آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
برسوں کی محنت اور 93 ارب ڈالر کا خرچہ: آرٹیمس دوم زمین کے مدار میں، مگر چاند پر جانے کا یہ منصوبہ اتنا اہم کیوں ہے؟
- مصنف, ربیکا موریل، ایلیسن فرانسس
- عہدہ, بی بی سی
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
ناسا کا ’آرٹیمس دوم‘ مشن روانہ ہو چکا ہے اور فی الحال یہ خلائی جہاز اب زمین کے گرد مدار میں موجود ہے۔ یہ اگلے 24 گھنٹے تک مدار میں رہے گا تاکہ زمین پر موجود سائنسدان اور عملہ جانچ پڑتال کر سکے اور اگر سب چیزیں منصوبے کے مطابق اور ٹھیک رہیں تو اسے چاند کی طرف جانے کی اجازت مل جائے گی۔
ایک ناسا اہلکار نے اس مشن کے مدار میں پہنچنے کے بعد تصدیق کی کہ خلائی جہاز پر موجود عملہ ’محفوظ، پُراعتماد اور بہترین موڈ میں ہے۔‘
اس 10 روزہ مشن کے دوران خلائی جہاز چاند پر نہیں اُترے گا، بلکہ اس کے گرد چکر لگانے کا منصوبہ ہے، اور ممکن ہے کہ یہ زمین سے اتنی دور جائیں جتنا کوئی انسان پہلے کبھی نہیں گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے علاوہ دیگر عالمی رہنماؤں نے بھی ناسا کی ٹیم اور اس مشن میں شامل خلا بازوں کو آرٹیمس دوم کی کامیاب لانچنگ پر مبارکباد دی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس مشن کو ’بہت شاندار‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ راکٹ اتنی دور جائے گا جتنا اس سے پہلے کوئی انسان بردار راکٹ نہیں گیا اور یہ ’بہت نمایاں طور پر‘ چاند کو پیچھے چھوڑ دے گا۔
آج کے کامیاب لانچ کا مطلب یہ بھی ہے کہ خلا باز خلائی جہاز سے جزوی سورج گرہن بھی دیکھ سکیں گے۔
چاند سورج کو ڈھانپ رہا ہو گا، لیکن وہ سورج کے کورونا یعنی اس کے ماحول کے بیرونی حصے کو دیکھ سکیں گے۔
ناسا کی قائم مقام ایسوسی ایٹ منتظم ڈاکٹر لوری گلیز نے ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ ’یہ ایک منفرد موقع ہو گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ناسا نے آرٹیمس دوم مشن اپنے چار خلا بازوں کے ہمراہ چاند کی جانب روانہ کیا ہے۔
آرٹیمس پروگرام سائنسدانوں کی برسوں کی محنت کا نتیجہ ہے، اور اس کاوش میں ہزاروں افراد شامل رہے ہیں اور اب تک اس پر تقریباً 93 ارب ڈالر لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
لیکن کچھ لوگوں میں یہ احساس نمایاں ہے کہ ’یہ پہلے ہو چکا ہے۔‘
50 سال سے زیادہ عرصہ پہلے، امریکہ کے اپالو مشنز نے تاریخ رقم کی تھی جب پہلی بار انسانوں نے چاند کی سطح پر قدم رکھا۔ چاند پر مجموعی طور پر چھ کامیاب لینڈنگز کے بعد ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ چاند کی تسخیر کو خلائی فہرست سے مکمل طور پر نکال دیا گیا ہے۔
تو اب سوال یہ ہے کہ پھر امریکہ وہاں پہنچنے کے لیے دوبارہ اتنا وقت، محنت اور سرمایہ کیوں لگا رہا ہے؟
قیمتی وسائل
چاند کی سطح خشک، گرد آلود اور کچھ حد تک بنجر دکھائی دیتی ہے، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔
پروفیسر سارہ رسل نیچرل ہسٹری میوزیم میں سیاروں سے متعلق ماہر سائنسدان ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’چاند میں وہی عناصر موجود ہیں جو زمین پر ہیں۔‘
