سردار داؤد: ’پشتونستان‘ کے حامی افغان رہنما جو جنرل ضیا سے کیا وعدہ نبھانے سے پہلے قتل کر دیے گئے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, وقار مصطفیٰ
- عہدہ, صحافی، محقق
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 10 منٹ
17 جولائی 1973 کو پاکستان کے صدر ذوالفقار علی بھٹو امریکہ جاتے ہوئے یورپ میں تھے جب انھیں علم ہوا کہ ہمسایہ ملک افغانستان میں سردار محمد داؤد خان نے فوجی بغاوت کی قیادت کرتے ہوئے 40 سال سے حکمران بادشاہ ظاہر شاہ کو معزول کر دیا ہے اور ملک کو جمہوریہ قرار دے کر خود صدر بن گئے ہیں۔
پاکستان کے مشرقی حصے کی علیحدگی کے بعد باقی ماندہ ملک کو سنبھالنے کی کوششوں میں مصروف بھٹو کے لیے سردار داؤد کا اقتدار میں آنا گویا مغربی سرحد پر کشیدگی کی واپسی تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
داؤد: ’پشتونستان‘ کے حامی
انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا کے مطابق داؤد پشتون قوم پرستی کے اس نظریے کے حامی تھے جس کا مقصد پاکستان اور افغانستان کے پشتون اکثریتی علاقوں کو ملا کر ایک ’پشتونستان‘ قائم کرنا تھا۔
یہ پاکستان کے پشتون علاقوں پر افغان دعوے ہی تھے جو، سابق افغان سفارت کار اور محقق احمد شائق قاسم کے مطابق، پاکستان کے قیام کے بعد افغانستان کی جانب سے ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد تسلیم نہ کرنے اور اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کی مخالفت کی بنیادی وجہ بنے۔
اپنی کتاب ’افغانستان پولیٹیکل سٹیبلٹی: اے ڈریم اَن ریئلائزڈ‘ میں احمد لکھتے ہیں کہ اگرچہ بعض مؤرخین کے مطابق تقریباً ایک سال بعد افغانستان کا پاکستان کو باضابطہ تسلیم کرنا ان دعوؤں سے عملاً دست برداری کے مترادف تھا، جس کے بدلے پاکستان نے افغانستان کے لیے تجارتی راستے دوبارہ کھولے۔
’پاکستان نے قبائلی علاقوں کو وسیع خودمختاری دی، مگر افغانستان نے پشتونستان کی مہم جاری رکھی۔ فقیرِ ایپی کی ’آزاد پشتونستان‘ تحریک کی حمایت کرنے والا واحد ملک بھی افغانستان تھا۔‘
’سنہ 1950 اور 1951 میں سرحدی جھڑپیں ہوئیں، سفارتی تعلقات منقطع ہوئے اور پاکستان نے افغانستان کو ایندھن کی فراہمی روک دی۔‘
انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا کے مطابق داؤد، جنھوں نے 1939 میں ایک آرمی کور کی کمان سنبھالی تھی، 1946 سے 1953 تک وزیر دفاع رہے اور 1953 میں وزیراعظم بنے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
احمد لکھتے ہیں کہ سنہ 1954 میں پاکستان کے ون یونٹ منصوبے کو، قبائلی علاقوں کو مغربی پاکستان کا حصہ نہ بنائے جانے کے باوجود، داؤد خان نے پاکستان میں پشتون خودمختاری ختم کرنے کی پہلی کوشش قرار دیا۔
دونوں طرف شدید پراپیگنڈا ہوا، کابل، جلال آباد، قندھار اور پشاور میں سفارتی عمارتوں پر حملے ہوئے اور پاکستان نے سفارتی اور تجارتی تعلقات ختم کر دیے۔
’افغانستان کو معاشی دباؤ کے باعث پسپائی اختیار کرنا پڑی اور 1955 میں سفارتی تعلقات بحال ہو گئے، تاہم پشتونستان کا تنازع برقرار رہا۔‘
