آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بلوچستان میں بھی محبت کا زمزمہ بہہ رہا ہے
- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, صحافی، تجزیہ کار
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
قائم مقام صدرِ پاکستان اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ذوالفقار علی بھٹو کو اختیارات سنبھالے بمشکل دو ماہ گزرے ہوں گے کہ فروری 1972 میں چارسدہ، نوشہرہ، پشاور، لاہور، لائل پور (فیصل آباد)، ساہیوال، حیدرآباد سے یکے بعد دیگرے خبریں آنے لگیں کہ پولیس نے ناکافی تنخواہوں اور سہولیات میں اضافے اور عزتِ نفس کو کچلنے والے سیاسی عمل داروں اور بیوروکریسی کے رویے کے خلاف احتجاجاً کام چھوڑ ہڑتال کر دی ہے۔
وفاقی حکومت نے امن و امان کے معاملات سنبھالنے کے لیے کئی مقامات پر فوج اور رینجرز کو طلب کر لیا۔
پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی مربوط پولیس ہڑتال تھی۔ ایسی ناگہانی سے آئندہ بچنے اور سیاسی مخالفین کو قابو میں رکھنے کے لیے 15 ہزار نفری پر مشتمل فیڈرل سیکورٹی فورس (ایف ایس ایف) قائم کی گئی جو براہِ راست صدرِ مملکت (بعد ازاں وزیرِ اعظم) کو جوابدہ تھی۔
فوجی قیادت کو اس متوازی فورس پر ابتدا ہی سے تحفظات تھے۔ چنانچہ ضیا الحق نے جولائی 1977 میں مارشل لا لگاتے ہی ایف ایس ایف کو کالعدم قرار دے دیا۔ نواب محمد احمد خان قتل کیس میں ڈی جی ایف ایس ایف مسعود محمود سلطانی گواہ بن گئے اور بھٹو صاحب کو پھانسی دینے کی راہ ہموار ہو گئی۔
آج نصف صدی بعد بھی پولیس کی پیشہ ورانہ حالت اور نفری آبادی کے تناسب سے کم و بیش وہی ہے۔ دیگر ممالک میں پولیس کا بنیادی کام کمیونٹی کی حفاظت اور روزمرہ سنگین و معمولی جرائم کی تفتیش و بیخ کنی، بلووں پر قابو پانا اور عادی مجرموں پر نظر رکھنا ہے۔ مگر پاکستان میں پولیس کا محکمہ ریاستی مشینری کا وہ نوآبادیاتی پرزہ ہے جس سے اس کے اصل کام کے بجائے ہر وہ کام لیا جاتا ہے جس سے استبدادی گرفت مضبوط رہے۔
اس گرفت کو یقینی بنانے کے لیے پولیس تقرریوں، تعیناتیوں میں میرٹ سے زیادہ وفاداری کو دیکھا جاتا ہے۔ تنخواہوں اور مراعات میں عدم توازن، میرٹ کا تبرکی استعمال، چین آف کمانڈ سے زیادہ چین آف پولیٹیکل اینڈ سٹرٹیجک کمانڈ کے احکامات پر عمل درآمد اور طاقتور اداروں کی مکمل تابعداری کا نتیجہ یہ ہے کہ جن کروڑوں لوگوں کے جان و مال و عزت و آبرو کا تحفظ اس ادارے کا اولین فرضِ منصبی ہونا چاہیے، وہی لوگ پولیس کے رویے سے سب سے زیادہ خوفزدہ اور متنفر ہیں۔
جو طاقتور افراد اور ادارے پولیس کو اپنے لیے استعمال کرتے ہیں وہ بھی اسے حکم کے غلام چوکیدار سے زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہیں۔ یعنی عام آدمی سے نپٹنے کے لیے پولیس جتنی با اختیار ہے، خواص کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے سمے اتنی ہی بے اختیار ہے۔ اتنی بے اختیار کہ اپنی شجاعت کا کریڈٹ بھی بلا اجازت نہیں لے سکتی۔
