دادا کی پانچ اور پردادا کی 11 بیویاں: نیٹ فلکس کی مقبول سیریز کے پیچھے حقیقی کہانی

،تصویر کا ذریعہNetflix/Iconic Digital
- مصنف, میگھا موہن
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 10 منٹ
زمبابوے کی مصنفہ سو نیاتھی نے جب اپنا پہلا ناول دی پولیگمسٹ ناشرین کو بھیجا تو انھیں بتایا گیا کہ اس کتاب کو شائع تو درکنار، پڑھا بھی نہیں جائے گا۔ لیکن نیاتھی نے ہمت نہیں ہاری۔ انھوں نے خود ہی ایک مدیر، پروف ریڈر اور مصور کا انتظام کیا اور 2012 میں اپنی جیب سے صرف 500 نسخے شائع کروائے۔
وقت نے ثابت کیا کہ ناشرین کا اندازہ غلط تھا۔ کتاب غیرمعمولی طور پر مقبول ہوئی اور اب اسی ناول پر مبنی ایک سیریز نیٹ فلکس پر نشر ہو چکی ہے۔ یہ سیریز 60 سے زیادہ ممالک میں نیٹ فلکس کی ٹاپ 10 مقبول ترین سیریز میں شامل رہی، جبکہ امریکہ میں یہ دوسرے نمبر تک جا پہنچی۔
ہالی وڈ اداکارہ تراجی پی ہینسن نے بھی اس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کہانی انھیں اتنی دلچسپ لگی کہ انھوں نے ایک ہی دن میں اس کی تمام 22 اقساط دیکھ ڈالیں۔
تاہم نیاتھی کا کہنا ہے کہ ان کی تخلیق محض کثرتِ ازدواج کی کہانی نہیں۔
وہ بتاتی ہیں کہ کثرتِ ازدواج ان کے لیے کوئی اجنبی تصور نہیں تھا بلکہ ان کے خاندانی پس منظر کا حصہ تھی۔ ان کی والدہ کے خاندان میں کئی نسلوں سے یہ روایت چلی آ رہی تھی۔
ان کے دادا، جو 1979 میں فوت ہوئے، کی پانچ بیویاں تھیں، جبکہ پردادا کی 11 بیویاں تھیں۔ نیاتھی کی نانی ان کے دادا کی پہلی بیوی تھیں، اور پورا خاندان ایک ہی جگہ رہتا تھا۔
نیاتھی کے مطابق ان کی نانی اس خاندانی نظام میں مرکزی حیثیت رکھتی تھیں۔ وہ نہ صرف گھر کے معاملات سنبھالتی تھیں بلکہ بعض اوقات اپنے شوہر کے لیے نئی بیوی کے انتخاب میں بھی معاونت کرتی تھیں۔
نیاتھی کہتی ہیں، ’وہاں جھگڑے یا تنازعات کی کوئی فضا نہیں تھی، کیونکہ ہر شخص اپنی جگہ اور ذمہ داری سے واقف تھا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
نیاتھی نے جب اپنی نانی سے پوچھا کہ وہ کثرتِ ازدواج کے اس نظام کو کس نظر سے دیکھتی تھیں، تو انھوں نے نہایت حقیقت پسندانہ جواب دیا۔ ان کے نزدیک گھریلو کام کاج، کھیتی باڑی اور جذباتی ذمہ داریوں کو بانٹنے کے لیے گھر میں زیادہ لوگوں کا ہونا فائدہ مند تھا، اور یہ ایک کھلا نظام ہوا کرتا تھا۔ نیاتھی بتاتی ہیں، ’اس وقت ہر شخص کو معلوم تھا کہ اس کا کیا مقام اور جگہ ہے۔‘
تاہم، 2001 میں جب نیاتھی ہرارے میں بطور ملازمہ کام کر رہی تھیں، تو ان پر ایک مختلف حقیقت کھلی۔ وہاں بہت سے مرد بظاہر ایک ہی بیوی کا دعویٰ کرتے تھے، لیکن پسِ پردہ دوسری خواتین کے ساتھ تعلقات قائم کر کے خفیہ خاندان چلا رہے ہوتے تھے۔
نیاتھی کے ناول میں کثرتِ ازدواج کی عکاسی اسی تلخ حقیقت پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق یہ اس قدیم روایت کی ایک ’جدید یا بگڑی ہوئی شکل‘ ہے، جو باہمی رضامندی کے بجائے دھوکے اور فریب پر کھڑی ہے۔
نیاتھی واضح کرتی ہیں، ’میں کثرتِ ازدواج کے اصول کے خلاف نہیں ہوں، لیکن خواتین سے ان کا حقِ انتخاب چھیننے کی سخت مخالف ہوں۔ کسی بھی عورت کے رشتے میں بندھ جانے کے بعد یکطرفہ طور پر قواعد بدل دینا سراسر غلط ہے۔‘