احمد کے مطابق سنہ 1958 میں جنرل ایوب خان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغان قیادت نے یہ دعویٰ کمزور ہوتا دیکھا کہ پاکستان کے پشتون اپنے مستقبل کے مالک نہیں۔
’ستمبر 1960 میں افغانستان نے باجوڑ کے قبائلی تنازع میں مداخلت کرتے ہوئے ایک قبائلی لشکر پاکستان بھیجا تاکہ پشتونستان کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جا سکے، مگر مقامی قبائل نے اس کی مزاحمت کی اور افغان لشکر کو شکست ہوئی۔‘
صحافی اور دانشور شیخ عزیز اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ ’سنہ 1960 کی دہائی کے آغاز میں افغان فوج کی بعض یونٹوں نے باجوڑ ایجنسی کے راستے بین الاقوامی سرحد عبور کر کے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کی تاکہ پشتونستان کے مطالبے کو اجاگر کیا جا سکے اور اس کے لیے حمایت حاصل کی جا سکے، لیکن پاکستانی افواج نے انھیں پسپا کر کے واپس افغانستان دھکیل دیا۔‘
احمد کے مطابق 1961 میں ایک اور دراندازی بھی ناکام رہی، جس سے افغانستان کو مزید سیاسی نقصان اٹھانا پڑا۔
اختلافات بڑھنے پر ستمبر 1961 میں دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات منقطع ہو گئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مارٹن ایونز اور اینتھونی ہائمن افغانستان پر اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں کہ چونکہ افغان معیشت کا بڑا انحصار پاکستان کے راستے تجارت پر تھا، اس لیے کسٹم آمدن، زرمبادلہ، صنعتی ترقی اور بیرونی امداد بری طرح متاثر ہوئی۔
’امریکی، اقوام متحدہ اور دیگر مغربی منصوبے بھی رک گئے، ہزاروں ٹن امدادی گندم پاکستانی گوداموں میں پڑی خراب ہو گئی، اور سرحدی تجارت تقریباً مفلوج ہو گئی۔ پاکستان کی پشتون ٹرانسپورٹ کمپنیاں بھی اس سے شدید متاثر ہوئیں۔‘
لوئی ڈُپری نے اپنی کتاب افغانستان اور امین سائکل نے اپنی کتاب ماڈرن افغانستان میں لکھا ہے کہ سرحد بند ہونے سے افغانستان نے ایران کے راستے ایک متبادل تجارتی راہداری اختیار کی، لیکن وہ طویل اور مہنگی ثابت ہوئی۔ افغانستان کی خواہش کے باوجود امریکہ نے اس راستے کی ترقی کے لیے مدد فراہم نہیں کی۔
ہفت روزہ ٹائم کے مطابق داؤد نے 1953 سے 1963 تک اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دوران افغانستان کی خیبر پاس تک رسائی اور ایران، پاکستان، چین اور سوویت یونین سے ملتی سرحدوں کی وجہ سے حاصل اہمیت کا بڑی مہارت سے فائدہ اٹھایا تھا۔
امریکہ اور سوویت یونین کے ایک دوسرے کے مقابلے میں افغانستان کو امداد دینے پر وہ مذاقاً کہا کرتے تھے: ’مجھے سب سے زیادہ خوشی اس وقت ہوتی ہے جب میں اپنے امریکی سگریٹ کو روسی ماچس سے سلگاتا ہوں۔‘
لیکن اس معاشی اور سفارتی بحران نے شاہ ظاہر کو اپنے طاقت ور حریف محمد داؤد کو 1963 میں وزارتِ عظمیٰ سے ہٹانے کا موقع دیا۔
برٹینیکا کے مطابق 1964 میں نئے آئین کے نفاذ کے بعد شاہی خاندان کے افراد پر سیاسی عہدے رکھنے کی پابندی عائد کر دی گئی، جس کے نتیجے میں داؤد خان کی سیاست میں براہِ راست شرکت شدید محدود ہو گئی۔
