آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, پاکستان اور قطر کی درخواست پر ایران معاہدے کا متن نہیں جاری کر رہے: امریکہ

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا متن جمعے کی صبح تک جاری کیا جائے گا۔ ان کے مطابق قطر اور پاکستان کے مذاکرات کاروں نے ’فی الحال ہم سے مکمل متن جاری نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔‘

خلاصہ

  • پاکستان اور قطر کی درخواست پر ایران کے ساتھ معاہدے کی تفصیلات نہیں جاری کر رہے: امریکی نائب صدر
  • ایران نے 'درست رویہ اختیار نہ کیا' تو دوبارہ لڑائی شروع ہو سکتی ہے: صدر ٹرمپ
  • پاکستان 30 ایرانی شہریوں کی واپسی میں معاونت کر رہا ہے: اسحاق ڈار
  • اسرائیل کے جنوبی لبنان میں کئی مقامات پر فضائی حملے
  • پوپ لیو کی جانب سے امریکہ، ایران معاہدے کا خیر مقدم
  • تہران کے سخت گیر حلقے امریکہ، ایران معاہدے کے مخالف
  • روسی جنگی جہاز کی برطانوی کشتی کے قریب فائرنگ، برطانیہ میں تحقیقات جاری

لائیو کوریج

  1. ٹرمپ کی ایران کو معاہدے میں رعایتیں دینے کی تردید, جون ڈونیسن، یروشلم

    اسرائیل اور اپنی ہی رپبلکن پارٹی کے سخت مؤقف رکھنے والے حلقوں کی جانب سے تنقید کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تاثر کو مسترد کیا ہے کہ ان کے معاہدے میں ایران کو حد سے زیادہ رعایتیں دی گئی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ اگر تہران نے مناسب رویہ اختیار نہ کیا تو امریکہ ’ان کے سروں پر بم برسانا شروع کر دے گا۔‘

    کچھ لوگوں کو اس بات پر حیرانی ہے کہ اطلاعات کے مطابق مفاہمتی یادداشت میں ایران کے تیل اور پیٹروکیمیکل شعبے پر پابندیوں کے فوری خاتمے کی شق شامل ہے، جس سے ملک کی معیشت میں اربوں ڈالر واپس آ سکتے ہیں۔

    گذشتہ روز دو ماہ کے وقفے کے بعد پہلی بار تین ایرانی آئل ٹینکرز نے آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی کو عبور کیا ہے۔

    دوسری جانب ایران نے اسرائیل پر لبنان میں جنگ بندی کی متعدد خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس سے معاہدہ منہدم ہو سکتا ہے، جبکہ لبنانی میڈیا نے ملک کے جنوبی علاقوں میں اسرائیلی گولہ باری کی اطلاعات دی ہیں۔

  2. پاکستان اور قطر کی درخواست پر ایران کے ساتھ معاہدے کی تفصیلات نہیں جاری کر رہے: امریکی نائب صدر

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس کو بتایا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا متن ’کم از کم‘ جمعے کی صبح تک جاری کیا جائے گا۔

    نائب صدر وینس کا کہنا تھا کہ قطر اور پاکستان کے مذاکرات کاروں نے ’فی الحال ہم مکمل متن جاری نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔‘

    ’ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اسے آج جاری کروا دیں کیونکہ ہم امریکی عوام کو بتایا چاہتے ہیں کہ معاہدے میں کیا ہے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’امریکی عوام کے لیے یہ ایک اچھا معاہدہ ہے۔‘

  3. سندھ حکومت نے بجٹ پیش کر دیا: سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں سات، سات فیصد کا اضافہ, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    سندھ حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے 3 ہزار 562 ارب روپے سے زائد حجم کا بجٹ پیش کر دیا ہے، جس میں تعلیم، صحت، بلدیاتی خدمات اور سماجی تحفظ کے شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبائی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں سات، سات فیصد اضافے کا اعلان کیا۔

    بجٹ کے مطابق صوبے کی آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ بدستور وفاق سے ملنے والی رقوم ہوں گی، جن کا حجم 2 ہزار 263 ارب روپے سے زیادہ ہے، جو مجموعی آمدن کا تقریباً دو تہائی حصہ بنتا ہے۔

    بجٹ دستاویزات کے مطابق صوبائی ٹیکس آمدن کا ہدف 690 ارب روپے رکھا گیا ہے، جبکہ غیر ٹیکس آمدن 85 ارب روپے، سرمایہ کاری سے وصولیاں 68 ارب 34 کروڑ روپے اور وفاقی گرانٹس 64 ارب 33 کروڑ روپے متوقع ہیں۔

    غیر ملکی قرضوں اور گرانٹس کی مد میں 8 ارب 14 کروڑ روپے شامل کیے گئے ہیں جبکہ 90 ارب روپے کیش بیلنس دستیاب ہوگا۔

    اخراجات کے حوالے سے بجٹ کا بڑا حصہ تنخواہوں اور پینشن پر خرچ ہوگا۔

    دستاویزات کے مطابق 50 فیصد بجٹ تنخواہوں اور پینشن کے لیے مختص کیا گیا ہے، جبکہ 38 فیصد گرانٹس اور سبسڈیز، 8 فیصد آپریشن اور مینٹیننس اور دو، دو فیصد قرضوں کی ادائیگی اور مرمت و بحالی کے لیے رکھے گئے ہیں۔

    حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے 720 ارب 38 کروڑ روپے کا ترقیاتی بجٹ تجویز کیا ہے، جو گذشتہ مالی سال کے 1018 ارب روپے کے مقابلے میں 29 فیصد کم ہے۔

