آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جیکو جے سیون سمیت وہ چینی گاڑیاں جو جیگوار لینڈ روور کے لیے خطرہ بن گئیں
- مصنف, تھیو لیگٹ
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
برطانیہ کی ایک معروف لگژری کار کمپنی جیگوار لینڈ روور کی جانب سے تقریباً چار ہزار ملازمتیں ختم کرنے کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب کمپنی گذشتہ کچھ عرصے سے مسلسل مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔
کمپنی کی فروخت اس کی تمام بڑی مارکیٹوں میں کم ہوئی ہے، جبکہ گذشتہ سال ایک ’شدید نوعیت کے سائبر حملے‘ نے اس کی پیداوار کو مفلوج کر دیا تھا، جس کے اثرات سے کمپنی اب تک نمٹ رہی ہے۔
دوسری جانب جیگوار لینڈ روور نے خود کو الیکٹرک گاڑیوں کے مستقبل کے لیے تیار کرنے کی کوشش میں اربوں ڈالر بھی خرچ کیے ہیں۔ تاہم اس شعبے میں اسے چین کی تیزی سے پھیلتی ہوئی کار کمپنیوں کی جانب سے سخت مقابلے کا سامنا متوقع ہے۔
اب کمپنی کی انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ جیگوار لینڈ روور کے کاروبار میں بڑی سطح پر تبدیلیاں اور تنظیمِ نو ضروری ہو گئی ہیں۔
جیگوار لینڈ روور کے لیے سب سے اہم تشویش یا پریشانی کی وجہ چین ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک چین مغربی کار کمپنیوں کے لیے مواقع کی سرزمین سمجھا جاتا تھا۔ وہاں تیزی سے بڑھتا ہوا متوسط طبقہ مہنگی اور معروف غیر ملکی گاڑیوں کا ایسا شوقین تھا کہ لگتا تھا اس کی طلب کبھی ختم نہیں ہوگی۔
جیگوار لینڈ روور کے ساتھ ساتھ بی ایم ڈبلیو، آوڈی اور مرسڈیز بینز سمیت دیگر یورپی برانڈز بھی اس بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے تیار تھے۔ اس وقت یورپی کار مارکیٹ پہلے ہی بہت زیادہ مسابقت کا شکار تھی اور وہاں کاروبار میں ترقی کے نئے مواقع تلاش کرنا مشکل تھا۔
لیکن آج صورتحال بالکل مختلف ہے۔
گذشتہ ایک دہائی کے دوران چینی کار کمپنیوں نے تیزی سے ترقی کی ہے۔ ان کمپنیوں کو چینی حکومت کی بھرپور حمایت حاصل رہی ہے، جو ملک کو الیکٹرک گاڑیوں کی عالمی صنعت میں ایک اہم طاقت بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے نتیجے میں چین میں کار کمپنیوں کے درمیان انتہائی سخت مقابلے کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ مقامی چینی کمپنیوں نے ٹیکنالوجی اور نئی گاڑیاں تیار کرنے کی رفتار کے معاملے میں معیار بہت بلند کر دیا ہے۔
یوں جیگوار لینڈ روور کو ایک ایسی مارکیٹ میں مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے جہاں چینی کمپنیاں نہ صرف تیزی سے نئی گاڑیاں متعارف کرا رہی ہیں بلکہ ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی مسلسل آگے بڑھ رہی ہیں۔
چین کی معیشت میں سست روی اور مجموعی طور پر گاڑیوں کی فروخت میں کمی نے یورپی کار کمپنیوں کے لیے چینی مارکیٹ کو پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل بنا دیا ہے۔
