کوئٹہ میں چمن پھاٹک پر دھماکہ: سرکاری اہلکاروں کو لانے والی ٹرین کی بوگیاں اور متعدد گاڑیاں تباہ، 20 افراد ہلاک، 70 زخمی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں چمن پھاٹک سے گزرنے والی ٹرین کے قریب دھماکے میں کم از کم 20 افراد ہلاک اور 70 زخمی ہو گئے ہیں۔
بلوچستان کے اعلی پولیس افسر اور سول انتظامیہ کے عہدے دار نے بی بی سی کے محمد کاظم کو بتایا کہ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کے مطابق اتوار کی صبح کوئٹہ کینٹ سے آنے والی شٹل ٹرین چمن پھاٹک کے قریب دھماکے کی زد میں آئی۔ دھماکے کے نتیجے میں انجن سمیت تین کوچز پٹری سے اتر گئیں جبکہ دو کوچز الٹ گئیں۔
اُنھوں نے کہا کہ یہ واقعہ بزدلانہ دہشت گردی ہے اور ایسے حملے قومی عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’انڈیا اور افغانستان سے چلنے والے دہشت گرد نیٹ ورکس کے ناپاک عزائم کبھی کامیاب نہیں ہونے دیے جائیں گے۔‘
کوئٹہ ریلوے حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے شٹل ٹرین میں مسافروں کو کینٹ سٹیشن سے سٹی ریلوے سٹیشن لایا جا رہا تھا اور ان مسافروں نے جعفر ایکسپریس میں سوار ہونا تھا۔
حکام کے مطابق یہاں سے ان مسافروں نے پشاور کا سفر شروع کرنا تھا اور اس میں زیادہ تر سرکاری ملازمین شامل تھے جو کہ عید کی چھٹیوں کے لیے اپنے آبائی علاقوں کی طرف جا رہے تھے۔

کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے دھماکے کی ذمے داری قبول کی ہے۔ تنظیم کے ترجمان کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’کوئٹہ کینٹ سے فوجی اہلکاروں کو لے کر آنے والی ٹرین کو نشانہ بنایا گیا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جائے حادثہ پر فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار موجود ہیں۔ حکام کی جانب سے تاحال اس دھماکے کی نوعیت یا ہلاکتوں کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ تاہم ریلوے لائن کے اطراف کھڑی متعدد گاڑیاں تباہ ہو گئی ہیں۔
دھماکے کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز میں ریلوے لائن کے قریب کھڑی گاڑیوں میں آگ لگی ہوئی ہے جبکہ ٹریک پر ٹرین کی بوگیاں اُلٹی ہوئی ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنا کر دہشت گرد اپنی سفاکی کا ثبوت دے رہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ بے گناہوں کا خون بہانے والے دہشت گرد کسی بھی رعایت کے مسحق نہیں ہیں اور ہم ان کے سہولت کاروں اور ماسٹر مائندز کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔

پارکنگ لاٹ میں موجود متعدد گاڑیاں تباہ
دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز شہر میں دور تک سنائی دی۔ مقامی افراد کا کہنا ہے ریلوے لائن کے اطراف پارکنگ لاٹ میں موجود کئی گاڑیوں بھی تباہ ہو گئیں۔
دھماکے کے باعث کوئٹہ شہر کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
حنیف عباسی کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ امدادی کارروائیوں کے لیے ریسکیو ٹرک اور ریلیف ٹرین جائے وقوعہ پر روانہ کر دی گئی ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان ریلوے کی آپریشنل سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہیں گی جبکہ واقعے کی رپورٹ بھی جلد سامنے آ جائے گی۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ ریلوے ٹریک کے اطراف کھڑی متعدد گاڑیاں بھی تباہ ہو گئیں جبکہ ملحقہ گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔
فقیر آباد کے رہائشی نصیر احمد نے بتایا کہ ’ٹرین جارہی تھی جس میں مسافر بھی تھے جب دھماکہ ہوا اس دھماکے کی وجہ سے ہمارے گھر تباہ ہو گئے۔‘
اُن کا کہنا تھاُ کہ اتوار کی وجہ سے ہم لوگ سو رہے تھے کہ زوردار دھماکہ ہوا، گھر کے سارے شیشے ٹوٹ گئے دروازے اور کھڑکیاں گر گئیں۔
چمن بھاٹک کے ایک رہائشی عبدالمالک نے بتایا کہ صبح آٹھ بجے کے قریب زوردار دھماکہ ہوا۔