    تاہم غیر ملکی معاونت سے چلنے والے منصوبوں اور پروگراموں کے لیے 256 ارب 5 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    شعبہ وار فنڈز میں تعلیم کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے، جس کے لیے 620 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ سکولوں کے مخصوص بجٹ میں اضافہ کرتے ہوئے اسے 22 ارب 64 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے جبکہ جامعات کی گرانٹس میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

    صحت کے لیے 393 ارب 16 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں سے 148 ارب 17 کروڑ روپے بڑے ہسپتالوں اور صحت مراکز کو گرانٹس کی مد میں دیے جائیں گے۔

    اسی طرح بلدیاتی خدمات کے لیے 306 ارب روپے، امن و امان اور عوامی تحفظ کے لیے 222 ارب 30 کروڑ روپے، زراعت، لائیو اسٹاک اور خوراک کے لیے 61 ارب 90 کروڑ روپے اور سماجی خدمات کے لیے 57 ارب 90 کروڑ روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں۔

    بلدیاتی اداروں کو 155 ارب روپے منتقل کیے جائیں گے جبکہ لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ کا بجٹ 151 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

    حکومت نے بجٹ میں غریب اور کمزور طبقات کے لیے کئی نئی فلاحی سکیموں کا بھی اعلان کیا ہے۔

    بینظیر ہاری کارڈ کے لیے تین ارب روپے، غریب کسانوں کے لیے کچن گارڈننگ کٹس، بینظیر ہاؤسنگ سیل، پیپلز آئی ٹی پروگرام اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کی معاونت کے لیے دو، دو ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    خصوصی افراد کے لیے معاون آلات، لینس سپورٹ اور گوگل گلاسز کی فراہمی کے لیے 1.1 ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ یتیموں اور بیواؤں کی معاونت کے لیے بھی خصوصی پروگرام متعارف کروایا گیا ہے۔

    بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن جماعتوں ایم کیو ایم پاکستان، پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی جانب سے شدید احتجاج بھی دیکھنے میں آیا۔

    ایم کیو ایم پاکستان نے بجٹ تقریر کا بائیکاٹ کیا جبکہ اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے بجٹ تقریر کے دوران احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ’ون وے ٹریفک چل رہا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ بجٹ سے قبل شہری سندھ کی نمائندہ جماعتوں سے مشاورت نہیں کی گئی اور اگر جمہوری روایات کی پاسداری نہیں کی جائے گی تو ایسے احتجاج ہوتے رہیں گے۔

    سندھ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ بجٹ عوامی فلاح، تعلیم، صحت، روزگار اور سماجی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔

  4. مردان میں گردوارے کے اندر فائرنگ سے سکھ میاں بیوی ہلاک: پولیس, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو پشاور

    خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں ایک گردواے میں فائرنگ کے نتیجے میں سکھ میاں بیوی ہلاک ہو گئے ہیں۔

    پولیس کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ مردان کے بابو محلہ، خواجہ گنج بازار میں واقع گردوارے کے اندر نامعلوم ملزم نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں اس عبادت گاہ کے نگراں میاں بیوی ہوگئے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ڈی پی او مردان مسعود احمد، ایس ایس پی انویسٹی گیشن ماریہ مصطفی، اے ایس پی سٹی، ایس ایچ او اور دیگر پولیس افسران نے جائے وقوعہ کا دورہ کرکے شواہد اکٹھے کیے اور واقعے کا جائزہ لیا جپ۔

    پولیس کے مطابق واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے کارروائیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔

    بی بی سی اردو کو اراکین صوبائی اسمبلی گرپال سنگھ اور سریش کمار نے بتایا ہے کہ دونوں بزرگ میاں بیوی اس گردوارے کے رکھوالے تھے اور ان کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی

    انھوں نے بتایا کہ مرد کی عمر لگ بھگ 72 سال اور خاتون کی عمر 69سال تک ہوگی۔

    سریش کمار کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے میاں بیوی کے چہروں پر گولیاں ماری ہیں۔

    گرپال سنگھ نے بتایا کہ دونوں کی آخری رسومات آج رات مردان میں ادا کی جائیں گی۔ انھوں نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جائیں اور ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔

    مردان میں سکھوں اور ہندوؤں کی کُل تعداد 300 تک بتائی جاتی ہے۔

  5. خیبر پختونخوا میں بجٹ کب پیش کیا جائے گا؟, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو پشاور

    خیبر پختونخوا حکومت کے مشیر خزانہ مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ صوبے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے اب تک بجٹ پیش کرنے کی کوئی تاریخ کا فیصلہ نہیں کیا ہے اور نہ ہی اب تک اس بارے میں کوئی سمری ارسال کی گئی ہے۔

    صوبائی اسمبلی کا اجلاس اب 19 جون کو طلب کیا گیا ہے۔

    اس سے پہلے 15 جون کی تاریخ دی گئی تھی جسے تبدیل کرکے 17 جون کو صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا تھا اور یہ تاثر سامنے آیا تھا کہ اسی روز بجٹ پیش کیا جائے گا۔

    اس بارے میں صوبائی حکومت کے مشیر خزانہ مزمل اسلم سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ جب انھیں کہا جائے گا وہ 24 گھنٹوں کی اندر بجٹ پیش کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے، لیکن اب تک بجٹ پیش کرنے کا انھیں نہیں بتایا گیا ہے۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ اسمبلی کا اجلاس طلب کر نے کے بعد اسے منسوخ کیوں کیا جاتا ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی کا اجلاس طلب کرنا اور بجٹ پیش کرنا الگ معاملات ہیں۔