’ایک مثال نایاب زمینی عناصر کی ہے، جو زمین پر بہت کم پائے جاتے ہیں، اور ممکن ہے کہ چاند کے کچھ حصوں میں یہ اتنی مقدار میں موجود ہوں کہ مستقبل میں اُن کی کان کنی کی جا سکے۔‘
وہ مزید کہتی ہیں کہ ’وہاں دھاتیں بھی ہیں، جیسے لوہا اور ٹائٹینیم، اور ہیلیم بھی، جو سپر کنڈکٹرز سے لے کر طبی آلات تک ہر چیز میں استعمال ہوتی ہیں۔‘
لیکن سب سے حیران کُن اور سب سے زیادہ قیمتی چیز پانی ہے۔
رسل کہتی ہیں کہ ’چاند کے کچھ معدنیات میں پانی موجود ہے، اور قطبین پر بھی پانی کی بڑی مقدار موجود ہے۔‘
وہ بتاتی ہیں کہ چاند پر کچھ گڑھے مستقل طور پر سائے میں رہتے ہیں، جہاں برف جمع ہو سکتی ہے۔
چاند پر رہنے کے لیے پانی تک رسائی انتہائی ضروری ہے۔ یہ نہ صرف پینے کے لیے ضروری ہے بلکہ اسے ہائیڈروجن اور آکسیجن میں تقسیم کر کے خلا بازوں کے لیے سانس لینے کے لیے درکار ہوا اور حتیٰ کہ خلائی جہازوں کے لیے ایندھن میں بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
خلا پر اجارہ داری کی دوڑ
امریکہ کے اپالو مشنز، جو 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں چاند پر گئے، سوویت یونین کے ساتھ خلائی برتری کی دوڑ سے متاثر ہو کر شروع کیے گئے تھے۔
تاہم اس بار مقابلہ چین ہے۔
چین اپنے خلائی پروگرام میں تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے۔ اس نے کامیابی کے ساتھ روبوٹس اور روورز کو چاند پر اُتارا ہے اور چین کا دعویٰ ہے کہ وہ سنہ 2030 تک انسانوں کو چاند پر پہنچا دے گا۔
چاند کی دھول میں جھنڈا گاڑنا اب بھی وقار کی بات ہے لیکن اب یہ بھی اہم ہے کہ آپ اسے چاند کے کس مقام پر گاڑتے ہیں۔
امریکہ اور چین دونوں چاند کے اُن حصوں تک رسائی چاہتے ہیں جہاں وسائل سب سے زیادہ ہیں، جس کا مطلب ہے کہ چاند کی بہترین زمین پر دسترس حاصل کرنا۔
اقوامِ متحدہ کا سنہ 1967 کا آؤٹر سپیس کا معاہدہ کہتا ہے کہ کوئی بھی ملک چاند کا مالک نہیں بن سکتا۔ لیکن جب بات چاند پر موجود وسائل کی آتی ہے تو معاملہ اتنا سیدھا نہیں ہے۔
پہلی برطانوی خلا باز ڈاکٹر ہیلن شارمن کہتی ہیں کہ ’اگرچہ آپ چاند کے کسی حصے کے مالک نہیں بن سکتے کیونکہ اقوام متحدہ کا معاہدہ اس کی اجازت نہیں دیتا، لیکن آپ کسی بھی حصے پر بلا روک ٹوک کام کر سکتے ہیں۔‘
’تو اس وقت سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اپنے حصے کی زمین حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ آپ اس کے مالک نہیں بن سکتے، لیکن آپ اسے استعمال کر سکتے ہیں۔ اور ایک بار جب آپ وہاں پہنچ گئے، تو یہ آپ کے پاس اتنی دیر تک رہے گا جتنی دیر تک آپ چاہیں۔‘
مریخ کی جانب راستہ ہموار کرنا
ناسا کی نظریں مریخ پر ہیں اور وہ چاہتا ہے کہ 2030 کی دہائی تک انسانوں کو وہاں بھیجے۔
ٹیکنالوجی کی رکاوٹوں کو دیکھتے ہوئے یہ ایک مشکل ہدف لگتا ہے۔
لیکن کہیں سے تو آغاز کرنا ضروری ہے، اور امریکہ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ آغاز چاند سے کرے گا۔