فیصلہ کرنے کی طاقت کس کے پاس ہے؟
یہ ناول جوائس نامی ایک ایسی خاتون کی کہانی ہے جو یہ سمجھتی ہے کہ اس کی شادی ایک مرد اور ایک عورت کے درمیان قائم روایتی رشتے پر مبنی ہے۔
مگر حقیقت اس کے تصور سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ اس کا شوہر، جوناسی، اس کی لاعلمی میں مزید تین خواتین سے شادیاں کر لیتا ہے اور ان کے لیے الگ الگ گھر بھی بسا دیتا ہے۔ وہ نہ کبھی اس کا اعتراف کرتا ہے اور نہ ہی کوئی باضابطہ اعلان، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ راز آہستہ آہستہ سامنے آنے لگتے ہیں۔
جوں جوں ان خواتین کی زندگیاں ایک دوسرے سے جڑتی ہیں، جوائس کو احساس ہوتا ہے کہ جس یک زوجگی پر وہ یقین کرتی آئی تھی، وہ دراصل ایک فریب تھا۔
کہانی کے مرکز میں طاقت اور اختیار کا سوال بھی موجود ہے: فیصلے کرنے کا حق کس کے پاس ہے اور کس کے پاس نہیں؟
جوناسی ایک کامیاب اور خودساختہ کاروباری شخصیت ہے جو مردانہ غلبے والے معاشرے میں تقریباً تمام اہم فیصلوں کا اختیار اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے۔ اگرچہ جوائس نے اس کی کاروباری سلطنت کھڑی کرنے میں اس کا بھرپور ساتھ دیا، لیکن مالی طور پر وہ اس پر انحصار کرتی رہتی ہے۔ بعد میں آنے والی ایک اور بیوی، ماٹیپا، بھی جوناسی کے کاروبار سے وابستہ ہوتی ہے اور اس کی صورتِ حال بھی کچھ مختلف نہیں ہوتی۔
اسی مالی اور سماجی انحصار کے نتیجے میں ان خواتین کی خودمختاری محدود ہو جاتی ہے اور وہ مزید غیر محفوظ پوزیشن میں آ جاتی ہیں۔ نیاتھی کے مطابق عمروں کا فرق بھی اس عدم توازن کو مزید گہرا کرتا ہے۔
ناول میں ایچ آئی وی اور خواتین کی صحت سے متعلق اہم پہلو بھی شامل ہے۔ نیاتھی کہتی ہیں: ’اگر خواتین کو محفوظ جنسی تعلقات کے بارے میں بات کرنے کی آزادی ہی حاصل نہ ہو تو ایسے رشتوں میں ان کے پاس حقیقتاً فیصلہ سازی کا اختیار نہیں رہتا۔‘

ناول اور نیٹ فلکس سیریز کے درمیان کئی نمایاں فرق موجود ہیں۔
سیریز میں کہانی کا پس منظر جنوبی افریقہ منتقل کر دیا گیا ہے اور اسے زولو زبان میں فلمایا گیا ہے، جبکہ ناظرین کی سہولت کے لیے سب ٹائٹلز بھی فراہم کیے گئے ہیں۔ مزید یہ کہ جوناسی کی بیویوں کی تعداد ناول کے مقابلے میں کم دکھائی گئی ہے۔
تاہم سب سے اہم فرق کہانی کے زاویۂ نظر کا ہے۔ ناول مکمل طور پر جوناسی کی بیویوں کی نگاہ سے بیان کیا گیا ہے۔
مصنفہ نیاتھی کہتی ہیں کہ ’میں خواتین کی آوازوں کو سامنے لانا چاہتی تھی۔‘
ان کے مطابق وہ چاہتی تھیں کہ ہر عورت اپنی زبان میں یہ بتائے کہ وہ ایک ایسے مرد کے ساتھ کیوں رہی جو اس کے ساتھ مخلص نہیں تھا۔ نیاتھی کا کہنا ہے کہ اس کہانی کے موضوعات دنیا بھر کی بہت سی خواتین کی زندگیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
بہت سی خواتین مصنفہ کو لکھتی ہیں کہ انھیں جوائس یا دیگر بیویوں کے کرداروں میں اپنی جھلک نظر آتی ہے۔ بعض خواتین یہ بھی بتاتی ہیں کہ وہ خود کسی ’جوناسی‘ جیسے شخص کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں اور اس تعلق سے نکلنا چاہتی ہیں۔