    ’ضروری نہیں کہ یہ اجلاس بجٹ پیش کرنے کے لیے طلب کیا گیا ہے۔‘

    ان سے جب پوچھا گیا کہ ایک تاثر یہ بھی سامنے آیا ہے کہ صوبائی حکومت تین مہینے کا بجٹ پیش کرنے کا سوچ رہی ہے، تو انھوں نے کہا کہ انھوں نے ایک سال کا بجٹ تیار کیا ہے اور اگر انھیں کہا جائے گا کہ وہ تین مہینے کا بجٹ پیش کریں تو وہ تین مہینے کا بجٹ بھی پیش کر سکتے ہیں۔

    وفاقی حکومت کے بعد صوبہ پنجاب نے اپنا بجٹ گذشتہ روز یعنی 16 جون کو پیش کر دیا ہے جبکہ بلوچستان اور سندھ کے بجٹ آج پیش کیے جا رہے ہیں۔

    خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی سے سے اس معاملے پر تبصرے کے لیے رابطہ کیا گیا، تو انھوں نے کہا کہ ’صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ بجٹ پیش کرنے سے پہلے ان کی ملاقات عمران خان سے کروائی جائے کیونکہ اس بجٹ میں ان کی مشاورت ضروری ہے اور عمران خان کے وژن کے مطابق بجٹ پیش کیا جائے گا۔‘

    ان سے جب پوچھا گیا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے چند روز پہلے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تھی تو کیا اس میں صوبائی حکومت کا مؤقف ان کے سامنے رکھا گیا تھا، تو انھوں نے کہا: ’وزیر اعلیٰ نے ایک مرتبہ پہلے وزیر اعظم سے کہا تھا لیکن اس مرتبہ ایسا کچھ نہیں کہا۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ وفاقی حکومت کو علم ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت عمران خان سے ملاقات کے بعد بجٹ پیش کرے گی۔‘

    شوکت یوسفزئی کا یہ بھی کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کے پاس اختیار ہے کہ وہ ایک سال کا بجٹ پیش کرے یا تین ماہ کا اور اس حولے سے اس پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔

    خیبر پختونخوا میں سہیل آفریدی کے وزارت اعلی کا عہدہ سمبھالنے کے بعد ان کی عمران خان سے اب تک ملاقات نہیں ہو سکی ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت اس بجٹ کو دباؤ کے طریقے کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے تاکہ عمران خان سے ملاقات ہو سکے۔

    شوکت یوسفزئی نے کہا کہ وفاقی حکومت پر آئی ایم ایف کا دباؤ ہے کہ سرپلس بجٹ پیش کرنا ہے اور خیبر پختونخوا پر بھی یہ دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ سرپلس بجٹ پیش کرنا ہے اس لیے اب صوبائی حکومت کا اختیار ہے کہ کیا وہ سرپلس بجٹ پیش کرتی ہے یا خسارے کا بجٹ پیش کیا جاتا ہے اور یا صرف تین ماہ کا بجٹ پیش کیا جاتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ وفاق کے ذمہ صوبے کے واجبات ہیں، این ایف سی کے علاوہ دیگر فنڈز بھی مکمل طور پر صوبے کو نہیں دیے جا رہے۔

    جب مزمل اسلم سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سرپلس بجٹ پیش کریں گے، تو ان کا کہنا تھا کہ ’جس دن بجٹ پیش کرنا ہوگا اس دن معلوم ہو جائے گا۔‘

    اب سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صوبائی حکومت سرپلس بجٹ پیش کرے گی یا تین ماہ کا؟ اس حوالے سے وزیر اعلی سہیل آفریدی کی حکومت ایک کشمکس کا شکار ہے۔

    سینیئر صحافی اور اور تجزیہ کار لحاظ علی کا کہنا ہے کہ ایک طرف وزیر اعلی پر عمران خان کی بہن علیمہ خان کا دباؤ ہے، جو یہ چاہتی ہیں کہ صوبائی حکومت تین ماہ کا بجٹ پیش کرے۔

    ’دوسری جانب وزیر اعلیٰ پر ایک آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ 30 جون سے پہلے بجٹ منظور کروائیں اور اگر وہ نہیں کر پاتے تو ان کی حکومت تحلیل ہو سکتی ہے۔‘

    لحاظ مزید کہنتے ہیں کہ سہیل آفریدی کی حکومت کو یہ بھی علم ہے کہ اگر علیمہ خان کا حکم نہیں مانا جاتا تو ان کے لیے مشکل پیدا ہو سکتی ہے کیونکہ ان سے پہلے ایک وزیر اعلیٰ علی امین گنڈہ پور کو بھی عہدے سے ہٹایا جا چکا ہے۔

    ’سہیل آفریدی ایسی پوزیشن میں ہیں کہ فیصلہ نہیں کر پا رہے جس وجہ سے اسمبلی کے اجلاس کی تاریخ بار بار تبدیل ہو رہی ہے۔‘

    وفاق اور پختونخوا کے مسائل

    خیبر پختونخوا حکومت اس وقت مشکل صورتحال سے دو چار ہے۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کا صوبائی حکومت کے ساتھ کوئی ورکنگ ریلیشن شپ نہیں ہے۔

    صوبائی حکومت کے ترجمان شفیع جان کا چند روز پہلے کہنا تھا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے۔

    ’پختونخوا اپنی کھپت سے تین گنا زیادہ گیس پیدا کر رہی ہے لیکن چونکہ کنٹرول وفاقی حکومت کے پاس ہے تو آج بھی صوبے میں گیس نا پید ہے ہماری سی این جی اور صنعتیں بند پڑی ہیں، لیکن ہماری گیس سے پنجاب کی انڈسٹری چل رہی ہے۔‘

