پیار، اہمیت یا سماجی دکھاوا: قربانی کے گوشت سے ہر کسی کو ران کیوں چاہیے؟ آخر اس میں خاص کیا ہے؟

بکری کی ران

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, تابندہ کوکب
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

’دیکھو میرے لیے اچار بنا کر بھیجنا، میں عید پر تمہارے گھر ران بھجواؤں گی۔‘

بظاہر تو یہ ایک ’کچھ لو اور کچھ دو‘ کا سودا نظر آر ہا تھا لیکن میری سُسرالی رشتہ دار کی جانب سے اپنی پسندیدہ چیز کے بدلے میں مجھے دی جانے والی یہ کافی جاندار آفر تھی۔

گائے ہو یا بکرا اگرچہ میں کسی خاص گوشت کی شوقین نہیں لیکن اس پیشکش نے مجھے یہ غور کرنے پر مجبور کر دیا کہ بھئی ران کے گوشت میں خاص کیا ہے؟

تحقیق کی تو پتا چلا کہ کسی روٹھے کو منانا ہو یا میل ملاپ بڑھانا ہو، عید الاضحیٰ کا تہوار اپنے آپ میں ایک بہترین موقع تو ہے ہی لیکن اگر اس کے ساتھ تحفے میں چھوٹے یا بڑے جانور کی ران کا گوشت بھی ہو تو سونے پر سہاگہ ہو جاتا ہے۔

عید الاضحیٰ کی شام ہو اور کسی گھر میں بار بی کیو نہ ہو رہا ہو یہ ذرا مشکل ہوتا ہے۔ اسی لیے عید آنے سے قبل ہی بازاروں میں سب سے زیادہ بکنے والے آئٹمز میں سیخیں، کوئلے ، چُھریاں، بار کیو مسالے اور گوشت گلانے اور محفوظ کرنے کی اشیا کی بھرمار ملتی ہے۔

قربانی کا گوشت بٹتے ہی ہر گھر میں کہیں ران کے گوشت کے تکے بنتے نظر آتے ہیں ، تو کہیں سالم ران کا روسٹ، اور تو اور ران کے گوشت کی پکوائی کے لیے ہوٹلوں پر خصوصی آفرز کے بینرز بھی لگے ملتے ہیں۔

ران کا گوشت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ران ہی کیوں؟

گوشت خوروں کے لیے تو سارا ہی گوشت پُرکشش ہونا چاہیے تو پھر یہ ران ہی کیوں؟

ویسے تو کچھ لوگ قربانی کے سارے گوشت کو یکساں تقسیم کرکے اس کے حصے بنا کر اسے باٹنتے ہیں لیکن کچھ لوگوں کے لیے ران بھی خاص ہے اور جنھیں یہ دی جاتی ہے وہ بھی۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

’ہمارے چچا سارا سال آئیں نہ آئیں عید قربان پر ہمارے گھر ضرور آتے۔ قربانی کا سارا کام نمٹانے کے بعد گھر جاتے ہوئے اپنے حصے کی ران لے جانا نہیں بھولتے تھے۔‘

ارجمند درانی نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ ان کے ہاں ہر سال قربانی پر ان کے والد چچا کے لیے ران الگ رکھنے کی سختی سے تاکید کرتے تھے۔

کچھ لوگوں کے لیے جتنی خاص ران ہوتی ہے اتنے ہی خاص وہ لوگ جنھیں یہ دی جاتی ہے۔

سارہ کہتی ہیں کہ ’میرے خیال میں ران کا مقصد لوگوں کو سپیشل محسوس کروانا ہوتا ہے۔‘

ان کے خیال میں ران اُن لوگوں کو دی جاتی ہے جو ’بظاہر بہت خاص ہوں، جیسے افسران ، قریبی دوست یا کاروباری شریک۔‘

نادیہ کہتی ہیں ہمارے ہاں تو ران کافی سپیشل تھی لیکن یہ نہ صرف سٹیس ظاہر کرتی تھی بلکہ بچپن سے دیکھا کہ یہ تعلقات کو مضبوط بنانے کا کام بھی کرتی تھی۔

وہ کہتی ہیں ’مجھے تو یاد ہے کہ ہمارے ہاں بکرا آتا ہی اس لیے تھا کہ اس کی رانیں تو افسران کے ہاں جائیں گی۔‘