جیگوار لینڈ روور کی چین میں گاڑیوں کی فروخت سنہ 2017 میں ایک لاکھ 46 ہزار گاڑیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، لیکن گذشتہ مالی سال میں یہ گھٹ کر صرف 62 ہزار 400 رہ گئی۔ اسی دوران بڑھتی ہوئی مسابقت اور لگژری گاڑیوں پر عائد کیے گئے نئے ٹیکس نے کمپنی کے منافع کی شرح کو بھی متاثر کیا ہے۔
ان تمام عوامل کے نتیجے میں چین سے جیگوار لینڈ روور کی آمدنی میں نمایاں کمی آئی ہے۔ تاہم جیگوار لینڈ روور اکیلی کمپنی نہیں جسے اس صورتحال کا سامنا ہے۔ مثال کے طور پر وولکس ویگن گروپ کی چین سے ہونے والی آمدنی بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ یہی صورتحال ان اہم وجوہات میں شامل ہے جن کے باعث کمپنی نے اس دہائی کے اختتام تک ایک لاکھ ملازمتیں ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
چین کی مارکیٹ کی موجودہ صورتحال کا ایک اور نتیجہ بھی سامنے آیا ہے، جس نے جیگوار لینڈ روور سمیت یورپی کار کمپنیوں کو متاثر کیا ہے۔ چین میں سخت مسابقت کا سامنا کرنے والی مقامی کمپنیوں، مثلاً ’بی وائی ڈی‘ اور چیری نے اب بیرونِ ملک بھی اپنی موجودگی تیزی سے بڑھانا شروع کر دی ہے۔
یہ چینی کمپنیاں برطانیہ اور یورپ میں تیزی سے اپنا مارکیٹ شیئر بڑھا رہی ہیں۔ اس کی ایک مثال چیری کی ’جیکو جے سیون ہے، جسے بعض لوگ اس کی شکل و ساخت کی وجہ سے ’ٹیمو رینج روور‘ کہتے ہیں۔ یہ گاڑی رواں سال کی پہلی ششماہی میں برطانیہ میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی گاڑیوں میں تیسرے نمبر پر رہی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ’روایتی کار برانڈز کے لیے ان نئے حریفوں کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ہوگا۔ چینی کمپنیاں کم قیمت پر گاڑیاں فروخت کرنے کے ساتھ ساتھ انھیں روایتی کمپنیوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے تیار اور مارکیٹ میں پیش بھی کر سکتی ہیں۔‘
امریکہ بھی جیگوار لینڈ روور کی ایک بڑی مارکیٹ ہے۔ مارچ 2025 میں ختم ہونے والے مالی سال کے دوران کمپنی نے امریکہ میں ایک لاکھ 20 ہزار سے زیادہ گاڑیاں فروخت کیں۔ تاہم اگلے مالی سال میں یہ تعداد کم ہو کر ایک لاکھ سے کچھ کم رہ گئی۔
جیگوار لینڈ روور کی مشکلات میں گزشتہ سال کے آخر میں ہونے والے سائبر حملے کا بھی کچھ حصہ ہے۔ اس حملے نے 2025 کے آخر میں کمپنی کی پیداواری سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا تھا۔ اس کے اثرات دنیا بھر میں جیگوار لینڈ روور کے کاروبار پر پڑے اور کمپنی کو تقریباً ایک اعشاریہ نو ارب پاؤنڈ کا نقصان ہوا۔
لیکن جیگوار لینڈ روور کی فروخت اور منافع کو ایک اور وجہ سے بھی دھچکا لگا۔ امریکہ نے درآمدی گاڑیوں پر نئے ٹیرف عائد کیے، جس کے بعد ان ٹیرف یا محصولات کی شرح کے بارے میں غیر یقینی صورتحال بھی برقرار رہی۔
آٹو موٹیو تجزیہ کار میتھیاس شمٹ کے الفاظ میں کمپنی کو ایسا لگ رہا ہے جیسے ’جب بھی لینڈ روور سے لدا کوئی جہاز امریکی سرزمین پر پہنچتا ہے، اسے براہِ راست ایک نیا دھچکا لگتا ہے۔‘
اب جیگوار لینڈ روور امریکہ میں نئی ڈیفنڈر گاڑیاں تیار کرنے کے لیے ’سٹیلانٹس‘ کے ساتھ شراکت داری کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ یہ گاڑیاں خاص طور پر امریکی مارکیٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی جائیں گی اور ان پر درآمدی ٹیرف عائد نہیں ہوگا۔