احمد لکھتے ہیں کہ اسی سال ایران کی ثالثی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات ہوئے، اور مئی 1963 میں تقریباً 22 ماہ بعد دونوں ممالک نے تجارتی، قونصلر اور سفارتی تعلقات بحال کرنے پر اتفاق کر لیا، اگرچہ پشتونستان کا بنیادی تنازع اپنی جگہ برقرار رہا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images
احمد کے مطابق خارجہ تعلقات کے میدان میں 1963 سے 1973 کے دوران سب سے نمایاں کوششیں وزیراعظم موسیٰ شفیق (دسمبر 1972 تا جولائی 1973) نے کیں۔
’شفیق پاکستان کے ساتھ زیرِ التوا مسائل حل کرنے کے لیے پُرعزم تھے، لیکن پشتونستان کا مسئلہ اس قدر حساس ہو چکا تھا کہ کوئی بھی افغان رہنما آسانی سے اس سے پہلوتہی نہیں کر سکتا تھا۔‘
داؤد خان کی بغاوت کے بعد ٹائم کے مطابق ’سوویت یونین اور انڈیا وہ پہلے ممالک تھے جنھوں نے نئی حکومت کو تسلیم کیا‘، لیکن افغانستان کے پاکستان سے تعلقات خراب ہو گئے۔‘
اپنی کتاب ’یوایس۔پاکستان ریلیشن شپ: سوویت انویژن آف افغانستان‘ میں اے زیڈ ہلالی نے لکھا ہے کہ سردار داؤد نے افغانستان میں اقتدار سنبھالتے ہی ’نہ صرف پشتونستان کے مسئلے کو دوبارہ زندہ کیا بلکہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ابھرنے والی علیحدگی پسند تحریک کی بھی حمایت شروع کر دی۔‘
اپنی پہلی پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان اختلافات پشتونوں اور بلوچوں کے جائز حقوق سے متعلق ہیں۔
اگست 1973 میں کابل میں ’پشتونستان ڈے‘ منایا گیا، جہاں پشتون اور بلوچ ’برادران‘ کی حمایت میں بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے گئے۔ نومبر 1973 میں افغان حکومت نے اعلان کیا کہ افغانستان ڈیورنڈ لائن کو دونوں ممالک کے درمیان سرکاری بین الاقوامی سرحد تسلیم نہیں کرتا کیونکہ اس نے تقریباً 25 لاکھ پشتونوں کو افغانستان سے جدا کر دیا ہے۔
بھٹو نے کوشش کی کہ داؤد، ڈیورنڈ لائن کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان جائز بین الاقوامی سرحد تسلیم کریں اور کابل حکومت بلوچ اور پشتون قوم پرستوں کی حمایت ختم کرے۔
احمد نے لکھا ہے کہ بلوچ مسئلے پر 1974 میں داؤد اور بھٹو نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو ایک دوسرے کے خلاف خطوط ارسال کیے۔
امین سائکل کی کتاب ’ماڈرن افغانستان‘ کے مطابق کابل نے پاکستان میں علیحدگی پسند پشتون اور بلوچ تحریکوں کے لیے اپنی مالی اور عسکری امداد کو دوبارہ فعال کیا، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہوا۔
’اس پر امریکہ کے اتحادی شاہِ ایران نے اعلان کیا کہ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد پاکستان کے مزید ٹکڑے ہونے کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انھوں نے یہ وعدہ بھی کیا کہ بلوچستان اور سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) میں علیحدگی پسند سرگرمیوں کے خلاف بھٹو حکومت کی مدد کریں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شیخ عزیز لکھتے ہیں کہ داؤد خان کے اقتدار میں آنے سے افغانستان کی غیر پشتون اقلیتوں، مثلاً تاجکوں، ازبکوں اور دیگر قومیتوں میں بے چینی پیدا ہوئی۔