سیریز کی نمائش کے بعد ایمنسٹی ساؤتھ افریقہ نے جذباتی استحصال اور نرگسیت پسندانہ رویوں پر آگاہی پر مبنی معلومات بھی جاری کیں۔
نیاتھی کے بقول، ’کچھ لوگوں کے لیے یہ محض ایک ٹی وی سیریز نہیں، بلکہ ان کی اپنی حقیقت ہے۔ یہ سیریز ہمارے معاشرے کو آئینہ دکھاتی ہے۔‘
تاہم اس سیریز کو ہر حلقے میں یکساں پذیرائی نہیں ملی اور کچھ ناقدین نے اس پر تنقید بھی کی۔

،تصویر کا ذریعہNetflix/Iconic Digital
کینیا کے سرکاری افسر جیفری موسیریا نے مطالبہ کیا تھا کہ اس سیریز پر کینیا میں پابندی عائد کی جائے۔ ان کے بقول سیریز میں کثرتِ ازدواج کو ریپ، دھوکے اور بدسلوکی کے مترادف بنا کر پیش کیا گیا ہے۔
تاہم نیاتھی اس تنقید پر زیادہ ردِعمل ظاہر نہیں کرتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ثقافتیں جامد نہیں ہوتیں بلکہ وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ بعض روایات اپنی اصل شکل برقرار رکھتی ہیں، جبکہ کچھ بدل جاتی ہیں یا بگڑ جاتی ہیں۔ ان کے مطابق وہ محض ان سماجی تبدیلیوں کی عکاسی کر رہی ہیں۔
نیاتھی کا کہنا ہے کہ اس سیریز نے ایک اور اہم کام بھی کیا ہے۔ اس نے ناظرین کو امیر اور بااثر سیاہ فام افریقی خاندانوں کی ایسی تصویر دکھائی ہے جو عالمی میڈیا میں کم ہی نظر آتی ہے۔
وہ ایک یورپی قاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ اس شخص نے انھیں بتایا کہ اسے پہلے یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ افریقہ میں امیر سیاہ فام طبقہ بھی موجود ہے۔
نیاتھی کے مطابق، ’افریقی ہونے کے بارے میں عام تصور اکثر غربت، محرومی اور مسائل سے جڑا ہوتا ہے، جبکہ حقیقت کہیں زیادہ متنوع ہے۔‘
ان کے نزدیک یہ سیریز انھی روایتی تصورات کو چیلنج کرتی ہے اور افریقی معاشروں کے ایک مختلف اور کم دکھائے جانے والے پہلو کو سامنے لاتی ہے۔
وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ سیریز کا زولو زبان میں تیار ہونا اس کی اہمیت کو مزید بڑھا دیتا ہے۔
’انگریزی میں وہ ثقافتی گہرائی اور باریکیاں موجود نہیں ہوتیں جو ہماری مقامی زبانوں میں پائی جاتی ہیں۔ اپنی زبان میں کہانی سنانے سے کردار، رشتے اور ثقافتی تجربات زیادہ حقیقی اور مؤثر انداز میں سامنے آتے ہیں۔‘
لکھنے کے لیے ملازمت چھوڑ دی
نیاتھی کا کہنا ہے کہ وہ بچپن ہی سے مصنفہ بننے کا خواب دیکھتی تھیں، لیکن ان کے والدین چاہتے تھے کہ وہ کوئی زیادہ روایتی اور مالی طور پر محفوظ پیشہ اختیار کریں۔
اسی وجہ سے انھوں نے تقریباً دو دہائیوں تک مالیاتی شعبے میں کام کیا۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے تجزیہ کار کے طور پر کام کرنے کے دوران انھوں نے یہ سیکھا کہ تحریر صرف ایک فن نہیں بلکہ ایک کاروبار بھی ہو سکتی ہے۔
ملازمت ان کی مالی ضروریات پوری کرتی تھی، مگر لکھنے کا شوق کبھی کم نہ ہوا۔ چنانچہ وہ دن بھر کی ملازمت کے بعد راتوں کو اپنا ناول دی پولیگمسٹ لکھتی تھیں۔
کتاب کی اشاعت کے چند سال بعد، 40 برس کی عمر میں، انھوں نے کارپوریٹ دنیا کو خیرباد کہہ دیا اور مکمل وقت تحریر کے لیے وقف کر دیا۔ اب 48 سالہ نیاتھی اس فیصلے کو اپنی زندگی کا اہم موڑ قرار دیتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں، ’لوگ اکثر کہتے ہیں کہ آپ راتوں رات کامیاب ہو گئیں، لیکن حقیقت یہ نہیں ہے۔ شاید پہچان اچانک ملی ہو، مگر اس کے پیچھے برسوں کی محنت، مستقل مزاجی اور قربانیاں ہیں۔‘
