آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
لاہور میں بیوی سے غیر فطری سیکس پر مجرم کو 10 سال قید کی سزا: ’میڈیکل رپورٹ میں جرم ثابت ہوا‘
- مصنف, احتشام شامی
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
انتباہ: اس خبر میں شامل تفصیلات بعض قارئین کے لیے تکلیف کا باعث ہو سکتی ہیں۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی ایک اینٹی ریپ کورٹ نے بیوی کے ساتھ غیر فطری سیکس سے متعلق ایک مقدمے میں مجرم کو 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔
یہ فیصلہ جمعے کو لاہور کی خصوصی عدالت برائے اینٹی ریپ کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ظفریاب چدھڑ نے سنایا ہے۔
عدالت نے جرم ثابت ہونے پر محمد فاروق کو 10 سال قید بامشقت کی سزا سناتے ہوئے پابند کیا ہے کہ انھیں 50 ہزار روپے جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔ تاہم جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں چھ ماہ قید مزید بھگتنا ہوگی۔
عدالت نے مجرم کو یہ حکم دیا کہ وہ تین لاکھ روپے معاوضہ اپنی سابقہ بیوی کو ادا کرنے کے بھی پابند ہیں۔ پراسیکیوشن کے مطابق واقعے کے بعد میاں بیوی میں طلاق ہو چکی ہے۔
عدالت نے کوٹ لکھپت جیل لاہور کے سپرنٹنڈنٹ کو سزا کی کاپی بھجواتے ہوئے تحریر کیا کہ مجرم کو قید کی مدت مکمل ہونے تک جیل میں رکھا جائے گا۔
تاہم عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ مجرم کو دورانِ ٹرائل جیل میں گزارے گئے وقت کا فائدہ دیا جائے گا، یعنی ٹرائل کے دوران جتنے دن ملزم پہلے جیل میں رہا ہے، وہ مدت اس کی کل 10 سالہ سزا میں سے کم کر دی جائے گی۔
عدالتی فیصلے کے بعد مجرم کو کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’میڈیکل رپورٹ میں جرم ثابت ہوا‘
اس واقعے کا مقدمہ مئی 2025 کے دوران تھانہ کاہنہ میں مجرم محمد فاروق کے سابقہ سسر کی مدعیت میں درج ہوا تھا۔
ایف آئی آر میں مدعی نے بتایا کہ وہ لاہور میں واقع یوحنا آباد کے علاقے خالق نگر کے رہائشی ہیں اور اُن کی بیٹی کی شادی 23 فروری 2025 کو محمد فاروق کے ساتھ ہوئی تھی۔
مدعی مقدمہ نے الزام لگایا کہ ’محمد فاروق نشہ کرتا اور جنسی ادویات استعمال کرتا۔‘
ان پر الزام تھا کہ انھوں نے ’شادی کی پہلی رات سے ہی‘ اپنی بیوی کے ساتھ ’غیر فطری سیکس شروع کر دیا تھا۔‘
مجرم ’منع کرنے کے باوجود ڈرا دھمکا کر یہ فعل بار بار دہراتا رہا جس کی وجہ سے میری بیٹی کی طبیعت کافی ناساز ہوگئی۔ اس کو ہم اپنے گھر لے آئے اور اس کا پرائیویٹ علاج معالجہ کرواتے رہے۔‘
ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ان کی بیٹی طبیعت ’ٹھیک ہونے کی بجائے مزید خراب ہوتی گئی اور محمد فاروق کے اس فعل سے میری بیٹی کی بڑی آنت پھٹ گئی اور فضلہ مقعد کی بجائے اندام نہانی سے آنا شروع ہو گیا۔‘
ایف آئی آر کے مطابق مدعی کی بیٹی کو ’آپریشن کے لیے جنرل ہسپتال لاہور داخل کروایا گیا جہاں اُن کا آپریشن ہوا اور یورِن بیگ لگایا گیا۔‘
پراسیکیوٹر رضوان محمود نے عدالت میں کیس سے متعلق دلائل دیے اور بتایا کہ ’ملزم سخت سزا کا حقدار ہے۔‘
’شوہر کی طرف سے بار بار جنسی تشدد کا نشانہ بنائے جانے پر خاتون ذہنی صدمے سے دوچار ہوگئی تھیں۔ انھیں جس برے طریقے سے ٹارچر کیا گیا، وہ ناقابل بیان ہے۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ ’میڈیکل رپورٹس میں واضح ہوا‘ کہ بار بار کیے جانے والے غیر فطری سیکس کی وجہ سے متاثرہ خاتون کو ’آپریشن کروانا پڑا۔‘
پراسیکیوٹر رضوان محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ملزم پر 21 نومبر 2025 کو فرد جرم عائد کی گئی اور اس نے صحت جرم سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد کیس کا ٹرائل شروع کیا گیا۔
’گواہان کے بیانات اور میڈیکل رپورٹس کی روشنی میں ملزم پر جرم ثابت ہوگیا۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد ’میاں بیوی میں طلاق ہو چکی ہے۔‘
تاہم وکیل صفائی نے عدالت میں ملزم کا دفاع کیا اور بتایا کہ ’ان کے موکل کو مقدمے میں ناجائز ملوث کیا گیا ہے۔ انھوں نے کوئی غیر قانونی اور غیر شرعی کام نہیں کیا۔‘
لاہور میں قائم خصوصی اینٹی ریپ کورٹس
ماہر قانون سعود سلطان خان ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایف آئی آر میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 376 لگائی گئی جس کے تحت سزا کم از کم 10 سال اور زیادہ سے زیادہ 25 سال تک قید ہے۔
’اگر یہی جرم دو یا اس سے زیادہ افراد کریں تو انھیں عمر قید یا سزائے موت دی جاسکتی ہے۔‘
یہ مقدمہ انویسٹی گیشن اینڈ ٹرائل ایکٹ 2021 کے تحت بننے والی اینٹی ریپ کورٹ لاہور میں چلایا گیا۔ ریپ اور دیگر سنگین جرائم کے فوری ٹرائل کے لیے خصوصی اینٹی ریپ عدالتیں قائم کی گئی ہیں جو کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس کے تحت کام کرتی ہیں۔
سعود سلطان کے مطابق ’اینٹی ریپ ایکٹ 2021 کے تحت اب پاکستان بھر کے 99 فیصد اضلاع میں انصاف کی فراہمی کے لیے خصوصی عدالتیں موجود ہیں۔ متاثرین اور گواہوں کو شناخت خفیہ رکھنے، محفوظ پناہ گاہ، ویڈیو لنک کے ذریعے گواہی اور قانونی معاونت کے ذریعے تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔‘
سعود سلطان خان ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ ’ان خصوصی عدالتوں کے قیام کا مقصد ریپ اور جنسی تشدد کے مقدمات کی تیز رفتار سماعت، متاثرہ افراد اور گواہوں کا تحفظ ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’لاہور میں خواتین کے لیے میڈیکل، قانونی مدد اور پولیس رپورٹنگ پر مشتمل اینٹی ریپ کرائسز سیل بھی سرکاری ہسپتالوں میں فعال ہیں۔‘