آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’امریکہ ہمارا کیسا دوست ہے؟‘ انڈین ملاحوں کی ہلاکت پر مارکو روبیو کی جے شنکر کو کال جسے انڈیا کے لیے ’وارننگ‘ کہا جا رہا ہے
’امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی اور ایرانی تیل کی غیر قانونی ترسیل برداشت نہیں کی جائے گی۔‘
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کی اپنے انڈین ہم منصب جے شنکر سے ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کے ان الفاظ پر انڈیا میں شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
عمان کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر پر امریکی حملے میں تین انڈین ملاحوں کی ہلاکت کے بعد انڈین وزیرِ خارجہ نے امریکی وزیرِ خارجہ سے ٹیلی فون پر بات کی تھی۔
جے شنکر کے مطابق اُنھوں نے اس واقعے پر سخت احتجاج ریکارڈ کروایا ہے، تاہم اس گفتگو پر امریکی محکمہ خارجہ کے بیان پر انڈیا میں سخت ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
انڈیا میں اپوزیشن جماعتوں اور سابق سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ امریکی وزیرِ خارجہ نے انڈین ملاحوں کی ہلاکت پر افسوس کے بجائے سخت زبان استعمال کی اور ایک طرح سے انڈیا کو وارننگ دی ہے۔
واضح رہے کہ 10 جون کو عمان کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر پر امریکی حملے میں تین انڈین ملاحوں کی ہلاکت کے معاملے پر سینیئر امریکی سفارت کار کو طلب بھی کیا تھا۔
بعد ازاں جمعے کے روز وزارتِ خارجہ نے عمان میں بحری جہازوں پر حملوں کے خلاف احتجاج کے لیے امریکی سفارتکار جیسن میکس کو ایک بار پھر طلب کیا۔ انھیں انڈین وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکریٹری (امریکی امور) نے طلب کیا تھا۔
بدھ کے روز پالاؤ پرچم بردار جہاز سیٹبیلو پر حملے میں ہلاکت انڈین ملاحوں کی شناخت ڈیک کیڈٹ، آدتیہ شرما اور انجن فِٹر شیوانند چورسیا کے ناموں سے ہوئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت کے آغاز سے ہی انڈیا اور امریکہ کے تعلقات میں تناؤ ہے۔
امریکی صدر نے جن ممالک پر ٹیرف لگانے کا اعلان کیا تھا، ان میں انڈیا بھی شامل تھا۔ گذشتہ برس پاکستان اور انڈیا کی لڑائی کے بعد امریکہ کی پاکستان سے قربتیں بڑھ گئی تھیں جبکہ انڈیا کے ساتھ تعلقات مزید پیچیدہ ہو گئے تھے۔
’تمام جہازوں کو امریکی فوج کے احکامات کی تعمیل کرنی چاہیے‘
امریکی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق انڈین ہم منصب سے گفتگو میں امریکی وزیرِ خارجہ نے زور دیا کہ تمام کمرشل جہازوں کو امریکی فوج کے احکامات کی فوری تعمیل کرنی چاہیے، کیونکہ وہ اس آبنائے میں امن و سلامتی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکی وزیرِ خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی اور ایرانی تیل کی غیر قانونی ترسیل برداشت نہیں کی جائے گی۔
اس گفتگو پر انڈین وزیرِ خارجہ نے ایکس پر لکھا تھا کہ اُنھوں نے امریکی وزیرِ خارجہ سے گفتگو میں خلیج میں امریکی بحریہ کے حملوں پر انڈیا کا احتجاج دوہرایا۔
اس واقعے نے واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان سفارتی کشیدگی کو بڑھا دیا ہے۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے امریکی وزیر خارجہ کے بیان کو ’غیر حساس‘ قرار دیتے ہوئے امریکہ اور انڈیا کی دوستی پر سوال اُٹھائے ہیں۔
ششی تھرور نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’امریکی محکمہ خارجہ کا بیان پڑھ کر مجھے شدید صدمہ ہوا ہے، اس میں بے گناہ انڈین شہریوں کی ہلاکت پر افسوس یا ہمدردی کا ذکر ہی نہیں ہے، کوئی دوست اور سٹریٹجک شراکت دار اتنا غیر حساس کیسے ہو سکتا ہے۔‘
اُنھوں نے کہا کہ ’کیا قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کمرشل جہاز کو کسی اور طریقے سے نہیں روکا جا سکتا، جس میں کسی کی جان نہ جاتی؟ میزائل حملہ کر کے عملے کے افراد کو مارنے کے بجائے جہاز کے آلات کو ناکارہ کیا جا سکتا تھا۔‘