’جب سرحدی علاقوں میں بعض پشتون گروہوں نے مسلح مزاحمت اور تشدد کا راستہ اختیار کیا تو داؤد خان سوویت یونین اور انڈیا کے مزید قریب ہو گئے۔ دونوں ممالک نے افغانستان کو بھرپور اقتصادی امداد فراہم کی اور جدید جنگی سازوسامان، جن میں جیٹ طیارے اور بھاری توپ خانہ بھی شامل تھا، مہیا کیا۔ انڈیا کے ساتھ داؤد خان کے بڑھتے ہوئے تعلقات پاکستان کے لیے تشویش کا باعث بنے، کیونکہ ’پشتونستان‘ کا مطالبہ پاکستان کے وسیع سرحدی علاقے سے دستبرداری کے مترادف سمجھا جاتا تھا۔‘
ہائمن لکھتے ہیں کہ اندرونی سطح پر داؤد خان نے سوویت نواز پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان کے ارکان کو اہم سرکاری عہدوں پر فائز کیا، لیکن ساتھ ہی ملک میں اسلامی تحریک کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو کچلنے پر اپنی توجہ مرکوز رکھی۔
’اسلامی گروہ کے تقریباً 50 رہنما اور کارکن، جن میں برہان الدین ربانی اور گلبدین حکمت یار بھی شامل تھے، پشاور فرار ہو چکے تھے۔ وہاں ان کا خیرمقدم نہ صرف ہم خیال اسلامی حلقوں اور جماعتِ اسلامی پاکستان کے ارکان نے کیا بلکہ پاکستان کے نسبتاً سیکولر مزاج وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی کیا۔ یہی افراد بعد میں سوویت افواج کے خلاف کامیاب مزاحمتی رہنما ثابت ہوئے۔‘
بھٹو کی سخت گیر پالیسیوں کے نتیجے میں افغان حکومت پر دباؤ بڑھا۔
امریکی محقق رابرٹ ورسنگ کے مطابق، بھٹو کی پالیسیوں نے کابل حکومت کو مفاہمت کی طرف مائل کرنے میں مدد دی۔ داؤد حکومت میں نائب وزیر خارجہ عبدالصمد غوث نے بھی اعتراف کیا کہ مفاہمت کی طرف آنے سے پہلے بلوچستان اور پشتون علاقوں میں افغانستان کی مداخلت اتنی ہی نمایاں تھی جتنی اسلام آباد الزام لگاتا تھا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کی ایک خبر کے مطابق 5 جولائی 1975 کو کراچی سے اسلام آباد آنے والی پی آئی اے کی ایک پرواز کے اسلام آباد پہنچنے کے تقریباً آدھ گھنٹے بعد ایک نشست کے نیچے نصب بم پھٹا۔ اس وقت تمام 130 مسافر جہاز سے اتر چکے تھے، اس لیے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم دھماکے سے جہاز کے ڈھانچے میں تقریباً تین فٹ چوڑا شگاف پڑ گیا۔
پاکستانی حکومت نے اس واقعے کا تعلق کالعدم نیشنل عوامی پارٹی اور بالواسطہ طور پر افغانستان سے جوڑا۔
تعلقات معمول پر لانے کی کوشش
سنہ 1976 کے قحط اور زلزلوں کے بعد پاکستان کی امداد اور خیرسگالی کے اقدامات کے نتیجے میں افغانستان کے صدر داؤد نے وزیراعظم بھٹو کو افغانستان کے دورے کی دعوت دی۔
یوں 1976 میں کابل میں بھٹو اور داؤد کے درمیان براہِ راست مذاکرات ہوئے۔ اسی سال داؤد نے پاکستان کا پانچ روزہ دورہ کیا۔ بھٹو نے ان کی بھرپور میزبانی کی۔
افغان حکومت کے لیے خیرسگالی کے اظہار کے طور پر پاکستان نے مارچ 1977 میں انڈیا سے افغانستان جانے والی گندم کی ترسیل کی اجازت بھی دی۔
تاہم یہ مفاہمت کسی باضابطہ معاہدے کی شکل اختیار نہ کر سکی اور جولائی 1977 میں جنرل ضیا الحق نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹ دیا۔
البتہ تعلقات میں یہ گرمجوشی جنرل ضیا کے دور میں بھی برقرار رہی۔
10 اکتوبر 1977 کو انھوں نے کابل میں داؤد خان سے مذاکرات کیے اور ضیا کی دعوت پر داؤد نے 4 مارچ 1978 کو پاکستان کا دورہ کیا۔
ہلالی کے مطابق لاہور میں اپنے خطاب میں داؤد نے کہا کہ ’پاکستان کا امن ہی افغانستان کا امن ہے۔ انھوں نے پشتون اور بلوچ رہنماؤں کی رہائی پر ضیا الحق کی تعریف کی اور امید ظاہر کی کہ اس سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید بہتر ہوں گے۔‘
داؤد کے اعزاز میں ضیا کے عشائیے میں عبدالولی خان، عطا اللہ مینگل، خیر بخش مری اور غوث بخش بزنجو سمیت متعدد رہنما شریک ہوئے۔
’داؤد نے کہا کہ ان کی پاکستان کے ساتھ بات چیت انتہائی مفید اور نتیجہ خیز رہی ہے۔ ضیا نے بھی اتفاق کیا اور کہا کہ وہ دونوں ممالک کے مفاد میں کسی حتمی تصفیے تک پہنچنا چاہتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنرل ضیا کے معتمدِ خاص جنرل خالد محمود عارف نے اپنی کتاب ’ورکنگ ود ضیا‘ میں لکھا ہے کہ افغان وفد نے دورے کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے کی خواہش ظاہر نہیں کی، جسے پاکستان نے قبول کر لیا۔ یہ طے پایا کہ چند ماہ بعد دونوں رہنما کابل میں دوبارہ ملاقات کریں گے۔
’پاکستان سے روانگی سے قبل صدر داؤد نے گرمجوشی سے جنرل ضیا الحق سے مصافحہ کرتے ہوئے کہا ’یہ ایک پشتون کا ہاتھ ہے، جو پاکستان کے ساتھ مضبوط اور دیرپا دوستانہ تعلقات قائم کرنے کا وعدہ کر رہا ہے۔ گذشتہ 30 برس سے ہم ایک خاص مؤقف پر قائم رہے ہیں۔ مجھے کچھ وقت دیجیے تاکہ میں اپنے ملک میں رائے عامہ کو اس تبدیلی کے لیے ہموار کر سکوں۔ میرا ارادہ ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے تعلقات معمول پر لانے کے فیصلے کے لیے افغان لویہ جرگہ طلب کروں۔‘
احمد کے مطابق کابل واپسی پر داؤد نے پاکستانی قیادت سے ہونے والی ملاقاتوں کے بارے میں کہا کہ ’ہم نے ایک دوسرے کے نقطۂ نظر کو پوری طرح سمجھا اور اس حقیقت کا ادراک کیا کہ ہماری منزلیں مشترک ہیں۔ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ اس غیر مستحکم دنیا میں ہماری دوستی اور برادرانہ تعلقات ہمارے دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے بنیادی شرط ہیں۔‘
ان کے مطابق ’اس طرح افغان حکومت کا سابقہ نسلی قوم پرستانہ سخت مؤقف بدل کر پاکستان کے بارے میں ایک نہایت دوستانہ رویے میں تبدیل ہو گیا، جس میں اسلامی اخوت کی جھلک نمایاں تھی۔‘
جنرل عارف لکھتے ہیں کہ ’پشتون روایات گہری جڑیں رکھتی ہیں اور صدیوں کی آزمودہ ہیں۔ جس طرح ان کی دشمنی نسل در نسل منتقل ہو سکتی ہے، اسی طرح ان کی دوستی بھی ضرب المثل سمجھی جاتی ہے، مضبوط، پائیدار اور قابلِ اعتماد۔‘
’جنرل ضیا الحق کا خیال تھا کہ صدر داؤد اپنا وعدہ ضرور پورا کریں گے، لیکن تقدیر نے اس خطے کے لیے کچھ اور ہی فیصلہ کر رکھا تھا۔
ہلالی کے مطابق اپریل 1978 میں ثور انقلاب برپا ہوا اور داؤد خان اور ان کے خاندان کو قتل کر دیا گیا۔



