فی زمانہ شدت پسند ملٹری گریڈ اسلحے اور ویسی ہی تربیت سے لیس ہیں۔ ان سے نپٹنے کے لیے دنیا بھر کی انٹیلی جینس ایجنسیوں میں سپیشلائزڈ شعبے قائم ہیں اور ان سے دو دو ہاتھ کرنے کے لیے انتہائی تربیت یافتہ اور جدید کمیونیکیشن آلات و سامانِ حرب سے لیس مخصوص یونٹس استعمال ہوتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگر ایک سے زائد ادارے اور ایجنسیاں ایک ہی جیسے مشن پر ہوں تو ان کے درمیان رابطہ کاری اور فوری فیصلوں کا ایک مربوط انتظام لازمی سمجھا جاتا ہے۔ اس کام سے منسلک ہر شخص جانتا ہے کہ شدت پسندی سے نمٹنا ہے تو یہ کام شدت پسندوں کی ہر آن بدلتی حکمتِ عملی اور طریقِ کار کو سمجھے اور دماغ میں گھسے بغیر ناممکن ہے۔
اس سپیشلائزڈ کام میں پولیس ایک حد تک بطور معاون ادارہ تو استعمال ہو سکتی ہے مگر اسے ہراول دستہ بنانا ایسے ہی ہے جیسے موٹر مکینک کو طیارے کی اوورہالنگ سونپ دی جائے۔
اگر پولیس کو فرسٹ ڈیفنس لائن بنانے کی اتنی ہی ضرورت ہے تو پھر ٹریننگ، اسلحے، پیشہ ورانہ سہولیات اور دیگر اداروں سے رابطہ کاری اور معلومات و وسائل کی بروقت شیئرنگ کا معیار بھی اتنا ہی بہتر ہونا چاہیے کہ شدت پسند واقعی اسے نرم چارہ سمجھنے کے بجائے ایک چیلنج سمجھیں۔
زیارت میں درجنوں پولیس اہلکاروں کے ساتھ جو ہوا، یہ واقعہ اب عمومی یادداشت کا حصہ بن گیا ہے۔ اب تک تو لوگ شدت پسندی یا جعلی پولیس مقابلوں میں مارے جانے والوں کی لاشیں لے کر دھرنا دیتے تھے، لیکن پہلی بار یہ منظر بھی دیکھنا پڑ رہا ہے کہ مقتول پولیس والوں کے ورثا کوئٹہ میں دھرنا دے کر اس ریاست سے ہی عزتِ نفس کے تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں جس ریاست کے لیے یہ پولیس اہل کار فرسٹ ڈیفنس لائن کا کام کر رہے تھے اور انتہائی نامساعد حالات میں آخری وقت جو بھی اسلحہ یا تھوڑا بہت ایمونیشن میسر تھا، استعمال کرتے رہے۔
ایک مقتول کے وارث کے بقول جو ہیلی کاپٹر اب ’آپریشن شعبان‘ میں اڑ رہے ہیں وہی ہیلی کاپٹر بر وقت کمک پہنچانے یا کم ازکم اپنے ہی اہلکاروں کی لاشیں عزت سے منتقل کرنے میں کیوں استعمال نہیں ہو سکے۔
اگر یہ سرکاری بیانیہ تسلیم کر بھی لیا جائے کہ صوبے کی اکثریت شدت پسندی سے تنگ ہے تو پھر زیارت میں جو کچھ ہوا اور اس کے بعد سرکار نے جو کیا یا نہیں کیا، یا جو تاویلات پیش کی جا رہی ہیں، ان سے ریاستی رٹ، حکمتِ عملی اور ریاست کی خاطر جان دینے والے اہلکاروں کے ورثا کی بے چینی سے صوبہ چھوڑ پورے پاکستان میں کیا پیغام گیا؟
اگر بلوچستان کے حالات صرف ایک ایس ایچ او کی مار ہیں یا آخری شدت پسند کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی یا اس بارے میں مولانا فضل الرحمان کے ایک متنازعہ بیان کی پانچ آٹھ وفاقی وزرا کی جانب سے مذمت جیسے کاموں سے حالات قابو میں آ سکتے ہیں تو پھر اسی حکمتِ عملی کو جاری رکھیے۔
پریس کانفرنسوں میں بتاتے رہیے کہ آج مزید کتنے شدت پسند مارے۔ آئین کے دائرے میں جدوجہد کرنے والوں اور مسلح شدت پسندوں کو ایک ہی دوربین سے دیکھتے رہیے۔ بیرونی آلہ کاری کا روزانہ حوالہ دیتے رہیے مگر اجلے لباس پر خود احتسابی کے چھینٹے ہرگز ہرگز پڑنے نہ دیجیے۔ 1970 میں جو اردو ڈائجسٹ بتا رہا تھا کہ مشرقی پاکستان میں محبت کا زمزمہ بہہ رہا ہے، اسی اردو ڈائجسٹ میں دو برس بعد یہ ادارتی سیریز چل رہی تھی کہ ’ہم کہاں کھڑے ہیں۔‘