ششی تھرور نے مزید لکھا کہ ’ان اہم سمندری راستوں سے گزرنے والے زیادہ تر تجارتی جہازوں پر انڈین عملہ ہوتا ہے، کیا اب امریکی میزائلوں کے لیے وہ سب آسان ہدف بن جائیں گے؟‘
کانگریس رہنما پون کھیڑا نے اسے انڈیا کے لیے ’شرمناک‘ قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں اُن کا کہنا تھا کہ امریکہ کو چاہیے کہ امریکی حملے میں تین نوجوان انڈین ملاحوں کی ہلاکت پر غیر مشروط معافی مانگے۔ اس کے بجائے وزیرِ خارجہ روبیو نے مبینہ طور پر وارننگ جاری کی۔ ’یہ حکم کی زبان ہے پچھتاوے کی نہیں۔‘
اُنھوں نے کہا کہ ’امریکہ نے نہ تو ہلاکتوں کو تسلیم کیا اور نہ ہی ذمے داری قبول کی اور نہ ہی افسوس کا اظہار کیا۔‘
انڈین صنعت کار صابر بھاٹیا نے لکھا کہ ’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ، انڈیا کو دوست نہیں سمجھتا، چاہے ہمارے عظیم وزیرِ خارجہ ہمیں کچھ بھی بتائیں۔‘
جھارکھنڈ مکتی مورچہ نے اپنے ایکس ہینڈل پر لکھا کہ ’افسوس کی بات ہے کہ انڈین وزیرِ خارجہ نے مارکو روبیو سے گفتگو میں ملاحوں کی ہلاکت کا ذکر تک نہیں کیا۔‘
’یہ کیسا دوست ہے؟‘
سینئر صحافی راجدیپ سردیسائی نے امریکی وزیرِ خارجہ کے بیان پر لکھا کہ ’کوئی ہمدردی نہیں، کوئی افسوس نہیں، بے گناہ انڈین ملاحوں کی موت کا سبب بننے والے حملوں پر روبیو کا بیان مایوس کن ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ کمرشل جہازوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ امریکی سفارتکاروں کو طلب کرنا یقیناً کافی نہیں، بلکہ اس سے بڑھ کر کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
انڈو پیسیفک اُمور کے ماہر پروفیسر ڈیریک جے گروسمین نے ایکس پر لکھا کہ ’روبیو کے بیانات غیر حساس تھے اور ان سے امریکہ مخالف جذبات مزید بھڑکیں گے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’انڈیا درست طور پر امریکہ کے سامنے قانون کی حکمرانی کی بات کر رہا ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ٹرمپ کا امریکہ اب حقیقت میں اس پر یقین نہیں رکھتا۔‘
انڈیا کی سابق سیکریٹری خارجہ اور اُمورِ خارجہ کی ماہر نروپما راؤ نے پروفیسر گروسمین کی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ روبیو-جے شنکر گفتگو بین الاقوامی تعلقات میں ایک بڑے رجحان کی یاد دلاتی ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ’طاقت پوری قوت کے ساتھ پابندیوں، ناکہ بندی، ٹیرف اور جبر کی زبان بول رہی ہے۔ انڈیا کے تین ملاح مارے گئے، لیکن امریکہ کا جواب قانون کے نفاذ پر مرکوز ہے۔‘
نروپما راؤ کہتے ہیں کہ ’امریکہ انتہائی سختی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور نرم لہجہ اختیار نہیں کر رہا۔‘
کیا یہ انڈیا کے لیے وارننگ ہے؟
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے سفارتی نامہ نگار ایڈورڈ وونگ نے مارکو روبیو کے مؤقف کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں ’انڈیا کے لیے انتباہ‘ قرار دیا۔
اُنھوں نے لکھا کہ ’ٹرمپ انتظامیہ کے ایسے اقدامات جاری ہیں جن سے انڈیا ناراض ہو رہا ہے، خاص طور پر حالیہ دنوں میں عمان کے قریب ایک کمرشل جہاز پر حملہ جس میں تین انڈین ملاح مارے گئے تھے اور اب روبیو نے انڈیو کو وارننگ دے دی ہے۔‘
انگریزی اخبار دی ہندو کی سفارتی ایڈیٹر سوہاسنی حیدر کے مطابق جے شنکر اور روبیو کے درمیان گفتگو کے بارے میں امریکی وزارت خارجہ کے بیان سے دونوں کے درمیان گہرے اختلافات ظاہر ہوتے ہیں۔
دفاعی ماہر میجر جنرل جی ڈی بخشی نے انڈین ملاحوں کی ہلاکت اور انڈیا-امریکہ دوستی پر سوال اٹھائے اور لکھا کہ ’ایران کا 90 فیصد تیل چین جاتا ہے، 200 سے زیادہ چینی جہازوں نے اس ناکہ بندی کو توڑا ہے، لیکن کسی چینی یا روسی جہاز پر حملہ نہیں ہوا۔‘
اُنھوں نے لکھا کہ ’انڈیا نے امریکہ سے دوستی کے لیے سب کچھ کرنے کی کوشش کی، لیکن امریکہ نے انڈین ملاحوں کو ہلاک کر کے اس کا جواب دیا۔‘
اُنھوں نے مزید لکھا کہ ’امریکی سفارتکار کسنر نے درست کہا تھا کہ امریکہ کا دُشمن ہونا خطرناک ہے، لیکن دوست ہونا جان لیوا ہے۔‘