نیاتھی کے مطابق، خاص طور پر افریقہ میں، بیشتر مصنفین صرف کتابوں کی فروخت سے اپنی گزر بسر نہیں کر سکتے۔ کئی کامیاب لکھاریوں کو مالی طور پر آسودہ شریکِ حیات، ادبی گرانٹس یا رائٹرز ریزیڈنسی پروگراموں کی مدد حاصل ہوتی ہے۔
تاہم ایک اکیلی ماں ہونے کے ناتے نیاتھی کے لیے ایسی سہولتیں میسر نہیں تھیں۔ اپنے بیٹے کی تعلیم اور پرورش کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے انھوں نے مختلف ملازمتیں کیں تاکہ لکھنے کا سفر بھی جاری رکھ سکیں۔
وہ کہتی ہیں، ’کسی کتاب کے ابتدائی خیال سے لے کر اس کی تکمیل تک بہت طویل وقت لگ سکتا ہے۔ کبھی دو سال اور کبھی آٹھ سال بھی۔ اس دوران زندگی بھی تو گزارنی ہوتی ہے، اخراجات بھی پورے کرنے ہوتے ہیں۔‘
ان کے بقول، ’میں خود اس مرحلے سے گزری ہوں۔ یہ ایک غیر یقینی سفر ہوتا ہے، اسی لیے بہت سے لکھاری طویل عرصے تک ملازمت کے ساتھ ساتھ لکھتے رہتے ہیں۔‘
نیاتھی کا کہنا ہے کہ ’لکھنا ایک ایسی آسائش ہے جسے ہر کوئی برداشت نہیں کر سکتا۔‘ ان کے نزدیک اس کی قیمت پورا معاشرہ ادا کرتا ہے، کیونکہ بہت سی ایسی آوازیں، کہانیاں اور تجربات جو سنے جانے کے مستحق ہوتے ہیں، معاشی مجبوریوں کے باعث کبھی منظرِ عام پر ہی نہیں آ پاتے۔

،تصویر کا ذریعہNetflix/Iconic Digital
ان کا ماننا ہے کہ عالمی اشاعتی دنیا میں افریقی مصنفین کی نمائندگی اب بھی غیر متوازن ہے۔
وہ کہتی ہیں، ’جو افریقی مصنفین بیرونِ ملک شائع ہوتے ہیں، انھیں پہچان اور شہرت نسبتاً آسانی سے مل جاتی ہے۔ دنیا بھر کی کتابیں تو افریقہ تک پہنچ جاتی ہیں، لیکن افریقی مصنفین کی تحریروں کا عالمی قارئین تک پہنچنا اتنا آسان نہیں۔‘
نیاتھی کے لیے بھی یہ سفر آسان نہیں تھا۔ چار ناول لکھنے اور تقریباً ایک دہائی تک مسلسل محنت کرنے کے باوجود انھیں وہ پذیرائی نہیں مل سکی تھی جس کی وہ توقع رکھتی تھیں۔ تاہم نیٹ فلکس پر ان کی کہانی کی پیشکش نے انھیں وہ عالمی شناخت دلائی جو برسوں کی ادبی کاوشوں کے باوجود حاصل نہ ہو سکی تھی۔
اب وہ ایک تاریخی ناول کے پہلے مسودے کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں، جس پر وہ گزشتہ دو برس سے کام کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق اس ناول میں ایسے موضوعات شامل ہیں جن سے بہت سے لوگ خود کو وابستہ محسوس کریں گے۔
لکھاری بننے کی خواہش رکھنے والی، خصوصاً ان خواتین کے لیے جو مالی وسائل کی کمی کا سامنا کرتی ہیں، نیاتھی کا مشورہ نہایت سادہ ہے۔
’ہر کہانی کا آغاز ایک خیال اور ایک قصے سے ہوتا ہے۔ اگر آپ کے پاس وسائل نہیں ہیں تو قلم اور کاغذ اٹھائیں اور لکھنا شروع کر دیں۔‘
وہ اس بات پر بھی زور دیتی ہیں کہ تحریر کا اصل محرک مالی فائدہ نہیں ہونا چاہیے۔
’پیسہ کبھی آپ کی بنیادی ترغیب نہیں ہونا چاہیے۔ مشکل اور مایوس کن دنوں میں جو چیز آپ کو قائم رکھتی ہے، وہ لکھنے سے محبت اور اپنی کہانی سنانے کا جذبہ ہوتا ہے۔‘




