    ’وفاقی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے خیبر پختونخوا کے لیے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ ایسے میں صوبائی حکومت اپنی حقوق کے لیے ہر پلیٹ فارم پر آواز اٹھا رہی ہے۔‘

  6. ایران نے ’درست رویہ اختیار نہ کیا‘ تو دوبارہ لڑائی شروع ہو سکتی ہے: صدر ٹرمپ

    فرانس میں جی سیون اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت ابھی حتمی نہیں ہے اور اگر ایران نے ’درست رویہ اختیار نہ کیا‘ تو وہ دوبارہ لڑائی شروع کر سکتے ہیں۔

    امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’اگر مجھے یہ (معاہدہ) پسند نہ آیا تو ہم دوبارہ ان پر فائرنگ شروع کر دیں گے، ان کے سروں پر بم برسائیں گے۔ اگر مجھے یہ پسند نہ آیا، اگر وہ ٹھیک سے پیش نہ آئے تو ہم فوراً دوبارہ ان پر بم گرانا شروع کر دیں گے۔‘

    امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ اس معاہدے میں ایران کے لیے فوری طور پر پابندیوں میں نرمی شامل نہیں ہے اور وہ اس معاملے کی وضاحت بعد میں کریں گے۔

  7. ایف بی آئی کا وائٹ ہاؤس پر ڈرون اور سنائپر حملوں کا منصوبہ ناکام بنانے کا دعویٰ, اینا فیگوئے، بی بی سی نیوز

    امریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ فیڈرل بیورو آف انویسٹگیشن (ایف بی آئی) نے اتوار کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والے ایک یو ایف سی ایونٹ کو نشانہ بنانے کی ایک سازش ناکام بنا دی ہے اور پانچ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

    پروسکیوٹرز کا دعویٰ ہے کہ منصوبے کے ایک حصے میں بارود سے بھرے ڈرونز کے ذریعے قریبی عمارتوں کو نشانہ بنانا اور ’اہم اہداف‘ پر فائرنگ کرنا شامل تھا۔

    ایک مشتبہ شخص کو گذشتہ ہفتے اوہائیو میں گرفتار کیا گیا تھا، جہاں تفتیش کاروں نے دیگر مبینہ شریک ملزمان کے ساتھ ان کے خفیہ پیغامات کا جائزہ لیا۔

    عدالتی دستاویزات کے مطابق انھوں نے مبینہ طور پر ’شدت پسند مذہبی اور حکومت مخالف خیالات‘ کا اظہار کیا تھا۔

    ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کش پٹیل نے منگل کو سوشل میڈیا پر اس ’کئی ریاستوں میں ہونے واکلی کارروائی‘ کے بارے میں لکھا: ’مبینہ حملوں کے منصوبے کو بروقت روک دیا گیا۔‘

    ملزمان کی شناخت 19 سالہ ٹائسن سی پراپر (اوہائیو)، 24 سالہ برائن عمر روآ اور 32 سالہ مائیکل ایلن تھامس (کیلیفورنیا)، 32 سالہ ڈینیئل کے ایسکریج (میسوری) اور 31 سالہ ابراہام ہرموسیلو الواریز (نیبراسکا) کے ناموں سے ہوئی ہے۔

    محکمۂ انصاف کے مطابق انھیں چار ریاستوں میں گرفتار کیا گیا اور ہر ایک پر قتل کی سازش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    عدالتی دستاویزات کے مطابق سازش کرنے والوں کا مقصد ڈرونز کے ذریعے انتشار پھیلانا اور بھاگتے ہوئے ہجوم کو ایک سنائپر ٹیم کی جانب دھکیلنا تھا۔

    اس کے بعد مبینہ طور پر حملہ آوروں کی ’دوسری لہر‘ وائٹ ہاؤس کے دروازے پر دھاوا بولنے والی تھی۔

    اتوار کے روز ساوتھ لان میں ہونے والے صرف دعوت یافتگان کے لیے مخصوص اس ایونٹ میں تقریباً 4,300 افراد موجود تھے، جبکہ مزید 85,000 افراد قریب ہی سے مقابلے دیکھ رہے تھے۔

  8. ایران کے تین آئل ٹینکر امریکی محاصرے کو عبور کر گئے

    بحری نگرانی کی ویب سائٹس کے مطابق ایران کے تین آئل ٹینکر گذشتہ دو ماہ میں پہلی بار امریکی بحری محاصرے سے گزرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

    بی بی سی نے تصدیق کی ہے کہ یہ ٹینکر ایران کی قومی آئل ٹینکر کمپنی سے وابستہ ہیں اور تیل کی کھیپ لے کر محاصرے کی لائن عبور کر کے بحیرۂ عرب میں داخل ہو چکے ہیں۔

    ان ٹینکروں کے ٹریکنگ سسٹمز فعال ہیں، تاہم وہ اپنی منزل کی نشاندہی نہیں کر رہے۔

  9. پاکستان 30 ایرانی شہریوں کی واپسی میں معاونت کر رہا ہے: اسحاق ڈار

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں نائب پاکستانی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے 30 ایرانی شہریوں کی واپسی میں معاونت پر پاکستان خوشی کا اظہار کرتا ہے۔

    اسحاق ڈار کے مطابق: ’ان میں آٹھ ایرانی ماہی گیر شامل ہیں جنھیں برطانوی جہاز ایم ایم اے ویلر نے سمندر میں اس وقت بچایا جب ان کی کشتی ریت میں پھنس گئی تھی، جبکہ دیگر 22 ایرانی عملے کے ارکان اس لینور/ڈاوینا جہاز سے ہیں جسے حال ہی میں امریکی حکام نے روکا تھا۔

