آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
خلا میں سیٹیلائٹ بھیجنے کی لاگت پر سوال اور درجنوں سائنسدانوں کی رخصتی، کیا اسرو بحران کا شکار ہے؟
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اُردو
- مقام, دلی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
انڈیا کا خلائی تحقیق کا ادارہ اسرو (انڈین سپیس ریسرچ آرگنائزیشن) اپنے کم لاگت والے خلائی مشنز اور راکٹ کی پیداوار کے باعث دنیا کی خلائی ایجنسیوں میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔
2014 میں اسرو نے مریخ تک اپنا خلائی مشن تقریباً ساڑھے سات کروڑ ڈالر کی لاگت سے کامیابی کے ساتھ مکمل کیا تھا، جو ناسا اور یورپی خلائی اداروں کے اسی نوعیت کے مشنز کے مقابلے میں کہیں سستا تھا۔
کم لاگت کی یہی شہرت کئی برس تک اسرو کی شناخت رہی اور دنیا کے متعدد ممالک نے اپنے مصنوعی سیارے اس کے ذریعے خلا میں بھیجنے کو ترجیح دی۔
تاہم اب کیمبرج یونیورسٹی سے وابستہ محققین کی ایک نئی تحقیق نے اس تصور پر سوال اٹھایا ہے۔
تحقیق کے مطابق فی کلوگرام لاگت کے حساب سے انڈیا سے خلا میں مصنوعی سیارے بھیجنا دنیا کے دیگر بڑے خلائی پروگراموں کے مقابلے میں مہنگا پڑتا ہے۔
اسی دوران یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ بڑی تعداد میں سائنسدان اسرو چھوڑ رہے ہیں۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا انڈیا کا سب سے اہم خلائی ادارہ کسی بحران سے گزر رہا ہے؟
کیا واقعی اسرو دنیا کے مہنگے ترین خلائی پروگراموں میں شامل ہے؟
کیمبرج یونیورسٹی کے ماہر اقتصادیات الیسیو تیرزی اور اٹلی کی یونیورسٹی پولی ٹیکنیکو دی تورینو سے وابستہ فرانسیسکو نکولی نے جریدے ’اکنامک لیٹرز‘ میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی پیپر میں دعویٰ کیا ہے کہ فی کلوگرام لاگت کے لحاظ سے انڈیا سے مصنوعی سیارے خلا میں بھیجنا امریکہ کے مقابلے میں تقریباً چار گنا مہنگا ہے۔
1960 سے 2025 کے درمیان ہونے والے 6740 راکٹ لانچوں کے اخراجات کے تجزیے پر مبنی اس تحقیق کے مطابق انڈیا میں فی کلوگرام لاگت 13302 ڈالر جبکہ امریکہ میں 3325 ڈالر تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رپورٹ کے مطابق لاگت کے اعتبار سے انڈیا یورپی یونین، روس، چین اور جاپان سے کہیں زیادہ مہنگا ہے، جبکہ امریکہ سے سیٹیلائٹ بھیجنے کی لاگت سب سے کم ہے۔
یہ نتائج اسرو کی اس عالمی شہرت سے مختلف ہیں جس کے تحت اسے کم خرچ خلائی پروگرام کی مثال سمجھا جاتا رہا ہے۔
تاہم خود محققین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ان اعداد و شمار کو کسی ایک راکٹ یا ایک مخصوص لانچ کی قیمت نہ سمجھا جائے۔ یہ محض ایک اوسط تخمینہ ہے جو مختلف ممالک میں ایک کلوگرام سامان خلا تک پہنچانے کی مجموعی لاگت کا موازنہ کرتا ہے۔
اسرو کا مؤقف کیا ہے؟
بی بی سی نے اس تحقیق اور اسرو کی مجموعی صورتحال کے بارے میں ادارے کا مؤقف جاننے کے لیے تحریری سوالات بھیجے، تاہم متعدد یاد دہانیوں کے باوجود اسرو کی جانب سے کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا۔
البتہ اسرو کے سربراہ ڈاکٹر وی نارائنن نے این ڈی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ اس تحقیق میں ’غلط اعداد و شمار کا استعمال کیا گیا ہے‘ تاہم انھوں نے اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔
انڈین میڈیا میں خلائی محکمہ کے بعض اہلکاروں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ کیمبرج کی اس تحقیق میں سیٹیلائٹ لانچنگ پر دی گئی مراعات، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے اخراجات اور مصنوعی سیاروں کو مدار تک پہنچانے کی حقیقی لاگت جیسے عوامل کو مد نظر نہیں رکھا گیا۔
پھر انڈیا کی لاگت زیادہ کیوں دکھائی دیتی ہے؟
تحقیق میں انڈیا میں خلائی سفر کی لاگت زیادہ آنے کے متعدد اسباب بیان کیے گئے ہیں۔
ایک وجہ یہ ہے کہ اسرو کے بیشتر راکٹ امریکہ کے جدید تجارتی راکٹوں کے مقابلے میں نسبتاً کم پے لوڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
دوسرا اہم سبب یہ بتایا گیا ہے کہ امریکہ کی سپیس ایکس جیسی کمپنیاں اب دوبارہ استعمال ہونے والے راکٹ استعمال کر رہی ہیں، جس سے فی لانچ لاگت میں نمایاں کمی آتی ہے۔ اس کے برعکس اسرو اب بھی بنیادی طور پر ایسے راکٹ استعمال کرتا ہے جو ایک ہی مرتبہ استعمال کیے جا سکتے ہیں، اور ابھی تک دوبارہ استعمال ہونے والے راکٹ نہیں بنا پایا ہے۔
تیسرا سبب لانچوں کی تعداد ہے۔ اسرو سالانہ نسبتاً کم لانچ کرتا ہے، جس سے اس کا منافع زیادہ نہیں ہوتا، جبکہ یورپی اور امریکی خلائی ادارے بڑے پیمانے پر تجارتی لانچنگ کرتے ہیں۔
سائنسی تجزیہ کار پلو باگلہ کے مطابق سپیس ایکس کمپنی 2002 میں قائم کی گئی تھی، اس نے ’صرف 2025 میں 165 فالکن 9 لانچ کیے۔‘ جبکہ اسرو 1969 میں قائم کیا گیا تھا اور اس نے ’75 برس کی اپنی پوری تاریخ میں صرف 105 سیارے بھیجے۔‘
پلو باگلہ نے یہ موازنہ بھی کیا سپیس ایکس میں تقریباً 22 ہزار افراد کام کرتے ہیں، جبکہ اسرو میں کام کرنے والوں کی تعداد 16 ہزار ہے۔
سائنس دانوں کی رخصتی اور اسرو کے اندرونی چیلنجز
کیمبرج کی یہ تحقیق ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اسرو کو بعض انتظامی اور تکنیکی چیلنجز کا سامنا ہے۔
اسرو کا پولر سیٹیلائٹ لانچ وہیکل کا اہم تجربہ ناکام رہا ہے اور گذشتہ ایک برس میں وہ کوئی کامیاب لانچ نہیں کر سکا ہے۔
انڈین میڈیا کے مطابق گذشتہ چند مہینوں میں 120 سے زائد سائنسدان اسرو چھوڑ چکے ہیں، جن میں اہم خلائی مشنز کے ڈائریکٹر بھی شامل ہیں۔
دلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں خلائی مینیجمنٹ اور ایسٹروپولیٹکس کی محقق اسمتا بھاردواج کے مطابق اس رجحان کو محض معمول کی افرادی نقل و حرکت نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اسرو پہلے ہی عملے کی کمی کا شکار ہے۔
ویب نیوز پورٹل ’دی وائر‘ میں انھوں نے لکھا کہ ’ان سائنسدانوں کے اسرو چھوڑنے کے عمل میں ایک پیٹرن نظر آتا ہے۔‘
ان کے مطابق ادارے میں سائنس، ٹیکنالوجی اور انتظامی امور چلانے کے لیے 18142 اسامیاں منظور کی گئی تھیں، جن میں سے تقریباً 2613 خالی پڑی ہیں، یعنی 14 فیصد سے زیادہ آسامیاں پُر نہیں ہو سکیں۔
اسمتا بھاردواج لکھتی ہیں کہ تجربہ کار سائنسدانوں کا جانا صرف افراد کا نقصان نہیں بلکہ ایسی مہارت کا نقصان ہے جو برسوں کے تجربے سے حاصل ہوتی ہے۔
ان کے مطابق انسان بردار خلائی پروگرام ’گگن یان‘ جو 2026 کی پہلی سہ ماہی میں لانچ کیا جانا تھا، اب وہ تاخیر کا شکار ہے۔
اسمتا کے مطابق ’وہ سائنسدان جنھوں نے عشروں میں مختلف نوعیت کے تجربوں سے علم حاصل کیا تھا، وہ ایک ایسے وقت میں چھوڑ گئے جب پراجیکٹ کے تسلسل کے لیے ان کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔‘
اس رجحان کو روکنے کے لیے گذشتہ جولائی میں انڈیا کے خلائی محکمہ نے ایک میمو جاری کیا ہے جس میں اہم خلائی مشنز میں کام کرنے والے سائنسدانوں کو مستعفی ہونے سے پہلے اسرو کے صدر دفتر سے منظوری لینی ہو گی۔