کچھ لوگوں کے لیے تو خاص ہونے کے ساتھ ساتھ ران کا گوشت رشتوں میں کشش اور مضبوطی پیدا کرنے کا کام بھی کرتا ہے۔

ران کے حقداروں کی فہرست میں سمدھیانہ بھلا کیسے پیچھے رہ سکتا ہے۔ اب فی الحال رشتہ ہوا ہو یا شادی ہو چکی ہو، بہت سے خاندان ہر دو صورت خود کو اس پریشر سے نہیں نکال سکتے کہ اگر بچوں کے سسرال کو ران نہ بھیجی گئی تو کہیں وہ ناراض نہ ہو جائیں۔

شمائلہ خان کے گھر سے اگر بطور خاص ران کہیں جاتی تھی تو وہ ان کی بہن کا سسرال تھا۔

وہ کہتی ہیں ’مجھے یاد ہے ایک مرتبہ کسی وجہ سے عید کے پہلے ران بہن کے سسرال نہ پہنچ سکی تو سب عجیب ذہنی دباؤ میں آگئے اور دوسرے روز بھائی بہت اجلت میں ران پہنچانے گئے۔‘

ران کا گوشت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ران کے گوشت کی ساخت، اور رنگت

کسی بھی جانوں چاہے وہ گائے ہو یا بکرا اس کے جسم میں بہترین گوشت اس کی پیٹھ یا ران کا سمجھا جاتا ہے۔ ران کا گوشت جانور کا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا اور مضبوط پٹھوں والا حصہ ہوتا ہے۔ غذائیت سے بھرپور، کم چکنائی (چربی) اور پروٹین کا بہترین ذریعہ ہونے کی وجہ سے یہ گوشت انتہائی لذیذ اور صحت بخش مانا جاتا ہے۔

اگر آپ کو گوشت پکانے یا عام حالات میں خریدنی کا زیادہ تجربہ نہیں ہے تو کوئی بات نہیں ہم آپ کو ران کے گوشت اور اس کی بہترین پہچان کے لیے کچھ ٹپس دے دیتے ہیں۔

گائے یا بکرے کی ران کے اچھے گوشت کا رنگ عام طور پر سرخی مائل ہوتا ہے، جبکہ گائے کا گوشت قدرے گہرا سرخ اور بکرے کا گوشت ہلکا گلابی سرخی مائل ہوتا ہے۔

ران کے گوشت کی ساخت ایسی ہوتی ہے کہ یہ ہاتھ سے دبانے پر نرم محسوس ہوتا ہے لیکن ساتھ ہی مضبوط بھی ہوتا ہے اور دبانے کے بعد اپنی اصل حالت میں واپس آ جاتا ہے۔

تازہ گوشت میں ہلکی سی نمی ہوتی ہے، لیکن یہ نہ زیادہ گیلا ہوتا ہے اور نہ ہی بالکل خشک۔ اس میں موجود چربی سفید یا ہلکی کریمی رنگ کی ہوتی ہے اور باریک انداز میں گوشت میں پھیلی ہوتی ہے، جو اس کی اچھی کوالٹی کی نشانی ہے۔

تازہ گوشت میں خوشبو قدرے ہلکی ہوتی ہے جبکہ خراب گوشت سے تیز یا کھٹی بدبو آتی ہے۔

ران کے گوشت میں قدرتی طور پر ریشے ہوتے ہیں، لیکن اچھے گوشت کے ریشے باریک اور منظم ہوتے ہیں، جب کہ موٹے اور سخت ریشے پرانے گوشت کی علامت ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ تازہ گوشت ہلکی سی چمک رکھتا ہے اور اس کی سطح صاف نظر آتی ہے، جبکہ خراب گوشت مدھم، خشک یا چپچپا محسوس ہوتا ہے۔

ران کا گوشت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ران کے گوشت کی نمایاں خصوصیات اور غذائی افادیت

ران چھوٹے کی ہو یا بڑے گوشت کی اگر اس کی غذائیت کی بات کریں تو اس کے لیے لوگوں کی پسندیدگی کی وجہ بخوبی سمجھ آ جاتی ہے۔ یہ نہ صرف کھانے میں مزیدار ہوتا ہے بلکہ اس میں تو غذائی اجزا کی بھی بھرمار ہوتی ہے۔

ران کے گوشت میں غذائی لحاظ سے بہت اہم خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ یہ گوشت پروٹین سے بھرپور ہوتا ہے، جو جسم کی نشوونما، پٹھوں کی مضبوطی اور ٹشوز کی مرمت کے لیے ضروری ہوتا ہے۔