    ’متوقع طور پر دونوں گروپ آئندہ دنوں میں کراچی کے راستے سفر کریں گے۔‘

    اسحاق ڈار نے مزید لکھا: ’ہم ایرانی، امریکی اور برطانوی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں تاکہ ایرانی شہریوں کی محفوظ منتقلی اور جلد وطن واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔ پاکستان انسانی ہمدردی کے تعاون اور اپنے ایرانی بھائیوں کی ہر ممکن مدد کے عزم پر قائم ہے۔‘

  10. محکمہ انسداد دہشت گردی کا چارسدہ میں کارروائی کے دوران تین شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ

    محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں ایک کارروائی کے دوران تین شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

    سی ٹی ڈی حکام کے مطابق 16 جون کو خفیہ اطلاع ملی کہ مبینہ طور پر ایک شدت پسند گروہ ضلع مہمند سے چارسدہ میں داخل ہو کر تخریبی کارروائیاں کرنا چاہتا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے شبقدر کے مقام پر ٹیمیں تعینات کی گئیں اور روکے جانے پر شدت پسندوں نے فائرنگ کر دی، جس پر سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے جوابی فائرنگ کی گئی۔

    سی ٹی ڈی کے مطابق فائرنگ رکنے کے بعد کیے گئے سرچ آپریشن میں تین افراد کی لاشیں ملیں، جن کی شناخت حیات خان عرف حیات اللہ، عاصم اور امین اللہ عرف معاویہ کے ناموں سے کی گئی ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ افراد ’دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے مختلف مقدمات میں مطلوب تھے۔‘

    بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ حیات خان ایک مذہبی رہنما کے قتل کے مقدمے میں اشتہاری تھے جبکہ عاصم پر ضلع خیبر میں پولیس اہلکاروں اور مذہبی شخصیات کو نشانہ بنانے کے الزامات تھے۔

    سی ٹی ڈی کے مطابق جائے وقوعہ سے تین کلاشنکوف رائفلیں، میگزین اور دستی بم برآمد کیے گئے ہیں، جبکہ فرار ہونے والے افراد کی تلاش کے لیے مقامی پولیس کے ساتھ مل کر مشترکہ سرچ آپریشن جاری ہے۔

  11. اسرائیل کے جنوبی لبنان میں کئی مقامات پر فضائی حملوں کی اطلاعات

    اسرائیلی افواج نے بدھ کے روز جنوبی لبنان میں کئی مقامات پر بمباری کی ہے۔

    لبنان کے سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ یہ حملے اس بات کے باوجود کیے گئے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے معاہدے میں لبنان کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

    لبنان کی قومی خبر ایجنسی نے بتایا کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے ان حملوں میں نبطیہ سمیت مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا۔

    خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیل نے ڈرونز کے ذریعے زہرانی کے علاقے میں واقع شہر انصاریہ کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

  12. پوپ لیو کی جانب سے امریکہ، ایران معاہدے کا خیر مقدم

    کیتھولک مسیحیوں کے رہنما پوپ لیو نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے عارضی معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ’خدا کا شکر ہے‘ کہ دونوں فریق جمعے کو اس معاہدے کو باضابطہ طور پر حتمی شکل دینے جا رہے ہیں۔

    پوپ لیو اس سے قبل ایران کے ساتھ جنگ پر تنقید کرنے کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منفی ردعمل کا سامنا کر چکے ہیں۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ تنازعات کے مستقل خاتمے کا باعث بنے گا۔

    انھوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ابھی کئی مسائل باقی ہیں جنھیں حل کرنے کی ضرورت ہے، لیکن جنگ کے بجائے بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے معاملات کو حل کرنا بہتر ہوتا ہے۔‘

  13. جنگ کے بعد ایران میں سزائے موت دیے جانے کی تعداد میں اضافہ کیوں ہوا؟, شاداب حاتمی، بی بی سی مانیٹرنگ

    ایران میں کئی ماہ کے بد امنی اور جنگ کے بعد کی عدم تحفظ کی صورتحال کے بعد سزائے موت میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حکام ان مقدمات کو قومی سلامتی کے تناظر میں پیش کرتے ہیں، تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اقوامِ متحدہ کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ پھانسیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی جا رہی ہیں اور شہری آزادی محدود ہو رہی ہے۔

    یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریاست خوف کے ذریعے سیاسی اور سماجی تناؤ پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔

    اس کی وجہ کیا بیان کی جا رہی ہے؟

    16 جون کو جواد زمانی اور ابوالفضل سعیدی کو دی جانے والی سزائے موت، قومی سلامتی سے متعلق مقدمات میں بڑھتی ہوئی پھانسیوں کے سلسلے کی تازہ مثال ہے۔

    عدلیہ کے زیرِ انتظام میزان نیوز ایجنسی کے مطابق دونوں افراد کو ’خدا کے خلاف دشمنی (محاربہ)‘ اور ’زمین پر بد عنوانی‘ کے الزامات میں سزا سنائی گئی۔ یہ الزامات ایران کے قانونی نظام میں عموماً سنگین سکیورٹی جرائم کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

    دونوں پر شمال مشرقی شہر شاہرود میں مسلح سرگرمیوں، اسلحہ کے استعمال، املاک کو نقصان پہنچانے اور ایک منظم گروہ کا حصہ ہونے کا الزام تھا جسے مبینہ طور پر ’جنوری میں بغاوت کی کوشش‘ سے جوڑا گیا۔ یہ اصطلاح ایرانی حکام رواں سال کے حکومت مخالف احتجاج کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

