٹھا۔ اس کے کچھ ہفتوں بعد بلآخر لیکچرارز نے پوچھا کہ کیا متاثرہ طالبات دیگر کلاسز میں منتقل ہونا چاہتی ہیں۔
دوسری جانب وے زئی کے لیے سب سے پریشان کُن پہلو یہ تھا کہ ان کی عام سی تصاویر کو کیسے غلط استعمال کیا گیا۔ دوستوں کے ساتھ کھانے یا عام سے سوشل موقعوں پر لی گئی ان معصومانہ تصاویر میں ردِوبدل کیا گیا، یعنی ان کا چہرہ برقرار رکھا گیا لیکن پورے جسم پر فحش تصویر نگاری کی گئی۔
ان کا کہنا ہے کہ ’اگر یہ تصاویر لیک ہو جاتیں تو لوگ یہ جاننے کی بھی زحمت نہ کرتے کہ یہ تصاویر اصلی ہیں یا جعلی۔‘
کچھ وقت کے لیے انھوں نے سوشل میڈیا کا استعمال بالکل ترک کر دیا لیکن ’جتنا میں اس بارے میں سوچتی تھی اتنا ہی مجھے لگتا تھا کہ اس سب کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آپ کو یہ تک نہیں پتا ہوتا کہ آپ ایسا ہونے سے کیسے روک سکتے ہیں۔‘
یونیورسٹی کا ردِعمل
متاثرین نے مشترکہ طور پر ہانگ کانگ یونیورسٹی سے درخواست کی کہ ایکس کے خلاف انضباطی کمیٹی کی سماعت بلائی جائے۔ طالبات کے مطابق یونیورسٹی نے معاملے کی سنگینی کو تو تسلیم کیا لیکن قانونی صلاح لینے کے بعد نتیجہ اخذ کیا کہ موجودہ قوانین ایسے کسی رویے پر انضباطی کارروائی کی اجازت نہیں دیتے۔
اس کے بعد یونیورسٹی نے دو بیانات جاری کیے اور تصدیق کی کہ ایکس نے اپنے عمل کو تسلیم کیا اور انھیں ایک وارننگ لیٹر جاری کیا گیا ہے اور انھیں متاثرین سے معافی بھی مانگنی ہو گی۔
جب یونیورسٹی سے اس کیس میں ہونے والی پیشرفت کے حوالے سے پوچھا گیا، تو اس نے پرائیویسی اور رازداری سے متعلق خدشات کا ذکر کرتے ہوئے مزید تفصیلات دینے سے انکار کر دیا۔
اس فیصلے نے خواتین کو حیران کر دیا۔ وہ نشاندہی کرتی ہیں کہ نسبتاً معمولی تعلیمی بدانتظامی، جیسے حاضری میں جعلسازی، کو بھی باضابطہ طور پر نمٹایا جا سکتا ہے جبکہ اس معاملے کا ایکس کے تعلیمی ریکارڈ میں کوئی سرکاری اندراج نہیں ہوگا اور نہ ہی کوئی اور بامعنی نتائج سامنے آئیں گے۔
اب تک ہانگ کانگ پرائیویسی کمشنر (پی سی پی ڈی) کے دفتر، جو ڈیٹا کی خلاف ورزیوں کے خلاف تحفظ فراہم کرتا ہے، وہ واحد ادارہ ہے جس نے اس معاملے میں مجرمانہ تحقیقات کا آغاز کیا۔ تاہم بعد میں اس نے بی بی سی نیوز چائنیز کو بتایا کہ اس کے پاس مزید کارروائی کے لیے کوئی ثبوت موجود نہیں تھا۔
بی بی سی نیوز چائنیز نے فون، ٹیکسٹ میسجز، ای میل اور سوشل میڈیا کے ذریعے ایکس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
قانونی خلا
ہانگ کانگ کے قانون کے تحت چھپ کر ویڈیو بنانا اور بغیر اجازت نجی نوعیت کی تصاویر پھیلانا ایک مجرمانہ عمل ہے، تاہم اگر ان تصاویر کو شائع نہ کیا گیا ہو یا ان کی اشاعت کی دھمکی نہ دی گئی ہو تو صرف ڈیپ فیک تصاویر بنانا واضح طور پر ممنوع عمل نہیں۔
اس کے برعکس جنوبی کوریا، تائیوان اور برطانیہ نے مختلف درجات میں بغیر رضامندی کے ڈیپ فیک جنسی مواد کی تیاری کو جرم قرار دیا، چاہے اسے تقسیم یا شائع نہ بھی کیا گیا ہو۔
چین نے ڈیپ فیک جنسی مواد پر پابندی کا واضح طور پر ذکر نہیں کیا لیکن مصنوعی ذہانت کے استعمال کو ایسے مواد کی تخلیق کے لیے ممنوع قرار دیا ہے جو دوسروں کے حقوق کی خلاف ورزی کرے۔
امریکہ میں آن لائن پلیٹ فارمز پر یہ لازم ہے کہ وہ بغیر رضامندی بنائے گئے جنسی نوعیت کے مواد کے رپورٹ ہونے کے 48 گھنٹوں کے اندر اسے اپنے پلیٹ فارمز سے ہٹائیں۔