اسمتا بھاردواج کہتی ہیں کہ ’یہ انھیں کنٹرول کرنے کے لیے اٹھایا گیا ایک قدم ہے جو دراصل ادارے کی بے بسی کا اشارہ ہے۔ یہ انڈیا کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے اداروں میں ہونے والی ان تبدیلیوں کا بھی عکاس ہے جہاں اب سرکاری ادارے بہترین تکنیکی دماغوں کو اپنی طرف راغب نہیں کر پا رہے ہیں۔‘
نجی خلائی شعبہ: بحران یا تبدیلی؟
وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی کے مطابق اس وقت انڈیا کی خلائی مارکیٹ کی مالیت کا تخمینہ تقریباً ساڑھے آٹھ ارب ڈالر ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر جتیندر سنگھ کا کہنا ہے کہ 2030 تک یہ مارکیٹ بڑھ کر 40 سے 45 ارب ڈالر تک جا سکتی ہے۔
2020 میں انڈین حکومت نے خلائی شعبہ نجی کمپنیوں کے لیے کھول دیا تھا۔ اس کے بعد ملک میں 400 سے زائد نجی خلائی کمپنیاں وجود میں آ چکی ہیں۔
سکائی روٹ ایرو اسپیس، اگنیکل کاسموس، دھرووا سپیس، پکسل اور دیگانترا جیسی کمپنیاں تیزی سے ترقی کر رہی ہیں۔ سکائی روٹ نے جولائی میں اپنے بنائے گئے راکٹ سے اپنا سیٹیلائٹ خلا میں کامیابی سے لانچ کیا تھا۔
یہ ادارے نسبتاً بہتر تنخواہوں، تیز رفتار ترقی اور زیادہ پیشہ ورانہ ماحول کی پیشکش کر رہے ہیں، جس کے باعث اسرو کے اکثر سائنسدان نجی شعبے کا رخ کر رہے ہیں۔
تاہم پلو باگلہ اس صورت حال کو بحران قرار دینے سے اتفاق نہیں کرتے۔
ان کا کہنا ہے کہ نجکاری کوئی نئی بات نہیں ہے، ’اسرو کے ہر لانچنگ پراجیکٹ میں 85 فیصد حصہ پرائیویٹ کمپنیوں کا ہوتا تھا۔ راکٹ اور سیٹیلائٹ کے مختلف کمپوننٹ الگ الگ کمپنیوں سے آتے تھے۔ رہی بات سائنسدانوں کے اسرو چھوڑنے کی، تو وہ ملک سے باہر نہیں جا رہے بلکہ انڈیا کی ہی کمپنیوں میں کام کر رہے ہیں۔‘
کیا اسرو واقعی بحران میں ہے؟
اس سوال کا جواب سادہ نہیں۔
ایک طرف اسرو کو عملے کی کمی، بعض ناکامیوں، منصوبوں میں تاخیر اور نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی مسابقت جیسے چیلنجز درپیش ہیں۔ دوسری طرف حکومت نے ادارے کے لیے طویل المدتی فنڈنگ اور بڑے منصوبوں کا اعلان کر رکھا ہے، جن میں چندریان۔4، انڈین خلائی سٹیشن اور دیگر سیاروں کے مشن شامل ہیں۔
خلائی محکمہ ’سپیس ان‘ اس شعبے میں آنے والے سٹارٹ اپس کی مدد کر رہا ہے۔ محکمے کے سربراہ ڈاکٹر پون کے گوئنکا نے کہا ہے کہ اسرو اب راکٹ اور سیٹیلائٹ لانچنگ کے بجائے اب اپنی ساری توجہ بنیادی تحقیق اور اہم مشنز پر مرکوز کرے گا۔
پلو باگلہ کہتے ہیں کہ ’اسرو کو نہ کوئی دھچکا پہنچا ہے اور نہ ہی اس کے پاس کام کی کمی ہے۔ آنے والے دنوں میں وہ چاند پر انسان اتارنے کے مشن پر کام کر رہا ہے۔ چندریان-4 پر کام ہو رہا ہے، مریخ اور زحل پر خلائی جہاز اتارنے کا پراجیکٹ ہے۔
’اسرو خلا میں انڈیا کا قومی خلائی سٹیشن بنانے کے پراجیکٹ پر کام کر رہا ہے۔ انڈیا کی حکومت نے اسرو کے لیے ایک بہت وسیع پروگرام وضع کیا ہے۔ مرکزی کابینہ نے اس کے مختلف خلائی پروگراموں کی خاطر 2047 تک کے لیے 330 ارب روپے کی رقم پہلے ہی مختص کر دی ہے۔‘
اسمتا بھاردواج کے مطابق اصل چیلنج یہ ہے کہ حکومت ایک ہی وقت میں نجی خلائی صنعت کو بھی آگے بڑھانا چاہتی ہے اور اسرو سے بھی توقع رکھتی ہے کہ وہ ’خلائی شعبے میں اپنے قومی مشن، اپنی سٹریٹیجک صلاحیت اور قابل اعتبار ٹیکنالوجی کی ڈیولپمنٹ کا عمل جاری رکھے۔‘
اسمتا کا کہنا ہے کہ ’حکومت نے ان دونوں ہی متضاد توقعات کو یکجا کر دیا ہے۔‘