    ایرانی حکام احتجاج کے بعد بنائے گئے مقدمات کو ’مسلح گروہوں‘ اور ’بیرونی حمایت یافتہ عدم استحکام کی کوششوں‘ کے خلاف وسیع مہم کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ تاہم اس مبینہ نیٹ ورک، اس کے حجم یا ملزمان کی سرگرمیوں کے دائرہ کار کے بارے میں تفصیلی شواہد عوامی سطح پر فراہم نہیں کیے گئے۔

    پھانسیوں کی یہ سزائیں کئی ماہ کی بد امنی کے بعد سامنے آئی ہیں، اس تناظر میں سزائے موت ایک سیاسی پیغام بھی ہے کہ ریاست اب بھی مکمل کنٹرول میں ہے۔

    کیا یہ خوف کے ذریعے باز رکھنے کا طریقہ ہے؟

    انسانی حقوق کے مبصرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سلامتی سے متعلق مقدمات میں سزائے موت کی تعداد بڑھا کر ریاست یہ تاثر مضبوط کرنا چاہتی ہے کہ اختلاف رائے کے سخت نتائج ہوں گے، خاص طور پر جب یہ مسلح مزاحمت یا احتجاجی تشدد سے جڑی ہو۔

    اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق، وولکر ترک نے 15 جون کو خبردار کیا کہ سال کے آغاز سے اب تک ایران میں کم از کم 40 افراد کو قومی سلامتی سے متعلق الزامات کے تحت سزائے موت دی جا چکی ہے، جن میں 18 مظاہرین بھی شامل ہیں۔

    اگرچہ تہران سیاسی جبر کے الزامات کو مسترد کرتا ہے، لیکن پھانسیوں کی رفتار اور حجم نے عالمی سطح پر تشویش کو دوبارہ بڑھا دیا ہے۔ ناروے میں قائم تنظیم ایران ہیومن رائٹس جیسی تنظیموں نے حالیہ برسوں میں پھانسیوں میں نمایاں اضافے کو ریکارڈ کیا ہے۔ یہ پھانسیاں منشیات کے جرائم، قتل اور سلامتی سے متعلق مقدمات میں دی گئیں۔

  14. تہران کے سخت گیر حلقے امریکہ، ایران معاہدے کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟, بی بی سی مانیٹرنگ

    ایسے موقع پر جب ایران جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کی تیاری کر رہا ہے، ملک کے سخت گیر حلقوں میں ایک شدید بحث زور پکڑ رہی ہے۔

    ناقدین مرکزی مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف پر الزام لگا رہے ہیں کہ انھوں نے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کی طے کردہ سرخ لکیر سے انحراف کیا ہے اور اہم سٹریٹیجک اثاثے سے بھی دستبردار ہو گئے ہیں۔

    جبکہ حکومتی عہدیدار اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدے کو اعلیٰ ترین سطح پر منظوری حاصل ہے اور یہ ایران کے قومی مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔

    سخت گیر عناصر کا مؤقف کیا ہے؟

    15 جون کو تہران نے تصدیق کی کہ مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر باضابطہ دستخط 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے۔ صدر مسعود پزشکیان نے اس سفارتی ’کامیابی‘ کو سراہا اور زور دیا کہ مذاکراتی ٹیم ’کسی بھی صورت میں رہبرِ اعلیٰ (مجتبیٰ خامنہ ‌ای) کی جانب سے مقرر کردہ فریم ورک اور پالیسیوں سے انحراف نہیں کرے گی، اور تمام اقدامات قومی مفادات اور ریاستی رہنما خطوط کے دائرے میں انجام دیے جائیں گے۔‘

    تاہم حکام کی خوش امیدی کے باوجود اس ایم او یو کے خلاف مخالفت زور پکڑ رہی ہے۔

    15 جون کو فارسی نیوز ویب سائٹ دیدبانِ ایران کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سخت گیر رکنِ پارلیمنٹ ابوالفضل ابوترابی نے مؤقف اختیار کیا کہ متوقع امریکہ، ایران ایم او یو، آبنائے ہرمز کے حوالے سے خامنہ ‌ای کی ہدایات کو نظر انداز کرتا ہے۔ انھوں نے اس آبی گزر گاہ کو ایران کا سب سے مؤثر سٹریٹیجک ہتھیار قرار دیا اور کہا کہ مقتول رہنما آیت اللہ علی خامنہ ‌ای کی رہنمائی میں برسوں کی عسکری تیاری نے اس کی بندش کو ممکن بنایا۔

    قانون ساز کے مطابق آبنائے ہرمز ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے ایران کو حریف پر برتری ملتی ہے اور پارلیمنٹ کو اس کے تحفظ کے لیے مداخلت کرنی چاہیے۔ ابوترابی نے مزید کہا کہ اراکینِ پارلیمنٹ سپیکر قالیباف کے خلاف آرٹیکل 90 کمیشن میں شکایت دائر کرنے کی تیاری کر رہے ہیں اور ہنگامی پارلیمانی اجلاس طلب کرانا چاہتے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز کے انتظام کو باضابطہ بنانے کے لیے قانون سازی کی منظوری دی جا سکے۔

    کن سرخ لکیروں کو اجاگر کیا جا رہا ہے؟

    اسی روز پارلیمنٹ کے انتہائی قدامت پسند دھڑے کے حمید رسائی نے بھی ابوترابی کے ان الزامات کی تائید کی کہ قالیباف نے لیڈر کی ہدایات سے انحراف کیا ہے۔ انھوں نے 11 سوالات پر وضاحت طلب کی، جن میں آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول میں مبینہ رعایتیں، منجمد اثاثوں کی بحالی، جنگ سے ہونے والے نقصان کا معاوضہ، اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) سے بھی آگے بڑھ کر امریکہ سے وعدے اور تہران کے علاقائی اتحادی شامل ہیں۔