جیگوار لینڈ روور اور اس کی حریف کمپنیوں کے لیے ایک اور بڑا مسئلہ توانائی کی قیمتیں ہیں۔ گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں اور ان کے سپلائرز بڑے صنعتی ادارے ہیں، جنھیں پیداوار کے لیے بہت زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے، جبکہ برطانیہ میں توانائی کی قیمتیں یورپ کے کئی دوسرے ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔
برمنگھم بزنس سکول کے پروفیسر ڈیوڈ بیلی کے مطابق ’بجلی جدید صنعتی پیداوار کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’اگر برطانیہ میں گاڑی تیار کرنا صرف اس لیے ساختی طور پر زیادہ مہنگا ہو جائے کہ اسے بنانے کے لیے درکار توانائی کی قیمت بہت زیادہ ہے، تو برطانیہ دراصل اپنی ہی صنعت پر مسابقتی صلاحیت کا اضافی ٹیکس عائد کر رہا ہے۔‘
جیگوار لینڈ روور کو یہ تمام مشکلات ایسے وقت میں درپیش ہیں جب کمپنی نئی نسل کی الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری پر بھاری سرمایہ خرچ کر رہی ہے۔
کمپنی کے 15 ارب پاؤنڈ کے منصوبے کا پہلا بڑا نتیجہ گذشتہ ہفتے سامنے آیا، جب پہلی مکمل الیکٹرک رینج روور کی باضابطہ رونمائی کی گئی۔
اس گاڑی کی رونمائی پر زیادہ تنازع نہیں ہوا، لیکن جیگوار لینڈ روور کی جانب سے جیگوار کو مکمل طور پر الیکٹرک برانڈ کے طور پر دوبارہ متعارف کرانے کی کوشش اب تک خاصی متنازع رہی ہے۔
سنہ 2024 کے آخر میں کمپنی ایک ایسی اشتہاری مہم کے باعث ثقافتی بحث کا مرکز بن گئی تھی جسے بعض لوگوں نے حد سے زیادہ ’ووک‘ قرار دیا تھا۔
اب جیگوار کی پہلی نئی الیکٹرک گاڑی چھ اکتوبر کو پہلی بار عوام کے سامنے پیش کی جائے گی۔ یہ لمحہ کمپنی کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ جیگوار لینڈ روور کے چیف ایگزیکٹو پی جے بالاجی کمپنی کے اخراجات کم کرنے اور اسے زیادہ مؤثر اور کم لاگت والا ادارہ بنانے کے لیے فوری اقدامات کیوں ضروری سمجھتے ہیں۔
لیکن اس کا سب سے بڑا اثر ملازمین پر پڑ سکتا ہے۔ کمپنی میں ہزاروں ملازمتیں ختم ہونے کا امکان ہے اور لازمی برطرفیوں کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا گیا۔
جیگوار لینڈ روور کے لیے پرزے اور دیگر سامان فراہم کرنے والی کمپنیوں پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
جیگوار لینڈ روور کے ایک بڑے سپلائر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جیگوار لینڈ روور اخراجات کم کرنے کے لیے بہت زیادہ دباؤ ڈال رہی ہے، لیکن یہ سپلائرز خود بھی توانائی اور ملازمین کی بڑھتی ہوئی لاگت کا سامنا کر رہے ہیں۔۔۔ اس وقت شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔‘
یوں جیگوار لینڈ روور کے لیے مسئلہ صرف اپنی گاڑیوں کی فروخت بڑھانے کا نہیں بلکہ مہنگی پیداوار، توانائی کے اخراجات، امریکی ٹیرف، چینی کمپنیوں سے سخت مقابلے اور الیکٹرک گاڑیوں کی جانب منتقلی جیسے کئی چیلنجز سے بیک وقت نمٹنے کا ہے۔