ہانک کانگ میں خواتین پر جنسی تشدد کے خلاف کام کرنے والی تنظیم کی افسر شیرل یپ کا کہنا ہے کہ یہ سب ترجیحات میں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ یہاں ’بنیادی مسئلہ رضامندی کا ہے‘ نہ کہ نیت کا۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس بات کا واضح نفاذ بھی اتنا ہی اہم ہے۔
تنقید کا سامنا
اس معاملے میں شامل طالبات کے لیے قانون کے ذریعے احتساب کے حصول کی مہینوں پر محیط کوششوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور اس نے قانونی نظام پر ان کے اعتماد کو متزلزل کر دیا۔
بالآخر اس معاملے نے انھیں عوام کے سامنے آنے اور اپنے کیس کی جانب توجہ مبذول کرانے پر مجبور کر دیا۔
اس معاملے کے منظرِ عام پر آنے کے بعد جہاں انھیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا، وہیں انھیں حمایت بھی ملی۔ ان پر شدت پسند فیمنسٹ، اخلاقی جنگجو اور ’خیالوں پر پہرا دینے والی پولیس‘ کی طرح برتاؤ کرنے کے الزامات عائد کیے گئے۔
دیگر لوگوں نے کہا کہ ایکس کا عمل بھلے سے غیر قانونی نہ سہی مگر غلط ضرور تھا لیکن سیو کوانگ اپنے معاملے کو گھریلو تشدد سے تشبیہہ دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ اگر وہ ماضی میں غیر قانونی نہیں تھا تو ’اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ درست تھا۔‘
دوسری جانب ایمیلی کہتی ہیں کہ یہ افسوسناک ہے کہ ’صحیح اور غلط کے ایک اخلاقی سوال کی غلط تشریح کر کے اسے مردوں اور خواتین کے درمیان جنگ بنایا جا رہا ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ان میں اس معاملے پر آواز اُٹھانے کا حوصلہ اس وقت پیدا ہوا جب انھوں نے ملائیشیا میں ایک سیکنڈری سکول کی طالبات کی بڑے پیمانے پر ڈیپ فیک تصاویر بنائے جانے سے متعلق سکینڈل کے بارے میں پڑھا۔ کم عمر متاثرین کے خاموش رہنے سے انکار نے انھیں احساس دلایا کہ وہ اکیلی نہیں ہیں۔
درحقیقت یہ کیس ایک وسیع تر عالمی رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ امریکی سائبر سکیورٹی کمپنی سکیورٹی ہیرو کی ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ 2019 سے 2023 کے دوران آن لائن ڈیپ فیک ویڈیوز کی تعداد میں پانچ گنا سے زیادہ اضافہ ہوا۔ ان میں تقریباً تمام مواد فحش نوعیت کا تھا اور تقریباً سب میں ہی خواتین کو دکھایا گیا تھا۔
ٹیکنالوجی میں پیش رفت کا مطلب یہ ہے کہ اب صرف چہرے کی ایک واضح تصویر کی مدد سے چند منٹوں میں حقیقت کے قریب ڈیپ فیک ویڈیوز تیار کی جا سکتی ہیں۔
بی بی سی نیوز چائنیز کے سوالات کے جواب میں ہانگ کانگ کی حکومت اور پولیس نے کہا کہ موجودہ قانون سازی اصولی طور پر آن لائن بھی لاگو ہوتی ہے اور حکام ٹیکنالوجی کے ارتقا کے ساتھ اس کی مؤثریت کا جائزہ لیتے رہیں گے۔
سیو کوانگ اور دیگر طالبات کے لیے صرف یہ ردِعمل کافی نہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کی توجہ موجودہ قانون پر نہیں بلکہ اس پر ہے کہ یہ قانون کیسا ہونا چاہیے۔
یہ ایک ایسی لڑائی ہے جسے وہ جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
ایمیلی کا کہنا ہے کہ ’مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں ایک اضافی کورس پڑھ رہی ہوں، میں حقیقت میں عملی قوانین کے بارے میں پڑھ چکی ہوں۔‘
’میں نہیں چاہتی کہ لوگ مجھ بہادر پکاریں۔ اس معاملے میں، میں ایک متاثرہ لڑکی ہوں لیکن میں کمزور نہیں ہوں۔‘