    16 جون کو حمید رسائی نے 70 اراکینِ پارلیمنٹ کی فہرست شائع کی جو مطالبہ کر رہے ہیں کہ قالیباف ان 11 سوالات کا جواب دیں۔

    اسی روز قدامت پسند سیاسی تجزیہ کار صادق کوشکی نے بھی ایم او یو پر تنقید کرتے ہوئے اسے رہبرِ اعلیٰ کے طے کردہ مذاکراتی فریم ورک سے نمایاں طور پر مختلف قرار دیا اور اصرار کیا کہ قالیباف اور عراقچی کو اس معاہدے پر جواب دہ ہونا پڑے گا۔

    اسی دن دیدبانِ ایران نے سخت گیر اخبار کیہان کے اداریے کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا کہ رہبر اعلیٰ نے جان بوجھ کر جنگ کے خاتمے کے لیے اپنے بیان کردہ وژن سے جوہری مسئلے کو خارج رکھا، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ جوہری مذاکرات عملاً ختم ہو چکے ہیں اور مزید بحث کا موضوع نہیں رہے۔

    اخبار نے تنازعے کو محض پابندیوں میں نرمی تک محدود کرنے کے خلاف خبردار کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ایران جنگ سے فاتح بن کر نکلا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی عہدیدار کو حتمی مذاکرات کے دوران رہبر کی سرخ لکیروں کو کمزور کرنے یا عبور کرنے کا حق نہیں۔

    دریں اثنا رکنِ پارلیمنٹ ملک شریعتی نے خبردار کیا کہ ایم او یو پر دستخط کا مطلب یہ نہیں کہ ایران تصادم کی حالت سے باہر آ گیا ہے، اور کہا کہ امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے دشمنی پر مبنی کارروائی اب بھی ممکن ہے۔

    عہدیدار اتحاد پر زور کیوں دے رہے ہیں؟

    16 جون کو نائب صدر محمد رضا عارف نے بظاہر ایم او یو کے سخت گیر ناقدین کو بالواسطہ جواب دیتے ہوئے کہا کہ سفارت کاری پر اختلافات فطری ہیں لیکن انھیں داخلی تنازعات میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔

    مذاکراتی ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سفارت کاری میدانِ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو آگے بڑھا رہی ہے اور تمام دھڑوں پر زور دیا کہ مذاکرات کے نتائج کا احترام کریں اور بیرونی دشمنوں کے مقابلے میں قومی اتحاد کو برقرار رکھیں۔

    اسی روز سابق رکنِ پارلیمنٹ اور سابق ممبر قومی سلامتی کمیٹی شہریار حیدری نے مذاکراتی ٹیم کی حمایت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی اتحاد نے امریکہ کو ایم او یو قبول کرنے پر مجبور کیا اور اس کی شرائط مجموعی طور پر ایران کے مفادات کے مطابق ہیں۔

    انھوں نے خبردار کیا کہ مخالفت اسرائیلی مقاصد پورے کرنے کا باعث بن سکتی ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ تمام مذاکرات اور کسی بھی حتمی معاہدے کو بالآخر رہبر اعلیٰ کی منظوری درکار ہوتی ہے اور وہ ان کے فیصلے کے تابع رہتے ہیں۔

    اس گفتگو سے ظاہرہوتا ہے کہ کشمکش اس بات پر نہیں رہی کہ آیا ایم او یو پر دستخط ہونے چاہئیں یا نہیں، بلکہ اس بات پر مرکوز ہو چکی ہے کہ آیا اس کی حتمی شرائط خامنہ‌ ای کی بیان کردہ سرخ لکیروں اور جنگی مقاصد سے ہم آہنگ ہیں۔

  15. روسی جنگی جہاز ایڈمرل گریگورووچ کی برطانوی کشتی کے قریب فائرنگ، برطانیہ میں تحقیقات جاری

    برطانیہ کی وزارتِ دفاع اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ مبینہ طور پر ایک روسی جنگی جہاز نے انگلش چینل میں برطانیہ کی ایک رجسٹرڈ کشتی کے قریب وارننگ فائر کیے۔

    یہ واقعہ منگل کو برطانوی وقت کے مطاب صبح تقریباً 11:40 پر آئل آف وائٹ اور نورمنڈی کے درمیان پیش آیا، جس میں روسی فریگیٹ ایڈمرل گریگورووچ ملوث تھی۔

    سمجھا جاتا ہے کہ اس واقعے میں یاٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی کوئی زخمی ہوا۔

    برطانوی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا: ’ہم چینل میں پیش آنے والے اس واقعے کی رپورٹس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔‘

    برطانوی حکام کو ایک برطانوی رجسٹرڈ کشتی کی جانب سے اطلاع موصول ہوئی تھی کہ روسی جہاز نے تقریباً 500 گز کے فاصلے سے وارننگ فائر کیے، جو سمندری سفر کے معیار کے لحاظ سے کافی کم فاصلہ سمجھا جاتا ہے۔

    یہ واقعہ مبینہ طور پر آئل آف وائٹ سے تقریباً 20 سمندری میل جنوب میں، برطانوی علاقائی پانیوں سے باہر پیش آیا۔

    یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب چند دن قبل رائل میرین کمانڈوز نے اتوار کے روز چینل میں پابندیوں کے باوجود آنے والے تیل بردار روسی ’شیڈو فلیٹ‘ ٹینکر کو روکا تھا، جو اس نوعیت کی برطانوی فوج کی پہلی کارروائی تھی۔

    تاہم، برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ اس حالیہ واقعے کو اتوار کی کارروائی سے متعلق نہیں سمجھا جا رہا۔