سائنس میوزیم کی سپیس ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ لِبی جیکسن کہتی ہیں ’چاند پر جانا اور وہاں طویل عرصے تک قیام کرنا کہیں زیادہ محفوظ، سستا اور آسان ہے تاکہ یہ سیکھا جا سکے کہ کسی دوسرے سیارے پر کیسے رہنا اور کام کرنا ہے۔‘
چاند کے بیس پر ناسا وہ ٹیکنالوجی بہتر بنا سکتا ہے جو خلا بازوں کو ہوا اور پانی فراہم کرے۔ انھیں یہ بھی معلوم کرنا ہو گا کہ توانائی کیسے پیدا کی جائے اور ایسے رہائشی ڈھانچے کیسے بنائے جائیں جو لوگوں کو شدید درجہ حرارت اور خطرناک خلائی تابکاری سے بچا سکیں۔
جیکسن کہتی ہیں کہ ’یہ سب ٹیکنالوجیز اگر آپ پہلی بار مریخ پر آزمائیں اور وہ ناکام ہو جائیں تو یہ ممکنہ طور پر تباہ کن ہو گا۔ انھیں پہلے چاند کی سطح پر آزمانا کہیں زیادہ محفوظ اور آسان ہے۔‘
راز جو ابھی تک کے کُھلنے باقی ہیں
سائنسدان بے صبری سے چاند سے لائے جانے والے نئے مواد کو اپنے ہاتھوں میں لینے کے منتظر ہیں۔
اپالو خلا بازوں کے لائے ہوئے پتھروں نے ہمارے اس فلکی پڑوسی کے بارے میں ہماری سمجھ بوجھ کو یکسر بدل کر رکھ دیا تھا۔
پروفیسر سارہ رسل کہتی ہیں کہ ’انھوں نے ہمیں بتایا کہ چاند ایک نہایت ڈرامائی واقعے کے نتیجے میں بنا، جب مریخ کے سائز کا ایک حصہ زمین سے ٹکرایا تو اس کے ٹکڑوں سے چاند وجود میں آیا۔ ہمیں یہ سب اپالو کے پتھروں سے معلوم ہوا۔‘
لیکن وہ کہتی ہیں کہ ابھی بھی بہت کچھ دریافت ہونا باقی ہے۔
چونکہ چاند کبھی زمین کا حصہ تھا، اس میں ہماری اپنی زمین کی 4.5 ارب سالہ تاریخ کا ریکارڈ محفوظ ہے۔ اور چونکہ وہاں پلیٹ ٹیکٹونکس، ہوا یا بارش نہیں ہے جو اس ریکارڈ کو مٹا سکے، اس لیے چاند ایک بہترین ٹائم کیپسول ہے۔
رسل کہتی ہیں کہ ’چاند زمین کا شاندار آرکائیو ہے۔‘
انھیں امید ہے کہ ’چاند کے کسی مختلف علاقے سے پتھروں کا نیا ذخیرہ حاصل کرنا حیرت انگیز ہو گا۔‘
نئی نسل کو متاثر کرنا
اپالو مشنز کی دھندلی اور بلیک اینڈ وائٹ فوٹیج نے خلا کے خواب کو حقیقت میں بدل دیا تھا۔
اور اگرچہ یہ فوٹیج دیکھنے والوں میں سے صرف چند خوش نصیب ہی خلا باز بن سکے، لیکن ان تصاویر کو دیکھ کر ہی بہت سے لوگ سائنس، ٹیکنالوجی اور انجینیئرنگ کے شعبوں میں کیریئر بنانے نکل پڑے۔
اب امید کی جا رہی ہے کہ آرٹیمس مشنز، جو دنیا بھر میں براہِ راست نشر ہوں گے نئی نسل کو متاثر کریں گے۔
سائنس میوزیم کی سپیس ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ لِبی جیکسن کہتی ہیں کہ ’ہم ایک ٹیکنالوجی کی دنیا میں رہتے ہیں۔ ہمیں سائنسدانوں، انجینیئروں اور ریاضی دانوں کی ضرورت ہے اور خلا میں یہ شاندار صلاحیت ہے کہ لوگوں کو ان مضامین کے بارے میں پُرجوش کرے۔‘
نئی ملازمتیں اور ایک ترقی پذیر خلائی معیشت امریکہ کو ان اربوں ڈالرز کا فائدہ دے گی جو اس نے آرٹیمس دوم میں لگائے ہیں۔ اسی طرح وہ ٹیکنالوجی بھی فائدہ دے گی جو مشنز کے لیے تیار کی گئی اور زمین پر بھی استعمال ہو سکتی ہے۔
لیکن ہیلن شارمن کہتی ہیں کہ چاند پر واپسی دنیا کو بھی ایک نہایت ضروری حوصلہ دے گی۔
’اگر ہم واقعی اکٹھے ہو جائیں، تو ہم انسانیت کے لیے بے شمار فائدے پیدا کر سکتے ہیں۔‘
شارمن کہتی ہیں کہ ’یہ ہمیں دکھاتا ہے کہ انسان کیا کچھ کر سکتے ہیں۔‘