اس میں آئرن کی اچھی مقدار موجود ہوتی ہے، جو خون بنانے اور جسم میں آکسیجن کی فراہمی بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔

اس کے علاوہ ران کے گوشت میں وٹامن بی کمپلیکس، خاص طور پر وٹامن B12 پایا جاتا ہے، جو اعصابی نظام اور دماغی صحت کے لیے اہم ہے۔

یہ گوشت زنک سے بھی بھرپور ہوتا ہے، جو قوتِ مدافعت کو مضبوط بناتا ہے اور جسم کو بیماریوں سے لڑنے میں مدد دیتا ہے۔ مزید یہ کہ اس میں موجود فاسفورس اور دیگر معدنیات ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں۔

ران کے گوشت میں معتدل مقدار میں چربی بھی ہوتی ہے، جو توانائی فراہم کرتی ہے، لیکن اگر اسے زیادہ استعمال کیا جائے تو یہ صحت کے لیے نقصان دہ بھی ہو سکتی ہے۔

یہ گوشت جسم کو دیر تک توانائی فراہم کرتا ہے اور اسے کھانے کے بعد بھوک کم محسوس ہوتی ہے۔ اگر اسے مناسب مقدار اور صحت مند طریقے سے پکایا جائے، جیسے ابال کر یا کم تیل میں، تو یہ ایک متوازن اور فائدہ مند غذا بن سکتا ہے۔ چکنائی کم ہونے کی وجہ سے وزن کم کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے یہ ایک آئیڈیل انتخاب ہے

ران کا گوشت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تکّے یا روسٹ پسند آپ کی

اس گوشت کو پکانا کیسے ہے یہ تو اپ کے اپنے مزاج پر منحصر ہے۔ لیکن اگر کوئی ایک ایسی ترکیب جس کے ناپسند ہونے کا امکان کم ہو تو ہم آپ کو ران کے سٹیم روسٹ کا مشروہ دیں گے۔

اس کے لیے جو اجرزا درکار ہیں ان میں ران کا گوشت، دہی:، ادرک لہسن پیسٹ، لیموں کا رس یا سرکہ، گلانے کے لیے تھوڑا سا کچا پپیتا (پیسٹ)، مسالوں میں نمک، لال مرچ، گرم مصالحہ، کالی مرچ، بھنا کٹا زیرہ اور دھنیا۔

اب کرنا یہ ہے کہ ران کو اچھی طرح دھو کر خشک کر لیں۔ پھر چھری سے اس پر گہرے کٹ لگائیں تاکہ مصالحہ اندر تک جذب ہو سکے۔ میرینیشن کے لیے لیموں کا رس، نمک اور کچا پپیتا لگا کر 2 گھنٹے کے لیے چھوڑ دیں۔

پھر ایک پیالے میں دہی اور تمام خشک مصالحہ جات مکس کر کے ران پر اچھی طرح مل دیں۔ اسے کم از کم 6 سے 8 گھنٹے یا پوری رات کے لیے فریج میں رکھیں تاکہ بہترین ذائقہ آئے۔

پکانے کے لیے ایک بڑے دیگچے میں پانی ڈالیں اور اس میں گرم مصالحہ (لونگ، دار چینی) ڈال کر سٹیم دینے کے لیے کوئی سٹینڈ رکھیں۔ ران کو فوائل پیپر میں لپیٹ کر یا براہ راست سٹینڈ پر رکھیں اور ہلکی آنچ پر 2 سے 3 گھنٹے تک سٹیم دیں جب تک گوشت مکمل گل نہ جائے۔

گوشت گلنے کے بعد اسے ہلکے سے تیل میں فرائی کر لیں یا اوون میں 10 منٹ کے لیے بیک کریں تاکہ رنگ خوبصورت آ جائے۔

چاہیں تو نان، سلاد اور رائتے کے ساتھ کھائیں اور چاہیں تو ساتھ میں پلاؤ یا سفید زیرے والے چاول تناول کریں۔

عید کے دن ران کے تکے یا روسٹ کھاتے ہوئے یہ یاد ضرور رکھیں کہ جتنی خاص یہ ران ہے اتنے ہیں آپ بھی ہیں کیونکہ بھیجنے والوں نے سب کو چھوڑ کر خاص آپ کے لیے یہ ران بھجوائی ہے۔