    روسی جنگی جہاز باقاعدگی سے انگلش چینل سے گزرتے ہیں اور معمول کے مطابق رائل نیوی کے جہازوں کی جانب سے ان کی نگرانی کی جاتی ہے۔

    سمجھا جاتا ہے کہ منگل کے واقعے میں ملوث فریگیٹ کی نگرانی ایچ ایم ایس مرسی کر رہی تھی۔

    پیر کے روز بحریہ نے بتایا تھا کہ ایڈمرل گریگورووچ کی ہفتے کے اختتام پر ایچ ایم ایس ٹائن اور ایچ ایم ایس مرسی کی جانب سے نشاندہی کی جا رہی تھی، جسے اس نے ’معمول کی کارروائی‘ قرار دیا، جب اسے فرانس کے شہر بریسٹ کے ساحل کے قریب دیکھا گیا۔

    گذشتہ ہفتے نیٹو کے ایک ذریعے نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا تھا کہ ماسکو نے ایڈمرل گریگورووچ کو انگلش چینل میں ’شیڈو فلیٹ‘ کے جہازوں کی حفاظت کرنے کا حکم دیا تھا۔

    یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ یہ فریگیٹ کئی مہینوں سے اس علاقے میں سرگرم ہے اور اسے بار بار ایک مرمتی جہاز کے ذریعے رسد فراہم کی جا رہی تھی۔

  16. اسرائیل کو جنوبی لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلانی چاہیئیں: باقر قالیباف

    ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور پارلیمانی سپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اسرائیل کو جنوبی لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلانی چاہئیں۔

    ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں باقر قالیباف نے بتایا کہ انھوں نے اپنے لبنانی ہم منصب سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران زور دیا کہ ’جنگ کا خاتمہ تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بشمول لبنان۔‘

    قالیباف، جنھوں نے اتوار کے روز ایران کی جانب سے امریکہ کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کیے تھے، نے کہا کہ ’قابض قوتوں‘ یعنی اسرائیل کو زیرِ قبضہ علاقوں سے نکل جانا چاہیے تاکہ متاثرہ شہری ’عزت اور وقار کے ساتھ‘ اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکیں۔‘

    اس سے قبل ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی کہا تھا کہ ’لبنان کسی بھی ایسے معاہدے کا ’لازم و ملزوم حصہ‘ ہے جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ ہو۔‘

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل کہا تھا کہ ان کے خیال میں امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والا معاہدہ اس صورت میں بھی برقرار رہ سکتا ہے اگر اسرائیل لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے۔

  17. لبنان پر حملے بند نہ کیے تو سخت جواب دیا جائے گا: خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کی اسرائیل کو تنبیہ

    ایران کے مرکزی قرارگاہ خاتم الانبیاء نے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل جنوبی لبنان پر اپنے حملے بند نہیں کرتا تو اسے ایرانی مسلح افواج کی جانب سے سخت ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امریکی صدر کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے اعلان کے بعد اسرائیل نے جنوبی لبنان میں 84 مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔‘

    قرارگاہ خاتم الانبیاء نے مزید کہا کہ اگر اسرائیل ’جنوبی لبنان میں اپنی شدت پسندانہ کارروائیوں کا سلسلہ ختم نہیں کرتا تو اسے ایران کی مسلح افواج کے سخت جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

    دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اس سے قبل کہا تھا کہ ’یہ تنازع اس وقت تک مکمل طور پر ختم نہیں سمجھا جا سکتا جب تک اسرائیلی افواج ان علاقوں سے واپس نہیں چلی جاتیں جن پر انھوں نے اس جنگ کے دوران قبضہ کیا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’اسرائیلی حکومت کی جانب سے لبنان پر کسی بھی نئی فوجی کارروائی اور لبنانی سرزمین پر قبضے کا تسلسل ہماری نظر میں معاہدے کی خلاف ورزی تصور ہوگا۔‘

    ایران کا مؤقف ہے کہ معاہدے کی پہلی شق جنگ کے خاتمے سے متعلق ہے، جس کا اطلاق لبنان سمیت تمام متعلقہ محاذوں پر ہوتا ہے۔

  18. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • ایران کے مرکزی قرارگاہ خاتم الانبیاء نے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل جنوبی لبنان پر اپنے حملے بند نہیں کرتا تو اسے ایرانی مسلح افواج کی جانب سے سخت ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
    • ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور پارلیمانی سپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اسرائیل کو جنوبی لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلانی چاہئیں۔
    • امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے تحت عالمی تیل کی ترسیل کے لیے اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے کی توقعات بڑھنے پر منگل کی دوپہر تیل کی قیمتوں میں مزید کمی ریکارڈ کی گئی۔
    • برطانیہ کی وزارتِ دفاع اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ مبینہ طور پر ایک روسی جنگی جہاز نے انگلش چینل میں برطانیہ کی ایک رجسٹرڈ کشتی کے قریب وارننگ فائر کیے۔ یہ واقعہ منگل کو برطانوی وقت کے مطاب صبح تقریباً 11:40 پر آئل آف وائٹ اور نورمنڈی کے درمیان پیش آیا، جس میں روسی فریگیٹ ایڈمرل گریگورووچ ملوث تھی۔
    • امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ امن معاہدے کے تحت ایران کو ’امریکہ کا ایک پیسہ بھی‘ نہیں دیا جائے گا۔
    • پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے الزام عائد کیا ہے کہ حال ہی میں کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ’تانے بانے ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جن کے پاس برطانوی شہریت ہے‘ یا انھیں انڈیا کی حمایت حاصل ہے۔
  19. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