خیبر پختونخوا حکومت کے مشیر خزانہ مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ صوبے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے اب تک بجٹ پیش کرنے کی کوئی تاریخ کا فیصلہ نہیں کیا
ہے اور نہ ہی اب تک اس بارے میں کوئی سمری ارسال کی گئی ہے۔
صوبائی اسمبلی کا اجلاس اب 19 جون کو طلب کیا گیا ہے۔
اس
سے پہلے 15 جون کی تاریخ دی گئی تھی جسے تبدیل کرکے 17 جون کو صوبائی اسمبلی کا
اجلاس طلب کیا گیا تھا اور یہ تاثر سامنے آیا تھا کہ اسی روز بجٹ پیش کیا جائے گا۔
اس بارے میں صوبائی حکومت کے مشیر خزانہ مزمل اسلم سے رابطہ
کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ جب انھیں کہا جائے گا وہ 24 گھنٹوں کی اندر بجٹ پیش کرنے
کی پوزیشن میں ہوں گے، لیکن اب تک بجٹ پیش کرنے کا انھیں نہیں بتایا گیا ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ اسمبلی کا اجلاس طلب کر نے کے بعد اسے منسوخ کیوں کیا جاتا ہے، تو ان کا
کہنا تھا کہ اسمبلی کا اجلاس طلب کرنا اور بجٹ پیش کرنا الگ معاملات ہیں۔
’ضروری نہیں کہ یہ اجلاس بجٹ پیش کرنے کے لیے طلب کیا گیا ہے۔‘
ان سے جب پوچھا گیا کہ ایک تاثر یہ بھی سامنے آیا ہے کہ صوبائی
حکومت تین مہینے کا بجٹ پیش کرنے کا سوچ رہی ہے، تو انھوں نے کہا کہ انھوں نے ایک سال کا بجٹ تیار کیا ہے اور اگر انھیں کہا جائے گا کہ وہ تین مہینے کا بجٹ پیش
کریں تو وہ تین مہینے کا بجٹ بھی پیش کر سکتے ہیں۔
وفاقی حکومت کے بعد صوبہ پنجاب نے اپنا بجٹ گذشتہ روز یعنی
16 جون کو پیش کر دیا ہے جبکہ بلوچستان اور سندھ کے بجٹ آج پیش کیے جا رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات
اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی سے سے اس معاملے پر تبصرے کے لیے رابطہ کیا گیا، تو انھوں نے کہا کہ ’صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ بجٹ پیش کرنے سے پہلے ان کی ملاقات عمران خان سے کروائی
جائے کیونکہ اس بجٹ میں ان کی مشاورت ضروری ہے اور عمران خان کے وژن کے مطابق بجٹ
پیش کیا جائے گا۔‘
ان سے جب پوچھا گیا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے چند روز پہلے
وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تھی تو کیا اس میں صوبائی حکومت کا مؤقف ان کے سامنے رکھا
گیا تھا، تو انھوں نے کہا: ’وزیر اعلیٰ نے ایک مرتبہ پہلے وزیر اعظم سے کہا تھا لیکن
اس مرتبہ ایسا کچھ نہیں کہا۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ وفاقی حکومت کو علم ہے کہ
خیبر پختونخوا حکومت عمران خان سے ملاقات کے بعد بجٹ پیش کرے گی۔‘
شوکت یوسفزئی کا یہ بھی کہنا تھا کہ
صوبائی حکومت کے پاس اختیار ہے کہ وہ ایک سال کا بجٹ پیش کرے یا تین ماہ کا اور اس حولے سے اس پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔
خیبر پختونخوا میں سہیل آفریدی کے وزارت اعلی کا عہدہ
سمبھالنے کے بعد ان کی عمران خان سے اب تک ملاقات نہیں ہو سکی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت اس بجٹ کو دباؤ کے طریقے کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے تاکہ عمران خان سے ملاقات ہو سکے۔
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ وفاقی حکومت پر آئی ایم ایف کا دباؤ
ہے کہ سرپلس بجٹ پیش کرنا ہے اور خیبر پختونخوا پر بھی یہ دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ
سرپلس بجٹ پیش کرنا ہے اس لیے اب صوبائی حکومت کا اختیار ہے کہ کیا وہ سرپلس بجٹ
پیش کرتی ہے یا خسارے کا بجٹ پیش کیا جاتا ہے اور یا صرف تین ماہ کا بجٹ پیش کیا
جاتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ وفاق کے ذمہ صوبے کے واجبات ہیں، این ایف سی کے علاوہ دیگر فنڈز بھی مکمل طور پر صوبے کو نہیں دیے جا رہے۔
جب مزمل اسلم سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سرپلس بجٹ پیش
کریں گے، تو ان کا کہنا تھا کہ ’جس دن بجٹ پیش
کرنا ہوگا اس دن معلوم ہو جائے گا۔‘
اب سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صوبائی حکومت سرپلس
بجٹ پیش کرے گی یا تین ماہ کا؟ اس حوالے سے وزیر اعلی سہیل
آفریدی کی حکومت ایک کشمکس کا شکار ہے۔
سینیئر صحافی اور اور تجزیہ کار لحاظ علی کا کہنا ہے
کہ ایک طرف وزیر اعلی پر عمران خان کی بہن علیمہ خان کا دباؤ ہے، جو یہ چاہتی ہیں
کہ صوبائی حکومت تین ماہ کا بجٹ پیش کرے۔
’دوسری جانب وزیر اعلیٰ پر ایک آئینی ذمہ
داری ہے کہ وہ 30 جون سے پہلے بجٹ منظور کروائیں اور اگر وہ نہیں کر پاتے تو ان کی
حکومت تحلیل ہو سکتی ہے۔‘
لحاظ مزید کہنتے ہیں کہ سہیل آفریدی کی حکومت کو یہ بھی علم ہے
کہ اگر علیمہ خان کا حکم نہیں مانا جاتا تو ان کے لیے مشکل پیدا ہو سکتی ہے
کیونکہ ان سے پہلے ایک وزیر اعلیٰ علی امین گنڈہ پور کو بھی عہدے سے ہٹایا جا چکا
ہے۔
’سہیل آفریدی ایسی پوزیشن میں ہیں کہ فیصلہ نہیں کر
پا رہے جس وجہ سے اسمبلی کے اجلاس کی تاریخ بار بار تبدیل ہو رہی ہے۔‘
وفاق اور پختونخوا کے مسائل
خیبر پختونخوا حکومت اس وقت مشکل صورتحال سے دو چار ہے۔
حکومت کا
کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کا صوبائی حکومت کے ساتھ کوئی ورکنگ ریلیشن شپ نہیں ہے۔
صوبائی حکومت کے ترجمان شفیع جان کا چند روز پہلے کہنا
تھا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے۔
’پختونخوا
اپنی کھپت سے تین گنا زیادہ گیس پیدا کر رہی ہے لیکن چونکہ کنٹرول وفاقی حکومت کے
پاس ہے تو آج بھی صوبے میں گیس نا پید ہے ہماری سی این جی اور صنعتیں بند پڑی ہیں، لیکن ہماری گیس سے پنجاب کی انڈسٹری چل رہی ہے۔‘
’وفاقی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے خیبر
پختونخوا کے لیے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ ایسے میں صوبائی حکومت اپنی حقوق کے
لیے ہر پلیٹ فارم پر آواز اٹھا رہی ہے۔‘